Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
49 - 135
وسابعاً  اضطربت الروایۃ عن ابن عباس ففی بعضھا"اذن علی المقام"وفی بعضھا علی ابی قبیس رواہ عنہ ابن ابی حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لما امر اللہ ابراھیم ان ینادی فی الناس بالحج صعد اباقبیس فوضع اصبعیہ فی اذنیہ ثم نادٰی، ان اللہ تعالٰی کتب علیکم الحج فاجیبو ربکم۱؂ الحدیث،  وفی اخری لہ عنہ رضی ا للہ تعالٰی عنہ قال صعدابراھیم اباقبیس ، فقال اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھدان لا الٰہ الا اللہ واشھدان ابراھیم رسول اللہ ایھا الناس ان اللہ امرنی ان انادی فی الناس بالحج ایھاالناس اجیبواربکم۲؂۔
سابعاً اعلان حج کے مقام میں حضرت ابن عباس سے روایتیں مضطرب ہیں ۔ بعض میں تو وہی مقام ابراہیم ہے ، اوربعض میں یہ ہے کہ جبل ابوقبیس پر اعلان حج ہوا۔ چنانچہ ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ "حضرت ابراہیم علیہ السلام جبل ابو قبیس پر چڑھے اورکہا اللہ اکبر ،اللہ اکبر، اشہدان لاالہ الا اللہ ، واشھد ان ابراھیم رسول اللہ ۔ اے لوگو!مجھے اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ میں لوگوں میں حج کا اعلان کروں تو تم لوگ اللہ تعالٰی کی پکار کا جواب دو۔"
 (۱؂تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم    تحت الآیۃ   ۲۲/ ۲۷    حدیث ۱۳۸۷۸ مکتبہ نزارمصطفٰی البازمکۃ المکرمۃ   ۲۴۸۷/۸) 

(۲؂تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم    تحت الآیۃ   ۲۲/ ۲۷ حدیث۴ ۱۳۸۸مکتبہ نزارمصطفٰی البازمکۃ المکرمۃ۲۴۸۷،۲۴۸۸/۸)

(الدرالمنثوربحوالہ ابن ابی حاتم    تحت الآیۃ   ۲۲/ ۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت       ۳۴/۶)
وفی بعضھاعلی الصفارواہ عبدبن حمید عن مجاھد قال"امر ابراھیم ان یوذن بالحج فقام علی الصفا فنادی بصوت سمعہ مابین المشرق والمغرب یا ایھاالناس اجیبواالٰی ربکم۳؂۔"
اوربعض روایتوں میں جبل ابو قیس کے بجائے کوہ صفا کاذکر ہے ۔ ابن حمید کی یہ روایت امام مجاہد سے اس طرح مروی ہے : حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ مقام صفا پر لوگوں کو حج کا علان کریں، آپ نے ایسی آواز سے پکارا کہ مشرق ومغرب کےلوگوں نے سنا۔ اعلان کے الفاظ یہ تھے : اے لوگو!اپنے رب کی پکارکا جواب دو۔
 (۳؂الدرالمنثوربحوالہ عبدبن حمید    تحت الآیۃ   ۲۲/ ۲۷  داراحیاء التراث العربی بیروت      ۳۳/۳)
وروی ھو وابن المنذرعن عطاء قال"صعدابراھیم علی الصفافقال یاایھاالناس اجیبواربکم۱؂۔"
ابوحاتم اورابن منذر نے عطا سے روایت کی: حضرت ابراہیم علیہ السلام کوہ سفا پرچڑھے اورپکارا: اے لوگو!اپنے رب کاجواب دو۔
 (۱؂الدرالمنثوربحوالہ عبدبن حمید    تحت الآیۃ   ۲۲/ ۲۷   داراحیاء التراث العربی بیروت      ۳۳/۶)
ومعلوم ان الروایۃ عن مجاھد روایۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھم فالاضطراب بالتثلیث والافلاشک فی التثنیۃ فکان من ھذا الوجہ ایضا حدیث امیرالمومنین احق بالاخذولذا مشٰی علیہ القطبی فی تاریخہٖ ولم یلتفت لما سواہ فاندحضت الشبھۃ عن رأس والحمدللہ رب الناس۔
یہ معلوم ہے کہ حضرت مجاہد کی روایت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہی ہے تو اس روایت میں تین اضطراب ہوئے ، ورنہ دو ہونے میں تو شبہ ہی نہیں ہے ۔پس اس اعتبار سے بھی امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی روایت راجح اوراولٰی  بالاخذ ہے اس لئے قطبی نے اپنی تاریخ میں امیر المومنین کی روایت پر ہی اعتماد کیا اوردوسری روایتوں کی طرف توجہ نہیں کی۔
ثامناً بعد اللتیاوالتی ان کان فشریعۃ من قبلنا فلا تکون حجۃ الا ذا قھا اللہ تعالٰی اوررسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من دون انکار کما نص علیہ فی اصول الامام البزدوی والمناروسائر المتون الاصولیۃ والشروح قال الامام النسفی فی کشف الاسرار انا شرطنا فی ھذا ان یقص اللہ تعالٰی او رسولہ من غیر انکار اذلاعبرۃ بما ثبت بقول اھل الکتاب،ولا بما ثبت بکتابھم لانھم حرفواالکتب ولابما ثبت بقول من اسلم منھم لانہ تلقن ذٰلک من کتابھم او سمع من جماعتھم ۱؂اھ

ومثلہ فی کشف الاسرارللامام البخاری۔
ثامناً ساری بحث ومباحثہ کے بعد اعلان حج اگر مسجد حرام میں ہونا ثابت بھی ہو تو یہ گزشتہ شریعت کا ایک فعل ہوگا، اورگزشتہ شرائع کے احکام ہمارے لئے دلیل نہیں  جب تک قرآ ن وحدیث میں اس کابیان بلا انکار ہو۔ چنانچہ اصول امام بزدوی ، منار اورفن اصول کے بقیہ تمام متون وشروح میں اس کی تنصیص ہے ۔امام نسفی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے کشف الاسرارمیں فرمایا:"ہم نے اس میں یہ شرط لگائی کہ اللہ ورسول بے انکار اس کا بیان فرمائیں ، اہل کتاب کے قول کا کوئی اعتبارنہیں اورجو ان کی کتاب سے ثابت ہواس کا بھی، کہ ان لوگوں نے آسمانی کتابوں میں تحریف کردی ہے ۔"اوراسی طرح اہل کتاب اسلام لانے والوں کی بات کا بھی بھروسانہیں کہ ان لوگوں نے انہی محروف کتابوں میں دیکھا ہوگا یا انہی کی جماعت سے سنا ہوگا۔ اوراسی طرح کشف الاسرارللامام بخاری میں ہے۔
 (۱؂کشف الاسرارشرح المصنف علی المنارفصل فی شرائع من قبلنا دارالکتب العلمیہ بیروت      ۱۷۳/۲)

( کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب فی شرائع من قبلنا دارالکتاب العربی بیروت      ۳/ ۲۱۳)
وفی فواتح الرحموت لبحر العلوم فان قلت فلم لم یعتمدباخبارعبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ لایحتمل  کذبہ قلت ھب لکن التحریف وقع قبل وجودہ فھو لم یتعلم الاالمحرف ۲؂اھ بالالتقاط۔
وفی فواتح الرحموت لبحر العلوم فان قلت فلم لم یعتمدباخبارعبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ لایحتمل  کذبہ قلت ھب لکن التحریف وقع قبل وجودہ فھو لم یتعلم الاالمحرف ۲؂اھ بالالتقاط۔
بحرالعلوم حضرت علامہ عبدالعلی رحمہ اللہ علیہ نے فواتح الرحموت مین فرمایا، خیال ہوسکتاہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بات پر اعتماد ہونا چاہئے کہ وہ و بلاشبہ سچے تھے ، اوران کی بات میں تو جھوٹ کا احتمال نہیں لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے تو اسی محرف کوکلام الہٰی سمجھ کر سیکھاہوگا کیونکہ تحریف تو ان کے پیداہونے سے پہلے ہی ہوچکی تھی۔
 (۲؂فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المصطفے المختارالخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱۸۴/۲ )
وھذاشیئ لم یقصہ ربنا ولانبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذلم یرد فی حدیث مرفوع فالاحتجاج بہ راسا مدفوع ۔ ھذا علی التسلیم والاقدعلمت ان الذی یدعیہ ھذا الوھابی من انہ اذن علیہ فی جوف المسجد لم یقصہ مسلم ولاکتابی ولا کافر سواہ فاحتجاجہ بہ لیس الااحتجاجابھواہ۔
اوراعلان حج کی یہ روایت ایسی ہی ہے نہ تو قرآن عظیم میں اس کا بیان ہے نہ کسی حدیث مرفوع میں ہی اس کا تذکرہ ہے ، تو سرے سے اس حدیث سے استدلال ہی غلط ہے ، یہ بھی اس صورت میں کہ مخالفین کا دعوٰی جو ں کا توتسلیم کرلیا جائے ورنہ تفصیل گزر چکی کہ مسجدحرام کے اندر اعلان حج کا تذکرہ نہ کسی مسلمان سے مروی نہ کتابی سے نہ کافر سے ، اندرون مسجد کی بات تو صرف ان وہابی صاحب کی ہے،تو وہ اپنے دعوٰی میں اپنی خواہش نفس سے ہی استدلال کرتے ہیں۔
Flag Counter