Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
31 - 135
ورابعاً : ذکر الا ما م القد ور ی فی الکتا ب الحر ز علی ضربین منھما حر ز با لحا فظ۱؎فقا ل فی الجو ھر ۃ النیر ۃ ''ھذا اذکا ن الحا فظ قر یبا منہ بحیث لا یر ا ہ فلیس بحا فظ ۲؎،۱ھ''فا نظر جعل ما یر ی قر یبا وما نا ی بحیث لا یر ی بعید ا فھذا ھو معنی القر ب فی کلا م الرا غب مو فق لما نص علیہ الا ئمۃ الا طا ئب۔
رابعا:  اما مقد ور ی نے اپنی کتا ب میں فر ما یا اشیا ء کی حفاظت کے دو طر یقے ہین(۱)نگر ا ن کے ذریعہ حفاظت جوہرہ  نیر ہ میں اس کی تشر یح فر ما ئی کہ محا فظ چیز سے اتنا قر یب ہو کہ اسے دیکھتا رہے اور اگر اتنا دو ر ہو یا کہ چیز نگاہ سے اوجھل ہو گئی تو یہ حفا ظت نہیں ہے اما م قد وری اور صا حب جو ہر ہ نے قر ب و بعد کا مدار دیکھنے نہ دیکھنے پر رکھا تو کلا م را غب میں بھی قر ب سے مراد یہی حا ضر و مشا ہد ہو ناچا ہیے جیسا کہ دیگر ائمہ لغت و تفسیر کی تحقیق ہے ۔
 (۱؎المختصر للقد وری کتا ب السر قۃ مطبع مجید ی کا نپو ر ص۲۵۰)

(۲؎الجوھرۃ النیرۃ    کتا ب السر قۃ    مکتبہ امدادیہ ملتان  ۲/ ۲۶۱)
خا مساً : یقو ل لک الر ا غب اراغب انت عن بقیۃ کلا می یا غفو ل فا ن کلا مہ ھکذا ''یقا ل ھذا الشیئ قر یب منک وعلی ھذا قولہ :  لہ ما بین اید ینا و مصد قا لما بین ید ی من التو را ۃ الخ وقو لہ قا ل الذین کفر وا لن نؤمن بھذا القرا ن ولا با لذی بین ید یہ ای متقد ما لہ من الا نجیل ونحو ہ ۱؎ ۱ھ (با ختصا ر )''
خا مسا: اس مستد ل سے خود اما م را غب کو شکا یت ہو گی کہ اس نے میر ی پو ری با ت یا د نہیں رکھی کیو نکہ ان کی پو ری با ت تو یہ ہے  :''محا روہ ہے کہ یہ چیز تمھا رے سا منے یعنی تم سے قر یب ہے اللہ تعا لی کے مند رجہ ذیل اقوا ل میں لفظ بین ید یہ سے یہی قر ب مراد ہے (مثلا اللہ تعالی نے فر شتو ں کی زبا نی سے کہلا یا )جو ہما رے سا منے ہے سب خدا کے لیے ہے (اور قرآن کے لیے خو د فر مایا )اپنے سے آگے عالے کتاب تو را ۃ کی تا ئید کر تا ہے اور کا فر و ں کا قول  نقل کیا کہ ہم نہ تو قرآن پر ایما ن لا ئیں گے نہ اس سے پہلے کی کتا بو ں مثلا انجیل وغیر ہ پر ''
 (۱؎المفر دا ت فی غرا ئب القرا ن البا ء مع الیا ء تحت اللفظ ''بین''نو ر محمد کا ر خا نہ تجا ر ت کتب کر اچی ص۶۸)
فانظر علی ما حمل القرب وقد جعل مفرعا الیہ "لہ ما بین ایدینا" اتراہ یقول ان مراد لاملٰئکۃ تخصیص ملک اللہ تعالٰی بما یلیھم۔
اس پوری عبارت میں امام راغب نے بین یدیہ کے معنی قریب بتاکر اس کا مصداق لہ مابین ایدینا کو قرار دیا، توکیا فرشتوں نے ہمارے سامنے کہہ کر صرف اپنی متصل اشیاء مراد لی ،کیا صرف وہی اللہ تعالٰی کی ملک ہیں ؟
وسا دساً:فر ع علیہ ''مصد قا لما بین ید ی من التو را ۃ ۱؎''وبینھما الفا سنۃ فا ذا لم یمنع ھذا الفصل الکثیر الزما نی من القر ب لم یمنع منہ الفصل القلیل المکا نی بین المنبر و حر ف المسجد و ربما لا یبلغ ما ئۃ ذرا ع بل ولا فی کثیر من المسا جد عشر ین ۔
سادساً : اسی معنی قر یب کی فر ع مصد قا لما بین ید ی من التو را ۃ کو کہا جن میں دوہزا ر سا ل کا فا صلہ ہے تو جب  یہ عظیم زما نی فا صلہ لفظ بین ید یہ کے معنی قر ب کے منا فی نہیں تو قر ب مکا نی میں مسجد کے حدود اور اس سے متصل زمین کا فا صلہ بین ید یہ کے معنی قر ب کے کیا منا فی ہو گا جو عا م طو ر سے سو ہا تھ بھی نہیں ہو تا بلکہ کئی مسا جد میں بیس ہا تھ بھی نہیں ہو تا ۔
 (۲؎القرا ن الکر یم ۳ /۵۰)
وسا بعاً : ثم قا ل الرا غب انزل علیہ الذکر من بیننا ای من جملتنا وقو لہ لن نؤ من بھذا القرا ن ولا بالذی بین ید یہ ای متقد ما لہ من الا نجیل و نحو ہ ۲؎ انتھی فھذا تفسیر اخر لبین ید یہ '' تقیید با لقر ب فقد افا د کلا الو جھین واقتصر ت علی الا ول بالشین والمین ۔''
سابعا : اگر اما م راغب کے قو ل ''قو لہ وقا ل الذی کفر و ا کو ما سبق وا لے قو لہ پر ہی معطو ف قرا ردیجئے تو اب لگ بھل تین ہزار سا ل کا فا صلہ بھی قر یب ہی ہو گا اور اس کو جملہ مستا نفہ قرار دیا جا ئے تو اب یہ لفظ بین ید یہ کے دوسرے معنی کا بیان ہو تا کہ بین ید یہ کے معنی (جیسے قر یب ہو تے ہیں ویسے اس کے ایک معنی )جملہ کتب ما ضیہ بھی ہیں جو بعید تر ہیں اسی طر ح اما م را غب کے ہی بیا ن سے بین ید یہ کے ،معنی قر یب و بعید دو نو ں ہی ثابت ہو ئے  پھر آپ کو معنی قر ب پر اصرا ر کیو ں ہے ؟''
 (۱؎المفر دا ت فی غرا ئب القرا ن الیا ء مع البا ء تحت اللفظ ''بین ''نو ر محمد کا ر خا نہ تجا ر ت کتب کر ا چی ص۶۸)
وثا مناً : سلمنا لک ان مراد الر اغب ما تر ید ولکن ھذا صا حب رسو ل اللہ صلی للہ تعالی علیہ وسلم السا ئب بن یزید العر بی صا حب اللسا ن یقو ل کا ن یو ذن بین یدیہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی وسلم علی باب المسجد ۱؎ھو ا علم باللسان ام انت و راغبک و با لجملۃ احد یث فی جبھۃ حجا جکم کیۃ لا تمحی فللّٰہ الحمد ،
ثا مناً: چلئے ہم نے اما م راغب کے قو ل کی وہی مراد تسلیم کر لی جو آپ کو مر غو ب ہے مگر اس کو کیا کجیئے گا کہ صحا بی رسو ل حضر ت سا ئب بن یزید عر بی رضی اللہ عنہ جو خو د بھی صا حب زبا ن ہیں اور آپ اور آپ کے اما م راغب دو نو ں سے زیا دہ عر بی زبا ن کی با ریکیا ں سمجھتے ہیں وہ حضو ر صلی اللہ تعا لی وسلم کی اذا ن جمعہ کو بین ید ی رسو ل اللہ علیہ وسلم کی اذا ن جمعہ کو بین ید ی رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھی کہتے ہیں اور علی با ب المسجد بھی کہتے ہیں یہ حد یث گر ا می تو آپ کی کٹھ حجتی کے منہ پر ایسی مہر ہے جس کا ٹو ٹنانا ممکن ہے ہم اس پر اللہ تعالی کی حمد بجا لا تے ہیں ۔
تا سعاً: اعتر ف ھذالمستد ل با ن بین ید یہ فی بعض المو ا ضع بحسب المقا م تکو ن خا لیاً تکو ن خا لیا عن معنی القرب دالا علی مجر د المحا ذا ۃ قا ل کما صا ر واقعا فی بعص الایا ت القر ینیۃ ایضا لکن ھھنا ای فی مسئلۃ الا ذا ن لم یصر ح بھذا فی کتاب (۱ھ متر جما )فقد اقرا ن بین ید یہ یستعمل علی کلا الوجھین وانہ ورد فی القرا ن العظیم ایضا با لوجہین  ثم یقو ل لم یصر ح بہ ھھنا فی کتاب یا مسکین انت المستد ل واذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستد لا ل فما ینفعک عد م التصریح انہ انما کا ن علیک ان تبد ی تصریحا بنفیہ و لکن الجھل بمسا لک الا حتجا ج یا تی با لعجا ئب ۔
تا سعاً : مستد ل نے یہ بھی اعترا ف کیا ہے کہ بین یدیہ بعض مواقع میں قر ب سے خا لی بھی ہو تا ہے اور صر ف سامنے اور مقا بل کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ بعض آیا ت قرا نی میں بھی وا قع ہو ا ہے مگر مسئلہ اذا ن میں جو لفظ بین ید یہ آیا ہے اس کے معنی صر ف وہ محا ذا ۃ ہے جو قر ب سے خا لی ہو اس کی تصر یح کسی نے نہیں کی ہے ۱ھ۔مقا م حیر ت ہے کہ ''بین ید یہ ''کو قر یب و بعید دونو ں کے لیے ما ن کر اور یہ تسلیم کر کے کہ قرا ن عظیم میں ایسا وارد ہے اور مستد ل ہو کر سا دگی سے یہ کہنا کہ مسئلہ متنا زعہ میں بین ید یہ کے معنی بعید ہو نے کی تصر یح کہیں سے ثا بت نہیں (الٹی بھیر ویں الاپنا ہے) اس عد م ثبو ت سے مستد ل کو کیا فا ئد ہ پہنچے گا ۔آپ کا استد لا ل تو اس احتما ل کے تسلیم کر تے ہی ختم ہو گیا کہ ''اذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستدلا ل ''اب تو اگر آپ یہ ثا بت کر سکتے ہیں کہ مسئلہ اذا ن میں اس لفظ کے معنی بعید نہیں مراد ہیں تو با ت بنتی اور یہ آپ کے بس سے با ہر ہے جبھی تو معنی محتمل مراد نہ ہو نے کی تصر یح کے عدم سے استد لا ل کر نے لگے سبحا ن اللہ !یہ بھی پتہ نہیں کہ مستدل کا مو قف کیا ہے اور معتر ض کو کس با ت سے فا ئد ہ پہنچتا ہے۔
ثم قو لہ لما لا یر ید ہ ولا یر ضا ہ کما صا ر واقعا فی بعض اٰ یا ت القرا ن ایضا یلمح الی شیئ اصعب فا ن مثل ھذا ا لکلا م فی مثل ھذا المقا م یقا ل لما وقع سہو ا ا و خطا ءً علی خلا ف الجا دۃ نسا ل اللہ العفو و العا فیۃ ۔
اسلو ب بیا ن کی خا می یہ جملہ جیسا کہ قرا ن کی بعض آیا ت میں واقع ہو ا یہ بتا نے کے لیے بو لتے ہیں کہ یہ جوواقع ہو ا سہو ا و خطا ءً واقع ہو ا کیا قرا نی آیا ت کے لیے یہ اسلو ب بیا ن صحیح ہے اللہ تعالی سے ہم عفو کے طالب ہیں
عا شر ا : اذ قد ثبت فی القران العظیم فلم انت را غب عنہ الی قول الر ا غب و تزعم ان المفا د ھو الذی قا لہ لا ما وقع فی القرا ن الکریم فا ن زعمت ان ما انت فیہ لیس محلہ کا ن علیک ابد ا ء ما ھو محلہ وانہ فی القرا ن لا ھھنا واثبات کل ذلک بالبینۃ والا فلم تقر بانہ فی القرآن المجید ثم انت عنہ تحید ولا ھو ل ولا قو ۃ الا با للہ العلی العزیز الحمید ۔
عاشر اً : جب تم نے یہ تسلیم کر لیا کہ ''بین ید یہ ''کے معنی قرآن میں بعید مقا بل کے لیے ہے تو اس سے منہ مو ڑ کر اس کے را غب کے بیان کے مطا بق قر یب لینے کی کیا وجہ ہے اگر کو ئی وجہ فر ق تھی تو آپ کو دو نو ں ہی پہلو کے لیے دلیل دینی چا ہیے تھی کہ قرآن میں بعید ہو نے کی یہ وجہ ہے اور اذا ن میں قریب مراد ہو نے کی دلیل یہ ہے  اور جب آپ کے پا س تفر یق کی کو ئی دلیل نہی تو قرآن عظیم سے رخ مو ڑ کر را غب کا دا من پکڑنا کار ذلیل ہے ۔
نفحہ ۳:  نص ائمتنا فی الا صو ل ان ''عند للحضور ''قا ل الا ما م الا جل فخر الا سلا م البزدوی فی اصو لہ والا مام صد ر الشر یعۃ فی التنقیح والتو ضیح ،واقرہ العلا مۃ سعد التفتا زا نی فی التلو یح (عند للحضر ۃ ۱؎) وفی تحر یر المحقق علی الا طلا ق وشر حہ التقر یر لتلمیذہ المحقق الحلبی (عند للحضر ۃ )الحسیۃ نحو فلما را ہ مستقر ا عند ہ ،والمعنو یۃ نحو قا ل الذی عند ہ علم من الکتاب ۱؎ ۱ھ وقا ل الا ما م الا جل ابو البر کا ت النسفی فی المنا ر وشر حہ کشف الا سرا ر والعلا مۃ شمس الد ین الفنار ی فی الفصو ل البد ا ئع فی الا صو ل الشرائع والعلا مۃ مولی خسر و فی مرا ۃ الا صو ل و شر حۃ مرقا ۃ لو صو ل (عند للحضر ہ الحقیقۃ او الحکمیۃ ۱ھ،۲؎) وفی مسلم الثبو ت للمد قق البھا ری و شر حہ فو ا تح الر حمو ت للملک العلا ما ء بحر العلو م عبد العلی (عند للحضرۃ الحسیۃ ) نحو عند ی کوز (والمعنویۃ )نحو عند ی دین لفلا ن ۳؎۱ھ ۔
نفحـہ۳ : ہما رے اما مو ں نے اصو ل کی کتا بو ں میں تحریر فر ما یا کہ عند حضور کے لیے ہے چنا نچہ اما م فخر الا سلا م بزدوی نے اپنے اصو ل میں اور اما م صد ر الشر یعہ نے تنفیح و تو ضیح میں اور علا مہ تفتا زا نی نے تلو یح میں فرما یا کہ ''عند حجو ر کے لیے ہے محقق علی الا طلا ق اور ان کے شا گر د رشید محقق حلبی کی شر ح تقر یر میں ہے کہ عند حضو ر حسی کے لیے ہے جیسے آیۃ کر یمہ فلما را ہ مستقر ا عند ہ،  اور حضور معنو ی کے لیے جیسے وقا ل الذی عند ہ علم من الکتا ب اس نے کہا جس کے پا س علم کتاب تھا اور اسی طر ح اما م اجل ابو البرکا ت نسفی نے منا ر میں اور اس کی شر ح کشف الا سرا ر میں اور علا مہ شمس الد ین الفنا ری نے فصو ل البد ا ئع فی اصو ل الشر ائع میں مولاخسر و نے مرا ت الا صو ل اور اس کی شر ح مرقات الو صو ل میں فر ما یا کہ عند حضور حقیقی یا حکمی کے لیے آتا ہے مد قق بہا ری نے مسلم الثبو ت میں ملک العلما ء بحر العلو م نے فوا تح الر حمو ت میں فر ما یا کہ عند حضورحقیقی کے لیے ہے جیسے عند ی کو ز (میر ے پا س پیا لہ ہے )۔ اورمعنو ی کے لیے جیس ے عند یدین لفلان (مجھ پر فلا ں کا قر ضہ ہے ) ۔
 (۱؎اصو ل البزدوی با ب حروف البحر نور محمد کا ر خا نہ تجا ر ت کتب کرا چی ص۱۱۳)

(۱؎التقر یر  و التحبیر مسئلہ عند  للحضر ۃ دار الفکر بیر وت ۲ /۱۰۱)

(۲؂مرقاۃ الاصول شرح مرآۃ الاصول  )

 (فصو ل البد ا ئع فی اصول الشر ائع )

(۳؎فواتح الر حمو ت شر ھ مسلم الثبو ت بذیل المستصفی مسا ئل الظروف مسئلہ عند للحضر ۃ منشورات الشر یف الر ضی قم ایران     ۱ /۲۵۰)
ومعلو م ان کلا حا ضر بالمر أی  وکل ما بالمر أی قریب فلا القر ب ینکر ولا فی الاتصا ل یحصرفما د عند او سع من مفا د ''بین ید یہ ''فضلا عن ان یزید ضیقا علیہ وقد فرقوا بین لدی وعند با ن عند یستعمل فی القر یب والبعید ولد ی مختص با لقر یب ۔قا ل الر ضی فی شر ح الکا فیۃ عند اعم تصرفا من لد ی لا ن عند یستعمل فی الحا ضر القر یب وفیما ھو فی حرزک ان کا ن بعید اً بخلا ف لد ی فا نہ لا یستعمل فی البعید ۱؎۱ھ ، والقر ب کما علمت ذو وسع بعید و لنو ضح ھھنا ایضا با یا ت الکلا م الحمید ۔
اور یہ با لکل واضح ہےکہ حا ضر پیش نگا ہ ہے اور جو پیش نگا ہ ہے قریب ہی کہا جا ئے گا تو نہ تو عند کے معنی سے قر ب کے انکا ر کی گنجا ئش اور نہ عند کے لیے سا تھ چپکا ہو نا ضروری ہے اور سچ پو چھو تو عند اپنے مفا د میں بین ید یہ سے بھی زیا دہ وسیع ہے نہ یہ کہ عند کو بین ید یہ سے تنگ ما نا جا ئے چنا نچہ عند اورلد ی میں یہی فر ق بیا ن کیا جا تا ہے کہ عند قریب و بعید دونو ں کے لیے اور لد ی خا ص طو ر سے قر یب پر دلا لت کر تا ہے رضی نحوی نے شر ح کا فیہ میں تحریر کیا  :''عند اپنے تصر فا ت میں لد ی سے اعم ہے کہ وہ پا س اور دور دونو ں میں مستعمل ہے اور لدی کا استعما ل بعید میں ہو تا ہی نہیں ہے ۔''اور ہم پہلے بیا ن کر آئے ہیں کہ خود قر یب کی جو لا نگا ہ بھی بہت وسیع ہے مزید آیا ت قرآنیہ سے ہم اسے واضح کر تے ہیں :
 (۱؎الر ضی فی شر ھ الکا فیہ ''الظروف''لدی ولد ن وقحط عو ض دار الکتب العلمیہ بیر وت ۲ /۱۲۳)
 (۱) قا ل اللہ عز و جل :
''ان الذین یغضو ن اصوا تھم عند رسو ل اللہ ۲؎(الا یۃ )۔''
 (۱) اللہ تعا لی نے فر ما یا :''جو لوگ رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے حضور اپنی آواز پست کر تے ہیں ۔''
 (۲؂القرآن الکریم   ۴۹/ ۳)
Flag Counter