Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
43 - 135
قلت ھذا وان بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ رضی اللہ  تعالٰی عنہ فلوان الاسلام لم یبلغ فی عھدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ الی ان یعد میتا فما الذی احیاہ وعلامہ سمی محی الدین وان کان بلغ الٰی تلک الغایۃ فما ظنک بائمۃ اجلاء علماء والیاء کانواقبلہ اھم کانوا عنہ غافلین اوترکوانصرہ حتی بلغ الٰی ذٰلک الضعف المبین۔ ام تزعمون ان لارض کانت خلت عن ولی اللہ وعالم امین کل ذٰلک من اجلی الاباطیل لایذھب الیہ عاقل ذودین۔
میں کہتاہوں یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب آپ کمال کو پہنچ گئے تھے اورآپ کی عمر شریف چالیس سال ہوچکی تھی۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس وقت اسلام کی ایسی حالت ہوگئی تھی کہ اس کو مردہ کہا جائے گا یا نہیں،اگر کہا جائے کہ نہیں، تو آپ زندہ کس کو کیا،اورآپ کانام محی الدین کیوں ہوا۔اوراگر ہاں کہا جائے تو وہ ائمہ عظام اوراولیاء فخام جو آپ سے پہلے تھے کیا اسلام کی اس کمزوری سے غافل تھے یا انہوں نے حق کی حمایت چھوڑدی تھی کہ دین ضعف کی اس حد تک پہنچ گیا تھا یا پھر یہ گمان کیا جائے کہ دنیا علماء واولیاء سے خالی ہوگئی تھی حالانکہ یہ تینوں باتیں خلاف واقعہ اورباطل ہیں۔
وانما الامرماوصفنا ان لمن احیالاحقااجرہ ولمن سکت سابقاعذرہ ، والاشیاء مقسومۃ بید التقدیرالقدیم
"ان الفضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء"۱؂،"واللہ ذوالفضل العظیم۔"۲؂۔
توحقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ جس نے بعد میں احیائے دین کیا اس کیلئے اجر ہے ، اورجو لوگ پہلے خاموش گزرے ان کے لئے عذرہے ۔ اشیاء کی تقدیر ازل سے ہی دست قدرت میں ہے۔اوراللہ تعالیی اپنے فضل بے نہایت سے جس کو چاہتاہے فضیلت عطافرماتاہے۔
(۱؂القرآن الکریم۷۳/۳) 	(۲؂القرآن الکریم۷۴/۳)
وبالجملۃ انماھم الشریعۃ یردون وباب احیاء السنۃ یسدون اذ کلماقام عبداللہ یحی سنۃ اویمیت بدعۃ یقال لہ الم یک قبلک علماء بالدین، اکانواجاھلین،ام غافلین،ام انت اعلم منھم اجمعین،وما ھو الا تصدیق قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :"لیاتین علی الناس زمان یکذب فیہ الصادق ویصدق فیہ الکاذب۲؂۔ "وحدیث یکون المعروف منکراً والمنکر معروفا۱؂۔ کما قدمنا فھذا مایریدون والدین یکیدون وما یکیدون الاانفسھم ولکن لایشعرون۔ نسأل اللہ العفووالعافیۃ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ مخالفین اذان بیرون مسجد شریعت کو رد کرتے ہیں، اوراحیاء سنت کا راستہ مسدود کرتے ہیں اس لئے کہ جب کوئی بندہ ا حیاء سنت واماتت بدعت کیلئے اٹھے اسے یہ کہہ  کر روکا جاسکتاہے ، کیا آپ سے پہلے علمائے دین نہ تھے؟ یا آپ ان سب سے بڑے عالم ہیں؟تو یہ صورت حال اس حدیث کریم کا مصداق ہے جس میں حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک زمانہ وہ بھی آئے گا کہ سچا جھٹلایا جائے گااورجھوٹے کو شاباش ملے گی، معروف ومشروع باتیں ناپسند ہوں گی اورمنکرات کو قبول کیاجائے گا۔" یہ ان لوگوں کی مراداورحیلہ جوئیوں کا جواب ہے اوردین سے مکر کرتے ہیں اورمکرسے آدمی اپنے نفس کو ہی دھوکا دیتاہے ۔ ہم تو اللہ تعالٰی سے عفو وعافیت کے طلبگار ہیں۔
 (۳؂المعجم الاوسط     حدیث۸۳۶۸     مکتبۃ المعارف ریاض       ۲۹۳/۹) 

(۱؂فیض القدیرتحت الحدیث۶۹۸۹کان یجلس علی الارض دارالکتب العلمیۃ بیروت       ۲۶۲/۵)
واذقدفرغنا بحمداللہ تعالٰی عن ابطال ما توافقواعلیہ فلنأت علٰی ماانفردبہ بعضھم عن بعض وباللہ التوفیق۔
یہاں تک ہم ان کی مشترکہ جدوجہد کی تنقید سے فارغ ہوچکے ہیںاوراب انفرادی کاوشوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں،توفیق خیر تو اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے۔
نفحہ۱۵ : ذکر بعضھم اثراجعلہ من روایۃ جویبر فی تفسیرہ عن الضحاک عن بردبن سنان عن مکحول عن معاذ رضی ا للہ تعالٰی عنہ: ان عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ امر مؤذنین ان یؤذناللناس الجمعۃ خارجا من المسجدحتی یسمع الناس وامران یؤذن بین یدیہ کما کان فی عھد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر رضی ا للہ عنہ ثم قال عمر نحن ابتدعنا ہ لکثرۃ المسلمین۲؂۔
نفحہ۱۵ : بعضوں نے ایک اثر نقل کیا جسے جویبر نے اپنی تفسیر میں ضحاک عن بردبن سنان عن مکحول عن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کیاکہ:"حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مؤذنوں کو حکم دیا کہ جمعہ کے روز لوگوں کیلئےخارج مسجد اذان دیں تاکہ لوگ سن لیں، اوریہ حکم دیا کہ آپ کے سامنے اذان دی جائے جیسا کہ عہد رسالت اورعہد صدیقی میں ہوتاتھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ہم نے آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ نئی اذان شروع کی۔"
	(۲؂فتح الباری کتاب الجمعۃباب الاذان یوم الجمعۃ مصطفی البابی مصر    ۴۵/۳)
فدل بمفھومہ ان الاذان بین یدیہ لم یکن خارج المسجد ودل بقول کما کان انہ فی عھد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ ایضاًداخل المسجد۔
اس حدیث کا مفہوم مخالف یہ ہوا کہ اذان میں بین یدیہ خارج مسجد نہیں تھی۔ اوراس اذان کے لئے یہ کہنا کہ یہ اذان عہد رسالت اورزمانہ صدیقی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ایسے ہی ہوتی تھی، اس لئے صراحۃًیہ ثابت ہوا کہ یہ اذان ان زمانوں میں اندرون مسجد ہوتی تھی۔
اقول اولاً قداعطیناک فی النفحۃ التاسعۃ الفقہیۃ من معانی المسجد ما یغنیک ویعینک علٰی کل مایاتیک من امثال ھذا التشکیک فامر مؤذنین ان یؤذنا خارج المسجدبالمعنی الثانی اوالثالث ایضاً کام فعلہ امیرالمومنین ذوالنورین  رضی اللہ تعالیی عنہم اذ زاد اذاناً علی الزور اء عند کثرۃ المسلمین ویشیرالیہ فی نفس الاثرقولہ"حتّٰی یسمع الناس"وقولہ"نحن ابتدعناہ لکثرۃ المسلمین"۱؂ فلایدل ان دل الاعلٰی کون الاذان بین یدیہ داخل المسجدباحدھٰذین المعنین وھو عین مرادنا "فلینظرھل یذھبن کیدہ مایغیظ۔"
اقول : (میں کہتاہوں)اولاًہم نویں فقہی نفحہ میں بیان کر آئے ہیں کہ مسجد کے تین اطلاقات ہیں ،اسی اعتبارسے خارج مسجد کے  بھی تین معنی ہوں گے۔ اثر مذکورمیں آئے ہوئے لفظ حتی یسمع الناس اورابتدعناہ عند کثرۃ المسلمین اس امر پر دلالت کرتے یہں کہ یہاں خارج مسجد سے مراد معنی ثالث ہیں،ا ورمعنی ثانی ہوتو بھی ہم کو کچھ ضرر نہیں کہ ہم بھی تو اسی کے قائل ہیں کہ حدود مسجد کے اندر ہو، مگر موضع صلٰوۃ سے باہر ہو۔مسجد کے اطلاق کی مذکورہ بالاتوضیح ایسے تمام شبہوں کے لئے نسخہ شفاہے۔
 (۱؂فتح الباری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ مصطفٰی البابی مصر    ۴۵/۳)
Flag Counter