نفحہ۱۸ : حاول بعض الوھابیۃ الفجرۃ ان یثبت مطلوبہ الباطل باٰیات القراٰن العظیم وحاشا القراٰن ان یکون لباطل ظھیراًقال قال عزوجل:
"وان اذن فی الناس بالحج۱"
نفحہ۱۸ : بعض وہابی صاحبان نے اپنا مقصد قرآن پاک سے ثابت کرنے کا قصد کیا ہے حالانکہ قرآن عظیم باطل کا مددگار نہیں ہوسکتا۔وہ کہتے ہیں کہ قرآن عظیم نے فرمایا:"(ابے ابراہیم!)لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔"
(۱القرآن الکریم ۲۲/ ۲۷)
واخرج سعید بن منصورواٰخرون عن مجاھد قال لما امر ابراھیم ان یوذن فی الناس بالحج ، قام علی المقام فنادٰی بصوت اسمع من بین المشرق والمغرب،یا یھاالناس اجیبواربکم۲۔
اورسعید بن منصوراوردوسرے محدثین نے حضرت مجاہد سے روایت کی: "جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کے اعلان کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے مقام ابراہیم پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے فرمایا(جسے مشرق ومغرب کے سبھی لوگوں نے سنا)کہ اے لوگو!اپنے رب کا جواب دو۔"
(۲الدرالمنثوربحوالہ سعید بن منصورتحت الآیۃ ۲۲/ ۲۷ حدیث ۱۳۸۸۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳۳/۶) (تفسیرالقرآن لابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۲۲/ ۲۷ حدیث۱۳۸۸۰مکتبہ نزارمصطفٰی البازمکۃ المکرمۃ ۲۴۸۷/۸)
واخرج ابن المنذروابن ابی حاتم عن مجاھدقال تطاول بہ المقام حتی کان کاطول جبل فی الارض فاذن فیھم بالحج فاسمع من تحت البحورالسبع۳۔
ابن المنذروابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مقام ابراہیم پر اعلان کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ انہیں لے کر بلند ہونے لگا یہاں تک کہ زمین کے تمام پہاڑوں سے بلند ہوگیا،آپ نے اسی بلندی پر سے لوگوں میں حج کا اعلان کیا جو سات سمندروں کی تَہہ سے بھی سنا گیا۔
واخرج ابن جریرعن مجاھد عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما قال قام ابراھیم خلیل اللہ علی الحجرفنادٰی"یا ایھا الناس کتب علیکم الحج فاسمع من فی اصلاب الرجال وارحام النساء۱۔"
اورانہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےمقام ابراہیم پر کھڑے ہوکرپکارا"اے لوگو!اللہ تعالٰی نے تم پر حج فرض کیا۔"تو باپوں کی پشتوں سے اورماؤں کے شکموں سے لوگوں نے ان کی آواز سنی۔
(۱جامع البیان(تفسیرابن جریر)تحت الآیۃ۲۲/ ۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۶۹/۱۷)
قال قال ونحن ندی ان ھٰذا الحجر کان حین نادٰی علیہ خلیل اللہ داخل المطاف قریب جدار الکعبۃ لان علیا القاری قال فی شرح اللباب قال فی البحر"والذی رجحہ العلماء ان المقام کان فی عھد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ملصقاًبالبیت، قال ابن جماعۃ ھو الصحیح وروی الازرقی ان موضع المقام ھو الذی بہ الیوم فی الجاھلیۃ وعہد النبی صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکروعمررضی اللہ تعالٰی عنہمااھ۔ والاظھرانہ کان ملصقابالبیت ثم اخر عن مقامہ الحکمۃ ھنالک تقتضی ذٰلک اھ۲۔"
مستدلین کا دعوٰی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلان کے وقت وہ پتھرمطاف کے اند ردیوار کعبہ کے قریب تھا۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ ملا علی قاری نے شرح لباب میں فرمایا: بحر میں کہا گیا کہ علماء نے اسی بات کو ترجیح دی ہےکہ مقام ابراہیم عہد رسالت میں کعبہ شریف سے بالکل متصل تھا۔ ابن جامعہ نے اسی کو صحیح کہا اورازرقی نے روایت کی کہ مقام ابراہیم جہاں آج ہے وہیں جاہلیت اورعہد رسالت اورزمانہ ابوبکر وعمر رضوان اللہ علیہما میں تھا۔ اورظاہر یہی ہے کہ بیت اللہ شریف کے متصل ہی تھا، پھر بعد میں کسی حکمت کی وجہ سے موجودہ مقام تک کھسکایا گیا۔
(۲المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشادالساری مکتبۃ اسلامیہ کوئٹہ ص۳۳۲)
وذالک لان ابراھیم صلوات اللہ علیہ بنی الکعبۃ قائماعلیہ فاستمرمذذاک متصل الکعبۃ کما فی تاریخ القطبی وسائرکتب السیر"وکان ابراھیم علیہ الصلوات والسلام یبنی واسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام ینقل لہ الحجارۃ علی عاتقہٖ فلما ارفع البنیان قرب لہ المقام فکان یقوم علیہ ویبنی ۱اھ۔"
حکمت یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی پرکھڑے ہوکر کعبہ شریف کی تعمیر کی تھی تووہ اسی حال پر دیوارکعبہ کے پاس ہی پڑا رہا۔ایسا ہی تاریخ قطبی اوربقیہ کتب تاریخ میں تحریرہے کہ"حضرت ابراہیم علیہ السلام دیواریں چنتے تھے اورحضرت اسماعیل علیہ السلام پتھراٹھااٹھاکر دیتے تھے، جب دیواریں بلندہوگئیں تو مقام ابراہیم اسی کے قریب لایاگیااورآپ اسی پرکھڑے ہوکر دیواریں چنتے تھے۔"
فثبت انہ کان حین اذن علیہ للحج متصل جدارالکعبۃ واستمرکذٰلک الی زمانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ثم انتقل عنہ بوجہ قال ولئن سلمنا ان محلہ منذ القدیم حیث ھو الاٰن فالمدعٰی ثابت ایضالانہ الاٰن ایضاً داخل المطاف لان المطاف ھو الموضع المفروش بالرخام ومقام ابراھیم داخل فیہ، فثبت ان التاذین فی المسجد جائز مطلقا ولا کراھۃ فیہ اصلاولیس بدعۃ بل ھو سنۃ ابراھیم علیہ الصلواۃ والتسلیم(انتھٰی)(کلامہ الردی السقیم مترجماً)
اس سے ثابت ہوا کہ اعلان حج کے وقت بھی وہ پتھر وہیں پڑا رہا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک وہیں پڑا رہا ،بعد میں کسی مصلحت پر کچھ اورکھسکادیا گیا اوراگریہ مان بھی لیا جائے کہ عہد قدیم سے ہی وہ موجودہ مقام پر ہی ہے تب بھی ہمارا دعوٰی ثابت ہے کہ موجودہ جگہ بھی مطاف میں ہی ہے ، اس لئے کہ مطاف وہ جگہ ہے جہاں سنگ مرمر بچھا ہوا ہے ، اورمقام ابراہیم اسی میں ہے۔توثابت ہوا کہ اذان داخل مسجد مطلقاًناجائز ہے ، اس میں نہ تو کوئی کراہت ہے اورنہ یہ بدعت ہے ، یہ تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔
اقول جواب اس کا یہ ہے کہ یہ استدلال ہذیان سے بھی آگے ہے اورپاگلوں ، بیوقوفوں اوربچوں کے لئے بھی قابل رشک ہے۔
فاولاً : کیف لزم من کون المقام ملصقاًبجدار البیت علٰی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وفی الجاھلیۃ کونہ کذٰلک علی عہد ابراھیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم وتحکیم الحال لایجری فی شیئ منقول غیر مرکوز وان فرض فظاھر والظاھر حجۃ فی الدفع لاللاستحقاق وانت مستدل لادافع۔
اولاً رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورعہد جاہلیت میں مقام ابراہیم کے دیوارکعبہ کے متصل ہونے سے یہ لازم نہیں کہ عہد خلیل علیہ السلام میں بھی وہیں رہا ہواورموجودہ حالت پر قیاس کر کے ایک ادھر اُدھرمنتقل ہونے والی چیز پر ماضی کا حکم لگاناجائز نہیں اورایسے قیاس سے کوئی یقینی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لئے تو اس کی تعیبر ظاہر اوراظہر سے کی ہے، اورظاہر دلیل پکڑنے والے کےلئے مفید نہیں۔اس سے معترض کو فائدہ پہنچتاہے اورآپ مستدل ہیں۔
وثانیاً مانقل عن تاریخ القطبی فای رائحۃ فیہ لما ادعاہ من انہ استمر مذاذاک متصل الکعبۃ فالاستنادبہٖ جہل ۔
ثانیاً تاریخ قطبی میں اس کا کوئی ذکر نہیں کہ وہ پتھر عہد ابراہیم علیہ السلام سے اسی مقام پر قائم ہے ،پھر اس روایت کو سند میں ذکر کرنا جہالت ہے۔
وثالثاً بل فیہ فلما ارتفع البنیان قرب لہ المقام فدل علی ان محلہ کان بعیداً انما قرب الاٰن للحاجۃ والعادۃ ان الشیئ اذانقل لحاجۃ یرد الی محلہ الاول بعد قضائھاکما ھو مشاھدفی السلالیم وفی منبریوضع لدی باب الکعبۃ یوم دخول العام۔
وثالثاً قرطبی کی روایت سے تو یہ پتہ چلتاہے کہ مقام ابرایم کا ٹھکانا کہیں اورتھا، تعمیر کی ضرورت سے دیوار کعبہ کے پاس لایاگیا۔ اورعادت یہ ہے کہ جو چیز ضرورۃًکہیں رکھی جاتی ہے ضرورت پوری ہونےکے بعد وہاں سے علیحدہ کرلی جاتی ہے ، خود حرم شریف میں یہ دستور دیکھا گیا کہ دخول عام کے دن سیڑھیاں اورمنبر لگادئے جاتےہیں،پھرعلیحدہ کرلئے جاتے ہیں اوران کے اصل مقام پر انہیں لوٹادیا جاتاہے۔