Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
46 - 135
بل کفی الحدیث شرحاًللحدیث فللامام احمد بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال امرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "اذاکنتم فی المسجدفنودی بالصلٰوۃ فلا یخرج احدکم حتی یصلی۳؂۔"
بلکہ خود ایک دوسری حدیث میں اسکی شرح یہی فرمائی گئی ،امام احمد سندصحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں:"جب تم مسجد میں ہو اوراذان دی جائے تو نماز پڑھے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلو۔"
 (۳؂مسنداحمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت        ۵۳۷/۲)
لکن السفیہ کل السفیہ والبلید کل البلید من تمسک بحدیث ابی داؤدرأیت رجلا کان علیہ ثوبین اخضرین فقام علی المسجدفاذن۱؂(وروایۃ ابی الشیخ فی ھذا الحدیث)علٰی سطح المسجد فجعل اصبعیہ فی اذنیہ ونادٰی ۲؂،ورأی ذٰلک عبداللہ بن زید فی المنام۔
اورانتہائی بیوقوفی  یہ ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا جائے:"میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس پر دوہرے کپڑے تھے تو اس نے مسجد کے اوپر کھڑے ہوکر اذان دی۔(اورابوالشیخ نے اسی حدیث کی روایت میں لفظ علٰی سطح المسجد،(مسجد کی چھت پر)کہا اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے کان میں ڈالیں اوراذان دی(دراصل حضرت عبداللہ بن زید نے یہ معاملہ خواب میں دیکھا تھا)"۔
 (۱؂سنن ابی داؤدکتاب الصلٰوۃ باب کیف الاذان آفتاب عالم پریس لاہور    ۷۴/۱)

(۲؂کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ حدیث ۲۳۱۴۳موسسۃ الرسالہ بیروت           ۳۳۱/۸)
وحدیث ابن سعدفی طبقاتہ عن نوار اُمّ زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہما قالت کان بیتی اطول بیت حول المسجدفکان بلال یؤذن فوقہ من اول ما اذن الٰی ان بنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدہ فکان یوذن بعد علی ظھر المسجدوقدرفع لہ شیئ فوق ظھرہٖ۳؂۔
اورطبقات ابن سعد میں حضرت زید ابن ثابت کی ماں نوار  رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ:"مسجد کے پڑوس میں میرا گھر سب سے اونچا تھا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ ابتداء سے اسی پراذان دیتے تھے لیکن جب حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسجد بنالی اوراس کی چھت پر کچھ اونچا کردیا ،تو اسی پر اذان دینے لگے۔"
 (۳؂الطبقات الکبرٰی لابن سعدومن النساء بنی عدی بن النجارترجمہ النواربنت مالک    دارصادربیروت         ۴۲۰/۸)
فان فی ھٰذہ تصریحات بکون الاذان خارج المسجدبالمعنی الاول والجھول لایمیزبین المنافع والمضار وقد اسلفنا عدۃ روایات لھذامحتجین بھا والسفہ یبحث عن حتفہٖ بظلفہٖ۔
ہم بیان کر آئے ہیں کہ سب صورتیں مسجد بمعنی اول سے خارج ہیں، تو ان سے داخل مسجد اذان کے مدعیوں کو کیا حاصل؟لیکن جاہل نفع اورنقصان میں فرق نہیں کرتا، اوربیوقوف اپنے کھُرسے ہی اپنی موت کریدتاہے۔
نفحہ۱۷ : تعلق سفیہان منھم بروایۃ ابن ماجۃ عن عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ فیھا،قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان صاحبکم قدرأی رؤیافاخرج مع بلال الی المسجدفالقھا علیہ ولیناد بلال فانہ اندٰی صوتامنک قال فخرجت مع بلال الی المسجد فجعلت القیھا علیہ وھو ینادی بھا۱؂وھذاکما ترٰی اشبہ بالھذیان۔
نفحہ۱۷ : دوبیوقوفوں نے ابن ماجہ کی اس حدیث سے استدلال کیا جو حضرت عبداللہ بن زید سے مروی ہے :"حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (عبداللہ بن زید) نے خواب دیکھا ہے تو اے عبداللہ!بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف جاؤتم تلقین کرو اوربلال پکارکر اعلان کریں کہ وہ تم سے بلند آوازہیں۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں بلال کے ساتھ مسجد کی طرف گیا،میں بلال پر کلمات اذان تلقین کرتااورحضرت بلال اسے پکار کر دُہراتے۔"یہ استدلال ہذیان جیسا ہے ۔
 (۱؂سنن ابن ماجہ ابواب الاذان باب بدأ الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۱)
فاولاً : این الخروج الی المسجدعن الدخول فی المسجد،
اولاً: مسجد کی طرف جانے اورمسجدمیں داخل ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہے (اورحدیث شریف میں مسجد کی طرف جانے کی بات ہے مسجدمیں داخل ہونے کی نہیں۔)
ثانیًا:لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مجلس غیر مسجدہ الکریم ولا بین المسجدوالحجرات الشریفۃ شیئ انما کانت علی حافۃ المسجد الشرقیۃ واتیان عبداللہ بن زید الیہ صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم کان من اٰخر اللیل قریبا من الصباح کما جمع بہ بین روایۃ ابی داؤد"فلما اصبحت اتیت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۱؂۔"وروایۃ ابن ماجۃ"فطرق الانصاری رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لیلا۲؂۔"
ثانیاً :حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد مبارک اورحجرات ازواج مطہرات میں کوئی فاصلہ نہ تھا حجرے مسجد کے مشرقی کنارہ پرتھے،تو درازہ سے باہر حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نشست گاہ مسجد مبارک ہی میں تھی۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حضرت عبداللہ بن زیدکا آنا قریب صبح رات کے آخری حصہ میں تھا، اس کی تصریح امام ابوداؤدنےاپنی روایت میں کی ہے۔ اورابن ماجہ نے اپنی روایت میں جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کی حاضری آخری شب میں فجرسے کچھ پہلے تھی ، الفاظ دونوں روایتوں کے مندرجہ ذیل ہیں:"صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا"(ابی داود)۔"رات میں انصاری رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آئے"(ابن ماجہ)
 (۱؂سنن ابی داودکتاب  الصلٰوۃ باب کیف الاذان آفتاب عالم پریس لاہو ر        ۷۲/۱)

 (۲؂سنن ابن ماجہ ابواب الاذان باب بدأالاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۲)
ولم یکن ھذا ایان خروجہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن مسجدہ الکریم ولا دخول احدعلیہ فی الحجرۃ الکریمۃ فلم یکن صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذذاک الا فی المسجد الشریف اوالحجرۃ المنیفۃ۔ وعلٰی کل کان عبداللہ حین اتاہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی المسجد ھذا ھو الظاھرولو لم یکن ظاھراًلکفانا الاحتمال لقطع الاستدلال ومعلوم ان من کان فی المسجداذاقیل لہ اخرج الی المسجدیستحیل ان یرادبہ اخرج حتی تدخل المسجد،وانمایرادبہ اخرج الٰی منتھٰی حد المسجدوحینئذٍ تکون الحکمۃ فی التعبیر بالی الارشاد الی ان یؤذن فی حدود المسجدلافیہ لابعیداًمنہ، کما اراہ النازل من السماء علیہ الصلٰوۃ والسلام فکان الحدیث دلیلاً لنا علیھم والجھلۃ یعکسون ومما یشہد لہ ان النازل من السماء اراہ الاذان خارج المسجد اذقام علی حصۃ الجدار فوق السطح وما کان امر(عہ) النازل الا للتعلیم فلذا امران یخرج من المسجد الٰی حدودہٖ وللہ الحمد۔
اوریہ وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باہر جانے کا نہ تھا، نہ کسی کے حجرہ شریفہ میں داخل ہونے کا تھا، تو اس وقت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا تو مسجد مبارک میں تھے یا حجرہ شریفہ میں، تو اس صورت حال کے پیش نظرحضرت عبداللہ اس وقت مسجد میں ہی تھے۔روایات سے یہی ظاہر ہے ورنہ اس کا احتمال تو ہے ہی جو استدلال کو باطل کردیتاہے اورمسجد میں موجود رہنے والے سے یہ کہا جائے کہ مسجدکی طرف جاؤاس کا یہ مطلب ہرگز نہ ہوگا کہ مسجدسے نکل کر پھر مسجد میں آؤبلکہ مطلب یہ ہوگاکہ مسجد کی انتہائی حد تک جاؤ۔گویا سرکار ان الفاظ سے یہ رہنمائی کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد کی حدود میں اذان دی جائے مسجد میں نہیں،نہ مسجد سے دور۔جیسا کہ آسمان سے اترنے والے فرشتے نے انہیں دکھایاتھا ۔ پس یہ حدیث تو مخالفین کے خلاف ہماری دلیل ہے ، اوروہ اس کو الٹ رہے ہیں ۔ اوراس بات کی دلیل کہ فرشتے نے انہیں مسجد سے باہر اذان دے کر دکھایاتھا۔یہ ہے کہ وہ مسجدکی چھت پر دیوار کے اوپر  کھڑاہوا تھا اوروہ تعلیم کے لئے ہی آیاتھا اس لئے آپ نے حکم دیا کہ اندرون مسجد سے نکل کر مسجد کے کنارے کی طرف جاؤ،فالحمدللہ۔
عہ : واذاضم الٰی ذٰلک قول الشرنبلالی فی مراقی الفلاح (یکرہ اذان قاعد)لمخالفۃ صفۃ الملک النازل۱؂لکان حدیث الملک علٰی کثرۃ روایاتہ التی قدمنا کثیراًمنھا دلیلابراسہ علی کراھۃ الاذان داخل المسجدفافھم منہ حفظہ ربہ۱۲۔
اورجب اس کے ساتھ مراقی الفلاح میں مذکورقول شرنبلالی کو ملایاجائے ،یعنی بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے کیونکہ اس میں اذان کے لئے اترنے والے فرشتے کی صفت کی مخالفت ہے، توفرشتے والی حدیث باوجودان روایات کثیرہ کے جن کو ہم بیان کر چکے ہیں  مسجد کے اندر کی کراہیت پر دلیل ہوگی۔ پس اس کو سمجھ۔(ت)
 (۱؂مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلٰوۃ باب الاذان  دارالکتب العلمیۃ بیروت       ص۲۰۰)
وثالثاً: لو تنزلنا عن الکل فقد ذکرنا الجواب العام التام الشافی الکافی ان المراد بالمسجداحدالمعنیین الاخیرین ، وللہ الحمد۔
ثالثاً : اوران سب سے قطع نظرکیا جائے توہم ایک تام اورعام جواب دے چکے ہیں کہ ایسی تمام روایتوں میں مسجد سے اس کے دوسرے اورتیسرے معنٰی مراد ہیں۔
Flag Counter