(۸) تضع شیئا بین ید ی أحد لاکلہ فھذا علی ما تصل ید ہ الیہ کحد یث البخاری عن جا بربن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنھما ۔جئت بقلیل رطب فو ضعتہ بین ید ی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاکل ۱؎۔
تم کسی کے آگے کچھ کھا نے کے لیے رکھ دو تو یہ اسی حد تک ہو گا جہا ں تک اس کا ہا تھ پہنچ جا ئے جیسا کہ حد یث بخا ری جو سید نا جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعا لی عنہما سے مروی ہے کہ ''میں تھو ڑی سی تر کھجوریں لا یا اور حضور انو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں جنھیں آپ نے تنا ول فر ما یا ۔''
(۱؎صحیح البخا ری کتا ب الا طعمہ با ب الر طب والتمر قد یمی کتب خا نہ کرا چی ۲ /۸۱۸)
(۹) مقا بلان علی صحفۃ یا کلا ن منھافیأخذ احد منھما شیئا منھا ویضع بین ید ی صا حبہ فھذا علی جا نب الصحفۃ الذی یلی صا حہ کحد یث البخا ری عن انس رضی اللہ تعالی عنہ فجعلت اتتبع الدبا ء وا ضعہ بین ید یہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۲؎ ۔
(۹) دوشخص آمنے بیٹھ کر ایک پیا لے میں کھا رہے ہو ں اور ان میں سے ایک شخص پیا لے سے کو ئی شے لے کر اپنے سا تھی کے قر یب جیسا کہ حد یث بخاری جو سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سر مروی ہے کہ میں کد و تلا ش کر نے لگا اور اسے رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آگے رکھنے لگا ۔
(۲؎صحیح البخا ری کتا ب الا طعمہ با ب الثر ید قد یمی کتب خا نہ کرا چی ۲ /۸۱۵)
(۱۰) جعلنا من بین اید یھم سدا ۳؎
علی الا تصا ل الحقیقی کما علمت ۔
(۱۰) ہم نے ان کے آگے ایک دیو ار بنا دی یہ اتصا ل حقیقی پر محمو ل ہے جیسا بنا دی یہ اتصا ل حقیقی پر محمو ل ہے جیسا کہ تو نے جا نا ۔
(۳؎القرا ن الکر یم ۳۶/ ۹)
وبا لجملۃ کل ھذہ الا ختلا فا ت انما تنشؤ من اختلا ف المقا ما ت ولا دلا لۃ علی شیئ منھا للفظ بین ید یہ واذا کا ن الا مر علی ما وصفنا بطل الا ستد لا ل بہ علی الا تصا ل او القر ب الاخص حتی یستفا د منہ کو ن الا ذا ن دا خل المسجد فضلا عن کو نہ لصیق المنبر وھم المستد لو ن فلیا تو ا ببر ھا ن ان کا نو ا صادقین وانی لھم ذلک وا ذ قد عجز وا و للہ الحمد فیسا لو نا ان نتبر ع ونفید ھم ان القر المد لو ل ھو ان یکو ن ظا ھر ا مشا ھد ا لا یحتا ج معہ فی رؤیتہ الی تحو یل الو جہ کما قد منا التنصیص بہ عن الا ئمۃ ھذا ھو القد ر المشتر ک والزیا دۃ تستفا د من خصو ص المقا م کما علمت وھی ھھنا کو ن الا ذا ن فی حد ود المسجد وفنا ئہ فتم الا مر وحصل النصر فظہر امر اللہ وھم کا ر ھو ن والحمد للہ رب العلمین ۔
خلا صہ کلا م یہ ہے کہ قر یب کے یہ مختلف معا نی مو ارد اور مقا مت کے اختلا ف کی وجہ سے پید ا ہو ئے ہیں۔ان معا نی پر دلا لت کر نے میں خو د لفظ ''بین ید یہ'' کو کو ئی دخل نہیں اور جب صور ت حا ل یہ ہے تو لفظ بین ید یہ سے کسی خا ص قر ب پر استدلا ل با طل ہے جس سے اذا ن کا منبر کے متصل یا مسجد کے اندر ہو نا سمجھا جا ئے نہ کہ یہ حکم دیا جا ئے کہ اذا ن منبر سے لگ کر دی جا ئے اور چو نکہ اس قر ب کے مد عی وہ لو گ ہیں اور لفظ بین ید یہ سے اس مد عی پر وہی لو گ استد لا ل کر تے ہیں تو انہیں ہی علیحد ہ سے کو ئی دلیل لا نی چا ہیے کہ یہا ں اس لفظ سے مراد یہی قر ب ہے اور یہ بھلا ا ن کے بس کی با ت کہا ں !اور وہ خو د یہا ں بین دید یہ کے معنی متعین کر نے سے عاجز ہو ں توہم سے دریا فت کر یں ہم تبر عا انہیں بتا تے ہیں کہ یہا .ں وہی قر ب مراد ہے جواس لفظ کا مد لو ل ہے یعنی موجو د و مسا ہد جسے دیکھنے کے لیے چہر ہ دا ئیں یا با ئیں مو ڑنے کی ضرور ت نہ پڑے قر ب کے تما م افراد میں یہی معنی مشتر ک ہے اور اس معنی پر اضا فہ تو مو قعہ استعما ل کی خصو صیت سے مستفا د ہو تاہے جو مسئلہ دائر ہ میں مسجد کی با ہر ی حد یں اور بیر ونی صحن ہے با ت مکمل ہو گئی اور مسلک حق مؤید با لدلیل ہو گیا اللہ تعالی کا فیصلہ ظا ہر ہو گیا مگر یہ لو گ اس کو نا پسند کر تے ہیں ہم تو اس ظہو ر حق پر اللہ تعالی کی حمد ہی کر تے ہیں ۔
ثا لثا: نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الحکم العد ل وما کا ن عھد ہ فھو الفصل الم تسمع من الحد یث الصحیح ان ھذا ا لاذا ن کا ن یکو ن بین ید یہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی با ب المسجد فعلم ان ھذا القد ر من القر ب ھو المراد ھھنا فمن زادا و نقص فقد تعد ی وظلم ای من زاد فی القر ب فا دخل الا ذا ن فی المسجد با لمعنی الاول فقد تعد ی فی سنۃ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ومن نقص منہ فجعل ھذا الاذا ن خا رج المسجد با لمعا نی الثلثۃ فقد ظلم ومن جعلہ داخل المسجد با لمعینین الا خر ین و خار ج المسجد با لمعنی الا ول فھو الذی بالحق حکم و حکم اللہ ورسو لہ اجل واحکم جل و عز وتعالی و تکر م وصلی اللہ تعا لی علیہ وسلم ۔
ثالثاً : یہا ں بین ید یہ کی حدمتعین کر نے کے لیے رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ ولسم ھکم العد ل ہیں اور جو حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد میں ہو تا تھا وہی حق و با طل کے درمیا ن امتیازہے جسے حد یث صحیح سے سنا جا چکا کہ حضور کے سا منے مسجد کے دروا زہ پر اذا ن ہو تی تھی تو یہا ں قر ب کی بحکم رسو ل یہی حد مقر ر ہو ئی اور جو اس پر اضا فہ کرے یااس میں کمی کرے وہ ظلم و تعدی کرنے والا ہے پس جس نے اس قرب مروی میں اضافہ کرکے داخل مسجد کر دیا تو اس نے سنت رسو ل پر زیا دتی کی ،اور جس نے اس قر ب میں کمی کی کہ ہر سہ معنی مسجد سے اس کو خا رج کرد یا اس نے بھی ظلم کیا اور جس نے دو آخری معنی کے اعتبا ر سے خا رج مسجد کیا اور معنی اول کے اعتبا ر سے دا خل مسجد کیا، اس نے حق کے موافق حکم کیا ،اور حکم و اللہ ورسو ل جل وعلا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔
نفحہ ۲: ظہر مما زھر وللہ الحمد سفا ھۃ من تشبث ھھنا یقو ل الرا غب فی مفرا دتہ یقول : یقال ھذا الشیئ بین ید یک ای قر یبا منک ۱؎،۱ھ وبکلا م الکشاف والمدارک :حقیقۃ قولھم جلست بین یدی فلا ن ۲؎الخ
نفحہ ۲: الحمد للہ گز شتہ صفحا ت میں تحقیقات کے جو گلشن لہلہا ئے ان سے ان صا حب کی نا سمجھی ظا ہر ہو گئی جنھو ں نے اذا ن خطیب کے دا خل مسجد ہو نے پر مفردات اما م راغب اصفہا نی کے اس قول سے استد لا ل کیا کہا جا تا ہے کہ یہ چیز تمھا تے سا منے ہے یعنی تم سے قریب ہے اور کشا ف اور مدا ر ک کے مذکو رہ با لاقو ل سے "میں فلا ں کے سا منے بیٹھا الخ ''۔
(۱؎المفردات فی غرا ئب القرا ن البا ء مع الیا ء تحت اللفظ ''بین ''نو ر محمد کا ر خا نہ تجا ر ت کتب کر اچی ص۶۸)
(۲؎مد ار ک التنزیل (تفسیر النسفی )تحت الا یۃ ۴۹ /۱ دار الکتا ب العر بی بیر و ت ۴/۱۶۵)
(تفسیر الکشا ف تحت الا یۃ ۴۹ /۱ دار الکتا ب العر بی بیر و ت ۴/۳۴۹)
فاولا ،لاننکر ان اللفظ ربما یلا حظ فیہ القر ب ولکن قد علمت ان للقر ب عرضا بعیدا ۔
اولاً: ہم تو اس کا اعترا ف ہی کر تے ہیں کہ لفظ بین یدیہ بسا اوقا ت قر ب کے لیے استعما ل ہو تا ہے لیکن خو دقر ب میں بھی تو بڑی وسعت ہے ۔
وثا نیاً: لم ید را ن الزیا دۃ فی جلست بین ید یہ مستفا دمن خصو ص الجلو س کما بینا ولہ ایضا عر ض عر یض فا لو زیر الا عظم والسو قی حضر ا فا مر السلطا ن با لجلو س ،کلا ھما یقو ل جلست بین ید ی الملک ولکن شتا ن ما قر ب الو زیر وقر ب من فی صف النعا ل او لعلہ لم یجلس الا علی عتبۃ البا ب فینقلب السند علی من استذا ذ صد ق علی من فی البا ب کو نہ بین ید ی من فی صد ر المجلس والمحراب۔
ثا نیاً : انھیں یہ امر محسو س ہی نہ ہو ا کہ یہا ں لفظ بین ید یہ کے معنی مشتر ک حا ضر و مشا ہد پر قر ب کی زیا دتی جلو س کی خصو صیت سے مستفاد ہے پھر اس جلو س خا ص کے بھی متعد د مرا تب ہیں ایک با زا ری آدمی اور وزیر اعظم دو نو ں با دشا ہ کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور دونوں ہی اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بادشاہ کے پا س بیٹھا تھا، لیکن دو نو ں پا س میں کتنا فرق ہو تا ہے کہ وزیر با دشا ہ کے سا تھ صد ر میں ہو تا ہے اور عا م آدمی جو تا نکا لنے کی جگہ بلکہ چو کھٹ کے با ہر تو اس لفظ سےقر ب پر استدلا ل الٹ گیا کہ دربار کے دروا زہ کی چو کھٹ کے پا س بیٹھنے والا بھی صدر میں بیٹھنے وا لے کی طر ح بین ید یہ اور پا س ہے۔
ثا لثاً : حفظت شیئا و غا بت عنک اشیا ء ایھا لرا غب ا لی قو ل الر ا غب ھل تظنہ مخالفا للنصو ص التی قد منا عن ائمہ اللغۃ وجھا بذۃ التفسیر ام لا ؟فعلی الا ول ما الذی راغبک عنھم الی من شذوھم الجم الغفیر وعلی الثا بی الم یکفک ما للحا ضر المشا ھد من القر ب فا ن الر ؤیۃ العا دیۃ مشروط لھا لقر ب ام زعمت ان القرب حد معین لا تشکیک فیہ فا ذ ن لا یحا ور ک ال مثلک سفیہ وھذا ربنا تبا رک و تعالی قا ئلا وقو لہ الحق
''اقتر بت السا عۃ وانشق القمر ۔'' ۱
بل قال عزوجل
''اقتر ب للنا س حسا بھم وھم فی غفلۃ معر ضو ن ۲؎''
والحسا ب بعد قیا م السا عۃ بنصف الیو م ، والیو م کا ن مقدارہ خمسین الف سنۃ ۔
ثالثاً : راغب کے قول میں یہ رغبت ظاہر کرنے والوں کو کچھ یاد رہا اور کچھ بھول گئے کیونکہ مخالف نے امام راغب کے قول کے جو معنیٰ بتائے وہ ان آئمہ لغت و تفسیر کے خلاف ہے یا موافق، اگر خلاف ہے تو آپ نے جمہور ائمہ لغت کی تصریحات کو چھوڑ کر امام راغب کے شاذ قول کی طرف کیوں رغبت ظاہر فرمائی، اور اگر خلاف نہیں تو حاضر و مشاہد میں جتنا قرب ہے اس پر قناعت کیوں نہیں، حالانکہ روئیت عادیہ کے لئے قریب ہونے کی شرط لابدی ہے، یا تم قرب کے ایک متعین حد مانتے ہو اور اسے کلی مشکک نہیں مانتے۔ پھر تو آپ کا جواب آپ کے جیسا نا سمجھ ہی دے سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالٰی اپنے قول حق میں فرماتا ہے :''قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہو چکا''۔ بلکہ اسی قدوس و پروردگار نے فرمایا:''لوگوں کے حساب کی گھڑی آپہنچی اور وہ ابھی غفلت میں اعراض کر رہے ہیں۔'' حالانکہ حساب قیام قیامت کے بعد آدھا دن گزار کر ہوگا،اس وقت ایک دن کی مقدار آج کے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔