Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
35 - 135
نفحہ ۵ : لئن ننزلنا الی مثل مدار کھم فلا شک ان عند ظر ف زما ن و مکا ن قا ل تعا لی :
''خذوا زینتکم عند کل مسجد ۱؎
ای ثیا بکم وقت کل صلو ۃ والوقت یضا ف الی الا مکنۃ والا جسا م ایضا اذا کا ن لہ اختصا بھا قا ل تعا لی :
''یو م حنین اذا عجبتکم کثر تکم ۲؎''
نفحہ ۵ :اگر ہم ان لو گو ں کے معیا ر فہم پر اتر کر بھی با ت کر یں تو اتنا تو سب پر ظا ہر ہے کہ عند ظر ف زما ن اور مکان دو نو ں ہی کے لیے ہے جیسا کہ ارشاد بار ی ہے :''ہر مسجد کے پا س اپنی زینت اختیا ر کر و ''یعنی ہر نما ز کے وقت کپڑے پہنو اور خود وقت بھی مکا ن اور اجسا م دو نو ں ہی کی طر ف مضا ف ہو تا ہے جب کہ وقت کے ساتھ ان کو کوئی خصو صیت ہو ارشاد الہی ہے :''اور حنین کا دن یا د کر و جب تم اپنی کثر ت پر اترا گئے تھے ''
 (۱؎القر ان الکریم     ۷ /۳۱)

(۲؎ القر ان الکریم    ۹ /۲۵)
انما حنین اسم مکا ن و کذا یو م بدر یوم احد یو م الد ا ر لیۃ عقبۃ لیۃ المعرا ج لیۃ الغار فی الصحیحین :''من لھا یو السبع ۳؎''سبع بسکو ن البا ء مکا ن المحشر او بضمتھا الحیو ن المفتر س و علیہ الا کثر و لا شک ان لہذا الو قت اختصاصا بالمنبر وقتہ وحینہ ۔
حنین ایک جگہ کا نا م ہے یہی حا ل یو م بدر ،یو م احد ،یو م دار ،لیلۃ العقبہ ،لیلۃ المعرا ج اور لیلۃ الغار کا ہے صحیحین کی حد یث ہے :''ومن لھا یو م السبع''سبع کا لفظ با کے سکو ن کے سات بھی  مروی ہے تو لفظ سبع سے مراد مکا ن محشر ہو گا اور با ء کے ضمہ کے سا تھ تو شیر مراد ہو گا کااکثر علما ء کے نزدیک یہی را جح ہے پس ان مقا ما ت میں یو م کی نسبت مقام کی طر ف ہے تو ایسا کیو ں صحیح نہ ہو گا کہ اذا ن عند المنبر کے معنی اذا ن وقت منبر ہو کیو نکہ اس اذا ن کو منبر سے ایک نسبت خا ص ہے ۔
 (۳؎صحیح البخا ری کتاب الا نبیا ء با ب منہ قدیمی کتب خا نہ کر اچی ۱ /۴۹۴)
نفحہ ۶: احتجو ا بقو ل بعضھم علی المنبر فمن ھؤلا ء من یفسر ہ بعند و قد علمت ان لیس فی عند ما یقرأ اعینھم واجھلھم یقو ل ''علی''ھھنا بمعنی البا ء یر ید ان البا ء اللا لصاق فکا ن الا ذا ن ملا صق المنبر مع ان الا لصا ق الذی فی البا ء لیس قطعا بمعنی الا تصا ل الحقیقی تقو ل مررت بزید اذا ا مررت بحیث ترا ہ و ا ن کا ن بینکما اکثر مما بین المنبر و البا ب قا ل تعا لی : وکا ین من اٰ یۃ فی السموا ت ولا ر ض یمرو ن علیہا وھم عنھا معر ضو ن ۱؎ھھنا لفظۃ علی نفسھا وانت لا یبلغ الا سبا ب اسباب السمو ات حتی تلتصق با یا تھا انما المعنی تمر بحیث تر ا ھا وامثلھم طر یقۃ یقو ل ان بعض الفقھا ء اتی بعلی تا کید ا للقر ب یر ید ان المراد المبا لغۃ فی القر ب حتی کا نہ علیہ فو قہ وکل ھذا من ھو سا تھم ۔
نفحہ ۶:  اذا نیو ں نے بعض فقہا ء کے قو ل اذا ن علی المنبر سے استدلا ل کیا تو ان میں سے بعض نے علی کی تفسیر عند سے کی اور ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ خود لفظ عند میں کو ئی ایسی با ت نہیں جس سے ان کے دل کو چین ملے اور ان میں سب سے بڑے جا ہل نے کہا کہ علی معنی میں با ء کے ہے مطلب یہ کہ با ء الصا ق کے لے آتا ہے تو لفظ اذا ن علی المنبر کا مطلب ہو گا وہ اذا ن جو منبر کے متصل ہو اس با ت سے قطع نظر کہ یہا ں علی کا با ء کے معنی میں ہو ا خود محل نظر ہے لطف یہ ہے کہ خود الصا ق کے معنی اتصا ل حقیقی نہیں عر بی کے اس وق ل مررت بززید (میں زید کے سا تھ چلا )کا یہ مطلب نہیں کہ میں زید سے چپک کر چلا بلکہ تم زید کے پیچھے پیچھے منبر اور دوازہ مسجد کی دور ی سے زا ئد فا صلہ پر بھی چلو اس طر ح کہ تمہا ری نظر زید پر رہے تو تم کہہ سکتے ہو کہ میں زید کے سا تھ چلا اللہ تبا رک و تعا لی ارشا د فر ما تا ہے :''آسما ن و زمین میں کتنی آیتیں ہیں جن گزر تے ہیں اور وہ ان آیتو ں سے اعرا ض کر تے ہیں ۔''اس آیت میں خود لفظ علی ہی ہے تو کیاتم علی کو الصا ق کے معنی میں لے کر آسما نی آیتو ں سے متصل ہو نے کے لیے آسما نو ں تک بلند ہو نے کی طا قت رکھتے ہو پس اس آیت میں لا محا لہ تمر و ن علیہا کے یہی معنی مراد لینے ہو نگے کہ تم ان آیتو ں کو دیکھتے ہو ئے گزرتے ہو اس حا ل میں کہ تم میں او ران آیتوں میں آسما ن کی و زمین کی دوری تھی اور ان میں سب سے زیا دہ سلیم الطبع نے یہ تشر یح کی کہ بعض فقہا کی عبارت میں علی المنبر کا لفظ قر ب کی تا کید کے لیے ہے مطلب یہ کہ مراد مبا لغہ فی القر ب ہے یعنی منبر کے اتنا قر یب کہ گو یا منبر پر ہی ہو لیکن یہ بھی ان کی ہو س ہی ہے ۔
فاولاً:  قد اجمع العقلا ء ان اللفظ متی احتمل الحقیقۃ لا مجا ز عنھا الی المجا ز و معلو م ان علی بمعنی عند او بمعنی البا ء او للمبا لغۃ کل ذلک مجا ز وھی حقیقۃ فی اللزو م ففی اصو ل الا ما م شمس الائمۃ ثم کشف الا ما م البخار ی : ''اما علی فللزا م با عتبار اصل الو ضع ۱؎،اھ ''
اولاً: تما م اہل زبا ن کا اس امر پر اتفا ق ہے کہ لفظ کے معنی حقیقی جب تک بن سکیں معنی مجا زی مراد لینے کی کو ئی سبیل نہیں اور یہ واضح ہے کہ علی کو عند با ء یا مبالغہ کے لیے لینا اس کے معنی مجا زی ہو ں گے کہ اس کے معنی حقیقی تو لا زم کر نے کے ہیں جیسا کہ آو ل اما م شمس الا تمہ اور کشف اما م بخار ی میں :''علی اصل وضع کے اعتبار سے الزا م کے لیے ہے ۔''
 (۱؎کشف الا سرا ر عن اصو ل البزادوی بحث حروف البحر کلمۃ علی دار الکتاب لالعر بی بیر و ت ۲ /۱۷۳)
وفی تحریر الا ما م ابن الھما م و تقر یر الا مام ابن امیر الحا ج :''وھو ا ی اللزو م ھو بمعنی الحقیقی ۱؎،اھ  وفی الر ضی  الکا فیۃ منہ سر علی اسم اللہ تعا لی ای ملتزما ۲؎''
تحریم اما م ابن ہما م اور تقر یب اما م ابن امیر الحا ج میں ہے :''لزو م ہی علی کے معنی حقیقی ہیں''۔  اور  رضی شر ح کافیہ میں ہے اسی محا ورہ سے ہے اللہ کے نا م پر سیر کر یعنی اس کو لا زم پکڑو ۔''
 (۱؎التقریر والتجیر مسئلۃ علی الا ستعلا ء حسا دار الفکر بیر وت۲/۷۶)

(۲؎الرضی فی شر ح الکا فیۃ حرو ف الجر حر ف'' علی ''دارا لکتن العلمیہ بیروت ۲/۳۴۲)
قا ل ربنا عزو جل
فجاء تہ احد ھما تمشی علی استحیا ء ۳؎
ای ملا زمۃ للحیا ء ۔ قرآن عظیم میں یہ لفظ اسی معنی میں وارد ہوا ارشاد الہی ہے :''ان دو عورتو ں میں سے ایک شر م کر تی ہو ئی آئی ''یعنی وہ شر م کو لا زم کئے ہوئے تھی ۔
(۳؎القرآن الکریم۲۸/ ۲۵)
ولا شک ان ھذا الا ذا ن اینما کا ن لا زم ملا زم للمنبر فا نی تو فکو ن ۔
     اور اذا ن خطیب اس اما م کو لا زم ہے جس نے منبر کا الزا م کیا ہے تو یہ لو گ علی کو اس کے حقیقی معنی (لزو م ) سے پھیر کو کد ھر پلٹ رہے ہیں۔
ثا نیاً: الیست ''علی'' للمصا حبۃ ، قا ل الا ما م الجلیل الجلا ل السیو طی فی الا تقا ن علی حر ف جر لھا معا ن (الی ان قال ) ثا نیھا للمصا حبۃ کمع نحو ''واٰ تی المال علی حبہ ای مع حبہ ، وان ربک لذو مغفر ۃ النا س علی ظلمھم ۴؎''
ثا نیا : علی مصا حبت کے لیے ہے اما م جلا ل الد ین سیوطی اتقا ن میں فرما تے ہیں ''علی''حرف جر ہے اس کے چند معا نی ہیں دوسرا معنی مصا حبت ہے جیسے لفظ مع قرا ن عظیم میں ہے کہ ما ل کو محبت کے با وجو د قرا بت داروں کو دیا (دوسر ی مثا ل )تمھا را رب ظلم کے با وجو د لو گو ں کی مغفر ت کر نیو ا لا ہے (یہا ں علی ظلم کا مطلب مع ظلمٍ ہے )''
(۴؎الاتقان فی علوم القرآن  النوع الاربعون   دار الکتاب العربی  بیر وت۱/ ۴۹۸)
وفی الحدیث ''زکا ۃ الفطر علی کل حر و عبد ۱؎''قا ل فی النہا یۃ ''قیل علی بمعنی مع لا ن العبد لا تجب علیہ الفطر ۃ و انما تجب علی سید ہ ۲؎،اھ ''وفی القا مو س :''والمصا حبۃ کمع ''''واتی الما ل علی حبہ ۳؎''وفی الفتو حا ت الا لھیۃ تحت قو لہ تعا لی ''تمشی علی استحیا ء ''علی بمعنی مع ای مع استحیا ء ۴؎''ولا شک ان ھذا الا ذا ن مصا حب المنبر لا یتقد مہ ولا یتأخر عنہ فا ن کا نت حقیقۃ فی المصا حبۃ فذا ک والا بطل مجا ز کم با حتما ل مجا ز اٰخر اذ انتم المستدلو ن ۔
اور حدیث شر یف میں ہے زکو ۃ فطر ہر آزاد اور غلا م پر ہے ''نہا یہ میں فر ما یا علی یہا ں بھی مع کے معنی میں ہے کہ صد قہ فطر غلام پر واجب نہیں ہو تو ما لک پر ہے (تو مطلب یہ ہو کہ غلا م کا صد قہ بھی اپنے ساتھ دے )قا مو س سے بھی اسی کی تا ئید ہو تی ہے :''مع کی طر ح علی بھی مصا حبۃ کے لیے آتا ہے جیسے اتی الما ل علی حبہ ''اور فتو حا ت الہیہ میں آیت مبا ر کہ تمشی علی استحیاء کی توضیح میں فرمایا : علی مع کے معنی میں ہے یعنی شرماتے ہو ئے اور اذا ن خطبہ بلا شبہ جلو س علی المنبر کے مصا حب ہے نہ اس سے قبل نہ بعد پس مصا حبۃ اگر علی کے معنی حقیقی ہو ں آپ کے مراد لیے ہو ئے معا نی مجا زی ہو ئے اور مجا ز حقیقت کے مصا دم نہیں ہو سکتا اور یہ معنی مجا زی اور آپ کے معا نی بھی مجا زی تو ایک اور معنی مجا زی کا احتما ل پید ا ہو ا اور احتما ل استدلا ل کے لیے کتنا مضر ہے یہ سب کو معلو م ہے ۔
 (۱؎مجمع الزوا ئد با ب صد قۃ الفطر دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ /۸۰)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہر یر ۃ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب اسلا می بیروت۲ /۲۷۷)

(۲؎النہا یۃ فی غریب الحدیث والا ثر با ب العین مع اللا م المکتبہ اسلا میہ۳ /۲۹۶)

(۳؎القا مو س المحیط فصل العین با ب الوا ؤ والیا ء مصطفی البا بی مصر ۴ /۳۶۸)

(۴؎الفتو حا ت الا لیہۃ الشہیر با لجمل تحت الا یۃ ۲۸ /۲۵  مصطفی البا بی مصر   ۳ /۳۴۴)
Flag Counter