| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
''اذا تکلم احد بین النا س بذلک یعد و ن کلا مہ منکر ا من القو ل و زورا وھذہ بلیۃ قد یمۃ ۳؎اھ '' وفیہ وفی العقو د الد ر یۃ :''وھذا علم فی ورق ۔۴؎''
رد المحتا ر میں ہے :''لو گ آدمی کی حق با ت کو بھی نا حق سمجھتے ہیں یہ قدیم بر ا ئی ہے ۔اورا سی (رد المحتا ر میں ہے ) میں اور عقو د الد ر یہ میں ہے :''یہ ایک ور ق میں ہم نے علم عظیم ظا ہر کیا ۔''
(۳؎ رد المحتار کتا ب الا جا رۃ با ب ما یجو ز من الا جا ر ۃ دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر و ت ۵ /۲۰) (۴؎رد المحتار کتا ب الا جا رۃ با ب ما یجو ز من الا جا ر ۃ دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر و ت ۵ /۲۰) (العقو د الد ریہ کتا ب الا جا رۃ مسئلہ استبقا ء البناوالغراس ارگ با زا ر قند ھار افغا نستا ن ۲ /۱۲۵)
وھذہ لعمر ک حا ل النا س فی تھالکھم علی ھذا المحد ث و ھذہ ھی اعذار ھم فی ایقا عہ والقا ء السنۃ واللہ المستعا ن و لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العظیم ۔
واللہ اس اذان ممنوع ومحدث سے لوگوں کے ہلاکت میں پڑنے کا حال بھی ایسا ہی ہے ، اورسنت چھوڑ کر اس امر مکروہ میں پڑے رہنے کیلئے لوگوں نے ایسے ہی اعذار بار دہ تراش رکھے ہیں۔ و لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العظیم
نفحہ ۱۰:اذقدظہران لا تعا مل الی الآن فما ظنک بالتو ارث الذی بہ یلھجو ن واذا اخذوا با لحد یث والفقہ فھم یتلجلجون۔
نفحہ ۱۰: جب یہ ظا ہر ہو گیا کہ اذا ن متصل منبر کے تعا مل کی کو ئی اصل نہیں پھر تو ارث کے ثبو ت کی کو ن سی صو ر ت ہے کہ اس سے بھی یہ لو گ پنا ہ پکڑتے ہیں اور جب حد یث و فقہ ت ان امو ر پر موا خذہ کیا جا تا ہے تو کج مج بیا نی دکھا تے ہیں ۔
ویا سبحا ن اللہ انما التو ارث التعا مل فی جمیع القر و ن فا ذا لم یتحقق الی الا ن کیف یثبت من سالف الزما ن اذ قد ارشد الحدیث الصحیح ان الذ ی فی عہد الر سا لۃ و الخلا فۃ الر ا شد ۃ کا ن علی خلا ف ما یزعمو ن فا نی یصح التوارث و الی من یسند و ن و عمن یر ثو ن قا ل المحقق حیث اطلق فی فتح القد یر مسا لۃ الجھر فی الا ولیین والا خفا ء فی الا خر یین قو لہ ھذا ھو المتو ار ث یعنی انا اخذ نا عمن یلینا الصلو ۃ ھکذا فعلا و ھم عن یلیھم کذلک و ھکذ ا الی الصحا بۃ رضی اللہ تعالی عنہم وھم بالضرو ر ہ اخذ وہ عن صا حب الو حی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فلا یحتا ج الی ان ینقل فیہ نص معین۱؎، فھذا معنی التو ارث المحتج بہ شر عا مطلقا المستغنی عن ابد ا ء اسند خا ص وانی لھم بذلک و کیف یصح فیما قد علمنا وعن صا ح الو حی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم و عن خلفا ئہ الرا شد ین رضی اللہ تعا لی عنہم خلا فہ ۔
سبحا ن اللہ ! تو ارث تو تما م قر نو ں کے تعا مل کا نا م ہے اور جب آجکل کا تعا مل ثا بت نہ ہو سکا تو گز شتہ زمانو ں کا کیسے ثا بت ہو گا اور حدیث صحیح سے پتہ چلا کہ عہد رسا لت و زما نہ خلا فت را شد ہ میں عملدرآمد ان کے مزعومہ کے خلا ف تھا تو کہا ں سے تو ا رث ثا بت ہو گا کس سے اس کی نسبت ثا بت کر ینگے اور کس کا ورثہ اس کو قرا ر یں گے محقق علی الا طلا ق نے فتح القد یر میں فر ما یا :''رکعتین اولین میں قرا ء ت جہر ی اور اخر یین میں سر ی ہی متو ا ر ث ہے یعنی ہم نے اس کو اپنے با پ دادا اور بز ر گو ں سے لیا اور انہو ں نے اس کو اپنے بز رگو ں سے اخذ کیا ایسے ہی صحا بہ کر ا م رضی اللہ تعا لی عنھم تک ،اورانہو ں نے اس کو صا حب وحی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم سے سیکھا اس لیے اس کے وا سطے کسی نص معین کی ضرورت نہیں، یہی تو ارث کے وہ معنی ہیں جس سے شر عا دلیل پکڑ نا درست ہے اور جس کی سند ظا ہر کر نے کی ضرورت نہیں تو مسئلہ دائر ہ میں یہ لو گ کیسے تو ا رث ثا بت کر یں گے جبکہ ہم خو ب جا نتے ہیں کہ صا حب و حی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم اور خلفا ئے را شد ین سے اس کے خلا ف روا یت ہے ۔''
(۱؎فتح القد یر کتا ب الصلو ۃ با ب صفۃ الصلو ہ فی القرا ۃ مکتبہ نو ر یہ رضو یہ سکھر ۱ /۲۸۳)
اقو ل : وتحقیق المقا م ان الا حوا ل اربع :(۱)العلم بعد م الحد وث (۲) وعد م العلم با لحد وث (۳) والعلم بالحدوث تفصیلاً ای مع العلم بانہ حدث فی الوقت الفلان (۴) والعلم بہ اجما لا ان علمنا انہ حا دث ولا نعلم متی احد ث
اقو ل : (میں کہتا ہو ں )تحقیق مقا م یہ ہے کہ احو ا ل کی چا ر قسم ہے (۱)جس کا ٖحا دث نہ ہو نا معلو م ہو (۲)جس کے حدوث کا علم نہ ہو ۔(۳)حدوث کا علم تفصیلی ہو کہ کب کس نے ایجاد کیا (۴) حدوث کاعلم اجمالی ہو ، یعنی یہ تو معلو م ہو کہ نو ایجا د ہے لیکن یہ نہ معلو م ہو کہ کب اور کیسے ایجا د ہو ا ۔
ومن احد ث فالشیئ اذا کا ن نا شیا متعا ملا بہ فی عا مۃ المسلمین وعلمنا انہ ھو ا لذی کا ن علی عہد ہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فھو القسم الا ول وھو المتو ا رث الا علی واذ لم یعلم کیف کا ن الا مر علی عہد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولا علم حا ر ث بعد ہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فیحمل علی ان کلا قر ن اخذ ہ عن سا بقہ و یجعل متوار ثا تحکیماً للحا ل حملا علی الظا ھر والا صل اذ الا صل فی الا مو ر الشر عیۃ ھو الا خذ عن النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم والعمل بالسنۃ ھو الظا ھر من حا ل عامۃ المسلمین وھذا ھو القسم الثا نی ''وھذا ما یقا ل فیہ انہ لا یحتا ج الی سند خا ص اما اذا علم حد و ثہ فلا یمکن جعلہ متوارثا عن النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم سوا ء علمنا وقت حد و ثہ او لا ،لا ن عدم العلم بو قت الحد و ث لیس عد م العلم با لحد و ث فضلا عن العلم بعد م الحد وث فرب حا د ث نعلم قطعاً انہ حادث ولا نعلم متی حدث کا ھرام مصر بل والسما ء والا ر ض فی الحد وث المطلق ومعا لیق الحجر ۃ الشر یفۃ التی تعلق حو لھا من قنا دیل الذھب والفضۃ و نحو ھما فی الحد و ث المقید قا ل السید السمھو دی فی خلا صۃ الو فا ء : ولم اقف علی بتدا ء حد وثھا ۱؎الخ و حینئذ ینظر ھل یخا لف ھذا سنۃ ثابتۃ فی خصو ص الا مر ا ولا ۔ علی الثا نی یحا ل الا مر علی ھا ل الشیئ فی نفسہ فا ن کا ن حسنا داخلا د تحت قوا عدالحسن فحسن علی تفاوتہ من الاستحباب الی الوجوب حسب ما تقتضیہ القواعد الشر عیۃ ، وقد یطلق علیہ ''المتوارث ''اذتقا د م عہد ہ کذکر العمین الکر یمین فی الخطبۃ ، وھذا ا دنی اقسا مہ ولا اطلا ق لہ علی ما دونہ اللہم الا لغۃ ، کتوارث التقیۃ فی الرا فضۃ والکذب فی الو ھا بیۃ وان کا ن قبیحا داخلا تحت قوا عدالقبح فقبیح علی تفا وتہ من الکر اھۃ الی التحر یم او لا و لا فلا ولا بل مبا ح ۰۰۰۰۰(عہ) ۰۰۰۰ والخروج عن العا دۃ شھر ۃ و مکر و ہ کما نصو ا علیہ ۱۔
جو چیز عامۃ المسلمین میں عا م طو ر سے معمو ل بہ ہو اور اس کا عمل شا ئع و ذائع ہو اور اس کے با ر ے میں یہ بھی معلو م ہو کہ حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے عہد مبا رک میں بھی ایسا ہی ہو تا تھا یہ قسم اول ہے اور اسی کو متو ارث اعلی بھی کہتے ہیں اور جب نہ یہ معلو م ہو کہ حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے زما نہ میں اس کا کیا حا ل تھا نہ یہی پتہ چلے کہ اس کی ایجا د حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے بعد ہو ئی ہے تو یہ سمجھا جا ئے گا کہ یہ چیز شروع سے اسی طر ح ہو تی آ رہی ہے اور ہر بعد کے زما نہ و ا لے نے اپنے سے پہلے زما نہ وا لو ں سے اسے حا صل کیا ،تو ایسی چیز کو حا ل کی دلیل پر عمل اور اصل و ظا ہر کا لحا ظ کر تے ہو ئے متو ا رث حکمی کہا جا تا ہے کہ امو ر شر عیہ میں سنت پر عمل کر نا ہی اصل ہے اور مسلما نو ں کا ظا ہر حا ل بھی یہی ہے کہ سنت پر عمل کریں یہ متو ا ر ث کی قسم ثا نی ہے ، اس کے لیے کسی خا ص سند کی ضرورت نہیں اور جس چیز کے بار ے میں یہ معلو م ہو کہ یہ حضو ر صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے عہد مبا ر ک کی ایجا د ہے ۔ایسی چیز کے با رے میں متو ا رث ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اس کے حدوث کے وقت کا علم ہو یا نہ۔ کیو نکہ کسی چیز کے حد و ث کے وقت کا علم نہ ہو نے کے لیے یہ لا زم نہیں کہ ہم اس کے حد و ث سے ہی بے خبر ہو ں ،یا یہ جا نتے ہو ں کہ وہ حا د ث نہیں ہے۔ کتنی چیزو ں کے بار ے میں ہمیں با لیقین معلو م ہو تا ہے کہ یہ حا دث ہے لیکن اس کے حد و ث کے وقت کا پتہ نہیں ہو تا جیسے اہرام مصر بلکہ حد و ث مطلق میں آسما ن و زمین بھی اور حد و ث مقید میں جیسے وہ جھا ڑ فانوس اور قند یلیں جو حجر ۃ نبو ی شر یف کے آس پا س لٹکا ئی ہو ئی ہیں ۔حضرت علا مہ سمہو دی نے خلا صہ وفاء الوفا میں فر ما یا : " ہمیں ان کے ابتد ا ء حد و ث کا وقت نہیں معلو م تو ایسے نو پید ا امو ر جن کے حد وث کے وقت کا ہمیں علم نہ ہو حسب قوا عد شر عیہ ان کے با ر ے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ کسی سنت ثا بتہ کے مخا لف تو نہیں، مخا لف نہ ہو تو ا س کا معا ملہ استحبا ب سے وجو ب تک میں دائر ہو گا اور زما نہ کی قد ا مت کے اعتبا ر سے کبھی کبھی اس کو بھی "متو ا رث" کہہ دیا جا تا ہے جیسا کہ خطبہ جمعہ میں حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے دو نوں چچا ؤ ں کے ذکر کا روا ج کہ حا دث ہے پر یہ نہیں معلو م کہ کب سے را ئج ہے البتہ یہ کسی سنت ثا بتہ کے خلا ف نہیـں تو یہ تو ا ر ث کا سب سے ادنی در جہ ہے اس کے بعد کی ایجادکو متوارث بمعنی اصطلا ح شر ع نہیں کہا جا ئیگا ہا ں توارث لغو ی ہو سکتا ہے جیسے تقیہ شیعو ں میں متو ا رث ہے اور جھو ٹ وہا بیہ میں اباً عن جدٍ را ئج ہے اور اگر ایسی نو پید چیز ہو جو بعد عہد رسا لت ہو اور اسکے حد و ث کا وقت نہ معلو م ہو اور وہ خو د قبیح اور قواعد قبح کےتحت داخل ہو تو قبیح ہے اور اس کا دا ئر ہ بھی مکر و ہ سے لے کر تحریم تک پھیلا ہوا ہے۔ اور اگر یہی حا دث نہ سنت ثا بتہ کے خلا ف ہو نہ قو ا عد قبح کے دائر ے میں آتی ہو ،تو یہ صر ف مبا ح ہے ،نہ قبیح ہے ، نہ مستحب ،ہا ں جب شہر و علا قہ کی عا دت سے خا ر ج ہو تو مکر و ہ ہو گا۔
عہ : بیاض فی الاصل
(۱؎وفاء الوفاء الفصل الخامس والعشرون دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۸۴) (۱؎الحدیقۃ الندیۃ من آفات السحر فھو حرام مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۸۲ )
و ورد''خا لقوا النا س با خلا قھم و قا ل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''بشر وا ولا تنفروا ۲۔ وعلی الا ول یرد و لایقبل وا ن فشا ما فشا وقد اجا راللہ الا مۃ عن الا جتما ع علی مثلہ الا ان یکو ن شیئ تغیر فیہ الحکم بتغییر الزما ن کمنع النسا ء عن المسا جد وھذا فی الحقیقۃ لیس مخا لفا للسنۃ الثا بتۃ بل موا فق لھا وان وان خا لف الوا قع فی عھدہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلملان الواقع لشیئ کا ن وبان والحادث لشیئ لو کا ن فی زمنہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم لکا ن فھذا ھو التحقیق و معلو م ان مسئلتنا ھذہ من القسم الرا بع فی التقسیم الا ول ۔ والقسم الا ول فی التقسیم الثا نی ای نعلم انہ حادث ان لم نعلم متی حد ث ۔ و نعلم ان الوا قع علی عہد رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کا ن علی خلا ف ذلک ولیس شیئا یتغیر فیہ الحکم بتغیر الزما ن و مع ھذا تظا فر ت النصو ص عن ائمۃ الفقہ بنھی عام ھو داخل فیہ ،بل ارشد الائمۃ الی النہی عن خصو صہ و دلت الا دلۃ علی قبحہ و شنا عتہ کما تقد مہ کل ذلک فثبت انہ یستحیل جعلہ متوارثا بل ھو من المحد ثا ت المرود ۃ قطعا ، والحمد للہ ، وبہ استبا ن ان الجھل بمبدأہ لا یجعلہ قد یما للعلم بحدو ثہ بل الجہل بالمبدا ء یؤخر ہ جدا ، لا ن الحا دث انمایضا ف الی اقر ب الا وقا ت ، و زعم انہ حد ث من زمن سید نا عثمان رضی اللہ تعا لی عنہ فر یۃ بلا مر یۃ واحتجا ج التا نو ی الو ھا بی لہ با نہ لما قا ل فی الھد ا یۃ اذا صعد الا ما م المنبر جلس و اذن المؤ ذنو ن بین ید ی الا مام بذلک جر ی التو ا رث قا ل علیہ امام العینی فی البنا یۃ ای فی زمن عثما ن ولا یمکن ان یراد بقو لہ بین ید ی المنبر مجر د المحا ذا ت لثبو تھا من زمن الر سا لۃ فلا بد ان یر ادبہ کو نہ لد ی المنبر متصلا بہ لیصح جعلہ متو ارثا من زمن عثما ن لا قبلہ اھ ۔ وما زعم الوھا بی المفتر ی و ھذہ فر یۃ فو ق فر یۃ، ولقد صدق رسو ل صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم : "اذا لم تستحی فا صنع ما شئت"۳۔ فا ن عبا ر ۃ البنا یۃ ھکذا "م بذلک ش ای با لا ا ذا ن بین ید ی المنبر بعد الا ذا ن الا و ل علی المنا ر ۃ م بہ جر ی التو ارث ش من زمن عثما ن بن عفا ن الی یو منا ھذا" اھ ۱فا لا شا ر ۃ الی التا ذین بعد التا ذین ۔ لا الی التا ذین بین ید یہ ۔ ولکن الو ھا بیۃ قوم یفتر و ن ۔ولا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العظیم ۔
چنا نچہ علما ء(عہ) نے فر ما یا کہ لو گو ں ان کے اخلا ق کے موافق معا ملہ کر و اور حدیث شر یف میں ہے ''لوگو ں کو بشا رت دو نفر ت نہ دلا ؤ ''سنت ثا بتہ کی مخا لفت کر نے وا لی با ت بد عت مردود ہ ہو گی اور گو وہ لا کھ پھیل گئی ہو اسے قبو ل نہیں کیا جا ئےگا اور ایسے حا دث امر پر پو ر ی امت مسلمہ کا جما ع نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعا لی نے اس امت کو گمرا ہی پر مجتمع ہو نے سے محفو ظ رکھا ہے ایک استثنا ئی صور ت البتہ ہے کہ وہ با ت ہےتوعہد رسا لت کے بعد کی اور بظا ہر مخا لف سنت بھی ہے لیکن زمانہ کی تبد لی کی وجہ سے اس کا حکم شر عی بد ل گیا اور اس تبدیلی پر تما م مسلما نوں کا عملدرآمد جا ر ی و سا ر ی ہو گیا جیسے حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے عہدِ پُرنور میں عو رتیں مسجد میں جا تی تھیں لیکن بعد میں ان کو عام طو ر مسجد میں حا ضر ہو نے سے روک دیا گیا ہے ایسا نو زائید ہ امر حقیقت میں سنت ثا بتہ کے مخا لف نہیں ہو تا اگر چہ بظا ہر ایسا ہی نظر آتا ہے کہ اب جو با ت پید ا ہو گئی ہے اگر حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے زما نہ میں ایسا ہو تا تو آ پ بھی عو ر تو ں کو مسجد میں جا نے سے منع فر ما دیتے (کما قا لت ام المو منین صد یقہ رضی اللہ تعا لی عنھا ) ام المو منین حضرت عا ئشہ نے ایسا ہی فر ما یا ۔یہ تحقیق مقا م ہے ، اور یہ معلو م ہے کہ ہما را مسئلہ پہلی تقسیم کی چوتھی قسم سے ہے ،اور تقسیم ثانی کی پہلی قسم ہے یعنی اس کے با رے میں ہمیں حا دث ہو نا تو معلو م ہے لیکن یہ نہیں معلو م کہ اس کے حد و ث کا وقت کب ہے ، اور ہمیں یہ بھی معلو م ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے زما نہ میں اس کے خلا ف عملدرآمد رہا ہے ، اور ئی ان امو ر سے بھی نہیں جس کا حکم زما نے کے بد لنے سے بد لتا ہو ،اور اس کے ساتھ ہی ائمہ فقہا کی بے شما ر نصو ص نہی عا م کی صو ر ت میں مو جو د ہیں بلکہ خا ص اذا ن جمعہ کی مما نعت کی طر ف بھی رہنما ئی ہے ، اور متعد د دلیلیں اس کے قبح و شنا عت پر بھی دلا لت کر تی ہیں جیسا کہ سا ری تفصیل گز ر چکی، تو ثا بت ہوا کہ اس کو متو ا رث قرار دینا محا ل ہے اور یہ قطعا یقینا بد عا ت مردودہ میں سے ہے اس سے یہ امر بھی روشن ہو گیا یہ کسی امر کے احدا ث کا وقت معلو م نہ ہو نا اس کو قد یم نہیں بنا تا جبکہ اس کے حا دث ہو نے کا علم ہو ، بلکہ جس کے حد وث کی بتد ا ء نہ معلو م ہو، اس کے با رے میں یہ امر سمجھا جا ئے گا کہ یہ امر با لکل نو پید ہے کیو نکہ حا دث قر یب تر ین وقت کی طر ف منسو ب ہو تا ہے۔ اور یہ گما ن کر نا کہ ا کا حد وث تو زما نہ عثما ن غنی رضی اللہ تعا لی عنہ سے ہے بلا شبہہ ایک افتر ا ء ہے ۔اور وہا بی تھا نو ی کا ہد ا یہ کی اس عبا ر ت سے استد لا ل کہ "اما م منبر پر چڑھے اور بیٹھے تو مو ذن اس کے سا منے اذا ن دے کہ یہی متو ا رث ہے ''۔ اوراما م عینی اس کی شرح میں فر ماتے ہیں کہ ''یہ حضرت عثما ن رضی اللہ رتعا لی عنہ کے زما نہ سے ہے" غلط ہے۔ صا حب ہد ا یہ کے قو ل یہی متوا ر ث ہے کا مطلب یہ ہے کہ اما م کے سا منے اذا ن ہو نا کیو نکہ اما م عینی رحمۃ اللہ علیہ کے قو ل کی روشنی میں کہنا پڑے گا کہ یہ منبر کے سا منے وا لی ا ذا ن زما نہ عثما ن غنی رضی اللہ تعا لی عنہ کی ایجا د ہے ۔اور اسی وقت سے متو ا رث ہے ،حا لا نکہ اس اذا ن کا تو عہد رسا لت سے ہو نا منقو ل ، متوارث ہے ۔اصل میں ان و ہا بی صا حب کا یہ زعم با طل ، ہد ا یہ او عینی کی عبارت میں نا جا ئز دست درازی کا نتیجہ ہے ۔حضور صلی اللہ تعا لٰی علیہ وسلم فر ما تے ہیں : ''بے شر م ہو گئے ہو تو جو چا ہو کرو '' پور ی عبارت یوں ہے :''یعنی حضر ت عثما ن غنی رضی اللہ تعا لی عنہ کے زما نہ سے یہی جا ر ی و سا ری ہو گیا کہ منا ر ہ پر پہلی اذا ن ہو اور اس کے بعد منبر کے سامنے وا لی اذا ن ہوا کر تی ہے ''حضرت ما م عینی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اپنی عبا ر ت میں ذالک کا مشا ء الیہ پہلی اذا ن کے بعد دوسر ی اذا ن ہو نے کو قرا ر دیا ہے نہ کہ دوسر ی اذا ن کے منبر کے سا منے ہو نے کو ۔ اور اسی کو حضرت عثما ن کے عہد سے آج تک جا ر ی رہنے کو بتا یا۔ اور تھا نو ی صا حب نے اس کو منبر کے سامنے سے جو ڑ دیا۔ اورکیوں نہ ہو تا یہ وہا بی قو م بڑی افتر ا پر داز ہو تی ہے۔ لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العظیم۔
عہ : حدیث میں وارد ہے کہ لوگوں سے ان کی عادتوں کے موافق برتاؤ کرو۔ اقامۃ القیامۃ ص ۲۰ رواہ مسندا وقال رواہ الحاکم وقال صحیح علٰی شرط الشیخین ۳ ۱۲ نظام الدین ۔
(۱؎اتحاف السادۃالمتقین کتاب آداب العزۃ الباب الثانی الفائدۃ الثانیہ دارالفکر بیروت ۶/ ۵۷۲ و ۳۵۴ ) (۲؎صحیح البخاری کتاب العلم باب ما کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یتخولھم بالموعظۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶ (۳؎اتحاف السادۃالمتقین بحوالہ حاکم کتاب السماع والوجد دارالفکر بیروت ۶/ ۵۷۲) (۱؎الھدایہ کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۵۱ ) (۲؎البنایۃ فی شرح الھدایہ کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ جلد ۱ جزءالثانی ص ۱۱۴) (۳؎امعجم الکبیر حدیث ۶۵۸ و ۶۶۱ المکتبۃ الفیصیلیۃ بیروت ۱۷/ ۲۳۷ و۲۳۸ )