| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ جس طرح زوایا ثلٰث کو شامل ہے اس صورت کو بھی شامل ہے جب مؤذن کی پشیت امام کی طرف ہو۔
قلنا نعم ھوداخل فی مفہوم بین یدیہ ولکن لیس کل مایشملہ مفہوم اللفظ یکون مرادًافان الاطلاق غیرالعموم وقددلت القرائن ھٰہنا ان المرادالمواجھۃ بین الامام والموذن لان الامام علی المنبر مستدبرالقبلۃ والمؤذن بین یدیہ وقدامران یستقبل القبلۃ فی الاذان فتعین ان یکون وجہہ الٰی وجہ الامام کما ان مفہوم بین یدیہ یشمل المتصل والمنفصل والخارج عن المسجد والداخل لکن دلت الدلائل ان داخل المسجدغیر مقصود ولاالبعید بحیث الایعداذانہ اذانالہذا المسجدفتعین کونہ فی حدودالمسجدوفنائہ مرادًا والاعتراض علیہ بشمول مفہوم اللفظ جہل بعید کشمولہ لمستدیرالقبلۃ۔
فان قلت قرینۃ امرالمؤذن باستقبال القبلۃ لاتنفی مااذاکان ظہر المؤذن لظہرالامام بان قام المؤذن بین الامام والقبلۃ متوجہاًلکعبۃ وربما یترکون متسعا کبیراً بین المنبر والقبلۃ کما ھو مشاھد فی مکۃ المکرمۃ وذٰلک لان الجہتین المسامتین تمتدان خلف الیدین ایضا کما تمتدان امامھما۔
جواب یہ ہے کہ بیشک بین یدیہ کے مفہوم میں یہ صورت بھی داخل ہے لیکن یہ ضروری نیہں کہ لفظ کا مفہوم جس جس چیز کو شامل ہو سب لفظ سے مراد بھی ہوں ،کیونکہ اطلاق عموم کے مغایر ہے، اوریہاں قرائن اس بات پردلالت کرتے ہیں کہ لفظ بین یدیہ کا مراد ومطلب امام اورمؤذن میں سامناہے ، اس لئے کہ امام منبر پر قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوتاہے ، اورمؤذن کو ا سکے سامنے ہوکر اذان میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے ۔ تو متعین ہوگیا کہ مؤذن کا چہرہ امام کے چہر ہ کی طرف ہوگا۔ اس کو اس طرح سمجھا جائے کہ لفظ بین یدیہ کے مفہوم میں امام سے متصل اس سے منفصل اورخارج مسجد سبھی داخل ہے ،لیکن دلائل سے یہ ثابت ہوگیا کہ داخل مسجد مراد نہیں ، نہ مسجد سے اتنادورمراد ہے کہ اس اذان کو اس مسجد کی اذان کہا ہی نہ جاسکے تو متعین ہوگیا کہ بین یدیہ سے مراد حدود مسجداورصحن مسجد ہے ۔ تو جیسے اس پرمفہوم یہ اعتراض کرنا غلط ہوگا کہ داخل مسجد مفہوم بین یدیہ میں داخل ہے ، اسی طرح یہ اعتراض بھی غلط ہے کہ یہ لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے جب مؤذن قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے اذان کرے ۔یہاں یہ اعتراض بھی کیا جاسکتاہے کہ موذن کے روبقبلہ اذان دینے کا قرینہ اس صورت کو نفی تو نہیں کرتاکہ مؤذن کی پشت امام کی پشت کی طر ف ہو ، اور موذن امام اورقبلہ کے بیچ میں کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑاہو۔ کیونکہ بہت سی مسجدوں میں لوگ منبر اور دیوار قبلہ کے بیچ میں کافی وسیع جگہ چھوڑدیتے ہیں۔ خود مکہ میں مسجد حرام کے اندر بھی ایس اہی ہے ہ دو طرف متوازی جہتیں امام کے آگے اورپیچھے دونوں طرف ہی ہوسکتی تھی۔
قلنا نعم ھذا مشکل الاان یقل باخراجہ بقرینہ قول الماتن واستقبلوہ فان المؤذن داخل فی عموم ھذا الجمع وفیہ نظر لان عبارۃ المتن واستقبلوہ مستمعین وھذا بیان حال الخطبۃ والاذان قبلہاولذا مرضہ بقولہ الا اذا قیل ۱الخ ۔ ھذا شرح کلامہ حسب مرامہ۔ اقول : وفیہ اولاً لاتفریع شمول الزوایا الثلٰث علیتسکین الوسط بل لو کان بتحریکہ لشملھا ایضاً کما علمت فی الخامسۃ۔
یہ اعتراض ضرورمشکل ہے مگر اس کا یہ جواب دیا جاسکتاہے کہ متن میں سب کو امام کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہے ، اوراس سب میں موذن بھی داخل ہے ، اس لئے کہ اس کو بھی امام کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے ،مگر کوئی کہہ سکتاہے کہ امام کی طرف رخ کرنے کا حکم خطبہ کی حالت میں ہے نہ کہ اذان کی حالت میں۔ قہستانی نے اسی لئے اس سوالکا جواب لفظ قیل سے دیا ہےجو جواب کےضعف پردلالت کرتاہے ۔یہاں تک قہستانی کی پوری عبارت کی توجیہ انہیں کے حسب منشا ہوئی مگر اس پر پہلا شبہ یہ ہے کہ زوایا ثلٰث کی وسط بالسکون کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں یہ تو عمودپر ملتقی ہونے کی صورت میں بھی متحقق ہوں گے ۔ یہ بات مقدمہ خامسہ مٰں ظاہر ہوچکی ہے۔
(۱جامع الرموز کتا ب الصلٰوۃ فصل صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۲۶۹)
28-8.jpg
الا تری عند تساوی زاویتی ح ر تقع الکل علی العمود لما تقدم فی الخامسۃ مع ان ی منفرجۃ وک قاءمۃ ول ل حادۃ الاان یقال لیس المراد مجرد شمول الاقسام بل الافراد والزوایا الثلٰث کما تحدث علی العمود کذا خارجۃ فانما یشملہا بالسکون۔
مندرجہ ذیل صورت میں جب ح ر کے زاویے برابر ہوں گے تینوں زاویے عمود پر ہی واقع ہونگے ۔ اس کی توضیح بھی مقدمہ خامسہ میں ہوچکی ہے ۔ زاویہ ی منفرجہ ہے اورک قائمہ ہے اورل حادہ ہے مگر اس کا یہ جواب ہوسکتاہے کہ یہاں اقسام کا شمول بتانا نہیں ہے ۔افراد کا شمول بتاناہے (یہ بتانانہیں کہ تینوں زوایے کس صورت میں متحقق ہوسکتے ہیں اورکس میں نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ یہ تینوں زاویے بیک وقت عمود اور اس کے اغل بغل میں وسط بالسکون میں متحقق ہوں گے۔
وثانیًا : الذی استشکلہ لیس بوارد اصلاًفانک ان اردت المعنی الترکیب فالکل خارج وان اردت الاجمالی فھو للامام والقدام کمانصواعلیہ وقدمناہ ولا یقل سمت وجہک الا لجہۃ وجہک وان امکن مد الخط خلفاً وقداماً ووجہ یدیک الی جھۃ وجھک فلا یسامتھام الا الخط الممتدالی ھٰذہ الجھۃ فالصواب اسقاط ھذا الاشکال ، والاصواب ان یقول ووسطھما بالسکون فشمل ما اذاکانت جھۃ المؤذن علی سمت جہۃ الخطیب اومنحرفۃ عنھما الی احدی کیفیہ ما لم یخرج عن الخطین کما ان مستقبل القبلۃ مستقبل لھا مالم یخرج عن الربع الذی الکعبۃ فی وسطہٖ کما حققناہ بتوفیق اللہ تعالٰی فی رسالتنا "ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال "ھذا مایتعلق بکلامہ شرحاًوجرحاً۔
دوسراشبہ یہ ہے کہ قہسانی نے جس دوسرے اعتراض کو مشکل کہہ کر پیش کیا ہے وہ سرے سے وارد ہی نہیں ہوتاکیونکہ "بین یدیہ"کے معنی تفصیلی واجمالی کے بیان میں ہم یہ بتاچکے ہیں کہ یہاں معنی تفصیلی مراد ہی نہیں ہیں۔تومعنی تفصیلی کے ایک رخ سے اعتراض کے کیا معنی!اورمعنی اجمالی مراد ہیں جس کا مطلب امام کے سامنے ہے ۔محاورہ میں سمت وجہت کہنے سے جدھر آ پ کا چہرہ ہو وہی رخ مراد ہوتاہے ۔ اسی طرح آدمی کے ہاتھ کا رخ بھی اس کے چہرہ کی طرف ہی ہے۔ توخطوط اگرچہ امام کے آگے پیچھے سبھی طرف نکل سکتے ہیں لیکن ان ہاتھوں کے مقابل جو خط ہوگا وہ خطیب کے سامنے ہی ہوگا توبہتریہ ہےکہ سرے سے یہ اعتراض ہی ساقط کردیا جائے ،اوروسطھما کے بجائے اوسطھام کہاجائے تاکہ عمودپراور اس کے آزوبازو کے مقابل کھڑے ہونے کی سبھی صورتوں کو شامل ہو جب تک ان دوخطوں سے باہر نہ ہوجن کا استقبال کعبہ میں حکم ہے کہ دائرے کے جس ربع کے وسط میں کعبہ واقع ہے اس پورے ربع کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔ استقبال قبلہ کا وافی اورکافی بیان بحمداللہ ہماری کتاب"ھدایۃ امتعال فی حد الاستقبال "میں ہے ۔ یہاں تک قہستانی کی عبارت کی تشریح اور ان پر پڑنے والے شبہات کا بیان ختم ہوا۔
اما ھٰؤلاء فتعرض لھٰذہ العبارۃ منھم وھابیان ضالان واٰخران جاھلان وخامساً من الطلبۃ۔اما احد الضالین واضلھما فجعلہ دلیلاعلی انہ لاحاجۃ ای المحاذاۃ عینا بین الخطیب المؤذن وجعلہ ردًا علی کلام اھل الحق من ھذہ الجھۃ وھٰذا جھل منہ شدیدفان المحاذاۃ سنۃ لاشک ، وان اراد بھا مسامتۃ جہتی الموذن والامام فلا محاذاۃ مقصرۃ علیہ ولا کلام اھل الحق یومی الیہ لکن الجھلۃ لایفہمون ۔ والباقون استدلوابھا علٰی ان ھذا الاذان داخل المسجد لصیق المنبر فاان الضال الاٰخر فاقتصر علی الاستدلال بقولہ قریباًمنہ۔ قد علمت ردہ مرارًاوفسرقولہ الہتین لمسامتین الخ، بما بین جہتی الامام اما بیمینہٖ اویسارہٖ۔ اترٰی مثل ھٰؤلاء الجہلاء اھلا لمخاطبۃ۔ وامان الذی یعد من الطلبۃ فزادفی الطنبور نغمۃ ویف الشطرنج بغلۃ فزعم ان القہستانی ذکر قولہ ای قریباًمنہ بعدقولہ عند المنبر وھذا افتراء منہ علیہ فلیس ھنا فی کلام القہستانی لفظۃ "عندالمنبر" اصلاًولا لفظۃ "ای "ولو کان لم یکن فیہ مایقرعینہ فلا القرب ینکرولا فی جوف المسجد یحصر کما تبین مراراًواما الجاھلان فقتحما خوض بحراغرقھما فقال احدھما ان وتر المثلث عرض المنبر وقدعلمت ردہ ان المراد بالمنبر الام اومابین کتفیہ یستحیل ان یراد وترا وقال الاٰخر فی تفسیر کلام القہستانی یخرج خطان عن یمین الامام ویسارہٖ حتی یلتقیا علٰی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفجرۃ فیقوم المؤذن فی ھٰذہ الزاویۃ ویؤذن قال وکان عرض منبررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ذراعین وقدم الانسان شبروربع شبرٍ فان اخذالمثلث متساوی الاضلاع تحدث زاویۃ حادۃ وکون الفصل ذراعین الا قلیلاًوفی القائمۃ اقل منہ وفی المنفرجۃ اقل من الاقل والحادۃ وان امکن اخرجہا خارج باب المسجد لکن یسقط ھذا الاحتمال قید ان یوذن المؤذن قائما فی زاویۃ لان الباب ان بعدار بعین ذراعاًوالوترکما تقدم ذراعان فالزاویۃ الحادثۃ خارج الباب تکون ضیقۃ جدا لاتسع عودادقیقا فضلا عن الانسان مع انا مقصود القہستانی ان تمکن الزوایا الثلاث ثمہ ولا امکان ھناک لغیر الحادۃ اھ۔
اب ہم آذانیان ہند کی تگ ودو کی طر ف رخ کرتے ہیں ۔ علامہ قہستانی کی اس عبارت پرخامہ فرسائی کر نے والے پانچ صاحبان سامنے آئے ہیں جن میں دو وہابی ، دو جاہل،ایک نام نہاد طالب علم ہیں۔ ایک وہابی صاھب نے قہستانی کی اس عبارت سے یہ استدلال کی اہے کہ اس عبارت سے ثابت ہے کہ مؤذن اورخطیب کا سامنا ضروری نہیں ہے، اورعلمائے اہلسنت کے اس دعوٰی کا قہستانی کی یہ عبارت رد ہے اوریہ اسکا جہل شدید ہے ۔"مؤذن اورخطیب کا سامنا بلا شبہ سنت ہے۔ "ہاں اگر سامنے کا مطلب یہ لیا جائے کہ دونوں کا چہرہ ٹھیک ایک دوسرے کے مقابل ہوناضروری ہے ، تو یہ نہ سنت سے ثابت نہ اہل حق اس کے مدعی۔ ہم "سامنے"کا مطلب کافی وضاحت سے سمجھا آئے لیکن جاہل کیا سمجھیں ۔ اورباقیوںنے اس عبات سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اذان ثانی مسجد کے اند رمنبر سے متصل ہوگی ۔ دوسرے وہابی صاحب نے اس مدعا پر لفظ قریباًمنہ سے استدلال کیا ہے (کہ عبارت قہستانی میں اس اذان کے "منبر کے قریب ہونے "کی تصریح کی ہے)لیکن اس سے کیا حاصل۔"قریب "کے لفظ پر تو ہم باربار روشنی ڈال چکے ہیں کہ یہ اپنے معنی میں کس قدر وسعت رکھتا ہے ۔ اوراسی شخص نے قہستانی کے لفظ جہتین مسامتین کی تفسیر کی کہ امام کی یمین ویسار کی د وجہتوں کے درمیان۔ بھلا ایسے جاہل مخاطبہ کےلائق بھی ہیں ۔اورنام نہاد طالب علم صاحب نے تو اورگل کھلایاکہ شطرنج کی بساط پرخچر دوڑادیا۔آپ فرماتے ہیں کہ قہستانی نے لفظ قریباً منہ کولفط عند المنبر کے بعد رکھا،حالانکہ یہاں قہستانی کے پورے کلام میں عند المنبر کا لفط کہیں نہیں ۔ تویہ طالب علم قہستانی پر افتراء کر رہے ہیں،وہ افتراء بھی بے مزہ،کیونکہ قہستانی کی اصل عبارت میں یہ لفظ ہوتا تب بھی ان کی تسلی کا کوئی سامان نہ تھا کہ ہم کو قریب منبر ہونے سے کب انکار ہے،ہمارا تو کہنا یہ ہے کہ قریب بہت وسیع المعنٰی لفظ ہے ، اس لئے قریب ہونے کیلئے اذان کا مسجد میں ہونا ضروری نہیں،جیسا کہ باربار واضح ہوچکا اوران دو جاہل صاحبان نے (ریاضی کے ) سمندر میں غوطہ لگایا جو خود انہیں کو لے ڈوبا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ مثلث کا وتر منبر کی چوڑائی ہے ، جبکہ ہم یہ طے کر آئے ہیں علماء کی تحریروں میں منبر کے لفظ سے بھی امام اور اس کے دونوں مونڈھوں کا بیچ مراد ہے ۔ اوریہ بھی ظاہر کر آئے ہیں کہ اس جگہ کا مذکورہ مثلث کا وتر ہونا محل ہے ۔ اوردوسرے جاہل صاحب کا خیال ہے کہ قہستانی کے بقول دونوں خط امام کے دائیں بائیں سے نکل کر زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ پر ملیں گے ، اور موذن اسی زاویہ پرکھڑے ہوکر اذان دے گا،اس نے کہا چونکہ حضور کے عہد مبارک میں آپ کے منبر کی چوڑائی دوہاتھ کی تھی،اورآدمی کا قدم سوابالشت کا ہوتاہے اوروہاں مثلث متساوی الاضلاع بنایا جائے توزاویہ حادہ پیداہوگااورفاصلہ دوہاتھ سے ذرا کم ہوگا،اورقائمہ میں ا سے کم ، اورمنفرجہ میں کم سے بھی کم۔ اورزاویہ حادہ مسجد سے باہر بھی فرض کیاجاسکتاہے لیکن اس احتمال کو قہستانی کی یہ عبارت ساقط کردیتی ہے کہ موذن زاویہ کے اندر کھڑے ہوکر اذان دے کیونکر دروازہ مسجد اگر منبر سے چالیس ہاتھ کی دوری پر ہو۔اورمثلث کا وتر وہی دو ہاتھ کا ہوتو اس وتر پر چالیس ہاتھ کی دوری پر جوزاویہ حادہ پیدا ہوگا وہ بیحد تنگ ہوگا، وہاں ایک باریک لکڑی کی بھی گنجائش نہ ہوگی چہ جائیکہ انسان کی،حالانکہ قہستانی کا مقصد تویہ ہے کہ وہاں تینوں زاویے پیدا ہوں اور اس صورت مذکورہ بالا میں باب مسجد پر سوائے حادہ کے اورکسی زاویہ کا امکان ہی نہیں ۔