| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
الثالثۃ:کل زاویۃ جعل منتصف وترھا مرکزًاورسمت علیہ ببعدا حدطرفیہ قوس الٰی جھۃ الزاویۃ حتی وصلت الی الطرف الاٰخرفان الزاویۃ ان کانت قائمۃ تمر القوس براسھا او منفرجۃ فوراء رأسھا اوحادۃ فدونہ وبالعکس ان مرت القوس برأسھا فھی قائمۃ اووقعت وراء ہ فمنفرجۃ اودونہ فحادۃ۔
مقدمہ ثالثہ:جس کسی بھی زاویہ کے وتر کے منتصف کو مرکز مان کر وتر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک زاویہ کی جہت میں کوئی قوس بنائی جائے تواگر زاویہ مذکورہ قائمہ ہوگا تو قوس اس کے رأس سے ، اوراگر زاویہ منفرجہ ہوگا توقوس زاویہ کے وراء سے اورزایہ حادہ ہوگا تو قوس اس زاویہ کے نیچے سے گزرے گی۔ اسی کو اُلٹ کریوں بھی کہا جاسکتاہے کہ اگر قوس زاویہ کے راس سے گزرے تو زاویہ قائمہ ہوگا اور قوس زاویہ کے وراء سے گزرے تو زاویہ منفرجہ ہوگا اور قوس زاویہ کے نیچے سے گزرے تو زاویہ حاوہ ہوگا۔
وبعبارۃ اخری کل خط نصف ورسمت علٰی منتصفہ ببعد احد طرفیہ قوس وصلت لطرفہ الاٰخر فاذاجعلت ھذاالخط قاعدۃ مثلث واقع الی جھۃ القوس فان وقع راسہ علی نفس القوس فزاویۃ قائمۃ اووراء ھا فحادۃ اودونھا فمنفرجۃ وبالعکس ان کانت زاویۃ الراس قائمۃ تقع علی نفس القوس اوحادۃ فورائہا منفرجۃ فدونھا۔
اسی مدعا کا اظہا ربلفظ دیگریوں بھی ہوسکتاہے ، کسی بھی خط کی تنصیف کے بعد اس منتصف پر خط کے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک قوس بنائی جائے اوریہ خط کسی ایسے مثلث کے قاعدے پر منطبق ہوجائے جو جانب قوس واقع ہے ۔ تو اگرمثلث کا راس خود اسی قوس پر وقع ہوتو وہ زاویہ قائمہ ہوگا۔ اوراس قوس سے باہر کی طرف واقع ہوتو زاویہ حادہ ہے ۔ اورقوس کے اندرواقع ہوتو زایہ منفرجہ ہوگا۔ اوراسے الٹ کر یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ اگرزاویہ راس قائمہ ہوتو نفس قوس پر واقع ہوگا اور حادہ ہوتو قوس کے باہر۔اورمنفرجہ ہوتو قوس کے اندر واقع ہوگا۔ توضیح دعوٰی
28-1.jpg
ولیکن اب خطاً رسمًاعلٰی نصفہ ح ببعد اقوس اح ب ثم جعلنا ہ قاعدۃ مثلثات ا ء ب ، ار ب، اہ ب فزاویۃ الواقعۃ علی القوس قائمۃ والواقعۃ ورائھا حادۃ وہ الواقعۃ دونھا منفرجۃ۔ وان کانت الزویۃ قائمۃ تقع علی نفس القوس مثل ء ، اوحادۃ تقع خارجھا مثل ر، اومنفرجۃ فداخلہا مثل ہ۔
ہم نے مان لیا کہ اب ایک خط ہے جس کو مقام ج پر نصف کردیاگیا ہے اوراسی ح کو مرکز مانخر اسے شروع کر کے ح سے ہوتی ہوئی ب تک ایک قوس بنائی۔ا ح ب ،پھراسی خط ا ب کو تین مثلثوں ا ء ب ، ا ر ب ، ا ہ ب کا قاعدہ قراردیاتو زاویہ ء جو قوس پر واقع ہے قائمہ ہے، اوزاویہ ر جو قوس سے باہر ہے حادہ ہے، اورزاویہ ہ جو قوس کے اندر ہے منفرجہ ہے ۔ اوربالعکس یوں بھی کہہ سکتے ہیں اگرزاویہ قائمہ ہے تو قوس پر واقع ہے جیسے زاویہ ء ، اورحادہ ہے تو قوس سے باہر ہے ۔جیسے زاویہ ر اوراندر ہے تو زاویہ منفرجہ ہے جیسے زاویہ ہ۔ ثبوت دعوٰی کی تقریر
وذٰلک لان القوس نصف دائرۃ وقد وقعت فیھا زاویۃ ء فھی قائمۃ بحکم ل من ثالثۃ الاصول فتکون رحادۃ والاجتمع فی مثلث ب ء ر قائمتان وھو محال بحکم لب من اولٰی الاصول ۔ وکذاب ہ ء حادۃ لعین ذٰلک فب ہ ا منفرجۃ بحکم بح من اولٰی ھا۔
یہ اس لئے کہ قوس نصف دائرہ ہے اوراسی پر زاویہ واقع ہے اس لئے مقالہ ثالثہ کی تیسویں شکل کے حکم سے یہ ضرور قائمہ ہے ، اورچونکہ زاویہ قائمہ کے پہلو والا زاویہ بھی قائمہ ہوتاہے ۔ اس لئے زاویہ ر کا حادہ ہونا ضروری ہے ورنہ مثلث ب ع ر میں بیک وقت دوزاویہ قائمہ ہونا لازم آئے گا جو مقالہ اولی کی شل بتیس کی رو سے محال ہے، اسی طرح اسی دلیل سے مثلث ب ہ ع کا زاویہ ہ بھی حادہ ہے (چونکہ حادہ کے پہلو والا زاویہ منفرجہ ہوتاہے )اس لئے مثلث ب ا ہ کا زاویہ ہ ضرور منفرجہ ہے جیسا کہ مقالہ اولٰی کی تیرھویں شکل سے ظاہر ہے۔
ثم لتکن ء قائمۃ فلا موقع لھا الا علی نفس القوس اذلووقعت دونھا مثل ہ او ورائھا مثل ر وقد تبین ان ء ایضا قائمۃ لاجتمع فی مثلث قائمتان، ولتکن ہ منفرجہ فلا تقع الا داخل القوس اذلو وقعت علیہا کانت قائمۃ اوورائھا کانت حادۃ لما امر۔
یایوں کہئے زاویہ ء قائمہ ہے تو لامحالہ نفس قوس پر واقع ہے اس لئے کہ یہ ر کی طرح خارج قوس واقع ہو۔ یا ہ کی طرح تحت قوس ہو، تو جس طرح زاویۂ قائمہ ہے اسی طرح ہ اورر بھی قائمہ ہوجائیں گے ۔ اورایک مثلث میں دو دو زاویہ قائمہ ہوں گے ۔ یا یوں کہئے کہ اگر زاویہ ہ منفرجہ ہے تو لامحالہ داخل قوس ہوگا کیونکہ اگر وہ نفس قوس پر ہوتو اس کا قائمہ ہونا لازم آئے گا ، یا خارج قوس ہوتو حادہ ہونا لازم آئے گا دلیل مذکورہ بالا کی رو سے۔
ولتکن رحادۃ فلا وقوع لھا الا خارج القوس اذلو وقعت علیھا کانت قائمۃ ۔ او داخلھا کانت منفرجۃ لما سبق، وذٰلک مااردناہ وبہ تبنیت العبارۃ الاولٰی اصلاً وعکساً۔
یایوں کہئے کہ زاویہ ر اگر حادہ ہے تو لامحالہ وہ خارج قوس ہوگا کیونکہ نفس قوس پرہونے کی صورت میں لا محالہ وہ قائمہ ہوجائےگا ، یا داخل قوس ہوتو منفرجہ ہونا لازم آئے گا ۔دلیل اوپر مذکور ہوئی ۔ اوریہی ہمارا دعوٰی تھا۔ہماری اس دلیل سے پہلی عبارت اصلاً وعکساً ثابت ہوئی۔
الرابعۃ :کل زاویۃ غیر حادۃ نزل من راسہا عمود علٰی قاعدتھا فانہ یکون نصف القاعدۃ ان کانت الزاویۃ قائمۃ متساویۃ الساقین والاقل من نصفہا سواء کانت منفرجۃ مطلقاً اوقائمۃ مختلفۃ الساقین۔
مقدمہ رابعہ : جس کسی زاویہ غیر حادہ کے ر اس سے اس زاویہ کے قاعدے پر عمو د کا نزول ہوتو وہ عمود ہمیشہ قاعدے کا نصف ہوگا بشرطیکہ زاویہ قائمہ متساویۃ الساقین ہو ورنہ عمود ہمیشہ قاعدے کے نصف سے بھی چھوٹاہوگا(۲)خواہ زاویہ مطلقاًمفرجہ ہو۔(۳)یاقائمہ مختلفہ الساقین ہو۔ نمبر۱ کی توضیح اورثبوت