Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
52 - 135
یشیرالی الاثرالمذکورعن تفسیر جویبر وقد کان قدمہ وردہ وذکرہ ثمہ توفیقا ینبغی نقلہ لیتضح بہٖ مرامہ بھٰذاالتطبیق قال بعد ماذکران عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ھو الذی احدث الاذان الاول مانصہ ،"ولا یعارض ان عثمٰن ھو المحدث لذٰلک ماروی ان عمر ھوالاٰمر بالاذان الاول خارج السمجد یسمع الناس ثم الاذان بین یدہ ثم قال نحن ابتدعنا ذٰلک لکثرۃ المسلین لانہ منقطع ولا یثبت وانکر عطاء ان عثمٰن احدث اذا ناً،وانما کان یامر بالاعلام ویمکن الجمع بان ماکان فی زمن عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ )مجرد الاعلام واستمرفی زمن عثمٰن (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ثم رأی ان یجعلہ اذاناًعلٰی مکان عال ففعل واخذ الناس بفعلہ فی جمیع البلاد اذ ذاک لکونہ خلیفۃ مطاعا۱؂اھ۔
یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام لےکر حضرت علی قاری جویبر کے مذکورہ بالاثرکی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کوخود ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نےذکر کر کے اس کا رد کیا ہے اوروہیں ایک اورتوجیہ بھی ذکر کی ہے ۔ ہم ذیل میں اسے نقل کرتے ہیں، اس سے اس تاویل کا مطلب بھی کھلے گا ۔ اورملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت کا منشا ء بھی ظاہر ہوگا۔آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اذان اول کا موجد قرار دے کر فرماتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اذان اول کا موجدہونے کے معارض وہ اثر(اثرجویبر) نہیں ہوسکتا(جس میں یہ تصریح ہے کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے اذان اول خارج مسجد دلائی کہ لوگ سن سکیں ۔پھر اذان بین یدیہ دلائی اورفرمایا کہ ہم نے آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ اذان ایجادکی)کیونکہ یہ اثر منقطع ہے اس کا ثبوت نہیں ۔ اورحضرت عطاء رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اذان اول کاموجد نہیں مانتے۔ان کے بقول حضر ت عثمان تو صرف اعلان کرتےتھے۔ان دونوں باتوں میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اعلان شروع کرایا تھا حضرت عثمان کے دورتک جاری رہا ،پھر انہوں نے اپنی رائے سےاس اعلان کے بجائے بلند مکان پر اذان دلانی شروع کردی اوران کے امام مطاع ہونے کی وجہ سے لوگوں نے اسی پر عملدرآمد جاری کردیا۔
اقول : ولا یذھب عنک ان ھذا قمع لاجمع اذقداٰل الامر الٰی انہ جعلہ اذاناًفقد احدث اذاناًوعطاء ینکرہ فاین الجمع بل السبیل ما سلک فی فتح الباری وغیرہ ان المثبت مقدم علی النافی وقد ثبت احداث عثمٰن الاذان وانہ ھو الذی احدثہ لا امیر المومنین عمر باحادیث صحاح لامردلھا فلاحجۃ فی انکارعطاء ولا فی روایۃ تفسیر جویبر۔
اقول: (میں کہتاہوں )شیخ علی قاری کی یہ جدوجہد جمع کے بجائے قمع ہے، کیونکہ آخر میں انہوں نے  یہ اقرارکیا کہ حضرت ذوالنورین نے ابتدائی اعلان کو اذان کردیا، توحضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ اذان اول کے موجدہوئے ۔ اورحضرت عطاء ابن رباح سرے سے ان کے موجد اذان ہونے کا ہی انکار کرتے ہیں ۔ تو ملا علی قاری علیہ الرحمہ کی بات جمع بین القولین کیسے ہوئی!اس لئے جمع کا صحیح طریقہ وہی ہے کہ صاحب فتح الباری کی طرح کہاجائے (۱)مثبت روایت(یعنی ذوالنورین کا موجداذان اول ہونا)نافی (یعنی قول عطاء)پر مقدم ہے(۲)حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اذان اول کا موجدہوناایسی روایتوں سے ثابت ے جس کی تردید نہیں ہوسکتی، اس لئے نہ تو حضرت عطاء کے انکار کا کچھ فائدہ ہوگا نہ تفسیرجویبرکی روایت اثر اندازہوگی۔
ولھذاالشیخ لما جمع بان عمر ضی اللہ تعالٰی عنہ احدث اعلاماًواستمر الٰی زمن عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ وجعلہ بعداذا نا فالٰی ھذا یشیر بقولہ"فیکون اصل  اعلام عمر وعثمٰن "ولما کان یرد علیہ ان علی تطبیقکم ھذا یکون تقدیم الاعلام علی الاذان ثابتا من زمن الرسالۃ فکیف یقول الفاروق نحن ابتدعناہ لکثرۃ المسلمین۔حاول ان یرفو ھذاالخرق فقال"ولعلہ ترک ایام الصدیق اواواخر زمنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ایضا فلھذااسماہ عمر بدعۃ وتسمیۃ تجدیدالسنۃ بدعۃ علی منوال ما قال فی التراویح نعمت البدعۃ ھی ۱؂اھ۔"
المختصرہماری اس تفصیل سے علامہ قاری رحمۃ اللہ علیہ کےقول کے معنٰی واضح ہوگئے کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جس اذان کے بارے میں بین یدی الخطیب یا علٰی باب المسجد یا علی المنار ہونے کی بات کہی جارہی ہے وہ دراصل اذان نہ تھی نماز جمعہ کا اعلان تھا۔اوریہی حضرات فاروق وعثمان کے اعلان بعدہ الاذان کی اصل ہے ، لیکن حضرت علی قاری کی اس تطبیق پربھی اعتراض واردہوتاہے کہ اس توجیہ سے معلوم ہوتاہے کہ اذان سے پہلے اعلان رواج عہد رسالت سے ہی تھا، تو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ اعلان کرا کے یہ کیسے کہا کہ ہم نے اس کی ایجاد کی!ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے اس شبہ کا جواب اس طرح دیا کہ"یہ اعلان حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آخری عہد اورحضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پورے زمانے میں موقوف ہوگیا رہا ہوگا۔حضرت عمر نے اس کی تجدید کی اوراس کا نام ایجاد رکھا ہوگا،جیسا کہ تروایح کی جماعت کو بھی آپ نے البدعۃ کہا تھا حالانکہ خود حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی  حیات ظاہری میں دوتین یوم تراویح کی جماعت قائم فرمائی تھی"
 (۱؂مرقاۃ المفاتیح باب الخطبۃ والصلوۃ تحت الحدیث ۱۴۰۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ  ۳/ ۴۹۷)
اقول: ولا یخفٰی علیک ان الشیخ انما یبدی ھذہ الاشیاء بیمکن ولعل وما بیدہ سند علٰی شیئ من ھذا اولا لہ فیہ سلف ولا بہ حصول مارام من التوفیق فان مأل ترجباتہ واحتمالاتہ انہ کان  علی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعلام بالجمعۃ علٰی باب المسجد ثم اذان بین یدیہ اذا جلس علی المنبرثم ترک الاعلام فی اواخر عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوفی زمن الصدیق رضی ا للہ تعالٰی عنہ ثم ثم جددہ عمر لکثرۃ المسلین وابقاہ عثمٰن ثم حولہ الی الاذان الذی فی حدیث ابن اسحٰق انہ کان علی الباب وفی کلام مالک انہ لم یکن بین یدیہ ھو ھذا الاعلام اما الاذان فما کان الابین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وانت تعلم انہ۔
اقول : (میں کہتاہوں)ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تمام توجیہات کو "ہوسکتاہے"اور"ممکن ہے"کے لفظ سے شروع کیا ہے ، کسی بھی توجیہ کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، نہ سلف صالحین میں سے کوئی ان کی کسی رائے میں ان کا ہم نوا ہے نہ انکی اس جدوجہد سے مختلف اقوال وروایات میں باہمی تطبیق کا مقصد ہی کچھ حاصل ہوتاہے کیونکہ ان کے تمام امکانات واحتمالات کا حاصل یہ ہے کہ عہد رسالت میں اعلان جمعہ مسجد نبوی کے دروازہ پر ہوتاتھا پھر امام جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے اذان خطبہ ہوتی پھر عہد نبوت کے آخری دور یا عہد صدیقی میں یہ اعلان متروک ہوگیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے عہد مبارک میں مصلیوں کی کثرت کی و جہ سے پھرا س اعلان کی تجدید کی ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے عہد مبارک میں بھی اس اعلان کو جاری رکھا پھر ان کی رائے ہوئی کہ اعلان کے بجائے اذان ہی دی جائے۔ تو وہ اذان  جس کا ذکر روایت ابن اسحاق میں ہے مسجد کے دروازہ پر بتاتے ہیں ،اورامام مالک رحمۃ اللہ علیہ جس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ خطیب کے آگے نہیں ہوتی تھی وہ دراصل یہی اعلان تھا اوراذان خطبہ تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ہی ہوتی تھی (مگراس پر مندرجہ ذیل اشکالات ہیں:)
اولاً : لایلائم قول مالک فانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ینھی عن الاذان بین یدی امام لاعن اعلان اٰخر قبلہ ولا کان فی عہدہٖ رضی اللہ تعالٰی عنہ اعلام بین یدی الامام غیر الاذان حتی ینکرہ ویقول انہ محدث لیس من الامر القدیم فاین التوفیق۔
اولاً : امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ امام کے سامنے خطبہ دینے سے منع کرتے تھے،اس سے قبل کےکسی اعلان کو نہیں۔اورحضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان کے علاوہ کوئی اعلان تھا ہی نہیں کہ امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اسے روکنے کی ضرورت پڑتی۔
وثانیاً لایلائم حدیث ابن اسحٰق لانہ ذکر ان الذی کان علی باب المسجد کان ھو بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حین یجلس علی المنبر فکیف یفرق بین الشیئ ونفسہ ویقال ان ماعلی الباب کان اعلاماًوما بین یدیہ کان اذا ناًفان کان الاذان فی حدیثہٖ بمعناہ فالذی کان علی الباب کان اذاناًوان کان بمعنی الاعلام فالذی بین یدیہ کان اعلاماًفکیف التفریق واین التطبیق۔
ثانیاً: یہ تاویل حدیث ابن اسحاق کے بھی خلاف ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرماہونے کے بعد جو چیز ہوتی تھی وہ دروازہ مسجد پر ہوتی تھی ، اوروہی آپ کے سامنے بی تھی اورآپ کی تاویل کا مقصد یہ ہے کہ بین یدیہ اورباب مسجد دو علیحدہ جگہیں ہیں ۔ دروازہ پر اعلان ہوتا تھا اوربین یدیہ اذان ہوتی تھی۔ توحدیث ابن اسحٰق میں جو چیز مذکور ہے اگر اذان ہے تو وہ درمسجد پر ہوتی تھی اوراگر اعلان تھا تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے جو ہوتا تھا وہ بھی اعلان ہی تھا ، پس دونوں باتوں میں کہاں موافقت ہوئی؟
Flag Counter