(۱۴)یقو ل التلمیذ جلست عند شیخی ثلث سنین کو امل وان لم یکن قیا مہ الا فی مسجد ہ وجلو سہ الا فی اخر یا ت مجلسہ ۔
(۱۴) شا گر د استا ذ کے پا س مکمل تین سا ل رہا حا لا نکہ قیا م اس کا مسجد میں ہو تا ہے اور شیخ کی مجلس میں اسے آخر ی صف میں بیٹھنے کی جگہ ملتی ہے ۔
(۱۵) اتو خذ لفظۃ عند من کلا م بعض الفقھا ء ولایو خذ ما ابا نو ا من معنی عند قا ل فی الکتا ب الھد ا یۃ والکنز والتنو یر وغیر ھا واللفظ للکنز من سر ق من المسجد متا عا وبہ عند ہ قطع ۱؎فقا ل علیہ فی شر و حھا المجتبی وفتح القد یر و بحرا لر ئق وا لدر المختا ر وغیر ھا و النظم للدر :''عند ہ ای بحیث یر اہ ۲؎''
فظہر ان معنی عند لا یشید علی ما بینا من مفا د بین ید یہ ولا دلا لۃ لشیئ منھما ان لاا ذا ن دا خل المسجد فضلا عن کو نہ لصیق المنبر ولکن اذا رسخ فی القلب و ھم فکلما یسمع یتو ھمہ بمعنا ہ کما قیل لسغبا ن وا حد مع وا حد کم یصیر قا ل خبزا ن ۔
(۱؎کنز الداقا ئق کتا ب السر قۃ فصل فی الحر ز ایچ ایم سعید کمپنی کر اچی ص۱۷۹)
(۲؎الدر المختا ر کتا ب السر قۃ فصل فی الحر زمطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۳۳۴)
(۱۵)یہ کہا ں کا انصا ف ہے فقہا ءکے کلا م میں آ ۤئے ہو ئے لفظ عند سے تو اذا ن ثا نی کے متصل منبر ہو نے پر استدالا لی کیا جا ئے اور فقہا ئے کر ا م نے خود لفظ عند کے جو معنی بتا ئے ہیں اس سے رو گر دا نی کی جا ئے ہد ایہ ، کنز، تنو یر وغیر ھا میں فر ما یا یہ عبا ر ت کنز کی ہے جس نے مسجد سے ایسا سامان چرا یا جس کا مالک سا ما ن کے پا س تھا اس کا ہا تھ کا ٹا جا ئیگا ان کی شر ح مجتبی ،فتح القد یر ،بحرا الر ائق اور در مختا ر میں فر ما یا الفا ظ در مختا ر کے ہیں ''سا ما ن کے ما لک کے پا س ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اتنی دور ہو جہا ں سے اپنا سا ما ن دیکھ رہا ہو ۔
مذکو ر ہ با لا شو ا ہد سے یہ ثا بت ہو گیا کہ عند کے معنی بھی اس سے زیا دہ نہیں جو ہم نے بین ید یہ کے معنی میں بیا ن کیا اور ان دو نو ں لفظو ں کی کو ئی دلا لت اذان کے دا خل مسجد ہو نے پر نہیں چہ جا ئیکہ منبر سے متصل مرا د لی جا ئے مگر جب کو ئی وہم آدمی کے دما غ میں جم جا تا ہے تو وہ جو چیز بھی دیکھتا ہے اس کو وہی وہمی چیز سمجھتا ہے اور کو ئی با ت سنتا ہے تو ہی چیز اس کے خیا ل میں جیسا کہ بھو کے سے پو چھا جا ئے کہ ایک ایک کتنا ہو تا ہے تو وہ جو ا ب دیتا ہے دو رو ٹی ۔
نفحہ ۴: استبا ن مما با ن و للہ الحمد جہا لۃ من تمسک ھنا بقو ل الر ا غب ''عند ''لفظ مو ضو ع للقر ب فتا رۃ یستعمل فی المکا ن و تا ر ۃ فی الا عتقا د نحو ان یقا ل عندی کذا و تا ر ۃ فی الز لفی و المنز لۃ ۱؎ وقول المبسو ط ''عند عبا ر ۃ عن القر ب ۲؎''
نفحہ ۴: الحمد للہ رب العا لمین گزشتہ اظہا ر سے ان لو گو ں کی جہا لت واضح ہو گئی جو اس مو قعہ پر بھی اما م را غب کے قو ل سے استد لا ل کر تے ہیں کہ ''لفظ عند قر ب کے لیے وضع کیا گیا ہے تو کبھی مکا ن کے لیے ہو تا ہے اور کبھی اعتقا د کے لیے جیسے کو ئی کہے میرے پا س ایسا ہے او ر کہیں رتبہ اور مر تبہ کے لیے ہو تا ہے یا مبسوط میں اما م سر خسی کے قو ل سے استدلا ل کر تے ہیں عند قرب بیا ن کر نے کے لیے ہے ۔''
(۱؎المفردا ت فی غرا ئب القرا ن العین مع النو ن تحت اللفظ ''عند ''نو ر محمد کا ر خا نہ تجا ر ت کتب کراچی ص۳۵۵)
(۲؎المبسو ط للسر خسی کتا ب الکفا لۃ با ب الکفا لۃ با لنفس دار الکتب العلیمیہ بیر وت ۱۹ /۲۲۴)
عند کا تر جمہ فارسی میں ''نزد ''اور ہند ی میں ''پا س ''ہے کیو نکہ ہم نے قر ب کے تما م موا ر د کا ذکر کر دیا ہے جس کے لیے آیا ت کے اعادہ کی ضرورت اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ ان تما م آیتو ں میں لفظ ''عند ''کا تر جمہ دونوں زبا نو ں میں لفظ نز د و پا س سے کیا گیا ہے جبکہ ان مو ارد میں قر ب کے معنی میں بڑی وسعت ہے ۔
وکذلک فی اقتر بت السا عۃ ۱؎وفی اقتر ب للنا س حسا بھم ۲؎وغیر ذلک مما لا یخفی علی الصبیا ن ،وقد سئلنا ھم مرا ر ا عن مسئلۃ فقھیۃ فلم یجب احد منھم الی الا ن و کیف یجیبو ا وما لھم بہ یدا ن وا ذا بز غ الحق کلا اللسان ۔
جیسا کہ آیت اقتر بت السا عۃ (قیا مت قر یب ہو ئی )اور آیت اقتر ب للنا س حسا بھم (لو گو ں کے لیے ان کے حسا ب کا وقت قر یب ہو ا )وغیر ہ سے ظا ہر ہے (کہ لفظ قر ب اپنے دا من میں صد یو ں کا فا صلہ سمیٹے ہو ئے ہے )اور یہ با ت بچو ں تک پر وا ضح ہے ہم نے ان سے بار ہا ایک مسئلہ پو چھا جس کا جو ا ب آج تک کو ئی نہ دے سکا اور وہ کیسے جو ا ب دیتے وہی جو ا ب تو خود ان پر لو ٹتا با ت یہ ہے کہ جب حق ظا ہر ہو تا ہے زبا نیں گو نگی ہو جا تی ہیں ۔
صورتھا زید صنع منبرا تبلغ قیمتہ دینا را عشر ۃ درا ھم او اکثر وھو خفیف بحیث یذھب بہ رجل واحد لا ینؤ ابہ ولا یؤدۃ شیئ من حملہ واذھا بہ فا ذا ا نا ء فی المسجد حین المنبر کا ن المتو لی یستعیر ہ من ما لکہ ثم اذا فر غ یر د ہ الیہ و ذا ت یو م قضیت الصلو ۃ اونتشر وا فی الا ر ض والمنبر بعد فی مکا نہ و ما لکہ قا م بحذا ئہ علی با ب اٰ خر مستر قا و حا نت التفا تۃ من زید فا خذ المنبر واشر د فحل یقطع ھذا الوا ھا بی السا ر ق شر عا ام لا فا ن قا لو ا لا فقد خا لفو ا نصو ص الا ئمۃ اذ قالوا من سر ق من المسجد متا عا وربہ عند ہ بحیث یر ا ہ قطع ۱؎ وان قا لو ا نعم فقد کا ن شر ط القطع ان یکو ن ربہ عند ہ لیکو ن محر زا بالحا فظ اذا المسجد لیس بمحر ز فقد ا عتر فو ا ان القا ئم علی با ب المسجد او فی حدودہ او فنا ئہ حذا11ء المنبر قا ئم عند المنبر فبثت ان الا ذا ن عند المنبر و ذلک ما اردنا ہ وللہ الحمد حمد ا کثیر ا طیبا مبا ر کا فیہ کما یحبہ و یر ضا ہ ۔
صور ت مسئلہ یہ ہے کہ زید نے ایک دینا ر مسا وی دس درم یا زا ئد کا ایک ہلکا پھلکا منبر بنا یا جسے ایک آدمی بلا تکلف و بے زحمت و مشقت جہا ں چا ہے اٹھا لے جا ئے اذا ن منبر کے وقت زید ا سے مسجد میں لے کر پہنچا متو لی مسجد نے اسے ما لک سے عا ریۃ ما نگ لیا کہ نما ز سے فا ر غ ہو کر وا پس کر دیں گے بعد نما ز لو گ تو ادھر ادھر منتشر ہو گئے اور منبر وہیں پڑ ا رہ گیا اور ما لک سا منے مسجد کے دروازہ پر یا حد ود مسجد کے اند ر کھڑا رہ کرا سے دیکھتا اور نگر ا نی کر تا رہا اس اثنا میں ایک وھا بی چو ر ی کی نیت سے مسجد کے اندر دوسر ے دوروا زے سے دا خل ہوا اور ما لک کے ایک ذرارخ پھیر نے کا انتظا ر کر تا رہا جیسے ہی مہلت پا ئی مبنرع لے کر نکل بھا گا سو ا ل یہ ہے کہ وہ وہا بی چو ر ی کی علت میں ما خو ذ ہو گا یا نہیں اور اس کا ہا تھ کا ٹا جا ئے گا یا نہیں ؟ تو دا خل مسجد اذا ن کے حامی اگر یہ جوا ب دیں کہ نہیں تو ائمہ فقہ کی نص صریح کے خلا ف ہو گا کہ ان کا ارشاد ''جس نے مسجد کے اندر کے سا ما ن کو چر یا جبکہ ما لک اس سا ما ن کے پا س ایسی جگہ ہو جہا ں سے سا ما ن نظرآا رہا ہو تو اس کا ہا تھ کا ٹا جائیگا ''اگر یہ جوا ب دیں کہ ہا تھ کا ٹا جا ئیگا تو کا ٹنے کی شر ط یہ تھی کہ ما لک سا ما ن کے اتنے پا س ہو کہ اسکا محا فظ قرا ر دیا جا ئے کیو نکہ مسجد حود محفوظ جگہ نہیں تو ان لو گو ں نے یہ اعتر اف کر لیا کہ مسجد کے دروازے کے پا س اس کے فنا ء میں منبر کے سا منے کھڑا ہو نے وا لا منبر کے پا س ہی ہے یہ تو ہما را دعو ی تھا جس کا اعترا ف مخا لف نے کیا اللہ تعا لی کے لیے بے شما ر پا ک اور مبا ر ک تعر یفیں جس ے وہ را ضی ہو ا اور جسے پسند کرے ۔
(۱؎بحرالرا ئق کتاب السر قہ فصل فی الحر ز ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۵ /۵۹)
(۲؎الد ر المختا ر کتاب السر قہ فصل فی الحرز مطبع مجتبا ئی دہلی ۱/ ۳۳۴)