Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
32 - 135
ومر ت فی النفحۃ الا ولی القر ا نیہ امر کل من فی مشھد ہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم بغض الصو ت ولا یختص با لذی یلیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فسوا ء فیہ من لد یہ ومن علی البا ب کلھم عند رسو ل اللہ بلا ارتیا ب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولا یحل لا حد ان یصیح و یصر خ فی حضر تہ او یر فع صو تا فو ق ضرورتہ ولو کا ن مفا د ''عند ''ما یز عمو ن لشمل ھذا الو عد الجمیل بمغفر ۃ واجر عظیم من قا م بحضر تہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی فصل عد ۃ اذرع فجعل یصیح مع اخر صیاحا شد ید ا منکرا فا ذا کا ن منہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بفصل شبر مثلا او تکلم ھو صلی اللہ تعالی  علیہ وسلم غضّ صو تہ وھذا لا یقو ل بہ مسلم لہ عقل ۔
نفحہ اولی قرآنیہ میں واضح کر آئے ہیں کہ یہ حکم ہر اس شخص کے لیے ہے جو رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیش نگا ہ ہو حضور کے با لکل پا س بیٹھنے وا لو ں کے لیے کچھ خا ص نہیں بلکہ جو پا س ہے اورجو باب مسجد کے پاس ہے سب کے لیے یہی ھکم ہے محرا ب رسو ل اور دروازہ مسجد پر بیٹھنے والے دو نو ں ہی عند رسو ل اللہ کہے جا ئیں گے سبھی کے لیے چیخنا اور چلا نا منع ہے بلکہ یہ کہیئے کہ ضرورت سے زیا دہ آوا ز نکلا لنا منع ہے اور اس مقا م پر اگر عند کے وہی معنی ہو ں جو یہ لو گ اذا ن عند منبر میں مراد لیتے ہیں آواز پست رکھنے پر مغفر ت اور اجر عظیم کے وعد ہ کا مستحق وہ بے ادب بھی ہو جا ئےگا جو رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم سے چند ہا تھ کی دوری پر کھڑا چیخ رہا ہو یا صر ف اس کے لیے خا ص ہو گی جو حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایک با لشت کی دوری پر کھڑا ہوکر کسی سے پست آواز میں با ت کر ے یا خود حضور ہی سے کلا م کر ے اور چارہاتھ دور کھڑا ہو کر کسی سے پست آواز سے با ت کر ے تو وہ دائرہ رحمت و مغفر ت سے با ہر ہے کہ (وہ عند رسو ل اللہ نہیں) بھلا کو ن عقلمند مسلما ن ایسا کہہ سکے گا ۔
 (۲) قا ل جل وعلا :
''ھم الذین یقو لو ن لا تنفقو ا علی من عند رسو ل اللہ حتی ینفضو ا ۱؎۔''
 (۲) ارشا د الہی ہے :
''یہ منا فقین کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم خر چ نہ کر و تا کہ یہ ادھر اُدھر منتشر ہو جا ئیں۔''
 (۱؎ القرا ن الکر یم ۶۳ /۷)
وھذا وسع من ذا ک یشمل کل من فی خد متہ وان لم یکن الا ن فی حضر تہ ۔
یہا ں عن کا مفہو م پہلے وا لی آیت سے بھی وسیع ہے کیو نکہ یہا تو عند سے مراد وہ سبھی لو گ ہیں جو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خد مت کر تے ہیں اگر چہ فی الحا ل حضو ر سے بہت دور ہو ں ۔
 (۳)قا ل تبا ر ک و تعا لی :
''یقو لو ن طا عۃ فا ذا بر زوا من عند ک بیت طا ئفۃ منھم غیر الذی تقو ل واللہ یکتب ما یبیتو ن ۱؎۔''
 (۳) اللہ تبا ر ک وتعا ی کا ارشا دگر ا می ہے (کہ منا فق آپ کے سا منے کہتے ہیں ):''ہم آپ کے فرما نبردار ہیں ، اور جب آپ کے پا س دے دور ہو جا تے ہیں تو ان کی ایک جما عت اس کے خلا ف بو لنے لگتی جو آپ کے سا منے کہہ چکے ۔''
 (۱؎القرا ن الکر یم۴ /۸۱)
ھذا فی المنا فقین وما کا نو یلو نہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فی المجلس انما کا ن ذلک لا بی بکر وعمر رضی اللہ تعالی عنھما ثم لا یختص بمن کا ن اقر ب منھم با لنسبۃ الی الا خر یشمل ہو جمیعا ۔
یہ منا فقین کے حا ل کا بیا ن ہے اور تا ریخ شا ہد ہے کہ منا فقین رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے دربا ر میں آپ کے با لکل پا س نہیں بیٹھتے تھے قر یب کی جگہ تو ابو بکر وعمر ،عثما ن وعلی و دیگر مخلصین صحا بہ کے لیے تھی منا فقین تو ادھر اُدھر آنکھ بچا کر بیٹھتے تھے اگر کچھ کسی مجبور ی سے آپ کے سا منے بیٹھ بھی گئے ہو ں تو عند کہہ کر سبھی منا فقین مراد ہیں قر یب بیٹھنے وا لے ہو ں یا دور ۔
 (۴)قا ل المو لی سبحا نہ وتعا لی
''ان المتقین فی جنت و نھرo  فی مقعد صد ق عند ملیک مقتدرo ۲؎۔''
''بے شک متقین با غو ں اور نہر و ں میں سچ کی مجلس میں عظیم قد ر ت وا لے با دشا ہ کے حضور ہو ں گے ۔''
 (۲؎القرا ن الکر یم   ۵۴ /۵۴،۵۵)
عمت کل متق و لکن این احا د الصلحا ء من العلما ء و العلما ء من الا ولیا ء والا ولیا ء من الصحا بۃ و الصحا بۃ من الانبیا ء والا نبیا ء من سید الا نبیا ء صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فر ق لا یقد ر ولا یقد ر بشر ا ن یتصور اعظم با لو ف الآف مرا ت مما بین الفلک الا علی وما تحت الثری وقد شملت کلھم عند ۔
یہ آیت تو سا رے ہی متقیو ں کو گھیر ے ہو ئے ہے لیکن اس میں کہا ں بہ نسبت اولیا ء کے کسی صا لح مسلما ن کا در جہ اور بہ نسبت اولیا ء کے کسی عا لم کا در جہ ،اور بہ نسبت انبیا ء کے کسی ولی کا درجہ اور کہا ں سید الا نبیا ء اور دیگر انبیا ء علیہم السلا م کا درجہ ان مر اتب میں تو فلک الا فلا ک اور تحت الثری سے بھی زیا دہ فا صلہ ہے مگر سب کو عند اللہ سے بیا ن کیا گیا ہے ۔
 (۵) مثلہ قو لہ عزوجل
''ان للمتین عند ربھم جنت النعیم  ۱؎''
 (۱؎القرا ن الکر یم۶۸ /۳۴)
 (۵) اسی طر ح اللہ عز وجل کا ارشا د گر امی ہے
''بے شک متقین کے لیے رب کے پا س جنت نعیم فر ما یا ہے۔''
 (۶)فی اٰیۃ اخر ی وقا ل العلی الا علی تبا ر ک وتعا لی
''اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ۔۲؎''
 (۶)دوسر ی آیت میں اللہ تبا ر وتعالی نے فر ما یا :''اس نے دعا ما نگی یا اللہ !میر ے لیے اپنے پا س جنت میں ایک مکان بنا دے ۔''
 (۲؎القرا ن الکر یم ۶۶ /۱۱)
ومعلو م ان اللہ تعا لی قد اتجا ب لھا وقد فر ج لھا ففی الد نیا ون بیتھا کما فی حد یث سلما ن ۳؎و حد یث ابی ہر یر ہ بسند صحیح رضی اللہ تعا لی عنہما وما کا نت لتطلب اقر ب المنا زل وا ن تفضل علی الانبیا ء والر سل علیہم و علیھا الصلو ۃ والسلا م ،بل قربا یلیق بھا وان لم یساوی ما لخدیجۃ و فا طمۃ و عا ئشۃ رضی اللہ تعا لی عنھن فضلا عن الا نبیا ء الکر ا م علیہم الصلو ۃ السلا م ۔
 (مذکو رہ با لا آیت کے تحت )حضر ت سلما ن وحضر ت ابو ہر یر ہ رضی اللہ تعا لی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعا لی نے ان پا ک بی بی کی دعا قبو ل کر لی تو کیا وہ انبیا ء واولیا ء سے بھی زیا دہ قر ب الہی کی طا لب تھیں وہ تو اس کی خواستگا ر تھیں کہ قر ب کا وہ مقا م جو ا ن کے لا ئق عنہن کے در جہ کے ہم پلہ بھی نہ ہو چہ جا ئیکہ انبیا ء عظا م علیہم الر حمہ والر ضوا ن کے در جہ کے بر ابر ہو ۔
 (۳؎جا مع البیا ن (تفسیر ابن جر یر )تحت الا یۃ۲۲ /۱۱دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر وت ۲۸ /۱۹۲)

(الدر المنثورتحت الا یۃ۲۲ /۱۱دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر وت۸ /۲۱۳)
(۷) وقا ل عزوجلا فی الشھد اء
''بل احیا ء عند ربھم ''۱؎
این رجل من احا د الشھد ا ء من سید ھم حمزۃ رضی اللہ تعا لی عنہ بل من نبی اللہ یحیی وغیر ہ ممن استشہد من الا نبیا ء علیھم الصلو ۃ والسلا م ۔
 (۷)اللہ تعا لی نے شہد ائے کر ام کے بارے میں ارشا د فر ما یا ''شہدا ء اللہ تعا لی پا س زند ہ ہیں ۔''تو بھلا کہا ں سید الشہد ا ء امیر حمزہ رضی اللہ تعا لی عنہ کا مقا م بلند اور کہا ں اللہ تعالٰی کے نبی یحیٰی علیہ السلام کا مقا م بلنداور کہاں عا م شہد ا ء کر ام رضو ان اللہ تعا لی علیھم کی منزل بلکہ انبیا ء کرا م علیہم السلا م میں شہا دت پا نے وا لو ں کی منزلیں ۔
 (۱؎القرا ن الکر یم۳ /۱۶۹)
Flag Counter