Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
54 - 135
نفحہ۲۱ : قال القھستا نی فی شرح النقایۃ عند قولہا (اذن ثانیا بین یدیہ )ای بین الجہتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہٖ قریبامنہ ووسطھما بالسکون فیشمل ماذا اذن فی زاویۃ قائمۃ او حادۃ اومنفرجۃ حادثۃ من خطین خارجین من ھاتین الجہتین ولا بأس بشمولہ بحسب المفہوم ما ذاکان ظہر المؤذن الٰی وجہ ما یضاف الیہ الیدان، فان قرینۃ الاذان تدل ان وجہہ یکون الیہ لکن یشکل بما اذاکان ظھرہ الٰی ظھر المضاف الیہ الااذا قیل باخراجہ بقرینۃ قولہ استقبلوہ مستمعین ۱؂اھ ۔
نفحہ۲۱: قہستانی نے شرح نقایہ میمصفن کے قول"دوسری اذان خطیب کے سامنے ہوگی"کی شرح میںکہا : یعنی ان دونوں سمتوں کے درمیانجو منبر یا امام کے دائیں بائیں متوازی جارہی ہیں ان کے قریب اوران دونوں کے درمیان (یہاں لفظ وسط کی سین ساکن ہے ، تو زاویہ قائمہ کے اندر کھڑاہویا حاوہ ومنفرجہ، سبھی صورتوں کو شامل ہے ، یہ سب زاویے ان ددنوں جہتوں سے پیداہوتے ہیں جو ان دونوں خطوط متوازیہ سے بنتے ہیں ۔مفہوم کے اعتبارسےیہ عبارت اس صورت کو شامل ہے کہ مؤذن کی پشت امام کے چہرہ کی طرف ہو، لیکن اذان کا قرینہ اس بات پردلالت کرتاہے کہ مؤذن کا چہرہ ہی امام کے چہرہ کی طرف ہو۔اوراس صورت کو بھی شامل ہے کہ مؤذن کی پشت امام کی پشت کی طرف ہولیکن اس کا جواب یہ ہے کہ حکم یہ ہےکہ سب امام کی طرف رخ کریں اوراس کی بات سنیں۔اھ)
 (۱؂جامع الرموزکتاب الصلٰوۃ فصل صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۱/۶۹۔۲۶۸)
اقول :  ھذا کلام تحیر ھٰؤلاء فی حلہ وتناقضوافی حملہ واستشھدبہ بعضھم بجھلہ ولیس فیہ الامشتت لشملہ ومسفہ لعقلہ ثم ھو غیر محررفی اصلہ فنذکربتوفیقہ تعالٰی اولا ما یشرحہ ثم نکمل الفائدۃ ما یزیفہ ویجرحہ ثم نتوجہ الٰی اجھل ھٰؤلاء فنطرحہ ولنقدم لذٰلک مقدمات نوضحہ۔
اقول : (میں کہتاہوں )قہستانی کی اس عبارت نے مخالفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اوراس عبارت کا حل کرنا انہیں مشکل پڑرہاہے اوراس کا مطلب بیان کرنے میں وہ لوگ باہم متناقض ہیں۔ اوربعض نے تو اس سے اپنی جہالت کی دلیل فراہم کی ۔ اورفی الحقیقت یہ عبارت مخالفین کے پریشاں خاطری کے اظہار کا ذریعہ اوران کی بے وقوفی کے ظہور کاسبب بنی ۔ اورلطف یہ کہ قہستانی کا یہ بیان بھی خود کوئی قابل اعتماد بات نہیں تو بتوفیق اللہ تعالٰی پہلے ہم اس کلام کی تشریح کرتے ہیں،پھر اس کی کمزوری کا بیان کریں گے ،پھر مخالفین کی جہالت واضح کریں گے۔ اس کے لئے چند توضیحی مقدمات کی تفہیم ضروری ہے۔
الاولٰی : المنبر فی قولھم بین یدی المنبر مجاز عن الخطیب النقل والعقل المصیب اما لنقل فقول العلامۃ المحقق البحر فی البحر"الضمیر فی قولہ بین یدیہ عائد الی الخطیب الجالس، وفی القدوری بین یدی المنیر وھو مجاز اطلاقاً لاسم المحل علی الحال کما فی سراج الوھاج فاطلق اسم المنبرعلی الخطیب ۱؂اھ
مقدمہ اولٰی: فقہاء کے قول بین یدی المنبر میں لفظ منبر بول کر مجازًاخطیب مراد لیاگیا ہے ۔ یہ نقلی دلیل سے بھی ثابت ہے اورعقلی دلیل سے بھی ۔ دلیل نقلی صاحب بحرالرائق کا یہ قول ہے جو انہوں نے بحر مین فرمایا:"قول بین یدہ میں ضمیر خطیب کی طرف لوٹ رہی ہے جو منبر پر بیٹھاہو۔"قدوری میں ہے :"لفظ بین یدی المنبر میں منبر سے مجازًاخطیب مراد ہے کہ اکثر محل بول کر حال مراد ہوتاہے۔"ایسا ہی سراج الوہاج میں بھی ہے کہ "منبر کا لفظ بول کر خطیب مراد ہے ۔"
 (۱؂البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷۵۱/۲)
"واماالعقل فلان المنبر لو کان عریضا یسع رجالا فقام الاما علی احدطرفیہ والمؤذن بحذاء طرفہ الاخر فقد اخطأ السنۃ لانہ لیس بین یدی المنبر مع انہ بین یدی المنبرلاشک فعلم ان السنۃ ھو کونہ بین یدی الخطیب دون المنبراذالعود غیر مقصودوقد مرت السنون لم یکن منبر فما کان یواجہ الاالامام امام الانام علہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والسلام  ھذاظاھر جدا۔
عقلی دلیل یہ ہے کہ منبر اگراتنا چوڑا ہوکہ اس کے عرض میں کئی آدمی کھڑے ہوسکتے ہوں،تو اگر امام منبر کی ایک طرف بیٹھا اورمؤذن دوسری طرف سامنےکھڑا ہوا تو اس نے سنت ترک کردی کیونکہ اس صورت میں وہ امام کے مقابل نہیں منبر کے سامنے البتہ ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ مؤذن خطیب کے سامنے ہو منبر کے سامنے نہیں، اس لئے کہ توجہ کا مقصودلکڑی نہیں ہے ۔ مسجد نبوی شریف میں کئی سال تک منبر تھا ہی نہیں تو محالہ مؤذن حضور امام الائمہ سید الانام رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف ہی رخ کرتا تھا،یہ امر بالکل ظاہر ہے۔
الثانیۃ :فی المغرب الوسط بالتحریک اسم لعین مابین طرفی الشیئ کمرکز الدائرۃ ۔وبالسکون اسم بھم لداخل الدائرۃ مثلاً ولذٰلک کان ظرفاًفالاول یجعل مبتدأ وفاعلاومفعولابہ وداخلاعلیہ حرف الجرولایصح شیئ من ھذا فی الثانی ۔ تقول وسطہ خیر من طرفہ وتسع وسطہ، وضربت وسطہ، وجلست فی وسط الدار،وجلست وسطھا بالسکون لاغیر ، ویوصف بالاول مستویافیہ المذکر والمؤنث والاثنان والجمع وقال اللہ تعالٰی "جلعنا لکم امۃ وسطاً"وللہ علی ان اھدی شاتین وسطا الی بیت اللہ،اواعتق عبدین وسطا ۱؂اھ۔
مقدمہ ثانیہ: مُغرب میں ہے : الوسط سین کی حرکت کے ساتھ نام ہے کسی چیز کے دونوں کناروں کے ٹھیک بیچ کا،جیسے دائرہ کےلئے مرکز۔ اورالوسط سین کے سکون کے ساتھ اسم مبہم ہے ،تومثلاً دائرہ کےاندر کسی مقام کو بھی وسط کہاجاتاہے ، یہی وجہ ہے کہ وسط بالسکون تو کلام میں صرف ظرف واقع ہوتاہے ۔ اوروسط بالتحریک مبتداء ، فاعل ، مفعول بہ واقع ہوتاہے ، اوراس پرحرف جربھی داخل ہوتاہے ۔ اوروسط بالسکون ان میں سےکسی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ چنانچہ کہا جاتاہے "وسط خیر من طرفہٖ"اس کا بیچ کنارہ سے اچھا ہے۔ اس صورت میں وسط مبتداء واقع ہواہے ۔ "وتسع وسطہ"یہ وسط کے فاعل ہونے کے مثال ہے کہ اس کا بیچ وسیع ہوا۔ "ضربت وسطہ"اس کے بیچ میں مارا۔ یہ مفعول بہ واقع ہونے کی مثال ہے۔ اور"جلست فی وسط الدار"توگھر کے وسط میں بیٹھا ، یہ فی داخل ہونے کی مثال ہے ۔ لیکن وسط بالسکون کے استعمال کی صورت صرف یہ ہے کہ یہ ترکیب میں ظرف واقع ہوتاہے ، جیسے جلست وسطہ میں گھر میں بیٹھا ۔ یہاں متوسط مفعول فیہ ظرف واقع ہے،ایک علامت یہ بھی ہے کہ وسط بالتحریک مذکر،مؤنث، واحد، تثنیہ ،جمع سب کی صفت بن سکتاہے قرآن عظیم میں ہے "جعلنا کم امۃ وسط"ہم نے  تم کو امت وسط بنایا، یہاں لفظ وسط مونث کی صفت ہے "للہ علی ان اھدی شاتین وسطا"میں اللہ تعالٰی کے لئے دومتوسط بکریاں نذر کرتاہوں ۔ یہاں وسط تثنیہ مؤنث کی صفت ہے"واعتق عبدین وسطاً"میں اللہ تعالٰی کے لئے دو متوسط قسم کے غلام آزاد کروں گا۔ یاہں وسط تثنیہ مذکر کی صفت ہے  اھ۔
 (۱؂ البحرالرائق بحوالہ المغرب کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱ /۳۵۱و۳۵۲)
وفی الصحاح کل موضع صلح فیہ بین فھو وسط بالتسکین"کجلست وسط القوم وان لم یصلح فیہ فہوبالتحریک " کجلست وسط الدار،وربما سکن ولیس بالوجہ اھ۱؂۔
صحاح جوہری میں ہے: جہاں لفظ بین کا محل استعمال ہووہاں وسط بالسکون پڑھا جائے جیسے "جلست وسط القوم" میں قوم کےدرمیان بیٹھا۔ اورلفظ بین کامحل استعمال نہ ہوتو وسط بالتحریک ہوگا جیسے "جلست وسط الدار" میں گھر کے ٹھیک بیچ میں بیٹھا ۔ کہیں بالسکون بھی کہہ دیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں اھ بحر۔
 (۱؂الصحاح تحت اللفظ"وسط"داراحیاء التراث العربی بیروت۹۷۵/۳)
Flag Counter