Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
57 - 135
 (توضیح وثبوت)
28-6.jpg
فلیکن ا ب خطاً نصف علٰی ح و اقیم علیہ عمود ح ء غیر محدودفاخرج من جنبیہ خطا اء۔ ب ء محدثین زایتی ا ب مساویتین فانھما یلتقیان علی نقطۃ ء من العمود والا قیلتقیا خارجہ مثلاً علی ہ وصلناہ ح ففی مثلثی اح ہ ب حہ نصف اا ح ب ح متساویان بالفرض وکذا ا ہ ب ہ لخامسۃ الاولٰی لتساوی زاویتی ا ب بالفرض وہ ح مشترک فبثامنۃ الاولٰی تتساوی زاویتا ا ح ہ ، ۃ ح ب بفحکم بح منھا کانتا قائمتین وقد کانت ا ح ء قائمۃ فتساوی الکل والجز ء ہف۔
مان لیجئے کہ ا ب ایسا خط ہے جس کانصف نقطہ ح ہے اوراس پر ایک غیر محدود عمود ح ء قائم کیا گیا،پھر اس خط کے دونوں کناروں سے دو خط ا ء اورب ء ایسے کھینچے گئے جو خط اول کے اوپر دوبرابر زاویے اب پیدا کرتے ہیں ، تو وہ دونوں خطوط عمود کے نقطہ ء پر ملیں گے ۔ اوردونوں زاویے برابر نہ ہوں تو لامحالہ یہ دونوں خطوط عمود سے خارج ملیں گے ۔ مثلاً ماناگیا وہ نقطہ ہ پر ملے ہوئے ہیں ہم نے ہ ح کو ملادیا تو یاہں دو مثلث ا ح ہ اورب ح ہ پیداہوئے جس میں خط مفروض کے دونوں نصف ا ح اورب ح بالفرض برابر ہیں، اورچونکہ زاویہ ا ورزاویہ ب برابر فرض کیا گیا ہے اس لئے مقالہ اولٰی کی شکل خامس سے جس طرح ا ح اورب ح برابرہیں اسی طرح ا ہ اورب ہ بھی برابر ہونگے ، اورہ ح دونوں مثلث میں مشترک ہے ۔ تو لامحالہ مقالہ اولٰی کی شکل ثام کی وجہ سے زاویہ ا ح ہ اورزاویہ ہ ح ب  برابر ہونگے اورمقالہ اولےٰ کی شکل ۱۸سے ثابت ہے کہ دونوں مل کر دوقائمہ ہوں گے یعنی ہر زاویہ قائمہ ہوگا حالانکہ ا ح ء قائمہ ہے اور ا ح ہ بھی قائمہ ہوگیا(جو خود اس کا خبر ہے ) اوراس صورت میں جزوکل مساوی ہونا لازم آتاہے جو محال ہے۔
ولیخرج عن جنبیہ ا ہ ب ہ عن زایتین مختلفین فملتقٰی ھما خارج العمود علٰی ہ والافیلتقیاعلٰی ء من العمودففی مثلثی ا ح ء ، ء ح ب نصف ا ح ، ح ب متساویان و ء ح متشرک و زایتاح قائمتان فبالرابع تتساوی زاویتا ا ب و قد فرضنا مختفین ہف فالحکم ثابت وذٰلک ما اردناہ۔
دوسری صورت کی توضیح یہ ہے کہ ہم خط مفروض کے دونوں کناروں سے ایسے دو خط ا ہ اورب ہ کھینچتے ہیں خط کے اوپر مختلف زاویے بناتے ہیں، تو ہمارادعوٰی یہ ہے ملتقی عمود سے خارج نقطہ ہ پر ہوگا ورنہ یہ ماننا پڑے گاکہ یہ دونوں خط بھی عمود کے نقطہ ء پر ملے ہیں اوریہاں مثلث ا ح ء اورمثلث ء  ح  ب میں خط کے دونوں نصف  ا ح اور ح ب برابر ہیں ۔ اور ء ح دونوں مثلثوں میں  مشترک اورزاویہ ح دونوں مثلث میں قائمہ ، اس لئے بشکل رابع زاویہ ا ب برابر ہوئے حالانکہ ہم نے ان دونوں کو مختلف فرض کیا تھا،اوریہ خلاف مفروض دعوٰی کہ نا ماننے سے لازم آیا،تو دعوٰی ثابت ہوا۔
اما احتمال الزوایا الثلث فی الملتقٰی علٰی کل تقدیر فظاھر  لان الزایتین الحاد ثتین منھما فحادۃ سواء کانت الزاویتان علی الخط الاول متساویتین او مختلفتین کل ذٰلک بلب من الاولٰی۔
تیسری صورت کہ دونوں قسم کے ملتقٰی پر تینوں ہی قسم کے زاویے کا احتمال ہے ۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ دونوں کناروں سے کھینچے خطوط اورخط اول سے پیدا ہونے والے دونوں زاویوں کا مجموعہ اگر قائمہ کے برابر ہے تو ملتقٰی زاویہ قائمہ ہوگا اور مجموعہ زاویتین اگر قائمہ سے چھوٹا ہے و ملتقٰی کا زاویہ منفرجہ ہوگا، اوراگر مجموعہ قائمہ سے بڑا ہے تو ملتقٰی کا زاویہ حادہ ہوگا خواہ خط اول پر پیدا ہونے والے زاویے باہم برابر ہوں یا نہ ہوں ۔ یہ ساری باتیں مقالہ اولٰی کی شکل۳۲  سے ثٓابت ہیں۔
اذا عرفت ھذا واعلمناک فی النفحۃ الاولی العودیۃ ان معنی بین یدیہ الترکیبی الفضاء المحقق المحصوربالجارحتین عند بسطھما اوالموھوم عند ارسالھما اعنی الخط النافذ علی الاستقامۃ من وسط احدکتفیک الی وسط الکتف الاخر ولایمکن ارادتہ ھناوفی عامۃ استعمالات ھذا اللفظ بل ارید فیھا بالیدین الجھتان الواقعتان علی سمتھما ای تخرج من طرفی کتفیہ خطین  عمودین علٰی ذالک الخط الواصل بین کتفیہ فھٰذان الخطان ھما الجھتان المسامتان لیمین من اضیف الیہ الیدان وشمالہ کما قدمنا ثمہ عن الکشاف والمدارک وغیرھما فکل ماوقع بین ھٰذین الخطین بشرط القرب اللائق بالشیئ  المتفاوت تفاوتاشد یدابحسب المقام فھو بین یدیہ۔
مذکورہ بلا توضیحات کی معرفت اورلفظ بین یدہ کے معنی کو دوبارہ ذہن میں تازہ کرلینے کے بعد (لفظ بین یدیہ کی وضاحت ہم اسی شمامہ کے نفحہ اولی میں کر آئے ہیں کہ بین یدیہ مرکب اضافی ہے ۔تو ایک معنی مضاف اورمضاف الیہ کے تفصیلی ترجمہ کے لحاظ سے ہوں گے''دونوں ہاتھ سامنے پھیلائیں تو وہ فضا جو دونوں ہاتھ کے درمیان محصورہے۔اورایسے ہی پیچھے پھیلائیں تو پیچھے کی فضاکو جو دونوں ہاتھوں کے درمیان محصور ہے''اور"جب ہاتھ لٹکاءیں تو دونوں مونڈھوں کے بیچے کی دوری جس کو ایک خط کے ذریعے"سمجھا جاسکتاہے جو ایک مونڈھے کے وسط سے دوسرے مونڈھے کے وسط تک سیدھا فرض کیا جائے لیکن اس لفظ کے عام استعمال کا معاملہ ہو یا خاص بین یدی الخطیب کا موقع ہو عام طور سے اس لفظ کے معنی ترکیبی تفصیلی مراد نہیں ہوتے بلکہ دوسرے معنی اجمالی عرفی یالغوی مراد ہوتے ہیں جس میں دونوں لفظ کے علیٰحدہ علٰیحدہ معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ مرکب لفظ کو اکائی مان کر پورے مرکب کے ایک ہی اجمالی معنی کو یوں سمجھئے دونوں مونڈھوں کے درمیان جو سیدھا خط ہم نے فرض کیا تھا اورظاہر ہے کہ وہ جسم کے عرض میں ہی ہوگا، اس کے دونوں کناروں پر دوعمودی خطوط کو سامنے فرض کیا جائے جو اسی فاصلے پر بالکل متوازی سامنے چلے جائیں ان دونوں خطوں کے درمیان جو بھی ہے اسی کو بین یدیہ کہا جائے گا۔ )
کما افدناک تحقیقہ بمالامزید علی الی ھنا اتم معنی کلام القہستانی الٰی قولہ قریبامنہ۔
اس مضمون پر مدارک اورکشاف کی شہادت بھی پیش کرچکے ہیں قہستانی کی مندرجہ بالاعبارت کے حسب ذیل جملہ کا مطلب مکمل ہوگیا۔

"دوسری اذان بین یدیہ ہوگی یعنی ان دونوں متوازی جہتوں کے درمیان جو منبر یا امام کے دائیں بائیں اوراس سے قریب ہو۔"

یہاں قہستانی کے لفظ قریباًمنہ کے یہ معنٰی نہیں کہ مؤذن امام یا منبر کے متصل ہوبلکہ ایسا قریب مراد ہے جو محل استعمال کے مناسب ہے اوریہاں جب مسجد کے اندر مطلقاًاذان منع ہے تو لامحالہ یہاں قریب کا مطلب مسجد سے باہر مسجد کی حدود کے اندر ہوگا۔گزشتہ اوراق میں لفظ قریب پر بھی ہم بھرپورروشنی ڈال چکے ہیں۔
ثم اذا نصفت الخط الواصل بین الکتفین ونسمیہ الخط الکتفی واقمت وعلیہ عموداًثالثا وایاہ نسمی العمودکان ھو  وما یقع علیہ وسط الجھتین المذکورتین بینھما بلاتحریک وماکان بینھما منحازاعن العمود فہو وسطھما بالسکون ووسطھما بالسکون فیشمل مااذان اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ منفرجۃ حادثۃ من خطین خارجین من ھاتین الجہتین۱؂۔
اب  ہم اس خط کوجو ہم  نے دونوں مونڈھوں کے درمیان فرض کیا تھا اورجس کا نام ہم نے خط کتفی رکھاتھا اس کے ٹھیک بیچ میں ایک تیسرا عمود فرض کیرں ، تویہ عمود دونوں متوازی خطوں کے بھی ٹھیک بیچ میں ہوگا جس کو اہل  لغت وسط بالتحریک کہتے ہیں ۔اوران دونوں متوازی خطوں کےدرمیان جو کشادگی ہوگی اس کو وسط بالسکون کہاجاتاہے ۔علامہ قہستانی کی بقیہ عبارت مندرجہ ذیل ہے :"اذان ثانی دونوں جہتوں کے وسط بالسکون میں ہوگی تو یہ ان سب صورتوں کو شامل ہوگی جب مؤذن زاویہ قائمہ اورحادہ یا منفرجہ میں کھڑا ہو ۔ یہ سب زاویے ان دونوں خطوں کے نکتہ ایصال پر پیداہونگے جو ان دونوں جہتوں سے نکل رہے ہیں۔
 (۱؂جامع الرموزللقہستانی کتاب الصلٰوۃ فصل صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران       ۱ /۲۶۸)
فالاٰن یرید الشیخ یفید ان لیس شرط کون الشیئ بین یدیک وقوعہ ، علی العمود بل یکفی کونہ بین خطی الجھۃ اینما کان فلاذا قال ووسطھما بالسکون وھو عطف علٰی قریباً منہ لانہ قریب منہ او علٰی بین الجہتین تفسیراًلہ ثم فرع علیہ جواز قیام المؤذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ وبیانہ انہ لایمکن جعل الخط الکتفی  وتر زاویۃ قائمۃ اومنفرجۃ یقوم فیھا ای بین ساقیھا المؤذن لان مابین کتفی الانسان نحو زراع فان جعل وتر زویۃ غیر حادۃ کان مابینھا وبین الکتفی شبرًا او اقل بحکم القاعدۃ الرابعۃ وقدم الانسان اکثر من شبر ولذا تعبر اھل الھیئۃ والمساحۃ ثلثی ذراع بالقدم حیث یقولون ان بارتفاع الناظرعن وجہ الارض کذا قدما ینحط الافق کذا دقیقۃ کما ذکرنا ضابطتہ وتفاریعھا النفیسۃ المحتاجۃ الیھافی علم الاوقات فی تحریراتنا التوفیق فلذا لم یخرج الخطین المحدثین زاویۃ مقام المؤذن بالتفائھما ونسمیھا خطی المقام عن یمین الامام وشمالہ بل عن موضع مامن امتداد خطی الھاتین وذٰلک قولہ خارجین من ھاتین الجہتین۱؂۔
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن کے خطیب کے سامنے کھڑے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مؤذن کا عمود یعنی خط وسط پرکھڑا ہونا ضروری ہے بلکہ خط کتفی کے دونوں کناروں سے نکلنے والے خطوط متوازیہ کے درمیان کشادگی میں عمودوسط سے ادھر ادھر ہٹ کر کھڑا ہونا بھی کافی ہے،جیسا کہ شیخ قہستانی کے قول وسطھما بالسکون  سے ظاہر ہے ۔ اب جی چاہے وسطہما کاعطف قریباًمنہ پر مانوکہ لفظ وسطھما اورقریباً منہ پاس پاس ہی ہیں یابین الجھتین پر عطف تفسیری مانو، ہر طرح معنی درست ہے ۔ اسی عمود وسط کے آزاد بازو اورخطین متوازیین کے درمیان کھڑے ہونے کو قہستانی ریاضی کی زبان میں سمجھا ناچاہتے ہیں کہ مؤذن چاہے زاویہ قائمہ پر کھڑاہوچاہے زاویہ حادہ پر اورچاہے منفرجہ پر،ہرطرح کھڑے ہونے کو بین یدی الخطیب کہا جائے گا۔سوال یہ ہےکہ یہ زاویے جن کی ساقوں کے درمیان مؤذن کھڑے ہوکر اذان دے سکتاہے مسجد کے اندر اس طرح کہ مفروضہ خط کتفی کو ان مثلثوں کا وترمانا جائے اوراس کے دونوں کنارون سے نکل کر جو دو خط عمودوسط پر  ملتے ہیں انہیں کہ نکتئہ اتصال پر تلے اوپر جوزاویہ منفرجہ اورقائمہ پیدا ہوتے ہیں وہی مؤذن کے کھڑے ہونے کا مقام ہو تو یہ ناممکن ہے ، کیونکہ خط کتفی کا یک ہاتھ لمباہوگا۔اوراس کا نصف ایک بالشت ہوگا، تو زاویہ اوروتر کے درمیان ایک بالشت یا اس سے بھی کم کی گنجائش ہوگی ۔ جیسا کہ ہم مقدمہ رابعہ میں ثابت کرآئے ہیں ،اورآدمی کے قدم کی لمبائی ایک بالشت سے زیادہ ہوتی ہے ،جیسا کہ اہل مساحت اوراہل ہیئت کا قول ہے کہ ایک قدم ذراع کا دوثلث ہوتاہے ،جہاں وہ کہتے ہیں کہ  زمین سے ناظر کی بلندی اتنے قدم پر ہو، یا وہ کہتے ہیں کہ خط افق سے اتنا قدم اوراتنا دقیقہ بلند ہو۔ ان مسائل کے ضابطے اورتفریعیں بھی ہم اپنی فن توقیت کی تصانیف میں بخوبی بیان کرچکے ہیں۔ توجب مؤذن کا قدم ایک بالشت سے زائد ہوتاہے اوروتر زاویہ میں بالشت بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ ہے ، تو وہاں مؤذن کیسے کھڑا ہوگا،اس جگہ پر تو خطیب ہی بیٹھا ہوگا اور وہاں امام کے دائیں بائیں بھی ۔ ان دونوں خطوط متوازیہ سے نکلنے والے خطوط سے کوئی ایسا زاویہ نہیں کل سکتا جس پر مؤذن کھڑاہوا(جسکا نام ہم خط مقام رکھ لیتے ہں)تو لامحالہ خط کتفی سے آگے بڑھ کر طرفین کے خطوط متوازیہ میں کہیں اس مثلث کا قاعدہ تسلیم کرنا پڑے گا جس کے زایوں کے اند رمؤذن کھڑاہو ۔ اسی کا اشارہ قہستانی کے اس قول سے بھی ہوتاہے کہ وہ فرماتے ہیں:"زاویہ قائمہ حادہ یا منفرجہ جو ان دونوں خطوط سے پیداہوتے ہیں جو امام کی جانب یمین اورشمال سے نکلے ہیں۔"
 (۱؂جامع الرموزللقہستانی کتاب الصلٰوۃ فصل صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۲۶۷)
وھما کما تری غیر محدودتین وانما یاتی التحدیدمن قبل قضیۃ المحل وھی ھنا کما یبنابدلائل قاھرۃ ونصوص باھرۃ کونہ خارج المسدج فی حدودہ وفنائہٖ فتعین ھو وترالزاویۃ المقام بحکم فقہاء الکرام وسنۃ الشارع سید الانام علیہ واٰلہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام فکان الشکل ھذا:
28-7.jpg
ا ب الخط الکتفی ا ء ، ب ہ خطا الجہتین المسامتین ح ط العمود حر حد المسدج وفناؤہ ۔ اخرج م ح ر خطا  المقام  ح ک رک فالتقیا علی العمود واحدثا قائمۃ ک اوخطاح ی ر ی فاھدثا ی المنفرجۃ او خطا ح ل ر ل فاحدثا حادۃ ل ففی ایھا اذن المؤذن کان بین یدیہ والقیام فی ک غیر متعین علیہ۔
دونوں طرف کے یہ دونوں خطوط تو غیر محدودہیں ۔  ان کی تحدید تو محل ومقام کے تقاضے کے موافق ہوگی ، جسے ہم دلائل قاہرہ ونصوص باہرہ سے ثٓابت کر آئے ہیں کہ   وہ مسجد سے خارج مسجد کے حدود اوربیرونی صحن میں ہوگی۔ تو معلوم ہواکہ مقام مؤذن کےزاویہ کا وتر فقہاء کے قول اورحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت کے موافق مسجد کی آخری حد ہی ہوگی، اس کا شکل اس طرح ہوگی:

مذکورہ بالا صورت میں خط ا ب خط کتفی ہے اور ا ء، ب ہ دو خطوط جہت ہیں اورباہم متوازی ہیں اور ج ط خط کتفی کے نصف پر عمودوسط بالتحریک ہے ۔ ح ر مسجد کی حدود اوراس کا صحن ہے ۔ مقام ح ر سے دوخط مقام مؤذن کے ح ک اور ر ک اوردونوں عمود پر ملے اوراس سے زاویہ قائمہ ک پیدا ہوا اوردونوں خط ح ی ر ی مقام ی پر ملے تو زاویہ منفرجہ پیدا ہوا ۔ اوردوخط ح ل ر ل مقام ل پرملے تو زاویہ حادہ پیداہوا ۔(علامہ قہستانی یہی کہنا چاہتے ہیں)کہ مقام ک پر مؤذن کا کھڑا ہونا ضروری نہیں ۔ ان تینوں زاویوں میں سے جہاں بھی کھڑا ہوکر اذان دے گا بین یدی الخطیب ہوگا۔
Flag Counter