| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
نفحہ۱۲ : لاحجۃ فی توارث البعض اذا خالف الحدیث والفقہ، الا ترٰی ان اجل توارث واعظمہ واھیبہ وافخمہ توارث اھل الحرمین المحترمین زادھما اللہ تعالٰی عزا وتعظیما واھلھما فضلاً وتکریماً لاسیما فی القرون الأولٰی ومع ذٰلک لم یسلمہ اما منا الاعظم وجمیع ائمۃ الفتوٰی فی مسألۃ الاذان الفجر من اللیل لمجی الحدیث بخلافہ قال فی الھدایۃ:"لایوذن لصلٰوۃ قبل دخول وقتھا ویعادفی الوقت لان الاذان للاعلام وقبل الوقت تجھیل وقال ابو یوسف وھو قول الشافعی رحمھما اللہ تعالٰی یجوز للفجر فی النصف الاخیر من اللیل لتوارث اھل الحرمین والحجۃ علی الکل قول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لبلال رضی اللہ تعالٰی عنہ لاتؤذن حتی یستبین لک الفجر ھٰکذا ومدیدہ عرضاً ۱اھ" قال الامام الاکمل البابرتی فی العنایۃ: "قولہ والحجۃ علی الکل ای علٰی ابی یوسف والشافعی واھل الحرمین یعنی ان الحدیث حجۃ علی الاٰخذوالماخوذمنہ۲ اھ" فاذاکان ھذا فی نوارث اھل الحرمین التابعین وتبع التابعین وھم ماھم فماظنک بتوارث تدعیہ الاٰن فی بعض البلدان وما فیکم ولا فیمن ولی کم او ولی من ولی کم من یکون فعلہ اوسکوتہ حجۃ فی الشرع فضلاً عن ان یکون حجۃ علی الشرع واللہ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم۔
نفحہ۱۲ : اورکچھ لوگوں کا توارث جب حدیث وفقہ کے خلاف ہوتو لائق استدلال نہیں ہوتا ۔سب جانتے ہیں کہ توارث میں سب سے عظیم وبزرگ اورپرہیبت حرمین محترمین زادہم اللہ شرفاً وتعظیماً کا توارث ہے،وہ بھی قرون اولٰی کامگر ہمارے امام اعظم اورتمام اہل فتاوٰی اذان فجر کے مسئلہ میں اسے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ حدیث اس توارث کے خلاف مروی ہے ، ہدایہ میں ہے :"نماز فجر کے لئے دخول وقت سے پہلے اذان نہ دی جائے، اوراگر پہلے دے دی گئی ہو تو وقت ہونے پر دہرائی جائےکہ اذان وقت کے اعلان کے لئے ہے ، اوروقت سے پہلے دینا لوگوں کوغلط فہمی میں ڈالناہے ۔امام ابویوسف اورامام شافعی رحہمااللہ کہتے ہیں کہ فجر کی اذان توارث حرمین شریفین کی وجہ سے فجر سے پہلے بھی دی جاسکتی ہے ۔ اوردونوں کے خلاف دلیل حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ قول ہے جو آپ نے حضرت بلال رضی ا للہ عنہ سے فرمایا : اس وقت تک اذان نہ دو جب تک صبح یوں روشن نہ ہوجائے۔اورآپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو عرض میں پھیلادیا۔"حضرت امام اکمل الدین بابرقی فرماتے ہیں :"صاحب ہدایہ کا حجۃ علی الکل فرمانا امام شافعی ، قاضی ابو یوسف اوراہل حرمین سب کے لئے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث آخذاورماخوذ منھم سب پر حجت ہے ۔"تو جب اہل حرمین وہ بھی تابعین اورتبع تابعین جیسے عظیم بزرگوں کا یہ حال ہے ، پھر ان مدعیوں کے مذعومہ توارث کا کیا حال ہوگا جس میں آپ جیسوں سے پیوسۃ لوگ ہیں۔ ان کا فعل یا سکوت شریعت میں حجت کب ہے کہ اس کو شرع کے خلاف حجت قرار دیا جائے۔ بس اللہ تعالٰی ہی جسے چاہتاہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتاہے۔
(۱الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب الاذان المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۷۴ تا ۷۶) (۲العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر باب الاذان مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۲۲۱/۱)
نفحہ۱۳ : ظھر بھذا وللہ الحمد وھن تمسکہ بفعل مؤذن الحرمین اشریفین فمع ان ھذا الاذان فی مکۃ زادھا اللہ شرفا علی حاشیۃ المطاف وما کان مسجدالحرام علی عہد سید الانام علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام الاقدر المطاف کما فی المسلک المتقسط علی القاری وغیرہ فاذن محل الاذان الاٰن ھو محلہ القدیم وان احاط بہ المسجد بالزیادۃ کما ارساط بئر زمزم ۔ وفی المدینۃ المنورۃ صلی اللہ تعالٰی علی من نورھا وبارک وسلم علٰی دکۃ بازاء المنبر فامرقدمت وقدتم الامر لما قدمنا ان الدکاک ومئذنۃ خارجۃ عن المسجد بالمعنی الاول غیر ان الشان فی احداثھا کماتقدم فیکیف یحتج بہ، واللہ الھادی۔
نفحہ۱۳ : اس توضیح سے ان لوگوں کے استدلال کی کمزوری ظاہرہوگئی جو حرمیین شریفین کے مؤذنوں کے فعل سے استدالل کرتے ہیں کہ یہ اذان مکہ شریف مں مطاف کے حاشیہ پر ہوتی ہے ۔ اورحضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد کریم میں مسجد حرام موجودہ مطاف کے حدود میں ہی تھی ، جیسا کہ ملا علی قاری کی مسلک متقسط وغیرہ میں ہے ، تو اس تقدیر پر آج بھی حرم میں اذان وہیں ہو رہی ہے جہاں حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد میں ہوتی تھی۔ اب مسجد کی توسیع کی وجہ سے اگرچہ وہ جگہ مسجد کے احاطہ میں آگئی ہے ، جیسا کہ چاہ زمزم بھی فی الحال مسجد کے احاطہ میں ہی ہے ، اورمدینہ مورہ علی صاحبہا الصلٰوۃ واسلام میں چبوترے پر جو منبر کے ماقابل ہے۔ تو اگریہ چبوترے قدیمی ہوں تو بات مکمل ہوگئی کیونکہ ہم بتا چکے ہیں کہ چبوترہ اورمئذنہ مسجد بالمعنی الاول سے خارج ہے لیکن بات تو ان کے حادث ہونے کی ہے ۔تو ان سےاذان کے اندرون مسجد ہونے پر استدلال کیسے صحیح ہوگا۔ اللہ تعالٰی ہدایت دینے والا ہے ۔
اذعلمت ان امامنا رضی اللہ تعالٰی عنہ وجمیع ائمۃ الفتوی بعدہ لم یقبلوا توارث التابعین وتبعھم من اھل الحرمین الشریفین لمخالفۃ الحدیث فما ظنک بفعل مؤذن الزمان وھل یسوغ لحنفی ان یستبیح الجھر بکلام لسمتمع الخطبۃ ولو کان صلٰوۃ علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوترضیا للصحابۃ اودعاء للسلطان اعزاللہ نصرہ وخذل اعداءہ اولسیدناالشریف حفظہ اللہ تعالٰی۔الیس قد اجمع ائمتنا علٰی تحریم الکلام اذ ذاک ولو دینیا وفوق ذٰلک بکثیرامر التمطیط فی التکبیرقداقام علیہ النکیر المحقق فی فتح القدیرولم یستبعدفساد صلٰوۃ من یفعلہ ای وکذاصلٰوۃ من یصلی بتکبیرہ وتبعہ علیہ فی الحلیۃ والنھر والدرروغیرھا وجزم بفساد الصلاۃ بہ السیدالعلامۃ اسعد مفتی المدینۃ المنورۃ تلیمذ العلامۃ شیخی زادہ صاحب مجمع الانھر معاصر المدقق العلامۃ محمدالحصکفی صاحب الدرالمختاررحمھم العزیز الغفارقدحکی فی اوائل فتاواہ من ھذا مایفضی الی العجب فراجعہا ان شئت ۔
جب آپ جان چکے کہ ہمارے امام اعظم رضی ا للہ تعالٰی عنہ اور ان کے بعد تمام اہل فتوٰی نے تابعین اورتبع تابعین کا توارث قبول نہیں کیا کہ یہ حدیث شریف کے خلاف ہے ۔ توآج کل کے مؤذنوں کی کیا حقیقت ہے ، کیا کسی حنفی کو یہ اجزت ہے کہ خطبئہ جمعہ سننے والے کو بلند آواز سے بولنے کی اجازت دے ، اگرچہ یہ کلام حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درودشریف کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو یا صحابہ کے لئے رضی اللہ عنہم ہی کیوں نہ ہویا سلطان اسلام یا شریف مکہ کے لئے دعاء خیر ہی کیوں نہ ہو۔ کیا ہمارے ائمہ نے اس وقت دینی اوردنیاوی سبھی قسم کے کلاموں کی حرمت پر اجماع نہیں کیا؟اور اس سے زیادہ اہم معاملہ تکبیر کے ابلاغ ہی کے لئے مکبر کا بہت بلند آواز سے گٹکری بھر کر تکبیر بولنے کا ہے۔محقق علی الاطلاق امام ابن ہمام نے اس کی سخت تردید کی اورفرمایا "ایسا کرنے والے کی نماز فاسد ہونے کا ڈر ہے ۔"یونہی اس کی نماز جو ایسے مکبر کی آواز پر بناکرے اورصاحبان حلیہ ودرر ونہر اوراس کے علاوہ علماء نے بھی اس کی ممانعت فرمائی اوراس کی نماز فاسد ہونے کا فتوٰی سید عالمہ مفتی اسعد مفتی مدینہ منورہ نے دیا جو شیخی زادہ صاحب مجمع الانھرکے شاگرد ہیں۔ اورصاحب درمختار کے ہمعصر ہیں۔اللہ تعالٰی ان سب پر اپنی رحمت کی بارش برسائے،انہوں نے اپنے فتاوٰی کے شروع میں اس سلسلہ کی ایک عجیب بات نقل کی جسے دیکھا جاسکتاہے۔
وبالجملۃ دلائل الشرع محصورۃ ولا حجۃ فی فعل کل احد لاسیما من لیس بعالم ولا تحت العلماء ولکن العجب کل العجب من ھٰؤلاء الوھابیۃ الملاحدۃ الزنادقۃ السابۃ للہ ولرسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، کیف یحتجون بفعل المؤذنین ویرمون حضرات سادتنا علماء الحرمین الشریفین نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتھم، فی کتبھم وخطبھم بشنائع فظیعۃ قدبرأھم اللہ تعالٰی عنہا۔والوھابیۃ قوم یکذبون ثم لایقتدون بعلماء الحرمین فی عقائدھم الحقۃ فضلاً عن اعمالھم الحسنۃ کمجلس المیلاد الشریف والقیام فیہ لتعظیم من عظم اللہ تعالٰی شانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شریعت کی دلیلیں حدود ومشہورہیں ، اوران کے باہر کسی کے عمل سے استدلال نہیں ہوسکتابالخصوص جبکہ وہ عالم بھی نہ ہو، نہ علماء کا زیر فرمان ہو۔لیکن ان وہابیہ زنا دقہ پر سخت تعجب ہے کہ کس طرح مؤذن کے فعل سے استدلا ل کرتے ہیں اورحرمین شریفین کے حضرات سادات علمائے کرام کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ ذلیل قوم علمائے حرمین شریفین پر غلط اتہام رکھتی ہے اوران کے حق فتووں کی اقتداء نہیں کرتی، تو ان کے اعمال حسنہ مثل میلاد وقیام کی کیا پیروی کریں گی!ان پر قول فیصل یہ ہے کہ انہیں سادات حرمین کا فتوٰی حسام الحرمین دکھاکر کہا جائے یہ علمائے حرمین کا فتوٰی نہیں ہے؟تو اگر وہ اس کو رد کرتے ہیں تو مؤذنین حرمین کے فعل سے ہم پر الزام کرنے کا کیا حق ہے؟اوراقرار کر کے ان وہابیہ کی تکفیر کرتے ہیں تو ان سے کہا جائے کہ مسئلہ اذان میں آپ ان کافروں کی کیوں اتباع کرتے ہیں آپ کو تو انکار کنے کا حق ہے ۔(ہم اللہ تعالٰی سے عفووعافیت کے طالب ہیں،اوراس کے علاوہ نہ کوئی قوت والا ہے،نہ طاقت والاوہی علی وہی عظیم ہے جل جلالہٗ وعم نوالہٗ)
نفحہ۱۴ : قدمنا من الخطبۃ ثم فی الاجمال فی بحث الوارث الباطل المظنون(وانہ کیف یسری الی الظنون) مایکفی ویشفی وبینا الحق ورفعنا للوم عن اساتذتکم واشیاخکم بل وعنکم ایضاًیامخالفین ان رجعتم الی الحق بعد ماظھر ولم تنکروا الصبح حین زھر فراجعہ فانہ مھم ومن لم یرجع فھو جبل واقع بھم،ومن الدلیل علی ماذکرت ان العالم الدلیل علی امذکرت ان العالم ینکرفلا یسمع ماقدمت الاٰن عن ردالمحتار من تعطل نفاذ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر منذ از منۃ۱ ،وعلٰی ماذکرت ان العالم یسکت حینئذ قول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا رأیت الناس قد مرجت عھود ھم وخفت امانٰتھم وکانواھٰکذا وشبک بین اناملہ فالزم بیتک واملک علیک لسانک وخذ ماتعرف ودع ماتنکروعلیک بخاصۃ امر نفسک ودع عنک امر العامۃ۔"رواہ الحاکم۱عن عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہماوصححہ واقرہ الترمذی۔
نفحہ۱۴ : توارث باطل ومظنون کے بارے میں خطبہ میں اورتوارث کی اجمالی بحث میں ہم نے جو کچھ ذکرکیا وہ کافی اورشافی ہے ۔ ہم نے حق واضح کیا اورمدعیان توارث کے استاذوں ان کے شیوخ اورخود ان سے بھی"سکوت عن الحق"کا الزام زائل کیا۔ کاش کہ یہ لوگ حق ظاہر ہونے کے بعد اس کی طرف رجوع کرتے اورصبح چمکنے کے بعد اس کا انکار نہ کرتے، حالانکہ وہ ان کے لئے اہم اورایسا پتھر ہے جو بے توجہی سے انہیں کے اوپر آپڑے گا۔ ہمارے اس دعوٰی پرکہ"عالم انکار کرتاہے مگر عوام اس کی پرواہ نہیں کرتے "دلیل صاحب ردالمحتار کامذکورہ بالا قول ہے کہ"امر بالمعروف اورنہی عن المنکرمدتوں سے معطل ہوچکا ہے ۔"اوراس امر کی دلیل کہ"بسااوقات عالم منکر دیکھ کر اخاموش رہتاہے"حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ قول ہے : "جب تم لوگوں کو اس حال میں دیکھو کہ ان کے عہودایک دوسرے سے گتھہ کئے ہیں اورامانتوں کو ہلکا سمجھنے لگے ہیں ،اوروہ جال کی طرح بن گئے ہیں (حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل فرماکر جال کی صورت بنائی) تو تم اپنے گھر کو لازم پکڑو،اوراپنی زبان کو قابومیں رکھو، خود اپنے نفس کی نگہداشت لازم جانو، اورعوام کا معاملہ ان پر چھوڑدو۔"اسے حاکم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اوراسے ترمذی نے برقرار رکھا۔
(۱ردالمحتارکتاب الصلٰوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶۰۲/۱) (۱المستدرک للحاکم کتاب الادب دارالفکر بیروت ۴ /۲۸۲و ۲۸۳)