Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
36 - 135
ثالثاً :  قال ربنا عزوجل :
"واتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن ۱؂"
قال فی الاتقان والفتوحات الا لھیۃ (ای فی زمن ملکہ ۲؂) ،و فی مدارک الامام النسفی:"ای علی عھد ملکہ وفی زمانہ ۳؂"اھ ۔ ولا شک ان ھذالاذان علی عھدالمنبر وفی زمانہ، فرجعت الی معنی عند الزمانیۃ۔
ثالثاً :  اللہ تعالی کا ارشاد ہے  : اور انہو ں نے ملک سلیما ن پر شیطا نو ں کے پڑھے ہو ئے کی اتبا ع کی اتقا ن اور فتوحات الہیہ میں ہے یعنی ان کی حکو مت کے زما نہ میں مدار ک اما م نسفی میں ہے یعنی ان کی حکو مت اور ان کے زما نہ میں اور اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ اذا ن خطبہ منبر کے وقت اور زما نہ میں ہے تو یہ عند زما نیہ کے ہم معنی ہو گیا ۔
 (۱؎القرا ن الکر یم ۲ /۱۰۲)

(۲؎الفتو حا ت الا لہیۃ الشہیر با لجمل تحت الا یۃ   ۲ /۱۰۲   مصطفی البا نی مصر ۱ /۵۸)

(۳؎مدار ک التنزیل (تفسیر النسفی )  تحت الا یۃ  ۲ /۱۰۲     دار الکتا ب العر بی بیر وت  ۱ /۶۵)
رابعاً : اصل الکلا م انھم اختلفو ا فی الا ذا ن المعتبر لا یجا ب السعی و تر ک العمل ھل ھو الا ذا ن الا ول کما ھو الا صح و بہ قا ل الحسن بن زیا د عن سید نا الا ما ام الا عظم رضی اللہ تعا لی عنہ ام اذا ن الخطبۃ لا نہ لم یکن عند نزو ل الکر یمۃ وغیر ہ و بہ قا ل الا مام الطحا وی رحمہ اللہ تعا لی و نقل الشمنی فی شر ح النفا یۃ کلا مہ ھکذا قا ل الطحا وی :انما یجب السعی و تر ک البیع اذا ا ذن الا ذا ن الذی یکو ن وا لا مام علی المنبر لا نہ الذی کا ن علی عہد رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم و ابی بکر و عمر رضی اللہ تعا لی عنھما ۴؎
رابعاً : اصل یہ ہے کہ فقہا ء نے اس با ب میں اختلا ف کیا ہے کہ جمعہ کے لیے سعی کے وجو ب میں کس اذا ن کا اعتبا ر ہے ،اذا ن اول کا (حنفیہ کے نزدیک یہی صحیح ہے اور حسن بن زیا د نے امام اعظم سے اس کی روا یت کی) یا اذان خطبہ کا کیو نکہ آیت سعی کے نزو ل کے وقت اذا ن اول تھی ہی نہیں(یہی اما م طحا وی کا قو ل ہے جس کو شر ح نقا یہ میں شمنی نے نقل کیا )اما م طحا وی نے فرما یا کہ جمعہ کے وقت وجو ب سعی اور تر ک بیع کا حکم اس اذا ن کے وقت ہے جو اما م کے منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جا تی ہے کیو نکہ پہلی اذا ن عہد رسا لت اور ابو بکر و عمر رضوان اللہ تعا لی علیہم اجمیعن کے زما نہ میں نہ تھی ۔
 (۴؎مرقا ۃ المفا تیح بحو الہ الطحا وی با ب الخطبہ والصلو ۃ تحت الحد یث ۱۴۰۴   المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ  ۳ /۴۹۸)
وفی مر قا ۃ علی القا ری :
''قا ل الطحا وی انما یجب السعی وتر ک البیع اذا اذ ن الا ذا ن و الا ما م علی المنبر لا نہ الذی کان علی عہدہ علیہ الصلو ۃ والسلام و زمن الشیخین رضی اللہ تعا لی عنھما ۱؎۔
ملا علی قا ر ی رحمۃ اللہ علیہ کی مر قا ت میں بھی روا یت ان الفا ظ میں ہے :''اما م طحا وی فر ما تے ہیںکہ جمعہ کے لیے سعی اور تر ک بیع کا وجو ب اما م منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جا نے والی اذا ن سے ہے کیو نکہ عہد رسا لت اور زما نہ شیخین میں صرف یہی اذا ن تھی ۔ ''
 (۱؎مرقات المفاتیح  کتا ب الصلٰوۃ با ب الخطبۃ والصلٰوۃ   تحت الحدیث  ۱۴۰۴  المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۳ /۴۹۸)
وھکذا ا کما تر ی لا مثا رلو ھمھم فیہ وکا ن بعض المتا خر ین اختصر وا مقا لہ ولیر ا جع اصل لفظہ رحمہ اللہ تعا لی عنہ فا نی ارجو ا ان لا یکو ن فیہ ما او قعھم فی الو ھم و کیف ما کا ن فا نما استدل با نہ الذی کا ن علی عہد رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم وابی بکر و عمر رضی اللہ تعا لی عنہما وھکذا ذکر فی دلیلہ من عبر ہ با لا ذا ن علی المنبر عند المنبر کا لکا فی و الکفا یۃ والمبسو ط و غیر ھا و معلو م قطعا انہ لم یکن علی عہد رسو ل اللہ تعا لی علیہ وسلم فوق المنبر ولذا احتا ج ھؤلا ء ایضا الی تا ویل علی بعند او البا ء او المبا لغۃ فا ذن یجب حملہ ما کا ن علیہ فی زمنہ الکر یم وکما لم یثبت کو نہ فی عہد ہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فو ق المنبر، کذلک لم یثبت  کونہ ملاصق المنبر، او عندالمنبر  با لمعنی الذی یزعمو ن وانما ثبت کو نہ علی با ب المسجد فیجب ان لا یحمل الا علی ما یو ا فقہ عند کا ن او علی ولکن الا نصا ف قد عز فی الاخلا ف ۔
ہر ایک پر روشن ہے کہ اس عبار ت میں مخا لفین کے شبہ میں پڑنے کی کو ئی گنجا ئش نہیں (اما م طحا وی نے امام کے منبر پر ہو نے کی با ت کہی ہے نہ کہ اذا ن کے )اور اسی عبارت کو بعض متا خر ین نے اپنے طو ر پر مختصر کیا ہے اصل عبا ر ت کو دیکھا جا ئے توا س شبہ کی کو ئی بنیا د ہی نہیں بھلا ایسے ہو سکتا ہے ۔اما م طحا وی نے اپنے استدلا ل میں فر ما یا وہ اذا ن جس پر سعی وا جب ہو تی ہے حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم اور صا حبین رضی اللہ تعا لی عنہما کے عہد مبا ر ک میں  یہی بھی بعد کے جن لو گو ں نے اس اذا ن کی تعبیر علی المنبر یا عند المبنر سے کی جیسے صاحب کافی وکفایہ اور مبسوط وغیرہ ان لوگوں نے بھی یہی کہا کہ یہی اذان حضور کے عہد مبارک میں ہوتی تھی، اور سب کو معلوم ہی کہ اذان خٰطبہ عھد رسالت میں منبر کے اوپر نہیں ہو تی تھی اسی لیے تو ان علما ء نے بھی علی کو عند کے معنی میں لیا ۔اور روا یت سے یہ ثا بت ہے کہ جس کو عند کہتے ہیں وہ علی با ب المسجد ہے تو عبا رت میں لفظ عند ہو یا علی سب کو اسی ثا بت شدہ محمل پر حمل کر نا چا ہیے نہ کہ اس واقعہ کے انکا ر کے لیے معبر ین کی تعبیر کو سند بنا نا چا ہیے مگر افسو س کہ انصا ف دنیا سے نا پید ہورہا ہو ۔
نفحہ۷: لئن تنزلنا لھم عن جمیع ھذہ التحقیقات التی ذکرنا بتو فیق ربنا علی الا علی فی'' عند وعلی ''۔
نفحہ۷ : اگر ہم عن اور علی کے با رے میں ذکر کی ہو ئی تما م تحقیقا ت سے قطع نظر کر لیں تب بھی بات وہ ہی ثابت ہو تی ہے جو ہم نے اللہ تعا لی کی تو فیق سے ذکر کی ہے ۔
فاولاً: ما قو لھم ''المعتبر الا ذا ن علی المنا رۃ او الا ذا ن علی المنبر او عند المنبر '' الا حکا یۃ حا ل للتعر یف و یعر ف کل احد حتی الصبیا ن انہ لیس بحکم و قو لھم '' لا یؤذن فی المسجد  ، ویکر ہ الا ذا ن فی المسجد حکم والعبر ۃ با لحکم الا بالحکا یۃ ۔
اولاً : ان تمام عبار تو ں میں جہا ں اذا ن علی المنا رہ یا اذا ن علی المنبر یا عند المنبر کا لفظ آیا ہے بطو ر تعا ر ف و حکایت حا ل کے ہے (یعنی وہ اذا ن جو فلا ں جگہ ہو تی ہے اس میں کو ئی حکم نہیں کہ اذا ن یہا ں ہو نی چا ہیے ) بخلا ف ان اوقو ا ل کے جب میں مسجد میں اذا ن مما نعت آئی ہے جیسے لا یؤذن فی المسجد (مسجد میں اذا ن نہ دی جا ئے ) یا یکرہ الا ذا ن فی المسجد (مسجد میں اذا ن مکر وہ ہے)کہ یہ صا ف صا ف حکم ہے اور اعتبا ر حکم کا ہے تعا ر ف و حکا یت کا نہیں ۔
وثا نیاً : الا ذا ن الذی کذ ابیا ن علا مۃ لہ فلا ید ل علی جو ازہ فضلا عن استنا نہ قا ل الا ما م الا جل ابو زکر یا النو وی فی شر ح صحیح مسلم ثم العلا مۃ المحدث طا ہر فی مجمع بحا الا نو ار  :''ان العلامۃ تکو ن بحرا م و مبا ح ۱؎اھ ، ارأیت ان اجتمع فی صعید السلطا ن و الامر ا ء النا س فمن لا یعر ف السلطا ن سا ل علا ما من فیھم الملک الذی یفتر ض علینا طا عتہ فی المعر وف فا ل الذی علی راسہ تا ج الذھب ھل یکو ن ذلک حکما منہ بجو از لبس الذھب للر جا ل کلاّ علماؤنا قد ارشد و ا لی الحکم ان لا یؤو ن فی المسجد ومع ذلک لا شک ان لو فعل فیہ کما یفعل ھٰو لا ء لکا ن مو جبا للسعی و ترک البیع علی قو ل لا ما م الطحا وی فلو فر ض ان النا س احدثو ہ ھکذا فعر فو ہ بہ بیا نا لحکم السعی کا ن ما ذا ۔
ثا نیاً :یہ طر یقہ بیا ن (کہ جو اذان فلا ں جگہ ہو تی ہے) علا مت ہے اور علا ما ت کا مسنو ن ہو نا تو بڑی بات ہے جا ئز ہو نا بھی ثا بت نہیں ہو تا اما م اجل ابو زکر یا نو وی شر ح صحیح مسلم اور علا مہ محد ث طا ہر فتنی نے مجمع البحا ر میں  فر ما یا ''کسی چیز کی علا مت مبا ح اور حرا م دو نو ں ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے''، اس کی مثا ل یہ ہے کہ کسی مید ا ن میں بادشا ہ امرا ء اور عو ا م سبھی جمع ہیں ایک آدمی با دشا ہ کو نہیں پہچا نتا اس نے ایک پر ہیز گا ر عا لم دین سے پو چھا ان لو گو ں میں با دشا ہ کو ن ہے جس کی اطا عت ہم پر وا جب ہے وہ عا لم کہے گا کہ جس کے سر پر سو نے کا تا ج ہے دیکھئے یہا ں سو نے کے تا ج کی علامت سے با دشا ہ کو پہنچوا یا گیا تو کیا یہ تعا رف اس با ت کا حکم ہو گیاکہ مردوں کو سو نے کا تا ج پہننا جا ئز ہے ؟ تو جب ہما رے علما ء نے یہ حکم بتا دیا کہ مسجد کے اندر اذان نہ دی جا ئے اور یہ کہ مسجد کی اذا ن مکر وہ ہے تو اگر اس کے خلا ف مسجد کے اندر اذا ن دی جا نے لگے جیسا کہ آجکل یہ لو گ کر رہے ہیں تو یہ اذا ن بھی اما م طحا وی کے مسلک پو مو جب سعی و تر ک بیع ہو گی ہم یہ فر ض کئے لیتے ہیں کہ یہ اذا ن متصل منبر لو گو ں نے ازخود ایجا د کر لی ہے پھر بھی اس ممنو ع اذا ن کو وجو ب سعی کی علامت قرار دیں تو اس سے یہ اذا ن جا ئز تو ہو نہیں جا ئے گی ۔
 (۱؎شرح صحیح مسلم للنو وی کتا ب الز کو ۃ با ب اعطا ء المؤلفہ قد یمی کتب خا نہ کر ا چی   ۱ /۳۴۲)
ثا لثاً : الحکم الضمنی فی الوصف العنو ا نی حکم منطقی ، والحکم المنطقی ان کا ن قصد یا لم یلزم ان یکو ن شر عیا فکیف اذا کا ن ضمینیا الم تسمع الی ما قا لہ العلما ء فی حدیث علیہ السلا م تحیۃ المو تٰی۱؎۔
ثالثاً : قضیہ ضمنیہ میں دو حکم ہو تا ہے ایک مو ضو ع کے وصف کا صد قپ ذا ت مو ضو ع پر اور دوسرا وصف محمو ل کا صد ق ذا ت مو ضو ع پر پہلے وا لا حکم ضمنی منطقی ہو تا ہے اور دوسرا حکم صر یحی ، شر ع کے نزدیک یہی معتبر ہے حکم منطقی قصدی ہو تو تب بھی شر عا معتبر نہیں۔ اور مسئلہ دائر ہ میں تو اس اذا ن پر جو فی زما نہ متصل منبر ہو تی ہے فقہا ء نے اذا ن کا حکم ضمنا لگا یا ہے تو یہ شر ع کے نزدیک کب معتبر ہو گا ؟اس کی مثا ل یہ ہے کہ لفظ علیک السلا م میں مخا طب پر سلا م کا حکم منطقی قصد ی ہے مگر شر یعت  نے اسے نا معتبر اور ناجائز بتایا ۔حدیث شریف میں ہے :''علیک السلا م مردو ں کا سلا م ہے ''۔
 (۱؎المصنف العبد الر زا ق با ب کیف السلا م و الر د حدیث۱۹۴۳۴ المجمع الاسلا می بیر و ت   ۱ /۳۷۴)
رابعاً: بعد التیا و التی ان کا ن فمن با ب ''الا شا رۃ''وقو لھم لا یو ذن فی المسجد و یکر ہ الا ذا ن فی المسجد ''عبا رۃ ''وقد نصو ا قا طبۃ ان العبا ر ۃ مر جحۃ علی الا شا ر ۃ و ان الحکم و الفتیا با لمر جو ح جہل و خر ق الا جما ع کما فی تصحیح القدوری و الد ر المختا ر ۲؎۔
رابعاً : تما م بحث و مبا حثہ کے بعد اذا ن علی المنبر اسے اگر کو ئی حکم ثا بت ہو تو بطور اشا ر ۃ النص ثبو ت ہو گا اور فقہاء کے قول''لا یؤذن فی المسجد و یکر ہ الا ذا ن فی المسجد ''عبا ر ۃ النص ہے اور تما م علما ئے اصو ل کا اجما ع ہے کہ عبارۃ النص را جح اور اشا ر ۃ النص مر جو ح ہے اور در مختا ر میں ہے کہ قو ل مر جو ح پر فتو ی دینا جہا لت اور خرق اجما ع ہے ۔
 (۲؎الد ر مختا ر مقد مۃ الکتا ب مطبع مجتبا ئی دہلی    ۱ /۱۵)
Flag Counter