| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
وابن ماجۃ عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی ا للہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: ائتمروابالمعروف وتناھواعن المنکر حتی اذارأیت شحا مطاعاً وھوی متبعاً ودنیا مؤثرۃ واعجاب کل ذی رأی برایہ ورأیت امرا لایدان لک بہ فعلیک خویصۃنفسک ودع امر العوام۲۔(الحدیث)
ابن ماجہ نے ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرتے رہو تاآنکہ بخل کی حکومت دیکھو، خواہشات نفس کی پیروی کی جانے لگے،اورلوگ دنیا کواختیار کر چکے ہوں ۔ ہر رائے پسند کرے ایسے میں کوئی ضرور ی معاملہ درپیش ہوتو تم اپنے نفس کو لازم پکڑواورعوام کو ان کے حال پرچھوڑو۔"
(۲سنن ابن ماجہ کتاب الفتن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۹۹)
ونظیر ماذکرت من شیوع امر من قبل السلطنۃ ما فی الھدایۃ فی تکبیرات العیدین : "ظھرعمل العامۃ الیوم بقول ابن عباس رضیا للہ تعالٰی عنہما لامر بینہ الخلفاء فاما المذھب فالقول الاول۳ اھ"
اوراس بات کا ثبوت کہ سلطنتوں کی طرف سے بھی بہت باتیں پھیلائی جاتی ہیں، صاحب ہدایہ کا یہ قول ہے کہ :"تکبیرات عیدین میں آج کل عام طور سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب پر عمل ہورہاہے کیونکہ خلفائے بنو العباس نے اسی پر عملدرآمد کا حکم دیا، لیکن مذہب تو احناف کا قول اول ہی ، (یعنی چھ زائدتکبیریں)۔"
(۳الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب العیدین المکتبۃ العربیہ کراچی ۳۵۱/۱)
وما ذکرت من سکوت العلماء علیہ سکوتھم وھم صحابۃ متوافرون وائمۃ اجلا تابعون علی زخرفۃ الولید المسجد الشریف النبوی حتی انفق علی جدارالقبلۃ وما بین السقفین خمسۃ واربعون الف دینارمع ابن بعضھم قدانکرعلٰی امیر المؤمنین عثمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہ حین بناہ بالحجارۃ مکان اللبن وقصصہ وسقفہ بالساج مکان الجرید۔ قال الامام العینی فی العمدۃ :"اول من زخرف المساجد الولید بن عبدالملک بن مروان وذٰلک فی ااواخرعصر الصحابۃ رضی اللہ تعالیی عنہم وسکت کثیر من اھل العلم عن انکارذٰلک خوفاً من الفتنۃ اھ۱۔"
اورجو میں نے یہ کہا کہ ظہور منکرات کے وقت علماء خاموش رہے ہیں، اس کا ثبوت علمائے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وتابعین کثیرہ متوافرہ ائمہ اجلہ کی وہ خاموشی ہے جو ولید کے مسجد نبوی شریف کے آرائش کرنے پر تھی، اس لئے دیوار قبلہ اوردونوں چھتوں کے مابین کی آرائش پر۴۵ہزاراشرفیاں خرچ کی تھیں حالانکہ انہیں میں سے بعض امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اس بات پر نکیر کرچکے تھے کہ انہوں نے دیواروں کو اینٹوں کے بجائے منقش پتھروں سے بنوایااورچھت کو کھجور کے پتوں کے بجائے ساج کی لکڑی سے۔ امام عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :"ولید بن عبدالملک بن مروان نے سب سے پہلے مسجد شریف کو مزین کیا ، صحابہ کرام کے آخری عہد کی بات ہے ، بہت سارے اہل علم اس وقت اس لئے خاموش رہے کہ فتنہ برپاہوگا۔"
(۱عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب بنیان المسجدتحت الحدیث۴۴۶دارالکتب العلمیہ بیروت ۳۰۴/۴)
ولا بن عدی فی الکامل والیبھقی فی الشعب عن ابی امامۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : "اذا رأیتم امراًلاتستطیعون تغیریرہ فاصبروا حتی یکون اللہ ھو الذی یغیرہ۲۔"
ابن عدی نے کامل میں اوربیہقی نے شعب میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا:"جب تم کوئی ایسا کام دیکھو جس کے بدلنے کی تم طاقت نہیں رکھتے تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اسے بدل دے۔"
(۲شعب الایمان حدیث۹۸۰۲ ۷/ ۱۴۹ و الکامل لابن عدی ترجمہ عفیر بن معدان الحمصی ۵/ ۲۰۱۷)
والدالیل علی ماذکرت من اشتباہ الامر فی ذٰلک علی المتاخرین حتی العلماء بالتعامل ما اسلفت عن الشیخ المجدد وقد کان فی ماقررنا ابانۃ اعذارلمن عبر ومن غبرفان لم یرض بہ المخالفون فھم الذین یقضون علی اساتذتھم ومشائخھم اما بالجھل اوبالسکوت عن الحق وقد کانت لھم مندوحۃ الم یعلموا ان الخلیفۃ الراشد امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کم من سنن احیاھا وظلمات بدع اجلاھا فکان لہ الاجر الجزیل والذکر الجمیل والفخر الجلیل ولم یکن عتب قط علٰی من قبلہ من الصحابۃ الکرام واکابرائمۃ التابعین الاعلام رضی اللہ تعالٰی عنہم انھم جھلوا الحق اوسکتواعنہ ولاقیل لامیر المومنین انک تقحمت ما اجتنبوہ او انکرت ما اقروہ افانت اعلم منھم بالسنۃ اواتقی منھم للفتنۃ وعلٰی ھذا درج امر کل مجدد فانہ لایبعث الالتجدیدماخلق وتشئید ما وھی وربما کان من قبلہ اعلم منہ واتقی۔
اوراس امر کی دلیل کہ اس معاملہ میں متأخرین پر معاملہ تعامل سے مشتبہ ہوگیا ، ھد یہ کہ علماء بھی شبہ میں پڑگئے۔ شیخ مجدد کاوہ قول ہے جسے ہم نقل کرچکے ہیں۔ ہمارے اس بیان سےگزرنے والوں اورباقی رہنے والوں سبھی کاعذر ظاہر ہوگیا۔اگرکوئی ہمارے اس بیان پر راضی نہ ہوتو خود اپنے ہی شیوخ اوراساتذہ پر جہل یاسکوت عن الحق کا فیصلہ کرتاہے حالانکہ وہ اس سے بچ سکتا تھا۔خلیفہ راشدعمر بن عبدالعزیز رضی ا للہ عنہ نے کتنی سنتوں کا احیاء فرمایا اورکتنی بدعتوں کی تاریکیاں کافور فرمائیں۔یہ امر ان کے لئے تو اجر عظیم اوربقائے ذکر حسن کا ذریعہ ہے، اوربجاطور پرباعث فخر ومباہات ہے لیکن ان سے قبل گزرنے والے صحابہ کرام اور اکابرائمہ تابعین اعلام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے کسی عتاب یا عیب جوئی کا سبب نہیں کہ وہ لوگ حق سے غافل رہے یا اس سے خاموشی اختیار کی۔ نہ اس سے امیر المومنین پر خوردہ گیری کی گئی کہ ااپ نے ان چیزوں کی مزاحمت کیوں کی جس سے متقدمین ائمہ نے پرہیز کیا،یا آپ نے ان امور کا انکار کیا، جسے ان بزرگوں نے باقی رکھا،تو کیاآپ ان سے زیادہ سنت کا علم رکھتے ہیں اوران سے زیادہ ذکی وعلیم ہیں؟
وکذٰلک غیر المجددین من کل عالم تصدّٰی لاحیاء السنۃ اواخمادبدعۃ فاہ یحمد ویوجر ولا یذم من مضٰی قبلہ ولا یعیر بخلاف من غبر بل من المثل الدائرالسائرکم ترک الاول للاٰخروھذا سیدنا الغوث الاعظم القطب الاکرم سید الاولیاء وسند الائمۃ والعلماء صلی اللہ تعالٰی علٰی ابیہ الاکرم وعیہ وعلٰی اصولہٖ وفروعہ ومشائخہ ومریدیہ وکل من انتمٰی الیہ ،روٰی عنہ الائمۃ الکبار باسنید صحیحۃ مفصلۃ فی البھجۃ الشریفۃ وغیرھامن الکتب المنیفۃ : "انہ قیل لہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ماسبب تسمیتک محی الدین؟قال رجعت من بعض سیاحاتی مرۃ فی یوم جمعۃ فی سنۃ احدی عشرۃ وخمسمائۃ الی بغداد حافیا،فمررت بشخص مریض متغیراللون نحیف البدن،فقال لی السلام علیک یا عبدالقادر،فرددت علیہ السلام، فقال ادن منی فدنوت منہ، فقال لی اجلسنی فاجلستہ فنماجسدۃ وحسنت صورۃ وصفا لونہ فخفت منہ، فقال اتعرفنی ، فقلت لا،قال انا الدین وکنت دثرت کمارأیتنی وقداحیانی اللہ تعالٰی بک وانت محی الدین، فترکتہ وانصرفت الی الجامع فلقینی رجل ووضع لی نعلاً وقال یا سید ی محی الدین، فلما قضیت الصلٰوۃ اھرع الناس الی یقبلون یدی ویقولون یا محی الدین، وما دعیت بہ من قبل ۱ اھ کلامہ الشریف۔"
اور اسی میں تمام مجددین کامعاملہ شامل ہے کہ وہ بھیجے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ جو کمزوری آگئی ہے اسے مضبوط کریں اورجو کہنہ معلوم ہورہا ہے اس کو نیا کریں ۔ اوربسااوقات ان مجددین سے پہلے ان سے بڑے بڑے اوران سے زیادہ پرہیزگارعلماء گزرچکے ہوتےہیں۔ اورعلمائے غیر مجددین بھی احیائے سنت واماتت بدعت ہی کے درپے ہوتے ہیں اورکسی بات پر ان کی تعریف ہوتی ہے جس پرانہیں اجر ملے گا۔اورجو یہ کارنامہ کئے بغیر گزرگئے نہ تو ان کی برائی ہوتی ہے نہ کرنے والوں کو عار دلایا جاتاہے ، اوریہ توایک مشہورمثل ہے کہ پہلے کے بزرگ بعد میں آنے والوں کے لئے بہت سے کام چھوڑ گئے۔ حضرت غوث اعظم، قطب معظم، سید الاولیاء،سند الائمہ اللہ تعالٰی ان کے جد کریم، خود ان پر اوران کے اصول وفروع، مشائخ ومریدین اوران سے نسبت رکھنے والوں پراپنی رحمت نازل فرمائے سے ائمہ کبار نے سند صحیح کے ساتھ بہجۃ الاسرار وغیرہ معتبرات میں روایت کی کہ :"آپ رضی ا للہ عنہ سے پوچھا گیا حضور!آپ کا لقب محی الدین کیسے ہوا؟آپ نے جواب دیا میں ۵۱۱ھ میں اپنی کسی سیاحت سے جمعہ کے دن بغداد لوٹ رہا تھا اس وقت میرے پاؤں میں جوتے بھی نہ تھے راستہ یں ایک کمزور اورنحیف ، رنگ بریدہ مریض آدمی پڑا ہوا ملا،اس نے مجھے عبدالقادرکہہ کر سلام کیا میں نے اس کا جواب دیا تو اس نے مجھے اپنے قریب بلایااورمجھ سے کہا کہ آپ مجھے بٹھا دیجئے ۔ میرے بٹھاتے ہی اس کا جسم تروتازہ ہوگیا سورت نکھرآئی اورارنگ چک اٹھا مجھے اس سے خوف معلوم ہوا ، تو اس نے کہامجھے پہچانتے ہو، میں نے لاعلمی ظاہر کی، تو اس نے بتایا میں ہی دین اسلام ہوں اللہ تعالٰی نے آپ کی وجہ سے مجھے زندگی دی،اورآپ محی الدین ہیں۔میں وہاں سے جامع مسجد کی طرف چلا، ایک آدمی نے آگے بڑھ کر جوتے پیش کئے اورمجھے محی الدین کہہ کر پکارا، میں نماز پڑھ چکاتو لوگ چہارجانب سے مجھ پر ٹوٹ پڑے میراہاتھ چومتے اورمجھے محی الدین کہتے ۔ اس سے قبل مجھے کسی نے محی الدین نہیں کہا تھا۔"
(۱بہجۃ الاسرارذکرفصول من کلامہ مرصعابشیئ من عجائب احوالہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۰۹)