Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
53 - 135
وثالثاً: اجمعت الامۃ ان الذی کان عند جلوسہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی المنبر کان ھذاالاذان المعروف وتظافرت الروایات واجمع من یعتدباجماعہم انہ لم یکن فی عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم للجمعۃ شیئ غیر ھذا ولا علٰی عھدالصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وانہ لم یکن علٰی عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تثویب فی شیئ من الصلوات الا الفجرعلٰی جعل قولہ الصلٰوۃ خیر من النوم  تثویباً۔فلو کان ھذا اعلاماً حملاً لحدیث ابن اسحٰق علیہ المصرح فیہ بکونہ اذا جلس علی المنبر بقیت الجمعۃ علٰی عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بدون الا ذان المعروف وھو خلاف الاجماع۔
وثالثاً : اس امر پر  امت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھنے کے وقت یہی معروف مشہور اذان ہوتی تھی ، اسی پر کثیر روایتوں کا اتفاق، اورجن اعلام کا اجماع قابل اعتماد ہے ان کا اجماع اسی بات پر ہے کہ عہد رسالت وعہد صدیقی میں اس اذان کے علاوہ کچھ نہ ہوتاتھا،ان زمانوں میں تثویب کا رواج بھی نہ تھا ، ہاں نماز فجر کے لئے البتہ الصلٰوۃ خیر من النوم پکاراجاتاتھااگر اسے تثویب قراردیاجائے ۔پس اگر روایت ابن اسحاق کی مصرح اذان کو اعلان قراردیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ عہد رسالت میں جمعہ کے لئے اذان ہوتی ہی نہیں تھی،اوریہ بھی خلاف اجماع ہے۔
ورابعاً : اذا ترک ھذا فی اواخرعھدہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوفی زمن الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بقیت الجمعۃ من دون ایذان لااعلام ولا اذان وھذا خلاف الاجماعٍ۔
رابعاً: اوربقول حضرت ملاعلی قاری علیہ الرحمہ جب عہد رسالت کے اخیر یا عہد صدیقی میں یہ اعلان بھی موقوف ہوگیا تو ان دونوں مبارک زمانوں میں جمعہ کے لئے نہ کوئی اعلان ہوتا تھا نہ اذان اوریہ بھی خلاف اجماع ہے۔
وخامساً: اذن لا یستقیم قول عمر"نحن ابتدعناہ لکثرۃ المسلمین۱؂لا احداثا ولا تجدیدا لان الذی  یفعل عند جلوس الاما م لم یزل مستمراًمن زمنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام۔"
خامساً :اس صورت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول"ہم نے مسلمانوں کی کثرت کی وجہ سے اس کو ایجا دکیا"کا معنی درست نہ رہے گا نہ بطور احداث نہ بطور تجدید،کیونکہ جو ہوتاہے وہ توزمانہ رسالت سے ہی چالوتھا۔
 (۱؂فتح الباری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ مصطفی البابی مصر  ۳/ ۴۵)
وسادساً: اذن کان اذان الخطبۃ ھو المحدث فکان احق بقول عمر نحن ابتدعناہ۔
سادساً : اس تقدیر پر اذان خطبہ ہی تو نوایجاد ہوئی۔ توحضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اس کو اپنی ایجاد کہنا ہی صحیح ہوا۔
وسابعًا:کیف یکون ھذا اصلالاعلام عمر وعثمان فانہ کان قبل جلوس الامام وھذا عندجلوسہ علی المنبر۔
سابعًا : یہ اعلان حضرات فاروق وعثمان رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اعلان کی اصل کیسے ہوا؟ان حضرات کا اعلان تو آپ ہی کے بیان کے مطابق اذان خطبہ سے پہلے ہوتا تھا ، اورجس کو آپ ان کے اعلان کی اصل بتارہے ہیں یہ توعین امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت ہوتا ہے۔
وبالجملۃ فیہ مفاسد اظھر من ان تظھرواکثر من ان تحصر وانما الامر ما وصفنا انہ رحمہ اللہ تعالٰی کتب البحث مندون مراجعتہ (عہ) للحدیث ولالکالم المنازعین ، ولا لکلام مالک واصحابہ الاکثرین والالم تعرض تلک الاوھام ولم یستقم لہ تاویل حدیث ابن اسحٰق ولا ماینکر علیہ مالک بالاعلام۔ فظھر ان تعلق بعض جھلۃ الزمان بھٰذا البحث الذی لیس لہ روح لیعیش انما ھوتشبث الغریق بالحشیش وتقدم بعض مایلیق بہ فی النفحۃ التاسعۃ الحدیثیۃ۔
المختصراس تاویل کے مفاسد بیان سے باہر اورشمار سے زائدہیں ، حقیقت وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر آئے کہ حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نےیہ پوری بحث احادیث اورکلام منازعین، اورکلام امام مالک اور ان کے متبعین کی طرف مراجعت کے بغیر لکھ دیا ، ورنہ یہ اوہام عارض نہ ہوتے اورنہ حدیث ابن اسحٰق کی تاویل  درست ہوتی۔ عہد حاضر کے بعض جاہلوں کا اس بے جان بحث سے زندگی کی مدد چاہنا ، ڈوبنے والے کے تنکے کا سہاراڈھونڈنے کے مترادف ہے، اس بحث سے متعلق بعض باتوں کوہم نفحہ تاسعہ حدیثیہ میں ذکر کرچکے ہیں۔
عہ :  ولذاانسبہ للطبرانی مع وجودہ فی افضل السنن ابی داؤدوقال الزرقانی فی المقصد الثالث من شرح المواھب علی المؤلف المؤاخذہ فی ترک الترمذی "ان الحدیث اذا کان فی احد الستۃ لایعزی لغیرھا کما قال مغلطائی ۱؂۔ "انتہٰی منہ حفظہ ربہ۔
اسی لئے اس کو طبرانی کی طرف منسوب کیاباوجود یہ  کہ یہ اس سے افضل سنن ابو داودمیں موجود ہے ۔ امام زرقانی نے شرح مواہب کے مقصد ثالث میں ترک ترمذی کے بارے میں مؤلف پر مواخذہ کرتےہوئے فرمایا: جب کوئی حدیث صحاح ستہ میں موجود ہوتو اسے ان کے غیر کی طرف منسوب نہ کیاجائے ، جیسا کہ مغلطائی نے کہا ہے انتہٰی منہ حفظہ ربہ۔(ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی  المواھب اللدنیۃ)
ثم لیس فیہ علی ماقررنا مایقرعینھم اذلیس فیہ ان الاذان کان علی عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی جوف المسجد وفیہ الکلام واللہ المستعان وللہ الحمد۔
لطف یہ ہے کہ اس بحث سے سہارا ڈھونڈنے والوں کا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا کہ ان کا دعوٰی تو مسجد کے اندر اذان ہونے کا ہے ، اور اس پوری بحث میں اندرون مسجد اذان ہونے کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔
Flag Counter