| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
وثانیاً انظرواالٰی ظلم ھٰؤلاء یردون حدیث صحیح ابی داؤدلاجل محمد بن اسحٰق الذی اجمع عامۃ ائمۃ الحدیث والفقہ علی توثیقہ ، ویحستجون باثرجویبر وما جویبر من ابن اسحٰق الا کالعتمۃ من الاصبح۔رجل لم یذکر فی تھذیب الکمال ولاتذھیب التھذیب ولا تھذیب التہذیب ولا میزان الاعتدال ولا اللالی المصنوعۃ ولا العدل المتناھیۃ ولا خلاصۃ التھذیب مع الزیادات توثیقالہ عن احدمن ائمۃ التعدیل انام ذکرواعنہم جرحہ۔ قال النسائی وعلی بن جنید والدار قطنی"متروک"۱قال ابن معین "لیس بشیئ ضعیف۔"۲قال ابن المدینی"ضعیف جدا۳۔"وذکرہ یعقوب ابن سفٰین"فی باب من یرغب عن الروایۃ عنہم۴۔" وقال ابوداؤد"ھو علٰی ضعفہ۵۔"
(۱تا ۵تہذیب التہذیب ترجمہ جویبربن سعید موسسۃ الرسالۃ بیروت ۳۲۰/۱)
وقال ابن عدی"الضعف علی حدیثہ وروایاتہ بین ۶۔"وقال الحاکم ابو احمد"ذاھب الحدیث۷"قال الحاکم ابوعبداللہ"انا ابرأ الی اللہ من عہد تہ۸"وقال ابن حبان"یروی عن الضحاک اشیاء مقلوبۃ۹۔"وقال فی اللآلی ھالک تالف متروک جدا ۱۰۔ ونقل فی ذیلہا عن لسان المیزان"متروک الحدیث عن المحدثین۱۔" وقال فی التقریب"ضعیف جدا۲" وقال احمد بن سیار"حالہ حسن فی التفسیر وھو لین فی الروایۃ۳" وعدہ یحیٰی ابن سعید"ھٰؤلاء لایحمل حدیثہم ویکتب التفسیرعنہم۴۔" وقال فی الاتقان بعد ذکران الضحاک عن ابن عباس مقطع"وان کان من روایۃ جویبر عن الضحاک فاشد ضعفالان جویبراشدیدالضعف متروک اھ۵۔" ولکن اذا لم تستحی فاصنع ماشئت۶۔
وثانیاً یہ کتنابڑا ظلم ہے کہ یہ حضرات حضرت ابوداودرضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث صحیح کو تورد کرتے ہیں بلکہ حدیث کے راوی محمد ابن اسحاق پر جرح کرتے یہں جن کی توٖثیق پر عام ائمئہ حدیث وفقہ متفق ہیں۔ اورجویبر کے اثر سے استدلال کرتے ہیں حالانکہ جویبر اورابن اسحٰق میں رات اورصبح صادق کا فرق ہے ، نہ تو تہذیب الکمال میں جویبر کی توثیق کسی امام ائمہ تعدیل سے مروی ، نہ تذھیب التہذیب میں ، نہ تہذیب التہذیب میں ، نہ میزان الاعتدال میں ، نہ لآلی المصنوعہ، نہ علل المتناہیہ نہ خلاصۃ التہذیب مع زیادات میں ، ہے تو صرف جرح ہے ۔ چنانچہ نسائی وعلی بن جنید اوردارقطنی فرماتے ہیں: متروک ہے ۔ابن معین فرماتے ہیں:کچھ نہیں ضعیف ہے۔ابن المدینی فرماتے ہیں : بے حد ضعیف ہیں۔ یعقوب بن سفیان نے ان لوگوں میں شمار کیاجن سے روایت نہ کی جائے۔امام ابوداؤدنے فرمایا:وہ ضعف پر ہیں۔ابن عدی فرماتے ہیں : ان کی حدیثوں اورروایتوں پر ضعف غالب ہے۔ حاکم ابواحمد نے فرمایا: ان کی حدیثیں ضائع ہیں۔ حاکم ابوعبداللہ نے فرمایا : میں ان کی حدیثوں سے اللہ تعالٰی کی طرف براءت ظاہر کرتاہوں۔ابن حبان فرماتے ہیں :ضحاک سے الٹی پلٹی حدیثیں بیان کرتاہے۔لآلی میں فرمایا: ہلاک کرنے والے،برباد کرنیوالے، سخت متروک ہیں۔ اسی کے حاشیہ میں لسان المیزان سےمنقول ہے : محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔ تقریب یں ہے : بے حد ضعیف ہیں۔ احمد بن سیار نے فرمایا : تفسیر می ان کا حال ٹھیک ہے اورروایت میں کمزورہیں۔یحیٰی ابن سعید نے فرمایا : حدیث میں ان پر بھروسانہیں کیا جاتا،روایت نہیں کی جاتی ،تفسیرلکھی جاتی ہے ۔ اتقان میں ان کے ذکر کے بعد فرمایا: ضحاک کی روایت ابن اسحاق سے منقطع ہے ، اور ضحاک سے جویبر روایت کریں تو اورشدید ہے ، اوریہ متروک ہیں۔تو یہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کہ جو یبرجیسے متروک الحدیث کی روایت سے سند پکڑی جائے،اورمحمدبن اسحٰق جیسے ثقہ کی روایت چھوڑدی جائے۔
(۶تا ۹تہذیب التہذیب ترجمہ جویبربن سعید موسسۃ الرسالۃ بیروت ۳۲۱/۱) (۱۰اللآلی المصنوعۃ) (۱ذیل اللآلی المصنوعۃ کتاب العلم المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل، شیخوپورہ ص۳۴) (۲تقریب التہذیب ترجمہ۹۸۹جویبربن سعید دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۶۸/۱) (۳تہذیب التہذیب ترجمہ جویبر بن سعیدمؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳۲۱/۱) (۴تہذیب التہذیب ترجمہ جویبر بن سعیدمؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳۲۱/۱) (۵الاتقان النوع الثمانون فی طبقات المفسرین دارالکتاب العربی بیروت ۴۷۲/۱) (۶المعجم الکبیرحدیث۶۵۸و۶۶۱المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳۸،۲۳۷/۱۴)
وثالثاً من ظلمھم الدندنۃ علٰی حدیث ابن اسحٰق بالعنعنۃ وما فی عنعنۃ المدسل الاحتمال الانقطاع ثم عادوایتمسکون بھٰذا الاثر وفیہ مکحول عن معاذ منقطع قطعا۔
ثالثاً ان حضرات کا ایک ظلم یہ بھی ہے کہ محمد ابن اسحٰق کی حدیث پر معنعن ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ مدلس کی معنعن حدیث میں روایت کے منقطع ہونے کا احتمال ہے اورروایت جویبرمیں شدیدضعف کے ساتھ ساتھ مکحول عن معاذروایت ہے جو یقیناًمنقطع ہے۔
ورابعاً من خیانتھم ان اثرواھٰذا الاثر عن فتح الباری وترکواقولہ"ھذامنقطع بین مکحول ومعاذ۱۔"
رابعاً ان حجرات نے جویبر کے اثر کو فتح الباری سے نقل کیا اوراس پر خود صاھب فتح الباری کی یہ جرح چھوڑ دی کہ یہ اثر مکحول اورمعاذرضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان منقطع ہے۔
(۱فتح الباری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۴۵)
خامساً ترکواقولہ"ولایثبت لان معاذاًکان خرج من المدینۃ الی الشام فی اول ما غزواالشام واستمرالٰی ان مات بالشام فی طاعون عمواس۲۔"
خامساً صاحب فتح الباری کی یہ تنقیدبھی ترک کردی "یہ روایت ثابت نہیں"کہ اس روایت میں ہے کہ عہد عمر کا یہ قصہ حضرت معاذ نے مکحول سے بیان کیا جب کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری سال شام گئے، پھر وہیں رہ گئے،مدینہ شریف واپس نہیں آئے یہاں تک کہ طاعون عمواس میں ان کا وہیں انتقال ہوگیا۔
(۲فتح الباری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۴۵)
وسادساً ترکواقولہ"وقد تواردت الروایات ان عثمٰن ھو الذی زادہ فھو المعتمد۳اھ۔"
سادساً ان لوگوں نے صاحب فتح کی یہ تنقید بھی چھوڑدی کہ متعدد روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ اذان اول کا اضافہ کرنیوالے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔
(۳فتح الباری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۴۵)
فقد افادان الاثر منقطع ومعلول ومنکر لمخالفتہ لاحادیث صحیح البخاری وغیرہ الکثیرۃ المشہورۃ فترکواکل ذٰلک خائنین۔
ابن حجرکی تنقیدوں سے ثابت ہوا کہ یہ اثر منقطع ہے، معلول ہے، بخاری شریف کی احادیث صحیحہ مشہورہ کی مخالفت ہونے کی وجہ سے منکر ہے،اوران حضرات نے سب کو چھوڑاتو خائن ہوئے۔
وسابعاً ان کان فیہ شیئ فلیس الا مفہوم وردہ عند ائمتنا معلوم، الاسیمامفہوم اللقب الذی ھو اضعف المفاھیم لم یقل بہ الاشرذمۃ قلیلۃ من الحنابلۃ ودقاق الشافعی واندادالمالکی۔
سابعاً اس عبارت سے اگر کچھ ثابت ہوتاہے تو بچور عارۃ النص نہیں بلکہ بطور مفوہم مخالف اورمفہوم مخالف بھی لقبی جوائمہ احناف کے نزدیک اضعف المفاہیم ہے ۔ یوں تو ہمارے ائمہ کے نزدیک مفہوم مخالف کا ہی اعتبار نہیں مفہوم مخالف لقبی کا کیا ذکر جو مالکیہ کے ایک مختصر گروہ کے نزدیک معتبرہے۔اوردقاق شافعی اوراندادمالکی کا قول ہے۔
وثامناً جاء الملک ثلٰثۃ سفراء ووصل احدھم الٰی باب تجاہ الملک واثنان متاخران، سأل عنھم الملک فقال الھاجب احدھم بین یدی الملک واثنان کارج الحضرۃ فھل یفھم منہ ان الذی بین یدیہ قدد خل جوف الدارولیس علی الباب ولکن الھل یاتی بالعجب العجاب۔
ثامناً بادشاہ کے پاس تین نفر آئے، ایک تو بادشاہ کے سامنے آیالیکن باہری دروازے تک، دو اورپیچھے رہے ۔ بادشاہ نے ان کے بارے میں دریافت کیا ۔ حاجب نے جواب دیاایک تو بادشاہ کے سامنے ہے اوردودربارسے باہرہیں۔تو حاجب نے جسے بادشاہ کے سامنے کہا کیا وہ دربار کے اندر تھا،وہ تو دروازہ پر ہی تھا لیکن جہالت عجب عجب گُل کھلاتی ہے۔