Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
51 - 135
وثالثا انما یعودھٰذا التشنیع الشنیع الی الائمۃ الاجلا ء الذین نھو عن الاذان فی المسدج ونصوا علی کراھۃ فیہ وقد اجارھم اللہ تعالٰی عن ھٰذا ومن شنع علیھم فعلیہ دائرۃ السوء وھوالملوم والمدحور۔
ثالثا یہ وعید شدید ان ائمہ کرام پر بھی وارد ہوگی جنہوں نے مسجد کے اندر اذان کی کراہت پر تنصیص فرمائی،وہ تو بلاشبہ اس سے اللہ تعالٰی کے دامن میں محفوظ ہیں، ہاں جوان پر طعن وتشنیع کرے وہی ہلاکت کے گڑھے میں مقہور ومردودہے۔
رابعاً ھٰؤلاء الوھابیۃ ھم الذین یتمسکون فی بحث البدعۃ باثر سنن الدارمی عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فی انکارہ علی الذین اجتمعوا فی المسجد حلقا جلوساًینتظرون الصلٰوۃ فی کل حلقۃ رجل یقول کبروامائۃ، ھللوامائۃ،سبحوا مائۃ فیفلعون،فقال والذی نفسی بیدہٖ انکم لعلٰی ملۃ ھی اھدٰی من ملۃ محمدٍ؟صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اومفتحواباب الضلالۃ ؟ قالوواللہ یا ااعبدالرحمٰن مااردنا الاالخیر قال وکم من مرید الخیرات یصیبہ۱؂۔(الحدیث)
رابعاًیہ وہابیہ حضرات بدعت کی بحث میں دارمی کے ایک اثر سے استدلال کرتے ہیں جو آپ سے مروی ہے کہ آپ نے ان لوگوں پر انکار کیا جو ایک مسجد میں گروہ درگروہ حلقہ بنا کر بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے تھے ، ہر حلقہ میں ایک آدمی کہتاسوباراللہ اکبرکہوسوبارلاالہ الا اللہ پڑھواورسو بارتسبیح کرو۔بقیہ لوگ اس کی بات پر عمل کرتے ۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کیا تم لوگ اس ملت میں ہو جو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بھی زیادہ ہدایت پر ہے یا تم لوگ گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟ان لوگوں نے عرض کی  یا ابا عبدالرحمٰن!اپنے اس فعل سے ہم لوگ بھلائی کے طلبگار تھے آپ نے فرمایا کتنے بھلائی کے طالب اس تک پہنچتے ہیں۔
 (۱؂سنن الدارمی مقدمۃ الکتاب باب فی کراہیۃ اخذ الرائ   نشر السنۃ ملتان ۱/ ۶۰و۶۱)
وقد اجبنا عنہ فی المجلد الحادی عشر من فتاوی ناباجوبۃ شافیۃ، لکن این ذھب ھذا منھم ھھنا ام یدخلون عبداللہ بن مسعود ایضاًفی وعید من اظلم نعم لاغروفقد سبوا اللہ وسبوا رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲؂۔
ہم نے اپنے فتاوٰی کی گیارہویں جلد میں اس کے متعدد بھرپور جواب دئے ہیں لیکن خود ان حضرات سے ان کی یہ محبوب دلیل کہاں رہ گئی، یا پھر یہ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھی وعید"من اظلم"میں شامل کرتے ہیں اوران سے کچھ بعید بھی نہیں یہ لوگ تو اللہ ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دے چکے ہیں تو قیامت میں انہیں پتہ چلے گا کہ کہاں پلٹائے گئے ہیں۔
 (۲؂القرآن الکریم   ۲۶/  ۲۲۷)
نفحہ۲۰: قدمنا فی النفحۃ الثامنۃ العودیۃ ان امام دارالھجرۃ عالم المدینۃ سیدنا مالکا رضی اللہ تعالٰی عنہ وجماھیراصحابہ ذھوا الٰی ان جعل ھٰذاالاذان بین یدی الامام بدعۃ مکروھۃ،وانما السنۃ فیہ ایضا المنارۃ وھذا مابلغھم ولکن نطق حدیث ابی داؤدالصحیح ان فعلہ بین یدی الامام ھو السنۃ من لدن سید الانام علیہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والسلام۔ فبعض محققی اصحابہ رحمھم اللہ تعالٰی ومنھم الحافظ ابو عمر بن عبدالبرخالف فی ذٰلک ووجہ الکلام الٰی بعض الاصحاب مع ذکرہٖ فی الکافی الفقھی عن صاحب المذحب رضیا للہ تعالٰی عنہ وکانہ وجد عنہ روایۃ اخری اوسھا والانسان للنسیان ، فقال فی الاستذکارمانقلہ الشیخ خلیل فی التوضیح وعنہ فی المواھب وھذا نصہامع شرحہا للعلامۃ الزرقانی المالکی۱؂۔
نفحہ۲۰: ہم شمامہ عودیہ کے آٹھویں نفحہ میں ذکر کر آئے ہیں کہ امام دارالہجرۃ عالم مدینہ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ اوران کے اکثر اصحاب نے اس اذان کو بدعت مکروہہ قراردیا ہے ، اوراپنے علم کے اعتبار سے اس اذان کا مقام مسنون منارہ کو قراردیتے ہیں ، مگر ابوداؤدکی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اس اذان کا خطیب کے سامنے ہونا مسنون ہے اوریہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ سے ثابت ہے ، اسی لئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بعض اصحاب تحقیق نے  جن میں حافظ ابو عمر بن عبدالبر بھی ہیں ،ا س کی مخالفت کی اوراذان خطبہ کے منارہ پر مسنون ہونے کو بعض اصحاب مالک کا قول بتایا۔ حالانکہ کافی فقہی میں اسے امام مالک صاحب مذہب رحمہ اللہ علیہ کا قول بتایا ، تو ایسا بھی ممکن ہے کہ ابن عبدالبر کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے کوئی دوسری روایت ملی ہو ۔ اوریہ بھی ہوسکتاہے کہ انکو سہو لاحق ہوا ہو ، اوربھول چوک تو انسان کے لئے ہی ہے ۔ ابن عبدالبر نے اپنی کتاب استذکار میں جو فرمایا شیخ خلیل نے اسے اپنی توضیح میں نقل کیا۔ ان سے مواہب میں نقل ہوا۔ ہم استذکار کی عبارت امام زرقانی مالکی کی شرح کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد التاسع الباب الثانی دارالمعرفۃ بیروت۷/ ۳۸۱)
فی الاستذکار اسم الشرح الصغیر علی الموطاء لابن عبدالبر ان ھذا اشتبہ علٰی بعض اصحابنا فانکران یکون الاذان یوم الجمعۃ بین یدی الامام کان فی زمنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام وابی بکر وعمر وان ذٰلک حدث من زمن ھشام ۔وھذاقول من قل عملہ بالاحادیث وکانہ یعنی الداؤدی ثم استشھد فی الاستذکار بحدیث السائب بن یزید المروی فی البخاری ثم قال"وقدرفع الاشکال فی ذٰلک روایۃ ابن اسحٰق عن الزھری عن السائب بن یزید۔قال کان یوذن بین یدی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ وابی بکر وعمر ۱؂ اھ"
استذکار(یہ موطاء کی ایک مختصر شرح ہے جسے ابن عبدالبر نے تحریر کیاہے )میں ہے کہ ہمارے بعض اصحاب پر یہ بات مشتبہ ہوگئی ، تو ان لوگوں نے عہد رسالت اورعہد شیخین میں اذان جمعہ کے خطیب کے سامنے ہونے سے انکار کیا اوریہ کہا کہ یہ تو ہشام ابن عبدالملک کے زمانہ کی ایجاد ہے ۔ یہ علم حدیث سے کم واقفیت رکھنے والوں کا قول ہے اور اس سے صاحب استذکارکی مراد شاید داؤدی ہیں پھر اسی استذکار میں اپنے قول پر سائب ابن یزید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت سے استدلال کیاجو بخاری میں مروی ہے ۔پھر فرمایاکہ اس حدیث کا اشکال ابن اسحٰق عن زہری عن سائب ابن یزید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے زائل کردیا۔اس حدیث میں ہےکہ جمعہ کے دن جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منبر پربیٹھتے تو آپ کے سامنے اذان ہوتی ،اورایسا ہی ابو بکر وعمر رضوان اللہ علیہما کے زمانہ میں بھی ہوتارہااھ۔
  (۱؂الاستذکار   باب الجمعۃ   باب ماجاء فی الانصات   یوم الجمعۃ  دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۲/ ۲۷)
فانظر ان الساداۃ المالکیۃ صاروا فرقتین جمہورھم علی ان الاذان بین یدی الامام بدعۃ وانما سنتہ علی المنارۃ۔ ونازعھم بعضھم بالحدیث فاستشھد بحدیث ابن اسحٰق ولابدااذلاذکر لبین یدیہ الافی حدیثہ فحدیث ابن اسحٰق ھو السند بھٰؤلاء وبہ رودواعلٰی جمہورھم لاانھم ردواعلیہ ایضا کما ردواعلی قول جمہورھم ولکن اشتبہ الردبالمردود علی العلامۃ علی فقال"اما الذی نقلہ بعض المالکیۃ عن ابن القاسم عن مالک انہ فی زمنہ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم لم یکن بین یدیہ بل علی المنارۃ۔ ونقل ابن عبدالبر عن مالک ان الاذان بین یدی الامام لیس من الامر القدیم وما ذکرہ محمد بن اسحٰق عند الطبرانی وغیرہ فی ھذاالحدیث ان بلالاًکان یوذن علٰی باب المسجدفقدنا زعہ کثیرون ومنھم جماعۃ من المالکیۃ بان الاذان انما کان بین یدیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کما اقتضتہ روایۃ البخاری ھٰذہٖ ۱؂ اھ ولیس فی روایۃ البخاری ما یقتضی من ذٰلک شیئا۲؂۔
تودیکھئے کہ اعلام مالکیہ دو فرقہ ہوگئے ۔ ان کے جمہور کا قول ہے کہ خطیب کے سامنے اذان بدعت ہے ، سنت تو منارہ کی اذان ہے ۔اورجمہورکے اس قول کی مخالفت انہیں میں کے کچھ لوگوں نے کی کہ مسنون اذان توخطیب کے سامنے کی ہے ، اوراس کی شہادت میں ابن اسحٰق کی حدیث محولہ بالا پیش کی، اوریہ ضروری بھی تھا کہ ابن اسحٰق کی حدیث کے علاوہ کسی روایت میں"بین یدیہ "کالفظ نیہں ہے تو حدیث ابن اسحٰق جمہور مالکیہ کی رائے کی مخالفت کرنے والوں کی سند ہے جسے وہ اپنے جمہورپر رد کرتے ہیں ، ایس انہیں ہے کہ ان منازعین نے اس حدیث ابن اسحٰق کو بھی رد کیا ہے لیکن ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کو اشتباہ ہوا اور انہوں نے رد کو بھی مردودسمجھ لیا (یعنی یہ سمجھا کہ منازعین اپنے جمہور کے قول کی طرح حدیث ابن اسحٰق کو بھی رد کرتے ہیں )اسی لئےوہ فرماتے ہیں : بعض مالکیہ نے ابن قاسم سے انہوں نے ا ما م مالک سے روایت کی  کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان خطبہ خطیب کے سامنے نہیں بلکہ منارہ پر ہوتی تھی۔ ایسا ہی ابن عبداللہ نے امام مالک سے روایت کیا کہ امام کے سامنے اذان ہونا امر قدیم نہیں۔اورمحمد بن اسحٰق کی حدیث طبرانی وغیرہ نے روایت کی کہ حضرت بلال رضی ا للہ تعالٰی عنہ دروازہ مسجد پر اذان دیتے تھے، اس کی مخالفت مالکی  حضرات میں سے بہت سے لوگوں نے کی ہے وہ کہتے یں کہ اذان جو خطیب کے سامنے ہوتی تھی (دروازہ مسجد پر نہیں) اوریہی روایت بخاری کا مقتضی ہے۔ (ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ بلا تفصیل کے بعد دوسرے گروہ کے اس قول (اذان توخطیب کے سامنے ہوتی جیسا کہ روایت بخاری کا مقتضا ہے ""کا رد کرتے ہوئے فرمایا بخاری کی روایت مین نہ بین یدہ کا ذکر ہے نہ باب مسجد کا۔
 (۱؂و ۲؂ مرقاۃ المفاتیح باب الخطبۃ والصلوۃ تحت الحدیث ۱۴۰۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ  ۳/ ۴۹۷)
اقول : قد صدق ان روایۃ البخاری لایقتضی شیئا من کونہ بین یدیہ اوعلٰی لنارۃ ولکن الاستشہادکان بروایۃ ابن اسحٰق وانما ذکر اسم البخاری ایذاناًبان اصل الحدیث عندہ واوصحتہ روایۃ ابن اسحٰق کما ھو صریح لفظ الاستذکار وکیف یرد علی حدیث ابن اسحٰق بان الاذان انما کان بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مع ان حدیث ابن اسحاق ھو المصرح بھٰذا ،افیردعلی الشیئ بنفس الشیئ ولکن الامر انہ کتب ھذا المحل معتمدا علی ما فی الصدور  ولو راجع کلام المناز عین لعلم انھم لایقولون ان حدیث البخاری یقضی بالرد علی جمہورھم والرأی انھم لاینازعون حدیث ابن اسحٰق بل بلہ یستشھدون وبہ علی جمہورھم یردون ولابعد ان کونہ بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مصرح بہ فی حدیث ابن اسحٰق نفسہٖ بل لانعلم التصریح بہ الافیہ فکیف یرد علیہ بمفادنفسہٖ ولکن نسئ ولم یتفق لہ مراجعۃ الحدیث ولامراجعۃ کلام المنازعین واللہ یفعل مایرید ولما سبق الٰی خاطرہ ان القائلین بکونہ بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ینازعون حدیث ابن اسحاق ولا تمکن المنازعۃ الا اذا ارید بباب المسجدفی حدیثہٖ باب لیس وجاہ المنبرخطرببالہ ان المراد  باب الشرقی او الغربی وایدھٰذاالخطورانہ لم یکن فی زمنہ رحمہ اللہ تعالٰی بل منذنحو مائۃ وخمسین سنۃ من قبلہ باب شمالی فی المسجد الکریم کان الناس بنوا ھنالک دورھم کما ذکرہ السید العلامۃ السمھودی رحمہ اللہ تعالٰی فحق لہ ان یدخل حدیث ابن اسحٰق فیما ینازعہ القائلون بکونہ بین یدیہ فکرعلیھم بالردبانہ لامستدلھم فی انکار علی الباب ولا یقتضی حدیث البخاری شیئا من ذٰلک نقوی الی ھنا امرجمہور المالکیۃ وتم الرد علی المنازعین لانعدام مایثبت کونہ بین یدیہ ، لکن کان ھذاھو مذھبہ ومذھب ائمتہ الکرام فحاول التوفیق بما یرحم الٰی ما ھو مذھبہ بالتحقیق، فقال "لکن یمکن الجمع بین القولین بان الذی استقربی اٰخر الامر ھو الذی کان بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؂الخ، ای لم یکن الاذان بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی اول الامر بل علی الباب الشرقی اوالغربی (وھذا ما فی حدیث ابن اسحٰق وکلام مالک)ثم استقراالامر خیراًعلٰی کونہ بین یدیہ (وھومراد المنازعین فیہ)"
اقول: ملا علی قاری کا یہ فرماناکہ "روایت بخاری میں کسی بات کی تصریح نہیں"بجا ہے لیکن منازعین کا استدلال دراصل روایت ابن اسحٰق سے ہے(جس میں لفظ بین یدہ مذکورہے)بخاری کا نام تویہ بتانے کے لئے لیا گیا ہے کہ روایت ابن اسحٰق کی اصل بخاری میں ہے، بخاری  نے یہ حدیث مختصرروایت کی اورابن اسحٰق کی سند سے یہی حدیث ابوداؤدنے مفصل تخریج کی ہے ، اوریہی استذکار کی عبارت سے ہویداہے ۔ (ایسی صورت میں )بھلاحدیث ابن اسحٰق پر اس بات سےکیسے رد ہوسکتی ہے کہ "اذان حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی"خود حدیث ابن اسحٰق بھی تو اسی امر کو ثابت کر رہی ہے کہ یہ اذان حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی ، تو ایک بات کو خود اسی سے رد کرنے کے کیا معنٰی!ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس مقام کو اپنی یادداشت پر بھروسا کر کے لکھا، اگر منازعت کرنے والوں کےکلام کو پھر دیکھ لیا ہوتا تو انہیں یہ معلوم ہوجاتاکہ منازعین یہ نہیں کہتے کہ حدیث بخاری میں جمہورائمہ مالکیہ کا رد ہے حقیقت تو یہ ہے کہ وہ لوگ حدیث ابن اسحاق کا بھی رد نہیں کرتے ، وہ تو اس حدیث کو اپنے جمہور کی رائے کے خلاف سند میں پیش کرتے ہیں، اوراس میں کوئی بعد بھی نہیں، کیونکہ اذان کے خطیب کے سامنے وہنے کی تصریح صرف حدیث ابن اسحٰق میں ہے،تو جوبات خود حدیث ابن اسحٰق ہے ، اسی سے اس حدیث کو رد کیسے کیاجاسکتاہے ۔لیکن حضرت علی قاری بھول گئے اورخود حدیث کلام منازعین کو بھی نہیں دیکھا ،اورجو اللہ تعالٰی چاہتاہے وہی ہوتاہے ، اورجب ان کےدل میں یہ بات جم گئی کہ اذان بین یدیہ کے قائل مالکی حضرات حدیث ابن اسحٰق کا رد کرتے ہیں ۔اوراصحاب بین یدیہ کے قول اورروایت ابن اسحاق میں جبھی منازعت ہوگی کہ ان کی حدیث میں آتے ہوئے لفظ باب مسجدسے مراد مسجد نبوی کا ایسا دروزہ ہوجو منبر کے سمانے نہ ہوتو ان کے دل میں یہ خطرہ گزراکہ حدیث ابن اسحٰق میںمذکور باب مسجد سے مراد یاتو مسجد کا مشرقی دروازہ ہے یا مغربی،اوراس کی مزید تائیداس امر سے ہوئی کہ انکے زمانہ میں بلکہ ان کے عہد سے ڈیڑھ سو سال قبل سے ہی مسجد شریف کا شمالی دروازہ جو منبر کے بالمقابل تھا ختم ہوگیا تھا اورلوگوں نے وہاں اپنےگھر بنالئے تھے جیسا کہ علامہ سمہودی نے تحریر فرمایاہے ،تو انہیں یہی معلوم ہوا کہ بین یدہ اورباب المسجددو مختلف سمتوں میں ہیں اسی لئے انہوں نے اصحاب بین یدیہ کو روایت ابن اسحاق کا مخالف سمجھا۔ پھر پلٹ کر اصحاب"بین یدیہ"کا لفظ ہے ہی نہیں پھر"بین یدیہ"روایت بخاری کا مقتضٰی کیونکر ہوا،اس لئے آپ حضرات کا علی الباب والی روایت کو رد کرنا صحیح نہیں ہے ، لیکن خود احناف اذان"بین یدیہ"کے قائل ہیں، اورملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ بھی حنفی ہی ہیں،اس لئے ان دونوں قولوں میں یوں تطبیق دی کہ ممکن ہے ابتداء میں مسجد شریف کے باب شرقی یا غربی پر اذان ہوتی رہی ہو، جیسا کہ روایت ابن اسحٰق یا کلام مالک میں ہے لیکن بعد میں معاملہ سامنے پر ہی مستقل ہوگیا اوریہی مراد کلام منازعین کی بھی ہے۔
 (۱؂مرقاۃ المفاتیح باب الخطبۃ والصلوۃ تحت الحدیث ۱۴۰۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ  ۳/ ۴۹۷)
اقول :انت تعلیم انہ مبنی علی ماشبہ لہ وتوجیہ کلام مالک بما ذکرتوجیہ بما لایرضی بہ فقد اسلفنا عنہ انہ رضی ا للہ تعالٰی  عنہ نھی عن الاذان بین ید الامام۔
اقول :(میں کہتاہوں )ملا علی قاری کی یہ بات تو ایک اشتباہ پرمبنی ہے،پھر یہ توجیہ امام مالک رضی اللہ عنہ کے مذہب کے بھی موافق نہیں کہ وہ تو مطلقااذان بین یدیہ کے منکر ہیں (پھر ایسی غیر مفید اوربے بنیادتاویل سے کیا حاصل)
ثم حاول التطبیق بوجہ اٰخر بعیدسحیق فقال وبان اذان بلال علٰی باب المسجدکان اعلامافیکو ن اصل اعلام عمر وعثمٰن ۲؂اھ۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اوربعید تاویل بھی کی ہے وہ کہتے ہیں ہوسکتاہے کہ عہد رسالت میں حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ جو اذان باب مسجد پر دیتے تھے وہ اذان نہ ہوصرف اعلان رہا ہو، اوریہی حضرت عمروعثمان رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اعلان کی اصل ہواھ۔
 (۲؂ مرقاۃ المفاتیح باب الخطبۃ والصلوۃ تحت الحدیث ۱۴۰۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ  ۳/ ۴۹۷)
Flag Counter