| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
وخامساً : فی معا نہ انو ا ع الا حتما ل والنصا ن صر یحا ن والمحتمل لا یعا ر ض الصر یح و اذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستد لا ل ۔
وخا مساً :اذا ن علی المنبر کے معنی میں مختلف قسم کے احتما ل ہیں اور مما نعت اذا ن فی المسجد کی عبار ت نص صر یح ہے اور یہ بات با لکل واضح ہے کہ محتمل صر یح کا مقا بل نہیں ہو سکتا اور کلا م محتمل سے استد لا ل با طل ہے ۔
وسادساً:مع قطع النظر عن کل ما مر غا یتہ تعا ر ض حا ظر و مبیح فیتر جح الحظر بل الا مر اذا تر دد بین السنۃ والکر ا ھۃ کان سبیلہ التر ک کم نص علیہ فی رد المحتا ر۱؎ والبحر وغیر ھما لا ن در ء المفا سد اھم من جلب المصا لح ۲؎ وفی معرا ج الدرا یۃ للا ما م القو ا م الکا کی ثم منحۃ الخا لق غض البصر مکر و ہ والجما عۃ سنۃ فتر ک السنۃ اولی من ارتکا ب المکر وہ۳؎اھ، فعلی کل حا ل ما النصر الا لنا ولا الدا ائر ۃ الا علیہم وللہ الحمد فھذا عشر ۃ أجوبۃعن ''عند''و عشرۃ عن "علی" وللہ الحمد العلی الا علی ۔
سادساً: جو پہلے گزرا اس تما م سے قطع نظر کر تے ہو ئے اس کی غا یت حظر و ابا حت کی دلیل میں تعا ر ض ہے تو ترجیح حظر کو ہو گی بلکہ امر جب سنت و کرا ہت میں دائر ہو تو اس کا را ستہ تر ک سنت ہے جیسا کہ ردالمحتا ر اور بحر وغیر ہ میں اس پر نص کی گئی ہے کیو نکہ مفا سد سے بچنا منا فع کے حصو ل سے زیا دہ اہمیت رکھتا ہے، معراج الد ارا یہ اور متحتہ الخا لق میں ہے غضن بصر مکر وہ اور جما عت سنت ہے چنا نچہ تر ک سنت او لی ہے ارتکاب مکر و ہ سے بہر حا ل نصر ت ہما رے لیے اور وبا ل ان پر ہے اور تما م تعر یفیں اللہ تعا لی کے لیے ہیں یہ ''عند ''سے متعلق دس جو ا ب ہیں اور علی سے متعلق بھی دس جو اب ہیں اور تما م تعر یفیں اللہ تعا لی بلند و اعلی کے لیے ہیں۔
(۱؎ردالمحتار با ب ما یفسد الصلو ۃ ۱ /۴۳۱ و البحر الر ئق با ب العید ین ۲ /۱۶۵) (۲؎الاشبا ہ والنظا ئر الفن الا ول القا عد ۃ الخا مسۃ ادارۃ القرا ن کر ا چی ۱ /۱۲۵) (۳؎منحۃ الخا لق حا شیۃ البحر الرا ئق با ب الا ما مۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ /۵۳۲)
وانت خبیر ان کل ما ذکر نا فی ھذہ النفحۃ الا خیر ۃ فا نما ھو علی غا یتہ التنزل وارخا ء العنا ن و جر ی علی سنن المناظرۃ والا حققنا کلا م الفقھا ء الکر ا م بمالا یبقی معہ للمنصف کلام ولا للمجا دل مجا ل جدا ل وا ما المکا بر فدا ءہ عضا ل نسا ل اللہ العفو و العا فیۃ ۔
اس نفحہ میں جتنی با تیں ہم نے ذکر کیں اپنے منصب سے اُتر کر اور لگا م ڈھیلی کر کے ،اور بطور منا ظر ہ ۔ور نہ ہم نے تو فقہا ئےکرا م کے کلا م کی گنجا ئش ہی نہیں بلکہ مجا دل بھی جد ل سے با ز آئے رہ گیا مکا برانہ کلا م تو ئی ایک گمر ہی ہے جس سے ہم خدا کی پنا ہ ما نگتے ہیں۔
نفحہ ۸: اعلم ان السنۃ عند السا دۃ الما لکیہ فی اذا ن الخطبۃ ایضا ان یکو ن علی المنا رۃ و صر حوا ا ن کو نہ بین ید ی الخطیب بد یۃ و مکر و ھۃ وقا ل الا ما م محمد العبد ر ی الفا سی الما لکی فی المد خل :''ان السنۃ فی اذا ن الجمعۃ اذا صعد الا ما علی المنبر ان یکو ن المؤذن علی المنا ر کذلک کا ن علی عھد النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم وا بی بکر وعمر وصدرا من خلا فۃ عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہ ،ثم زاد عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہ اذا نا اخر با لزوراء وابقی الا ذا ن الذی کا ن علی عہد رسو ل اللہ تعا لی علیہ وسلم علی المنا ر و الخطیب علی االمنبر اذذاک ، ثم لما تو لی ھشا م بن عبد الملک اخذ الا ذا ن الذی فعلہ عثما ن رضی الہ تعا لی عنہ با لزوارء وجعلہ علی النا ر ثم نقل الا ذا ن الذی کا ن علی المنا ر حین صعود الا مام علی المنبر علی عہد النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم و ابی بکر و عمر وصدرا من خلافۃ عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہم بین ید یہ قا ل علما ؤنا رحمھم اللہ تعا لی علیہم و سنۃ النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم اولی ان تتبطع ۱؎،اھ '' (با ختصار)۔
نفحہ ۸: ائمہ ما لکیہ رضی اللہ تعا لی عنھم کے نزدیک اذا ن خطبہ میں بھی سنت یہی ہے کہ منا ر ہ پر ہو خطیب کے سا منے یہ اذا ن بد عت مکر و ہہ ہے اما م محمد عبد ری فا سی ما لکی مد خل میں فرما تے ہیں اما م کے منبر پر چڑھنے کے وقت کی اذا ن میں سنت یہ ہے کہ مو ذن اس وقت منارہ پر ہو ایسا سید عا لم صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم اور زما نہ ابو بکر وعمر عثما ن غنی رضی اللہ تعا لی عنھم کے ابتدائے خلافت تک رہا ، اس کے بعد حضرت ذوالنورین عثما ن غنی رضی اللہ تعا لی عنہ نے ایک اور اذا ن زیادہ فر ما ئی جو مقا م زوراء پر دی جا تی اور عہد رسا لت وا لی اذا ن کو جہا ں کا تہا ں با قی رکھا (یعنی جب خطیب مبنر پر چڑھتا اس وقت اذا ن منا ر ہ پر دی جا تی ) ہشا م ابن عبد الملک بادشا ہ ہو ا تو اس نے اذا ن اول کو مقا م زوارء سے منا ر ہ کی طر ف منتقل کیا اور اذا ن عہد رسا لت وصا حبین اور ابتد ا ئے عہد عثما ن غنی میں (یعنی اما م کے منبر پر بیٹھنے کے وقت )منا ر ہ پر ہو تی تھی اس کو اما م کے سامنے دلا نے لگا ہما رے علما ء کرا م فر ما تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کی سنت کی پیر وی اس بات کی زیا دہ مستحق ہے کہ اس کی پیر وی کی جا ئے ۔
(۱؎المدخل فصل فی ذکر بعض البد ع التی احدثت فی المسجد دار الکتاب العر بی بیر وت ۲ /۲۱۲)
وحواشی الجو ا ہر الزکیۃ شر ح المقد مۃ العشما ویۃ للعلا مۃ یو سف السفطی الما لکی الا ذا ن الثا نی کا ن علی المنا ر فی الزمن القد یم علیہ اھل المغر ب الی الا ن وفعلہ بین ید ی الا مام مکر وہ کما نص علیہ البر زنی وقد نھی عنہ ما لک فعلہ علی المنا ر و ا لا ما م جالس ھو المشرو ع ۲؎اھ سکند ر ی ۔
حوا شی جو ا ہر زکیہ شر ح مقد مہ عشما ویہ للعلا مہ یو سف السفطی سکند ر ی ما لکی میں ہے دوسر ی اذا ن زما نہ قد یم سے منا ر ہ پر ہو تی تھی اہل مغر ب کا آج بھی اسی پر عملدر آمد ہے اس اذا ن کے اما م کے سا منے دینے کو اما م برزنی نے مکر و ہ لکھا ہے اما م ما لک نے اس سے منع فرما یا اما م کے مبنر پر بیٹھنے کے وقت منا ر ہ پر اذا ن مشر و ع ہے ۔
(۲؎حوا شی الجو ہر الزکیۃ شرح المقد مۃ العشما ویۃ للعلامۃ یو سف السفطی الما لکی)
وفی المو اھب اللدنیۃ للا ما م احمد القسطلا نی وشر حھا للعلا مۃ محمد الزرقا نی الما لکی رحمھما للہ تعا لی قا ل الشیخ خلیل ابن اسحق فی التو ضیح اسم شر حہ علی ابن الحا جب :''اختلف النقل ھل کا ن یؤذن بین ید یہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم او علی امنا ر الذی نقلہ اصحبنا انہ کا ن علی المنا ر نقلہ ابن القا سم عن ما لک فی المجموعۃ ونقل ابن عبد البر فی کا فیہ عن ما لک رضی اللہ تعا لی عنہ ان الا ذا ن بین ید ی الا ما م لیس من الامر القدیم ۳؎الخ۔'' وسیاتی تما مہ بعو نہ تعا لی ۔
موا ہب الد نیہ میں اما م احمد قسطلا نی نے اور اس کی شر ح میں علا مہ زرقا نی ما لکی رحمھما للہ تعا لی نے فر ما یا : ''شیخ خلیل ابن اسحق نے تو ضیح میں فرما یا جو ابن حا جب کی شر ح ہے کہ علما ئے نقل نے اختلا ف کیا کہ ''اذا ن ثانی حضور صلی اللہ تعا لی علیہ کے سا منے ہو تی یا منا رہ پر ہما رے اصحا ب سے منا رہ پر ہو نا ہی منقو ل ہے جیسا کہ ابن قا سم نے اس کو اما م ما لک رضی اللہ تعا لی عنہ سے ممجمو عہ میں نقل کی ابن عبد البر نے اما م مالک سے یہی نقل کیا کہ اما م کے سا منے اذا ن دینا قد یم معمو ل نہیں ہے ''(پوری تفصیل ان شا ء اللہ آگے آرہی ہے)
(۱؎الموا ہب اللدنیہ المقصد التا سع البا ب الثا نی المکتب الا سلا می بیر وت ۴ /۶۲-۱۶۱) (شر ح الزرقا نی علی المو ا ہب اللد نیۃ المقصد التا سع البا ب الثا نی دار المعر فۃ بیر وت ۷ /۸۱ - ۳۸۰)
فھذہ نصو ص الا ما م ما لک و اصحا بہ علی ان کو ن الا ذان بین ید ی الخطیب بد عۃ من را سہ فضلا عن کو نہ فی المسجد و انما السنۃ فیہ ایضا کا ذا ن سا ئر الصلو ا ت کونہ علی المنار فظہر ان ادعا ئھم اجما ع المسلمین علی الاذان دا خل المسجد لصیق المنبر فر یۃ منھم وای اجما عۃ یقوم مع خلا ف اما م دار الھرۃ و جما ھیر اصحا بہ رضی اللہ تعا لی عنہ وعنھم وکذا کذب من ادعی اجما ع المذاھب الا ربعۃ ولعل ما لکا لیس عند ہ من ا لا ربعۃ ھذا اذا لم یصر ح ائمتنا الحنفیۃ بکر ا ھۃ الا ذا ن دا خل المسجد فکیف وقد صر حو ا ولا نعلم خلا فا فیہ عن غیر ھم فلا یبعدا ن الا جما ع علی خلا ف ما ھم علیہ و با للہ التو فیق۔
اما م ما لک رضی اللہ تعا لی عنہ اور ان کے اصحا ب کے یہ نصو ص اذا ن بین ید ی الخطیب کے با لکلیہ بد عت ہو نے کی تصر یح ہیں چہ جا ئکہ اس کا مسجد میں ہو نا جا ئز ہو ، سنت تو یہ ہے کہ با قی تما م اذا نو ں کی طر ح یہ بھی منارہ پر ہو تو مخا لفین کا یہ فترا ء ہے کہ اذا ن ثا نی کا منبر کے متصل مسجد میں ہو نا ا جما ع مسلمین سے ثا بت ہے بھلا ا ما م دار الہجر ۃ اما م ما لک اور ان کے خلفا ء رضی اللہ تعا لی عنھم کو چھوڑ کر کو ن سا اجما ع منعقد ہو سکتا ہے تنہا ائمہ ما لکیہ کا ختلاف ہی قد ح اجما ع کے لیے کا فی ہے جبکہ اس مسئلہ میں ائمہ احنا ف رحمھم اللہ کی تصر یح بھی مو جو د ہے کہ مسجد کے اند ر اذا ن مکر وہ ہے اور احنا ف وغیر ہ کسی سے بھی اس کے خلا ف ہو نے کا علم نہیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ اذا ن بین ید ی الخطیب کے مکر وہ ہو نے پر ہی اجما ع ہو ۔