| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
وکذا زعمہ بعد التنزل حدوثہ من زمن ھشا م بن عبد الملک وھذا انما قا لہ بعض الما لکیۃ فی التاذین بین ید ی الا ما م لقولھم انہ محد ث و انما کا ن ھذا الا ذا ن علی عہد رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم وخلفا ئہ الر ا شد ین رضی اللہ تعا لی عنھم علی المنا ر ایضا کما تقد م وقد ردہ محققوھم و بینوا ان ھشا م لم یتغیر ھذا الا ذان شیئا انما غیرا لا ذا ن الاول الذی احدثہ عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہ کا ن یفعل با لزوراء فنقلہ ھشا م الی المسجد علی المنا ر ۃ ۔
(یونہی تھانوی صاحب کا یہ کہناکہ"ہم اپنے منصب سے اتر کر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ لصیق المنبراذان ہشام ابن عبدالملک نے ایجاد کیا"زعم فاسد اوروہم کا سد ہے ۔ حقیقت امر یہ ہے کہ حجرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بعض متبعین اذان بین یدی الخطیب کو حادث ومرکوہ قرار دیتے ہیں ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ حضور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں یہ اذان بھی منارہ پر ہوتی تھی، ہشام ابن عبدالملک نے اپنے زمانہ میں اس اذان کو جسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مقام زوراء پر دلانا جاری کیا تھا منارہ پر دلانا شروع کیا اوراس دوسری اذان کو منارہ کےبجائے خطیب کے سامنے کردیا۔ مگر محققین مالکیہ نے اپنے ہی ہم مذہب علماء کے اس خیال کو رد کردیا کہ ہشام نے دوسری اذان میں کوئی ترمیم نہیں کی ، وہ عہد رسالت اورعہد شیخین بلکہ عہد عثمان ومابعد کے موافق برابر خطیب کے سامنے ہوتی رہی، ہشام نے تو صرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اضافہ کردہ اذان کو مقام زوراء سے منتقل کر کے منارہ مسجد نبوی پر کرانا شروع کیا۔ )
قال العلامۃ الزرقانی المالکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فی شرح المواھب (عبارۃ ابن الحاجب من المالکیۃ یحرم الاشتغال عن السعی عند اذان الخطبۃ وھو معہود) فی زمانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،(فلماکان عثمان وکثروا امر بالاذان قبلہ علی الزوراء اھ ثم نقلہ ھشام الی المسجد وجعل الاٰخربین یدیہ بعمنی انہ ابقاہ بالمکان الذی یفعل فیہ فلم یغیرہ بخلاف ماکان یفعل بالزوراء فحولہ الی المسجدعلی المنار۱ اھ باختصار۔
چناچنہ امام زرقانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مواہب لدنیہ مٰن ابن حاجب مالکی کی مندرجہ ذیل عبارت کی شرح مٰن فرمایا:"خطبہ کی اذان شروع ہونے پر نماز جمعہ کے لئے سعی حرام ہے"(یعنی اذان خطبہ شروع ہونے سے قبل ہی مسجد میں پہنچ جانا چاہیے ) زمانہ رسالت میں یہی معہود ومعروف تھا، حضرت عثمان غنی رضی ا للہ تعالٰی عنہ کا زمانہ آیا اورنمازیوں کی تعدادزیادہ ہوگئ توحضرت ذوالنورین نے خطیب کےمنبر پر بیٹھنے سے قبل بھی مقام زوراء پر ایک اذان پکارنے کا حکم دیا(پھرہشام نے اس اذان کو مسجد کی طرف منتقل کیا اوردوسری اذان کو سامنے لایا) مطلب یہ ہے کہ دوسری اذان وہیں دلائی جہاں عہد رسالت میں ہوتی تھی،اس میں کچھ تغیرنہیں کیا،البتہ حضرت عثمان غنی نے جو اذان مقام زوراء پر دلوانی شروع کی تھی اس کو مسجد کی طرف منتقل کیا یعنی اسے منارہ پر دلوانے لگا،اھ بالاختصار۔
(۱شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصدالتاسع الباب الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۳۷۹)
ولئن فرضنا ان ھشامًاھوالذی غیر السنۃ فمن ھشام وما ھشام حتی یعتبر بتغییرہ ویوخذ بفعلہ وتترک سنۃ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفاءہ الراشدین لاجلہ لایرضی بہٖ احدمن اھ الدین۔ ونسبۃ الوھابی ایاہ الی ائمۃ الھدٰی مالک وابی حنیفۃ وغیرھما رضی اللہ تعالٰی عنہم،انھم اتبعوا ھشاماً فیہ وترکوا السنۃ الجلہ افتراء منہ علیھم وسبۃ غلیظۃ فی حقھم ھاشاھم عن ذٰلک ، ولکن اذ قدّالخبیث اذ قدسب محمداوسب رب محمد جل وعلاوصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وطبعہ واشاعہ فمن بقی نعوذباللہ من حال کل مرتد وشقی ولا ھول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
اوراگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ہشام نے منبر کے سامنے والی اذان میں بھی تصرف کیااوراسے منبر کے متصل دلانے لگا اورسنت رسول کو بدل دیا، تو یہ ہشام کون ہے اورکیا ہے کہ اسکے بدلنے کا لحاظ کیاجائے اوراس کی اتباع کی جائے،اوراس کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورخلفائے راشدین کی سنت چھوڑدی جائے۔بھلا دینداروںمیں سے کون اس پر راضی ہوگا!اوراس وہابی نے جو یہ کہا کہ ائمہ ہدٰی مثل امام مالک وابوحنیفہ وغیرہ رضی اللہ عنہم نے ہشام کی اتباع کی اوراسی وجہ سے حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت چھوڑدی۔ یہ ان ائمہ ہدٰی پر اس کی افتراء پردازی ہے ، اوران کی طرف ایک غلیظ برائی کی نسبت ہے ، ان کا دامن اسی آلودگی سے پاک ہے ، لیکن اس خبیث نے جب گلہ گویوں کو دوٹکڑے کردیا اوراللہ ورسول(جل وعلاوصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمٌ)کو گالی دیاوراسے چھاپ کر شائع کیا، تو اب کون رہ گیا،ہم مرتدکے حال سے اللہ تعالٰی کی پناہ مانگتے ہیں،لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
نفحہ۱۱: واذقدطولبوامرارًا انکم تدعون التوارث عن المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فہل نص علیہ احد، او عندکم علیہ من دلیل، ام انتم شاھد تم زمنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،ام کل ماترونہ فی زمنکم فھو مستمر من زمنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جاءھم(عہ)اضطرارالغریق الی التشبت بکل حشیش فتمسکوا بمنقول ومعقول،اما المنقول فقول الھدایۃ والھندیۃ: اذن المؤذنون بین یدی المنبر وبذٰلک جری التوارث۱۔" وھذاکما تری نزغۃ من جھھم بمنعی بین یدیہ کما عرفت مفصلاً۔ فقول الھدایۃ حق وھدایۃ، وفھمھم منہ ان الا ذان داخل المسجد متوارث من زمنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جھل وغوایۃ۔ واما المعقول فھو انہ لم یکذر فی شیئ من التواریخ ان ھذا الاذان سری الیہ التغیربعد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فعلم انہ کما یفعل الاٰن کان ھٰکذا یفعل علٰی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،وھذا قول من لیس لہ من العلم الا الاسم۔ فلا التواریخ التزمت ذکر جمیع الحوادث الجزئیۃ المتعلقۃ بالمسائل الشرعیۃ، ولا کل کتب التواریخ وجد المدعی، ولا کل ماوجد طالعہ برمتہٖ،ولا عدم الوجدان عدم الوجود،ولا عدم الذکر ذکر العدم۔ ولو تنزلنا عن کل ھذافاذقد ثبت بالحدیث الصحیح ان الذی کان علٰی عھدرسول اللہ صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم خلاف ماشاع فی ھٰؤلاء فالتغیر ثابت لامرد لہ افترددون الحدیث الصحیح، ام تکذبون العیان الصریح،بان التواریخ لم تتعر لبیان التغیر،ولکن الجھل اذا تملک لم یخش الفضوح والتغییر،ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
نفحہ۱۱: ان سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ تم لوگ اس اب میں زمانہ رسالت سے آج تک کے توارث کے مدعی ہوتو کیا کسی اورنے بھی اس توارث پر نص کیا ہے ، تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم لوگوں نے حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود رہ کر اس کا مشاہدہ کیاہے یا آج تم لوگ کررہے ہویا دیکھ رہے ہو، حضور کے زمانہ سے آج تک مسلسل جاری ہے تو ان کو ڈوبنے والے کی بیقراری گھیر لیتی ہے جو ہر تنکے پر سہارے کے لیے ہاتھ مارتاہے ۔ اوریہ لوگ ایک عقلی اورایک نقلی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ دلیل منقول میں ان لوگوں کا سہاراہدایہ اورہندیہ کا یہ قول ہے کہ "موذن نےمنبر کے سامنے اذان دی، اوراسی پر توارث ہوا۔"ان کی یہ دلیل اس جہالت کی پیداوار ہے کہ انہوں نے سامنے کے معنٰی متصل منبر قرار دے لیا جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے، تو ہدایہ کی بات توحق وہدایت ہے لیکن اس سے ان کا یہ سمجھنا کہ اذان کا منبر کے بالکل قریب ہونا متوارث ہے ، ان کی جہالت ہے ۔ اورعقلی دلیل ہے کہ تاریخ سے یہ ثابت نہیں کہ اذان بین یدی الخطیب میں حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی تغیر ہوا ۔ اورآج کل متصل منبر ہورہی ہے ،تو اس سے پتہ چلتاہے کہ عہد رسالت سے ایساہی ہوتاآیاہے۔اس دلیل سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ اس کے قائل کو علم سے کچھ مس ہی نہیں کیونکہ نہ تو تاریخ میں اس بات کا التزام ہے کہ مسائل جزئیہ شرعیہ سے متعلق ہر ہر جزئی کا اس میں بیان ہوگا۔ نہ مدعی نے اسلام کی ساری تاریخی کتابوں کو پایا، نہ سب کا حرفاً حرفاًمطالعہ کیا۔ظاہر ہے کسی چیز کا نہ پانا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ۔ یونہی کسی امر کا ذکر نہ ہونا اس بات کی تصریح نہیں کہ یہ ہوا ہی نہیں۔ اوراگر سب کچھ من وعن تسلیم کرلیا جائے ، تو یہاں توصحیح حدیث سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں جو ہورہا تھا آج اس کے خلاف کیاجارہا ہے ، تو تاریخ میں ذکر ہو نہ ہو۔ صحیح حدیث سے توثابت ہورہا ہے کہ سنت رسول میں تغیر ہوا، تو کیا آپ لوگ اہل تاریخ کی خموشی کا سہارا لے کر صحیح حدیث کو جھٹلائیں گے، اور عین صریح کا انکار کریں گے ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ جہل جس پر سوار ہوجاتاہے اسے رسوائی یا عار دلانے کی قطعاًپرواہ نہیں ہوتی۔
عہ : فی الاصل ھکذاولعلہ الجاء
(۱الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی۱۵۱ /۱ ) (الفتاوی الھندیۃ کتاب الصلٰوۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور۱۴۴/ ۱)