Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
45 - 135
نفحہ۱۶ : ظھرلک الجواب وللہ الحمد عن اثرالنسائی عن طلق بن علی فخرجنا حتی قدمنا بلدنا فکسرنا بیعتنا ثم نضحنامکانھا واتخذناھا مسجداً فنادینا فیہ بالاذان۱؂۔
نفحہ۱۶ : مذکورہ بالا بیان سے حضرت طلق ابن علی کے اس اثر کا جواب بھی ہوگیاجو امام نسائی نے نقل کیا:"ہم مدینہ سے چل کر اپنے ملک میں  پہنچے اپنےگرجا کو ہم نے ڈھادیا اورحضور کی خدمت سے لایا ہوا پانی وہاں چھڑک دیا اورگرجا کی جگہ مسجدبنائی اوراس میں اذان دی۔"
 (۱؂سنن النسائی کتاب المساجد اتخاذ البیع مساجد نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  ۱۱۴/۱)
واثرالترمذی عن مجاھد قال دخلت مع عبداللہ بن عمر مسجداً  وقد اذن فیہ ونحن نریدان نصلی فیہ فثوب المؤذن  فخرج عبداللہ۱؂(الحدیث)
اورترمذی کے اس اثر کا بھی جواب ہوگیا جو حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ "ہم حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں گئے جس میں اذان ہوچکی تھی اورہم اسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے تھے تو مؤذن نے تثویب کہی تو حضرت عبداللہ مسجد سے نکل گئے۔"
 (۱؂جامع الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی تثویب الفجر امین کمپنی دہلی   ۲۸/۱)
اثراٰخرعن ابی الشعشاء قال خرج رجل من المسجد بعدما اذن فیہ بالعصر وقال ابو ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ما ھٰذا فقد عصٰی اباالقاسم صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم۲؂۔
ایک اوراثر جو ابو شعشاء سے مروی ہے کہ اذان عصر کے عد ایک شخص مسجد سے نکل گیا تو حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا"اس نے ابوالقاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔"
 (۲؂جامع الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی کراہیۃ الخروج من المسجدبعدالاذان امین کمپنی دہلی۲۸/۱)
فانھماعلی وزان اثراقوی لم یھتدوا لہ وھو اثر مسلم عن عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ: ان من سنن الھدٰی الصلٰوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ۳؂۔"
یہ دونوں حدیثیں اسی روایت کے ہم پلہ ہیں جو امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ سند کے اعتبار سے یہ روایت مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے قوی بھی ہے۔:"جس مسجدمیں اذان ہوتی ہے اس میں نماز پڑھنا سنن ہدٰی ہے۔"
 (۳؂صحیح مسلم کتاب المساجد باب صلٰوۃ الجماعۃ وبیان التشدیدالخ قدیمی  کتب خانہ کراچی۲۳۲/۱)
کما قد منا فی النفحۃ التاسعۃالفقھیۃ وقد کفانا المؤنۃ الاما مان الجلیلان فی فتح القدیر وغایۃ البیان اذقال فی المسجد ای فی حدودہٖ لکراھۃ الاذان فی داخلہ۱؂۔
یہ اثرہم نفحہ تاسعہ فقہیہ میں ذکر کر آئےمگرہمیں اس کے جواب کی ضرورت نہیں کہ ہماری طرف سے اس کا جواب دو جلیل القدر امام فتح القدیر اورغایۃ البیان میں دے چکے ہیں کہ ان حضرات نے مسجد کی شرح میں فرمایا:"مطلب یہ کہ جس مسجد کی حدود میں اذان ہوتی ہو وہاں نماز ادا کرنی سنت ہے کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے۔"
 (۱؂فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲۹/۲)
والعجب ان المحتج باثرابن عمر ھذا قد احتج بعبارۃ اختلقھا علی صلٰوۃ المسعودی لا اثرلھا فیھا ولم یرفی صلٰوۃ المسعودی انہ ذکر ھذا الاثر ھٰکذا ان عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہمادخل مسجداًلیصلی فخرج المؤذن فنادٰی بالصلٰوۃ ۲؂(الحدیث) وعزاہ الصلٰوۃ الامام السرخسی وصلٰوۃ الامام ابی بکرخواھرزادہ رحمھما اللہ تعالٰی ، ومثلہ فی الضعف بل اضعف والتمسک بحدیث مرفوع لم یھتدوالہ ایضا وانما دللنا ھم علیہ فتعلق بہ بعضھم وھو حدیث ابن ماجۃ عن امیرالمؤمنین عثمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم"من ادرکہ الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھو لایرید الرجعۃ فھو منافق۱؂۔"
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اثر سے استدلال کرنے والے نے اس عبارت میں اپنی طرف سے فیہ کا اضافہ کردیا اورحوالہ میں صلٰوۃ مسعودی کا نام لکھا، حالانکہ صلٰوۃ مسعودی میں یہ روایت صلٰوۃ امام سرخسی اورصلٰوۃ  امام ابو بکر خواہرزادہ سے ان الفاظ میں مروی ہے :
ان عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما دخل مسجدًالیصلی فخرج المؤذن فنادٰی بالصلٰوۃ (الحدیث)
یعنی اصل عبارت میں فیہ کا لفظ نہیں ہے سند اوراستدلال کے اعتبارسے اس سے بھی زیادہ ضعیف ایک اورحدیث ہے جس سے وہ غافل تھے ہم نے ہی ان کی رہنمائی کی تھی، تو بعض نے اس سے بھی سند پکڑی ، ابن ماجہ نے وہ حدیث عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت کی:"جس نے کسی مسجد میں اذان پائی اس کے بعد مسجد سے بلاضرورت باہرہوا اورواپس ہونے کا ارادہ بھی نہیں تووہ منافق ہے۔"
 (۱؂سنن ابن ماجہ ابواب الاذان باب اذا اذن وانت فی المسجدالخ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۴)

(۲؂صلٰوۃ المسعودباب بیست ویکم دربیان بانگ نماز مطبع محمدی بمبئی   ۹۵/۲)
فان المسجد ظرف الادراک دون الاذان الا تری الی المناوی فی التیسیراذیقول فی شرحہ (من ادرکہ الاذان)وھو(فی المسجد۲؂)
استدلال ضعیف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں فی المسجد ادراک کا ظرف ہے (یعنی اذان سننے والا مسجد میں تھا خود اذان مسجد میں نہیں ہوئی تھی، امام مناوی نے اپنی شرح بنام تیسیر میں اس حدیث کی شرح میں فرمایا: جس نے اذان اس حالت میں سنی کہ وہ مسجد میں تھا)
 (۲؂التیسیرشرح الجامع الصغیرتحت الحدیث من ادرک الاذان الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض      ۳۹۲/۲)
Flag Counter