| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
ورابعاً ان فرض کونہ لصیق الجدار الجمیل علی عہد خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام بالتبجیل کان ایضازعم انہ کان کذٰلک حین اذن علیہ للحج رجما بالغیب بلادلیل غایہ انہ لم ینقل انہ نقل حینئذوعدم النقل لیس نقل العدم والاستصحاب غیرداف للمستدل عند الاصحاب۔
رابعاً اوراگر یہ مان بھی لیاجائےکہ حضرت خلیل علیہ السلام کے زمانہ میں وہ پتھر دیوار کے قریب تھا، تب بھی یہ گمان کرنا کہ اعلان بھی اسی مقام سے کیا گیاہے ، زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتاہے کہ اس پتھر کے وہاں سے منتقل ہونے کی کوئی روایت نہیں۔اوراگر یہ کہا جائے کہ ظاہر یہی ہے کہ منتقل نہیں ہوا۔تو ہم بتا چکے ہیں کہ یہ استصحاب ہے جس سے مستدل کو فائدہ نہیں پہنچتا۔
وخامساً بل قدوردما یدل علٰی انہ کان فی غیرھٰذا المحل حین اذن علیہ وکفٰی بہ قاطعا لشقشقتہٖ اخرج الازرقی عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ قال "سألت عبداللہ بن سلام عن الاثر الذی فی المقام، فقال لما امرابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام ان یوذن فی الناس بالحج قام علی المقام،فلما فرغ امر بالمقام فوضعہ قبلہ،فکان یصلی الیہ مستقبل الباب ۱۔"(الحدیث)
خامساً اس امر کی روایت ہے کہ مقام ابراہیم اعلان حج کے وقت موجودہ مقام پر موجود نہیں تھا جس سے تمام اوہام کا خاتمہ ہوجاتاہے ۔ ازرقی نے ہی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ "میں نے حضرت عبداللہ ابن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مقام ابراہیم میں پڑے ہوئے نشان کے بارے میں سوال کیا،تو انہوں نے فرمایاکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السالم کو اعلان حج کا حکم دیا گیا تو آپ نے اسی پتھر پرکھڑے ہوکر اعلان فرمایا۔ اعلان سے فارغ ہوئے تو حکم دیا کہ اس پتھر کو لیجا کر کعبہ کےدروازہ کے سامنے رکھا جائے اورآپ اسی پتھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔"
(۱الدرالمنثوربحوالہ الازرقی تحت الآیۃ ۱۲۵ /۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۶۔۱۶۵)
وسادساً ان شئت قطعت راس الشبھۃ من راسہا وذٰلک لان روایۃ قیامہ علیہ الصلٰوۃ والسلام حین الاذان علی المقام روایۃ اسرائیلیۃ کما رأیت وسیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ن یاخذ عنہھم کما ھنا،وروٰی ابن ابی حاتم عن الربیع بن انس قال سمعنا عن ابن عباس انہ حدث عن جال من علماء اھل الکتاب ان موسٰی دعا ربہ۱ (الحدیث) فی قصۃملاقاتہ الخضر علیہھما الصلٰوۃ والسلام واقرھا واخرج ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی ا للہ تعالٰی عنہما قال سئلت کعباً ما سدرۃ المنتہٰی ،قال سدرۃ ینتھی الیہا علم الملٰئکۃ وسئلتہ عن جنۃ الماوٰی فقال جنۃ فیھا طیر خضرترتقی فیھا ارواح الشھداء۲۔
سادساً اس شبہ کو جڑ بنیاد سے اس طرح ختم کیا جاسکتاہے کہ حضرت خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اعلان حج کے وقت مقام ابراہیم پر کھڑےہونے کی روایت اسرائیلی ہے ، اورحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بنی اسرائیل کی روایت قبول فرماتے تھے جیساکہ اس مبحوثہ روایت میں انہوں نے کیا۔ابن ابی حاتم ربیع بن انس سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اہل کتاب سے روایت کیا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی۔ یہ حضرت موسٰی وخضر علیہم السلام کی ملاقات کے قصہ میں ہے ۔ مندرجہ ذیل روایت کو ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہی ثابت رکھا کہ"میں نے حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سدرۃ المنتہٰی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انتہائی حد پر ایک بیری کا درخت ہے جہاں تک فرشتوں کا علم پہنچتا ہے ۔ اورمیں نے ان سے جنۃ الماوٰی کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا ایساباغ جس میں شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے جسم میں رہ کر سیر کرتی ہیں۔"
(۱الدرالمنثوربحوالہ ابن ابی حاتم سورۃ الکہف ۷۱تا۷۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳۷۹/۵) (۲الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ تحت الآیۃ ۱۴ /۵۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵۷۲/۷)
واخرج ابن جریر عن شمر قال جاء ابن عباس الٰی کعب فقال حدثنی عن قول اللہ"سدرۃ المنتہٰی "۱(الحدیث)
ان جریر نے شمر سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت کعب کے پاس آئے اورسدرۃ المنتہٰی کے بارے میں پوچھا ۔ (القصہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اسرائیلی روایت قبول کرتے تھے اورروایت مبحوثہ بھی اسرائیلی ہے)
(۱جامع البیان تحت الآیۃ ۱۴/۵۳داراحیاء التراث العربی بیروت ۶۳/۲۷)
وقدصح عن امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ انہ اذن علٰی ثبیر، روٰی عبدالرزاق وغیرہ عن معمر قال قال ابن جریج قال ابن المسیب قال علی ابن ابی طالب رضی ا للہ تعالٰی عنہ لما فرغ ابراھیم من بنائہ، بعث اللہ جبریل فحج بہ حتی اذا رأی عرفۃ قال قد عرفت وکان اتاھا قبل ذٰلک مرۃ ، فلذٰلک سمیت عرفۃ حتی اذا کان یوم النحرعرض لہ الشیطان فقال احصب فحصبہ بسبع حصبات ۔ ثم الیوم الثانی فالثالث، فلذٰلک کان رمی الجمار قال اعل علٰی ثبیر فعلاہ فنادٰی یا عباداللہ اجیبوااللہ یا عباداللہ اطیعوااللہ فسمع دعوتہ من بین الابحر السبع۱۔(الحدیث)
ادھر حضرت امیر المومنین مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوہ ثبیر پر چڑھ کر اعلان حج فرمایا تھا ۔ عبدالرزاق وغیرہ نے معمرسے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے حضرت علی (رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین )سے روایت کی کہ"جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی بنا سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالٰی نے جبریل امین کو بھیجا اورانہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کرایا، آپ نے عرفات کو دیکھ کر فرمایا میں اس میدان کو پہچان گیاایک بار اس سے قبل بھی حضرت خلیل یہاں آئے تھے اوراسی وجہ سے اس کانام"عرفہ"پڑا۔ یوم نحر کے دن شیطان نے آپ سے تعرض کیاتو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں مارنے کی ہدایت کی ، اورآپ نے ابلیس کو سنگسار کیا، پھر دو سرے اورتیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ اسی لئے حج میں رمی جمار مشروع ہوئی ۔ حضرت جبریل امین نے فرمایا : کوہ تثبیر پرچڑھو۔ حضرت خلیل علیہ السلام نے ثبیر کی پہاڑی پر چڑھ کر اعلان فرمایا : اے بندگان خدا!اللہ تعالٰی کی پکار کا جواب دو، اے بندگان خدا!اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو۔ تو ان کا یہ اعلان ساتوں سمندر سے سنا گیا۔"
(۱الدرالمنثور بحوالہ عبدالرزاق تحت الآیۃ ۲۶ /۲۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳۱/۶)
وھذاکما ترٰی سند صحیح علٰی اصولنا فھذا انص عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حکما لان الامر لادخل فیہ للرأی وما کان امیر المؤمنین علی لیاخذعن اھل الکتاب فلم یکن الا سماعاًعن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ فثبت ان الاذان کان علٰی جبلٍ بمزدلفۃ وسقط انہ کان داخل المسجدعلی المقام ولک ان تقول لاخلف فان ثبیراًمن الحرم وقدافاد ابن عباس نفسہ"ان مقام ابراھیم الحرم کلہ۲" اخرجہ عنہ عبد بن حمید وابن ابی ھاتم بل اخرج ھذا عنہ قال"مقام ابراھیم الحج کلہ۳۔"
یہ سند ہمارے اصول پر صحیح ہے ، اوریہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے، اورمعاملہ چونکہ قیاسی نہیں بالکلیہ سماعی ہے ۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم چونکہ اہل کتاب کی روایت قبول نہیں کرتے تھے ۔ اس لئے لامحالہ یہ بات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہی سن کر بیان فرمائی تو اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ اعلان حج منٰی شریف کے پہاڑسے ہوااوریہ بات ساقط الاعتبار ہوگئی کہ اعلان حج مسجد کے اندر مقام ابراہیم سے ہوا۔ اوران دونوں روایتوں میں کوئی ایسا تعارض بھی نہیں کہ جبل ثبیر بھی حدود حرم کے اندر ہی ہے ۔ چنانچہ عبدبن حمید اورابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ساراحرم مقام ابراہیم ہے ۔ بلکہ حضرت ابن عباس سے تو یہ بھی مروی ہے کہ مقام ابراہیم پوراحج ہے۔
(۲الدرالمنثوربحوالہ عبد بن حمید وبن ابی حاتم تحت الآیۃ۲/ ۱۲۵ ، ۱/ ۲۶۴ وتفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۹۷/۳ ، ۷۱۱/۳) (۳تفسیر القرآن العظیم تحت الآیۃ ۳/ ۹۷ حدیث۳۸۴۷ و ۳۸۴۸مکتبہ نزارمصطفٰی البازمکہ المکرمۃ ۷۱۱/۳)