Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
50 - 135
وتاسعاًان تعجب فعجب قولہ ان المقام الاٰن ایضاًداخل المطاف وھذاشیئ یردہ العیان ویشھد بکذبہ کل من رزق حج البیت الحرام۔
تاسعاً قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ"مقام ابراہیم اب بھی مطاف کے اندر ہے "یہ تو مشاہدہ کے خلاف ہے جس کی شہادت ہر حاجی دے سکتاہے۔
وعاشراً اعجب من الاحتجاج علیہ بانہ مفروش بالرخام وکان فی بالہ ان کال مافرش فیہ الرخام صار المطاف الذی کان قدرالمسجد الحرام علٰی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلیدخل ماحول زمزم ایضاًفیہ ولو کان فرش بعض الملوک سائرالمسجد الشریف ورواقاتہ بالرخام، لحکم ھذا الجاھل بان المسجد کان الی الرواقات علٰی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واذا بلغ الجھل الٰی ھذا النصاب سقط الخطاب وانما المطاف ھی دائرۃ الرخام حول البیت الحرام وعلٰی حرفہا باب السلام ولا شک ان قبۃ المقام خارجۃ عنہاوماکان اھل مکۃ سفہاء کھٰذا  لیبنواقبۃ فی نفس المطاف ویضیقوا المحل علی اھل الطواف نعوذباللہ من الجھل والاعتساف۔
عاشراً اس سے زیادہ حیرت ناک یہ انکشاف ہے کہ جہاں تک سنگ مرمربچھا ہے سب مطاف ہے جہاں تک عہد رسالت مین مسجد تھی، تو زمزم شریف کا ارد گرد ہی عہد رسالت کی مسجد میں شامل ہوگیاکہ وہاں بھی سنگ مر مر بچھا ہے ۔اوراگر کسی بادشاہ نے پوری مسجد حرام میں سنگ مرمر بچھا دیا تو وہ بھی عہد رسلات کی مسجد حرام ہوگئی حالانکہ مطاف تو سنگ مرمرکا گول دائرہ ہے جو کعبہ مکرہ کے گرداگرد ہے ، اورجس کے کنارہ پر باب السلام ہے اوربلاشبہ مقام ابراہیم کا قبہ اس سے باہر ہے ، اوراہل مکہ ایسے کم عقل تو نہ تھے کہ نفس مطاف میں قبہ بناتے اورلوگوں پر مطاف کو تنگ کرتے۔
نفحہ۱۹: ثم تمسک بقولہ تعالٰی:
"ومن اظلم ممن منع مسٰجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ۱؂۔"
وقولہ تعالٰی:
"ومسٰجداللہ یذکر فیھا اسم اللہ کثیرا۲؂۔
" وقولہ تعالٰی :
فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکرفیھااسمہ۳؂۔
نفحہ۱۹: مسجد کے اند راذان جائز ہونے پر اس آیت سے بھی مخالفین نے استدلال کیاہے"اس سے بڑاظالم کون ہے جو مسجد میں اللہ کا نام لینے سے منع کرے"اورآیت مبارکہ "اورمسجد جس میں اللہ تعالٰی کا ذکر بہت ہوتاہے"اورآیت گرامی"ان گھروں کو اللہ تعالٰی نے بلند کرنے کا اوران میں اپنا نام لینے کا حکم دیا"
 (۱؂القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴)   (۲؂القرآن الکریم۲۲/ ۴۰) (۳؂القرآن الکریم  ۲۴ / ۳۶)
وفی حدیث الصحیحین(عہ) ان ھذہ المساجد لاتصلح لشیئ من ھذا البول والقذ وانما ھی لذکرا للہ والصلٰوۃ وقراء ۃ القرآن۴؂۔
اوربقول صاحب مشکوٰۃ صحیحین کی ایک حدیث ،ورنہ مخرجین نے اسے صرف مسلم کی حدیث قراردیاہے "یہ مسجدیں پیشاب اورگندگی کے لئے نہیں ،یہ تو ذکر الٰہی ، نماز اور تلاوت قرآن کے لئے ہیں۔"
عہ : تبع فیہ صاحب المشکوٰۃ وانما عزاہ المخرجون لمسلم وحدہ اھ منہ
 (۴؂صحیح مسلم کتاب الطہارۃباب وجوب غسل البول الخ قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۱۳۸)
اقول : اولا قضینا الوترعن کشف ھذہ الشبھۃ فی النفحۃ الاولٰی القراٰنیۃ، وبیناان الاذان لیس ذکراًخالصاً۔
اقول:(میں کہتاہوں) اولا ہم نفحہ قرآنیہ میں اس شبہ کو بالکلیہ حل کرچکے ہیں کہ اذان محض ذکر الٰہی ہی نہیں ہے۔
 (۵؂مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ صحیحین کتاب الطہارۃ باب تطہیر النجاسات الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۲)
وثانیاً منع الاذان فی المسجد منع رفع الصوت فیہ ومنع رفع الصوت بالذکرلیس  منع الذکر فقد ثبت عنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی بعض المواطن اذقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:"ایھا الناس اربعواعلٰی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبنا ولکن تدعون سمیعًابصیرا۱؂۔" وماکان لینھاھم عن ذکراللہ تعالٰی وقد قد منا عن الدرروالاشباہ وغیرھما کراھۃ رفع الصوت بالذکر فی المسجد۲؂
ثانیاً مسجد میں اذان منع کرنے کا مطلب آواز بلند کرنے کو منع کرنا ہے اورذکر الٰہی کے ساتھ آواز بلند کرنے کی ممانعت ذکر کی ممانعت نہیں ہے ۔ احادیث سے ثابت ہے کہ بعض مواقع پر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ذکر بالجہر سے منع فرمایا ، ارشادنبوی ہے:"اے لوگو!اپنے نفسوں پر آسانی کرو تم کسی غائب اوربہرے کو نہیں بلا رہے ہو ، تم تو سننے والے اوردیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔ "بھلاحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی کو ذکر الٰہی سے روکتے تھے،ہم ماسبق میں درر وغیرہ کے حوالے سے واضح کرچکے ہیں "کہ مسجدمیں بلند آوازسے ذکر مکروہ ہے ۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا علاعقبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۴۴)

(صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب خفض الصوت بالذکرقدیمی کتب خانہ کراچی   ۳۴۶/۲) 

(۲؂الاشباہ والنظائرالفن الثالث القول فی احکام امسجد ادارۃ القرآن کراچی  ۲۳۳/۲)
وفی المسلک المتقسط لعلی القاری:"قد صرح ابن الضیاء ان رفع الصورت فی المسجدحرامول بالذکر۳؂اھ۔"
"ملاعلی قاری کی مسلک متقسط میں ابن ضیاء کی تصریح ہے کہ "مسجدمیں آوازبلند کرنا حرام ہے چاہے ذکر الٰہی ہی کیوں نہ ہو۔"
 (۳؂ المسلک المتقسط مع ارشادالساری فصل استلام الرکن الیمانی مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۱۰)
وصرح فی الکافی الامام الحاکم شہیدالذی جمع فیہ کلام الامام محمد وفی المحیط والفتح والبحر وشرح الباب وردالمحتاروغیرھابکراھۃ رفع الصوت بالقراٰن فی الطواف ۱؂ فھل تواھم (والعیاذباللہ)داخلین فی ھٰذا الوعید الشدید حاشاھم عن ذٰلک بل انت فی ضلال بعید۔
کافی حاکم شہید مجموعہ کلام امام محمد اورمحیط،فتح القدیر، بحرالرائق، شرح لباب وشامی وغیرہامیں ہے :"طواف میں بلندآوازسے قرآن شریف منع ہے۔"تو پناہ بخدایہ کہاجائے گا کہ یہ سارے ائمہ وعلماء معاذاللہ قرآن وحدیث کی مذکورہ بالا وعید میں داخل ہیں۔ وہ حضرات تو اس وعید سے بلاشبہ پاک ہیں،یہ خود آپ کی اپنی گمراہی ہے۔
 (۱؂ردالمحتارکتاب الحج باب الاحرام داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۱۶۸)

(فتح القدیرکتاب الحج باب الاحرام مکتبہ نوریہ رجویہ سکھر     ۳۹۰/۲)

(بحرالرائق کتاب الحج باب الاحرام ایچ ایم سعید  کمپنی کراچی  ۳۲۹/۲)
Flag Counter