| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
فلتکن ا ح ب قائمۃ متساویۃ السقین فج أنصف ا ب بوجوہ کثیرۃ منھا ان زاویتی ج ا ب ، ج ب ا متساویتان بخسمۃ الاولٰی لتساوی السقین وحیث ان ج قائمۃ فکلتا ھما نصف قائمۃ بلب منھا وح ء ب قائمۃ بحکم العمود یۃ فرح ب نصف قائمۃ بلب فح ء ، ء ب متساویان بسادسۃ الاولٰی،وکذا بعین البیان ح ء، ء ا فیکون ا ء، ء ب متساویین،فکل منھما نصف ا ب مساویالح ء۔
مان لیجئے کہ مثلث ا ح ب کا زاویہ ح قائمہ متساویۃ الساقین ہے تو عمود ح ا جواس زاویہ کے راس سے اس کے قاعدے پر ڈالاگیاہے وہ خط ا ب یعنی قاعدے کا نصف ہے ۔ اس کی بہت سی دلیلیں ہیں ایک دلیل مندرجہ ذیل ہے : ح ا ب اورح ب ا میں ا ء ب دونوں زاویے مقالہ اولےٰ کی پانچویں شکل (شکل مامونی)کی رو سے بربر ہیںکیونکہ اس مثلث کی دو ساقین ا ح اورح ب برابرہیں ، اورجب ح زاویہ قائمہ ہے تو اس کے بقیہ دونوں زاویے یعنی ۱ اورب نصف قائمہ ہوں گے مقالہ اولٰی کی بتیسویں شکل کی رو سے (اورزاویہ ج سے جو خط قاعدے تک آیا ہے اس سے دو مثلث بن گئے ہیں ا ء ح اورح ء ب ) اوراس خط کے عمودی ہونے کی وجہ سے زاویۂ قائمہ ہے تو زاویہ ح نصف قائمہ ہوگا مقالہ اولٰی کی بتیسویں شکل کی رو سے ، اورزاویہ ب پہلے ہی بیان سے نصف قائمہ ثابت ہوچکا ہے۔پس اس مثلث کی دو ساقین ح ء اورء ب بھی مساوی ہوں گی مقالہ کی چھٹی شکل کی رو سے اوراسی بیان سے دوسرے مثلث کی دونوں ساقیں ح ء اورا ء بھی مساوی ہوں گی تو قاعدے کے دونوں ٹکڑے ا ء اورء ب مساوی ہوگئے ۔ اورقاعدے ا ب کا نسف نصف ہوں گے اورخط ح ء کے بھی مساوی ہوں گے کہ مساوی کا مساوی مساوی ہوتاہے ۔ تو ثابت ہوگیا کہ مثلث قائمۃ الزاویہ متساوی الساقین کے راس سے قاعدے پر اترنے والا خط قاعدے کا نصف ہوتاہے۔
۲ کی توضیح اورثبوت
ثم لتکن ا ہ ب قائمۃ مختلفۃ الساقین فنقول ہ ر اصغرمن نصف ا ب اعنی نصف القطر لان را لیس مرکزاً والا لکان فی مثلثی ارہ ، ہ ر ب ضلعا ار، رب متساویین و ر ہ مشترک وزاویتا ر قائمتان فبرابعۃ الاولٰی یتساوی ا ہ ہ ب ہف فلکن المرکز ء وقلتنا ہ ء نصف القطر فلو کان ہ ر مساویالہ تساوت بلامامونی زایتا ر ء فاجتمع فی مثلث قائمتان۔
ہم نے فرض کیا کہ مثلث اہ ب میں زاویہ ہ قائمہ مختلف الساقین ہے ۔ تو ہمارا دعوٰی یہ ہے خط ہ ر نصف ا ب یعنی نصف قطر سے چھوٹا ہے اس لئے کہ ر یہاں مرکز نہیں، ورنہ پیش نظر دونوں مثلث یعنی ا ر ہ اورہ ر ب میں دونوں خط ا ر اورر ب برابر ہوجائینگے ، اورہ ر دنوں مثلثوں میں مشترک ۔ اور دونوں مثلثوں میں ر زاویہ قائمہ (یعنی د وقائمے) پس مقالہ اولٰی کی شکل رابع سے لازم آئے گا کہ ا ہ او رہ ب دونوں ساقیں مساوی ہوجائیں گے اوریہ خلاف مفرض ہوگا (کہ ہم نے زاویہ قائمہ مختلف الساقین مانا تھا اوریہاں دونوں کا مساوی ہونا لازم آیا) جب ر کو مرکز ماننے پر خلاف مفروض لازم آیا، تو مان لیجئے کہ مرکز دراصل ء ہے اورہ کو ملا کر نصف قطر کرلیجئے۔ اس صورت میں ہر ر ہ ء کے برابر ہوتو (مقالہ اولٰی کی پانچویں شکل کے لحاظ سے زاویہ ر اورزایہ ء دونوں برابر ہوں گے تو ایک مثلث کے دو زاویے قائمہ ہوگئے (اوریہ محال ہے تو لامحالہ ہ ر ، ہ ء دونوں ساقیں برابر نہیں ۔)
وان کان ہ ر اکبر من ہ ء کانت ء الموترۃ بالاکبر اکبر من ر القائمۃ الموترۃ بالاسغر بحکم بح من الاولٰی فاجتمع فی مثلث قائمۃ ومنفرجۃ فلاجرم ان ہ ر اصغر من اء۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہ ر کو ہ ء سے بڑا مانا جائے و مقالہ اولٰی کی اٹھارھویں شکل سے لازم آئے گا کہ زایہ ء جس کے وتر ہ ر کو ہم نے ہ ء سے بڑا مانا ہے ، چھوٹے وتر والے زایویہ قائمہ یعنی ر سے بڑا ہوجائے ۔ اورزاویہ قائمہ سے جو زاویہ بڑا ہوگا وہ منفرجہ ہی ہوگا ۔ تو لازم آئے گا کہ ایک مثلث میں زاویہ قائمہ اورزاویہ منفرجہ دونوں جمع ہوگئے اوریہ بھی محال ہے اوہ ر کے نصف قطر سے بڑے اوربرابر ہونے کی صورتیں محال ہوگئیں ، تو لا محالہ ہ ر، ہ ء نصف قطر ہ سے چھوٹا ہے اورہم اسی کے مدعی تھے۔
۳ کی توضیح اورثبوت
28-4.jpg
والامر فی المنفرجۃ اظھر سواء کانت متساویۃ الساقین مثل ا ی ب ، او مختلفتھما مثل ا ح ب لانھا تقع داخل القوس فالعمود النازل منھا علی القطران مربالمرکز مثل ی ء کان جزءً من نصف القطرح ء وان لم یمربہ مثل ح ط۔
زاویہ منفرجہ میں اس خط نازل کا نصف قطرہ سے چھوٹا ہونا زیادہ واضح ہے زاویہ منفرجہ متساوی الساقین جیسے مثلث ا ی ب یا مختلف الساقین جیسے مثلث ا ح ب کیونکہ یہ زاویہ بہر تقدیر قوس کے اندر ہوگا، تو اس زاویہ سے جو عمود بھی قطر پر نازل ہوگا یا تو مثلث ا ی ب کی طرح مرکز سے ہوکر گزرے گا جیسے خط ء ی تو وہ یقیناً نصف قطر یعنی خط ء ح کا جزء ہوگا(اوراگر زاویہ مختلف الساقین میں ہوگا جیسے ح ط کہ یہ مرکز سے ہوکر نہیں گزرتا)
28-5.jpg
اخرجناح الٰی ء ک کان ح ء الاصغر من ء ک نصف القطر لکونہ وترالقائمۃ اکبر من ح ط وترالحادۃ بحکم ر ط من الاولٰی وذٰلک ما اردناہ۔
تو ہم ح کو ء ک کی طرف لے چلیں گے (اورء ک نصف قطر ہے) توء ح ، ء ک سے چھوٹاہوگا کیونکہ ء ک زاویہ قائمہ کا وتر ہے جس کو ح ط سے بڑا ہونا چاہیے جو ازاویہ حادہ کا وتر ہے مقالۂ اولٰی کی شکل ۱۸ کی روسے ۔ اوریہی ہمارا مدعا ہے ۔
الخامسۃ: کل خط اقیم علٰی نصف عمود غیر محمدودواخرج من طرفیہ خطان یحدثا ن معہ زاویتین مجموعھما اصغر من قائمتین فان تساوت الزاویان فملتقی لاخطین علی نفس العمودوالافخارجہٗ وعلی کل تحتمل زاویۃ ملتقاھما ان تکون قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ۔
مقدمہ خامسہ: ہر وہ خط جس کے نصف پر کوئی عمود قائم کیا جائے ، اورپھر اس خط کے دونوں کناروں سے ایسے دو خطوط کھینچیں جو پہلے خط پر ایسے دو زاویے پیداکریں جس کا مجموعہ دو قائمہ سے کم ہو ۔ اوراس صورت میں یہ دونوں زاویے برابر ہوں تو خطین کا ملتقٰی عمود پر ہوگا۔اوربرابر نہ ہوں تو دونوں خطوں کا ملتقٰی عمودسے باہرہوگا۔اورہر صورت میں اس کا احتمال ہے کہ ان دونوں خطوں کے ملتقٰی کا زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ ہو۔