Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
38 - 135
نفحہ ۹: وبہ ظہر بطلا ن زعمھم تعا مل جمیع المسلمین فی جمیع بلاد الا سلا م با یقا ع ھذا ا لا ذا ن داخل المسجد لصیق المنبر ألم تسمع السکندری ثم السفطی ''ان الا ذا ن الثا نی کا ن علی المنا ر فی ا لزمن القد یم علیہ اھل المغر ب الی الا ن ۱؎ونر ی فی معظم بلا دنا الجو ا مع السلطا نیۃ مبنیۃ فیھا دکک لھذا الا ذا ن بعید ۃ عن المنبر وعلیہا یفعل الی الا ن وقد قد منا انہ اذا ن خارج المسجد لکن العوا م لا یعلومو ن ظا ھرا من الحا ل و عن الحقیقۃ ھم غا فلو ن و اذلم یھتد وا لھا ظنو ہ اذا نا فی المسجد فعن ھذا نشأ وا فشا فیھم ھذا ثم قا سو ا علیہ اذا ن سا ئر الصلو ات اذلا فا ر ق ولا قا ئل با لفر ق فتری ھم فی کل صلو ۃ یقوم احدھم اینما شا ء من بیت اللہ فیر فع عقیر تہ بالا ذا ن و اذا قیل لہ اتق اللہ قابل با لعنا د  والطغیا ن فصا ر عمل السنہ عند ھم منسیا  و تصر یحا ت الفقہ شیئا فر یا احد ثوا تعا ملا فیما بینھم علی خلا ف الشریعۃ ثم جعلو ہ لا بطال حکم الشر ع ذریعۃ و الی اللہ المشتکی وھو االمستعا ن ۔''
نفحہ ۹: مذکو رہ با لا بیا ن سے یہ بھی ؓا ہر ہو گیا کہ ان لو گو ں کا یہ گما ن بھی با طل ہے کہ تما م اسلا می شہر و ں میں سارے مسلما نو ں کا تعا مل اسی پر ہے کہ یہ اذا ن مسجد کے اند ر منبر کے متصل ہو تی ہے (توتعا مل کی دلیل سے اذا ن ثا نی متصل منبر جا ئز ہو ئی)کیو نکہ سکند ر ی پھر سفطی کا بیا ن سن چکے کہ ما لکیہ اور اہل مغر ب کا تعا مل بیر و ن مسجد کا ہے خود ہند و ستا ن کےا اکثر شہر و ں میں شا ہی جا مع مسجد و ں میں منبر و ں سے دور چبو تر ے بنے ہو تے ہیں جن پر آج تک اذا ن ہو تی ہے پہلے ہم یہ بتا آئے ہیں کہ یہ اذا ن بھی دراصل بیر ون مسجد ہے لیکن عو ا م لا علمی کی وجہ سے حقیقت سے غا فل اور ظا ہر سے دھو کے میں پڑے ہیں اور اس کو اذا ن اند رو ن مسجد سمجھتے ہیں اور یہی ان میں شا ئع و ذا ئع ہے اور پھر اسی لا علمی پر اپنے ایک فا سد قیا س کی بنیا د رکھتے ہیں کہ مسجد مسجد سب بر ابر ہیں ان میں با ہم نہ کو ئی فر ق ہے نہ کو ئی فرق کا قا ئل ۔ پس جب یہ اذا ن مسجد کے اند ر ہو تی تو پنجو قۃ نما زو ں میں بھی اذا ن مسجد کے اند ر ہو نے میں کیا حر ج ہے اور نما ز کے وقت دربار الہی کے جس حصہ میں بھی جی چا ہتا ہے کھڑے ہو کر چیخنے لگتے ہیں اور جب انہیں کو ئی تنبیہ کر تا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور مسجد میں آواز بلند نہ کر و تو عنا د و فسا د کر نے لگتے ہیں اور اب صور ت حا ل یہ ہو گئی ہے کہ سنت کا عمل مردہ ہو گیا ہے اور تصر یحا ت ائمہ جھوٹ قرار دی جا چکی ہیں اور خلا ف سنت عمل کو تعا مل قرار دے لیا ہے اور حکم شر ع کے ابطا ل کے لیے اسی کو دلیل بنا لیا ہے توا للہ تعا لی سے اس کے لیے فر یا د ہے اور اسی سے مد د کی طلب ہے ۔
 (۱؎حو اشی الجو اہر الزکیہ   شر ح المقد مۃ العشما و تہ للعلا مۃ یو سف السفطی الما لکی )
ولم یعلموا ا ن مثل ھذا التعا مل لا حجۃ فیہ والا لکا ن الکذب وا لغیبۃ والتمیمۃ اجدر بالجو ا ز فا نھا اکثر تعا ملا وافشی فی النا س شر قا و غر با بعد قر و ن الخیر قا ل صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم ثم یفشو ا لکذب ۱؎۔
اور یہ نکتہ وہ لو گ سمجھ ہی نہیں پا تے کہ ایسا تعا مل قطعا سند نہیں ور نہ جھو ٹ غیبت ،چغلی خور ی اس سے زیا دہ جو ا ز کے مستحق ہو نگے کہ ان کا تعا مل قر و ن مشہو د لہا با لخیر کے بعد مشر ق و مغر ب میں پھیل گیا ہے جیسا کہ حد یث شر یف میں ہے :''پھر جھوٹ پھیل جا ئےگا ،''
 (۱؎جامع التر مذی    ابو اب الفتن     با ب فی لزوم الجما عتہ امین کمپنی دہلی    ۲ /۳۹)
قا ل فی فتا وی الغیا ثیۃ او خر کتاب الا جا ر ۃ عن السید الا ما م الشہید رحمہ اللہ تعا لی انما ید ل علی الجوا ز ما یکو ن علی الا ستمرا ر من الصد ر الا و ل فا ذا لم یکن کذلک لا یکون فعلھم حجۃ الا اذا ن کا ن ذلک من النا س کا فۃ فی البلدان کلھا الا تر ی انھم لو تعا ملو ا علی بیع الخمر او علی الر با لا یفتی با لحل ۱؂اھ۔
صاحب فتا وی غیا ثیہ نے اواخر کتاب اجا ر ہ میں سید اما م شہید رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا :''وہی تعا مل جوا ز کی دلیل بنا ہے جو صدر او ل سے آج تک بر ا بر جا ری ہو اور ایسا نہ ہو تو کسی عہد کے لو گوں کا فعل حجت نہیں یا ان تمام شہر و ں قصبو ں قر یو ں کے سبھی انسا نو ں کا تعا مل ہو تا اور با ت ہے اور یہ با لک واضح امر ہے کہ ان اگر سب جگہ کے سب لگ شرا ب پینے لگیں سو دی کا و با ر میں مبتلا ہو ں تو بھی اس کے حلا ل ہو نے کا فتو ی نہیں دیا جائے گا۔''
 (۱؎فتا وی غیا ثیہ   کتاب الا جا را ت   نو ع فی النسا     مکتبہ اسلا میہ کو ئٹہ ص۱۶۰)
وفی جمعۃ رد المحتا ر ''التعا ر ف انما یصلح دلیلا علی الحل اذکا ن عا ما من عہد الصحا بۃ والمجتہد ین کما صر حو ا بہ ۲؎''
ردالمحتار کے با ب الجمعہ میں ہے تعا مل اس وقت جو ا ز کی دلیل بنتا ہے جبکہ عا م ہو ا ور عہد صحا بہ ومجتہد ین سے اس پر عملد ر آمد ہو ایسا ہی ائمہ نے تصر یح کی ہے ۔''
 (۲؎رد المحتار   کتا ب الصلو ۃ    با ب الجمعہ   دار حیا ء الترا ث العر بی بیر و ت ۱ /۵۵۱)
وفی جنا ئز ہ نقلا عن بعض المحققین من الشو ا فع با لتقر یر ما نصہ :''ھذا الا جما ع اکثر ی و ان سلم فمحل حجیتا عند صلا ح الا زمنۃ بحیث ینفذ فیھا الا مر با لمعر و ف والنہی عن المنکر وقد تعطل ذلک منذ ا ز منۃ ۳؂۔''
اسی کتا ب کے با ب الجنا ئز میں بعض محققین شو ا فع سے منقو ل ہے یہ اجما ع اکثر ی ہے اگر اس کو تسلیم بھی کرلیاجا ئے تو اس کے دلیل جو ا ز ہو نے کا تب اعتبار ہو گا کہ یہ امت کے صلا ح کے وقت کا ہو جب امر با لمعر و ف اور نہی عن المنکر نا فذ ہو اور یہ تو زما نہ دراز سے معطل ہے ۔
 (۳؎رد المحتار کتا ب الصلو ۃ  با ب صلو ۃ الجنا ئز    دار حیا ء الترا ث العر بی بیر و ت    ۱ /۶۰۲)
وفی المکتو ب الرا بع والخمسین من الجلد الثا نی من المکتو با ت الشیخ احمد العمر ی السر ھند ی الشہیر بمجد د  الف ثانی ما تر جمتہ :''غمر ت الد نیا فی بحر البد عا ت و اطمأ نت بظلما ت المحد ثا ت من یشتطیع دعو ی رفع البد عۃ التکلم باحیا ء السنۃ اکثرعلما ء الز من حما ۃ البد ع و محا ۃ السنن یحسبو ن شیو ع البد ع تعا ملا فیفتون بجوازھا بل استحسانھا ویدلون الناس علی اتیانھا یظنون ان الضلال اذا شاع والباطل اذا تعورف صار تعاملا ولا ید رو ن ان مثل ھذا التعامل بشیئ لیس دلیلا علی حسنہ انما العبر ہ بتعا مل جا ء من الصد ر الا و ل او حصل اجما ع جمیع النا س علیہ ثم احتج بعبا ر ۃ الغیا ثیۃ المذکو ر ۃ ثم قا ل ولا شک ان العلم بتعا مل النا س کا فۃ و عمل جمیع القر ی وا لبلدا ن خا ر ج عن وسع البشر ۱؎اھ'' ۔
مجد د الف ثا نی شیخ احمد العمر ی سر ہند ی کے مکتو با ت کی جلد ثا نی مکتوب نمبر۵۴میں ہے : دنیا بد عا ت کے سمند ر میں غو طہ لگا چکی ہے اور محد ثا ت کی تا ریکیو ں میں مطمئن ہے رفع بد عت اور تکلم باحیا ء سنت کا دعوی کو ن کر سکتا ہے اس زما نہ کے اکثر علما ء تو بد عا ت کے حا می اور سنت کے مٹا نے وا لے ہیں اوربد عا ت کے شیو ع اور کثرت کو تعا مل قرار دیتے ہین اور اس کے جوا ز بلکہ استحسا ن کا فتو ی صاد ر کر تے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بد عت پھیل جا ئے اور گمر ا ہی عا م ہو جا ئے تو تعا مل بن جا تا ہے یہ لو گ یہ نہیں سمجھتے کہ کسی چیز کا ایسا تعا مل اس کے حسن ہو نے کی دلیل نہیں جز ایں نیست کہ وہ تعا مل معتبر ہے جو صدر اول سے معمو ل بہا ہو یا اس پر تمام لو گو ں کا اجما ع ثا بت ہو (پھر غیا ثیہ کی مذکو ر ہ با لا عبا ر ت سے استدلا ل کر کے فر ما یا ) تما م لو گو ں کا تعا مل اور تما م شہر و ں اور دیہا تو ں کا عمل معلو م ہو نا آدمی کی وسعت و طا قت سے با ہر ہے اھ ''
 (۱؎مکتو با ت اما م ربا نی   مکتو ب پنجا ہ و چہار م    نو لکشو ر لکھنو    ۲ /۱۰۳)
واکثر المخا لفین لنافی المسئلۃ الدا ئر ۃ انما یفتخر و ن با نھم من غلما ن ھذا الشیخ و قد قری علیہم قو لہ ھذامرارا فلایسمعو ن ولا ینتہو ن عن ادعا ء التعا مل و لا یر عو و ن انما اتخذوا شیخھم ھواھم ، فھم بفتو ی الھو ی یعلمو ن نسأ ل اللہ العفو و العا فیۃ ۔
مسئلہ اذا ن میں ہما رے مخا لفین میں سے بہتو ں کو اس پر فخر ہے کہ وہ شیخ مجدد کے غلا مو ں میں سے ہیں ہم نے بار ہا شیخ مجدد کی یہ عبارت پڑھ کر انہیں سنا ئی بھی (کہ اب سے وہ اپنے تعا مل مقبو ل کے دعوے سے با ز آئیں) مگر وہ تعا مل کے دعو ی سے با زنہیں آئے دراصل (حضرت مجد د)کے بجا ئے انہو ں اپنے نفس کی خوا ہش کو اپنا شیخ بنا لیا ہے اوراسی کے فتو ے پر عمل کر تے ہیں ہم اللہ تعا لی سے عفو و عا فیت طلب کر تے ہیں ۔
قا ل العلا مۃ الشا می فی رد المحتار من الا جا ر ات وفی رسا لتہ ''تحریر العبا ر ۃ ''وفی کتا بہ ''العقو د الدریۃ ''کلھا عن العلا مۃ قنا لی زادہ (عہ) ''ان المسئلۃ النبا ء و الغر س علی ارض الو قف کثیرۃ الو قو ع فی البلدان و اذا طلب المتولی  او القا ضی رفع اجا ر تھا الی اجر المثل یتظلم المستا جر و ن و یزعمو ن انہ ظلم وھم ظا لمو ن و بعض الصد ور والاکابر یعاونونھم ویزعمو ن ان ھذا تحر یک فتنۃ علی النا س و ان الصوا ب ابقا ء الا مو رعلی ماھی علیہ و ان شرالامور محد ثا تھا ولا یعلمو ن ان الشر فی اغضا العین عن الشر ع وا ان احیا ء النسۃ عند فسا د الا مۃ من افضل الجہا د واجزل القر ب ۱؎اھ،
علا مہ شا می نے رد المحتار ،کتا ب الا جا ر ہ رسا لہ تحر ی العبار ۃ ،عقو الد ریہ سب میں علا مہ قنا لی زادہ سے نقل کیا کہ وقف کی زمین پر مکا ن بنا نے اور در خت لگا نے کا معا ملہ وقف کے اجیر و ں میں کثیر الوقو ع ہے جب متو لی اور قاضی سے ایسے اجا رو ں کے ختم کر نے کی درخوا ست کی جا تی ہے اور اجر ت مثل پر ان زمینو ں کے کر ا یہ پر اٹھا نے کی با ت کہی جا تی ہے تو ان زمینو ں کے قد یم کر ا یہ دار اس کی فر یا د کر تے ہیں اور اس کو ظلم قرار دیتے ہیں حا لا نکہ وہ خو د ہی ظا لم ہیں اور بعض صدر واکا بر ا ن کی مد کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو لو گو ں کو فتنہ میں ڈا لنا ہے اس لیے جیسا اب تک ہو تا آیا تھا ویسا ہی عملدر آمد ہو تے رہنا چا ہیے کہ ہر بات سے بر ی نئی با ت پید ا کر نا ہے اور وہ یہ نہیں جا نتے کہ بر ا ئی کے وقت شر ع سے چشم پو شی خود بری ہے اور امت میں فساد وا قع ہو نے کے وقت سنت کا زند ہ کر نا جہا د سے بھی افضل ہے اور بز ر گ تر ین عبا د ت ہے ۔
عہ : ھکذا فی رد المحتار طبع فی قسطنطنیۃ وفی تحر یر العبا ر ۃ قنلی زا دہ بغیر الا لف و فی العقو د الدر ۃ منلی زا دہ بالمیم ۱۲منہ
عـہ : یہ لفظ رد المحتا ر مطبو عہ قسطنطنیہ میں ہے اور تحر یر العبا ر ۃ ''میں قنلی زا دہ بغیر الف کے ہے اور عقودالدریہ میں منلی زا دہ میم کے سا تھ ہے ۱۲منہ (ت)
 (۱؎ردالمحتا ر کتاب الا جا ر ۃ با ب ما یجو ز من الا جا ر ۃ دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر وت ۵ /۲۰)

(تحر یر العبا د ۃ فیمن ھو اولی با لا جا ر ۃ   رسا لہ من رسا ئل ابن عا بد ین سہیل اکیڈمی لا ہو ر ۲ /۱۵۷)
وفی تحر یر العبار ۃ فعلم بھذا ان ھذہ علۃ قد یمۃ ولا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العظیم ۲؎اھ ۔
تحر یر العبارۃ میں علا مہ شا می علیہ الر حمۃ تحر یر فر ما تے ہیں :''اس سے معلو م ہوا کہ یہ پرا نی بیمار ی ہے (کہ شر پھیل جا ئے تو لو گ چشم پو شی اختیا ر کر تے ہیں )لا حو ل ولاقو ہ الا با للہ العلی العظیم ۔''
 (۲؎تحر یر العبا ر ۃ فیمن ھو اولی با لا جا ر ۃ   رسا لہ من رسا ئل ابن عا بد ین سہیل اکیڈمی لا ہو ر ۲ /۱۵۷)
Flag Counter