(۲؎القرا ن الکر یم ۴۱ /۳۸) (۳؎القرا ن الکر یم ۳۷ /۱۶۴)
''وقد مکر و ا مکر ھم و عند اللہ مکر ھم ۴؎''
وماکا ن لمکر الکفا ر ان یکو ن لہ قر ب من العزیز الجبا ر لا مکا نا لا ستحا لتہ ولا مکلا نۃ لا ستھا نتہ وانما ھو للحضور ای حا ضر بین ید یہ لا یخفی علیہ فیر جع الی معنی العلم ۔
(۹) اللہ عزوجل ارشا دفر ما تا ہے ''کا فر وں نے خدا سے مکر کیا ان کا مکر تو خدا ہی کے پا س ہے۔''کا فر و ں کے مکر کے لیے اللہ سے کو ئی قر ب نہیں نہ قر ب مکا نی کہ یہ ذا ت با ری کے لے محا ل ہے نہ قر ب مر تنی کہ مکر تو نہا یت ذلیل چیز ہے لا محا لہ اس آیت میں قر ب سے مراد حضور یعنی یہ اللہ تعا لی کے سامنے ہے اس سے پو شید ہ نہیں تو حضو ر علمی ہوا ۔
(۴؎القرا ن الکر یم ۱۴ /۴۶)
(۱۰) قا ل سبحا نہ ما اعظم شا نہ ثم محلہا الی البیت العتیق۱؎ یعنی البدن قا ل فی المعا لم ای عند البیت العتیق یر ید ارض الحرا م کلھا قا ل فالا یقربو ا المسجد الحرا م کلہ ۲؎،اھ جعل جمیع الجزا ء الحرم اذ کلھا منحر عند البیت ومعلو م ان کثیر ا منھا علی فصل فرا سخ من البیت الکر یم ۔
(۱۰)اللہ جل شا نہ نے ارشاد فر ما یا قربا نی کے جا نو ر ذبح کرنے کی جگہ بیت اللہ کے پا س ہے معا لم التنزیل میں فر ما یا الی البیت العتیق کا مطلب عند البیت العتق ہے یعنی حر م کی پو ر ی زمین (چنا نچہ دوسر ی جگہ )ارشاد ہو ا پو رے حر م کے قر یب نہ جا ؤ آیت مذکور ہ با لا میں پو رے حر م کو منحر عند البیت العتیق قرا ر دیا جب کہ حدود حر م مختلف جہا ت میں بیت اللہ شر یف سے کو سو ں دور ی پر ہے ۔
(۱؎القرا ن الکر یم۲۲ /۳۳)
(۲؎معا لم التزیل (تفسیر البغوی )تحت الا ۤیۃ ۲۲ /۳۳ دار الکتب العلیمہ بیر و ت ۳ /۲۴۲)
(۱۱) تر ی التا بعین یقو لو ن فی احا دیثھم کنا عند عا ئشۃ رضی اللہ تعا لی عنہا فلا ادر ی علی ای قر ب یحملہ المطلو ن
۔ (۱۱)احا دیث کر یمہ میں بہت سے تا بعین فر ماتے ہیں ہم ام المو منین حضرت عا ئشہ صد یقہ رضی اللہ تعا لی عنہا کے پا س تھے پتہ نہیں یہ با طل کوش یہا ں قر بت کو کتنے قر ب پر محمو ل کر یں گے ۔