(۲) فی السا دسۃ و العشر ین جعل السما ء بین اید ینا و بیننا وبینھا مسیر ۃ خمسما ئہ سنۃ و ھذا تر جما ن القرا ن علا مۃ الکتا ب من افصح العر ب واعلمھا با للسا ن عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنھما یقول فی تفسیر ایۃ الکر سی یعلم ما بین اید یھم یر ید من السما ء الی الا رض وما خلفھم یر ید فی السمو ت (روا ہ الطبرا نی۱؎ فی کتا ب السنۃ )
(۲) ۲۲ویں آیت میں آسما ن کو ہما رے قر یب (بین ید یہ )بتا یا اور وہ ہم سے پا نچ سو بر س کی را ہ کی دوری پر ہے حضر ت ترجما ن القرا ن علا مۃ الکتا ب افصح العر ب اور اعلم القو م با للسا ن سید نا ابن عبا س رضی اللہ تعا لی عنہ نے آیۃ الکر سی کے یعلم ما بین اید یھم کے معنی زمین سے آسما ن تک بتا ئے اور ما خلفھم کے معنی آسما ن متعین فر ما ئے طبرا نی نے سے کتا ب السنہ میں روا یت کیا
(۱؎الد ر المنثو ر بحوا لہ الطبر ا نی فی السنۃ تحت الا یۃ دار احیا ء الترا ث العر بی بیر و ت ۲ /۱۹)
(۳) وفی السا بعۃ والعشر ین ذکر عمل الجن بین ید ی سید نا سلیمن وھو لا ء الجن ھم الشیا طین کما قا ل تعا لی
والشیاطین کل بنا ء و غو ص۲؎
وما کا ن لھم ان ید خلو الحضر ۃ السلیما نیۃ لیعملو ا ثمہ محا ریب و ما ثیل و جفا نا کا لجو اب و قد ورٍ رّٰسیٰت تکفی وا حد ہ منھا الف رجل ۔
(۳)۲۷ویں آیت میں کہا گیا کہ جن حضرت سلیما ن علیہ السلا م کے سا منے (بین ید یہ )چیزیں بنا تے تھے حا لا نکہ وہ شیا طین تھے حضر ت سلیمان علیہ السلا م کے دربا ر میں دا خل ہو کر وہ عظیم الشا ن عما ر تیں مجسمے اور مید ا نو ں کی طر ح وسیع و عر ٰض لگن بڑی بڑی دیگیں کہ ایک ہزا ر آدمیو ں کے کھا نے کو کا فی ہو ں بنا ہی نہیں سکتے تھے۔
(۲؎القرا ن الکر یم ۳۸ /۳۷)
وروی ابن ابی حتم فی تفسیر ہ عن سید نا سعید بن جبیر قا ل کا ن یو ضع لسلیما ن علیہ السلا م علیہ الصلو ۃ و السلا م ثلثما ئۃ الف کر سی فیجلس مو منو الا نس مما یلیہ و مو منو الجن من ورا ئھم ۳؎فما کا نت الشیا طین الا ورا ء کل ذلک
ابن ابی حا تم نے اپنی تفسیر میں حضر ت سعید بن جبیر رضی اللہ تعا لی عنہ سے ر وایت کی کہ حضر ت سلیما ن علیہ السلا م کے در با ر میں تین لا کھ کر سیا ں بچھا ئی جا تیں جن پر مو من انسا ن بیٹھتے ان کے پیچھے مو من جن ہو تے تو شیطا ن تو ان سب کے بعد میں ہی ہو ں گے ۔
(۳؎تفسیر القرا ن العظیم تحت الا یۃ ۲۷ /۱۷ حد یث ۱۶۱۹۰ مکتبہ نزار مصطفی البا ز مکہ المکر مہ ۹ /۲۸۵۵)
(۴) وفی الثا منۃ وا لعشیر ن ارشد الی ان بعثۃ نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بقر ب القیا مۃ کما قا ل صلی اللہ تعا لی وعلیہ وسلم بعثت انا وا لسا عۃ کہا تین (روا ہ احمد والشیخا ن ۱عن سھل بن سعد وھم والتر مذی عن انس رضی اللہ تعا لی عنہما) وقد ا مھل اللہ الا مۃ المر حو مۃ الی وقتنا ھذا الفا و ثلثما ئۃ وخمسا اربعین سنۃ و سنزید والحمد للہ الحمید ولم ینا ف ذلک الا یۃ ولا قو لہ صلی اللہ تعالی وسلم بعثت طین ید ی السا عۃ با لسیف حتی یعبد اللہ تعا لی وحدہ لا شر یک لہ (روا ہ احمد ۲؎وابو یعلی والطبرا نی فی الکبیر بسند حسن عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعا لی عنہ وعلقہ البخا ر ی) ۔
(۴)اٹھا ؤیو یں آیت میں ارشاد فر ما یا حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بعثت قیا مت کے قر یب ہے خو د حضور صلی اللہ تعالی وسلم نے بھی ارشا د فر ما یا میں اور قیا مت ان دو انگلیو ں کی طر ح سا تھ سا تھ مبعو ث کئے گئے (احمد و شیخا ن نے سہل بن سعد سے اور تر مذی نے حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنھما سے اس کو روا یت کیا )اور اللہ توا للہ تعالی نے آج ۱۳۳۳ھ تک امت مر حو مہ کو مہلت دی اور اس کے بعد بھی یہ امت با قی رہے گی اس کے با وجو د یہ مہلت نہ تو آیت با قی رہے گی اس کے با وجو د یہ مہلت قیا مت کے قر یب تلو ار دے کر بھیجا گیا تا کہ لو گ ایک خدا کو پو جیں (احمد وابو یعلی اور طبرا نی نے کبیر میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس حد یث کو سند حسن کے سا تھ روا یت کیا )۔
(۱؎صحیح البخا ری کتا ب الر قا ق با ب قو ل النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعثت انا الخ قدیمی کتب خا نہ کراچی ۲ /۹۶۳)
(صحیح مسلم کتاب الفتن با ب قر ب السا عۃ قد یمی کتب خا نہ کر ا چی ۲ /۴۰۶)
(مسند احمد بن حنبل عن انس بن ما لک ۳/۱۲۴ ، ۱۳۰ ، ۱۳۱، ۱۹۳ ، ۲۳۷ و ۲۷۵)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن عبد اللہ بن عمر المکتب الا سلا می بیر وت ۲/ ۵۰و۹۲)
(۵) الا نجیل بین ید ی القرا ن و بینھما فی النزو ل اکثر من ستما ئۃ سنۃ ، والتو را ۃ بی ید ی الا نجیل و بین عیسی و مو سی علی ما فی الجمل الف و تسعما ئۃ و خمس و سبعو ن سنۃ و کذا ھی بین ید ی والفر قا ن و بین نزولیھما نحو من ثلثۃ الا ف سنۃ ۔
(۵) انجیل ''بین ید ی القرا ن ہے اور ان دو نو ں کے بیچ میں چھ سو سا ل سے ز ا ئد کا فا صلہ ہے ا۳ور تو ریت انجیل کے ما بین ید یہ ہے ان دو نو ں کے د رمیا ن حسب روا یت جمل انیس سو پچھتر ۱۹۷۵ سال کا فاصلہ ہے۔اوریو نہی توراۃ قرا ن کے بھی بین ید یہ ہے تو توریت وقرا ۤن شر یف کا فا صلہ لگ بھگ تین ہزا رسا ل کا ہو ا ''۔
(۶) لا یر تا ب احد ان المو ا جہ المغر ب حین تد لت الشمس للغر و ب ان یقو ل ان الشمس بین ید ی و با لفا رسیۃ ''آفتاب پیش رو ئے من است ''او بالھند یۃ ''سو ر ج میر ے منہ کے سا منے ہے ''مع ان بینھما مسیر ۃ ثلثۃ الا ف سنۃ وکذا یقول للثر یا اذا وا جھھا و بینھما مسیر ۃ ثما نیۃ الا ف سنۃ ۔
(۶) یہ با ت یقینی ہےکہ غروب آفتا ب کے وقت پچھم کی طر ف رخ کر کے کھڑا ہو نےو ا لا عر بی میں کہتا ہے : ''الشمس بین ید ی'' ، اور فا رسی میں کہتا ہے : ''آفتا ب پیش روئے است '' ، اور''ہند ی میں کہتا ہے ۔''''سو رج میر ے منہ کے سامنے ہے ۔''حا لا نکہ ان دونو ں کے درمیان تین ہزار سا ل کی مسا فت ہے اور یہی با ت ثر یا کی طر ف رخ کر کے بھی کہتا ہے جبکہ اس کے اور ثر یا کے در میا ن آٹھ ہزار سا ل کی را ہ ہے ۔
(۷) فی الکر یمۃ التا سعۃ والعشر ین ارید الا تصا ل الحقیقی لا ن العمی لا یحصل الا بذا ک فظھر ان القلب المد لو ل بلفظ بین ید یہ لہ عر ض عر یض منبسط من الا تصا ل الحقیقی الی مسیر ۃ ثما نیۃ الا ف سنۃ ۔انما اصلہ الحا ضر المشہو د و الا ختلا ف لا ختلا ف المحل والمقصود فمثملا (۱) الثریا تر ی من مسیر ۃ کذا(۲) الشمس من کذا (۳) السما ئۃ من میسر ۃ خمسما ئۃ سنۃ فکا ن ھی القر ب فیھا (۴) وفی العملۃ من حیث یر ون فلا یفتر وا ولا یزیغوا (۵) المصلی ما مو ر بقصر بظر ہ علی مو ضع سجود ہ فھذا ھو مو ضع شہود ہ فلن یکن المرور بین ید یہ الا اذا مر بحیث لو صلی صلو ۃ الخا شعین یقع علیہ نظر ہ وھو المراد بمو ضع سجود ہ کما افا دہ المحققو ن (۶) فی قو لک جلست بین ید یہ یحتا ج الی قر ب اکثر مما یفید مجر د الا بصار فا نہ یکو ن للمکا لمۃ والسمع اقصر مد ی من البصر والیہ اشا روا فی الکشاف و المدا ر ک والشر بینی وغیر ھا بقو لھم ''حقیقۃ قو لھم جلست بین ید ی فلا ن ان یجلس بین الجہتین المسامتتین لیمینہ و شما لی قر یب منہ فسمیت الجہتا ن ید ین لکو نھما علی سمت الید ین مع القر ب منھما تو سعا کما یسمی الشیئ با سم غیر ہ اذا جا ورہ ۱؎۱ھ
(۷) انتیسو یں آیت میں لفظ''بین ید یہ ''سے مرا د اتصا ل حقیقی ہے اس لیے کہ اند ھا پن بے اس کے متحقق نہیں ہو سکتا تو اس سے یہ ثا بت ہو ا کہ لفظ بین ید یہ کے مد لو ں کی جو لا ن گاہ اتصا ل حقیقی سے شر و ع ہو کر آٹھ ہزا ر سال کی مسا فت تک پھیلی ہو ئی ہے تو اس کی اصل حا ضر و مشہو د کے لیے ہے اور محل و مقصود کے لحاظ سے اس حضو ر میں اختلا ف ہو سکتا ہے مثلا (۱) ثیر یا اتنی دور سے (۲) اور سو ر ج اتنی دو ر سے (۳) اور سیا ر ے پا نچ سو بر س کی راہ سے تو ان اشیا ء میں یہ قر یب کہا جا ئے گا (۴) اور مزدوروں میں اتنی دور سے کہ نگرا نی ہو سکے ،مزدور سست نہ پڑیں اور کھسک نہ سکیں (۵) اور مصلی کو حکم ہےکہ وہ اپنی نگا ہ مو ضع سجو د پر رکھے تو اس کے مو ضع سجود میں اتنی ہی دوری اصل ہے اور مصلی کے سا منے سے گزرنا تبھی کہا جا ئے گا جب گزرنے والا خشو ع کے سا تھ نما ز پڑھنے وا لے کی نگا ہ کی زد میں آئے اور یہ مو ضع سجودہی ہے جس کی محقیقین نے تصر یح کی ہے (۶) مقولہ ''جلست بین ید یہ ''میں مرا د حدود بصر سے بھی کم اور محد ود دائر ہ ہو گا کہ یہ بیٹھنا با ت چیت کے لیے ہے جس کا تعلق سما ع سے ہے اور سما ع کا دا ئر ہ بصر ہ کے دائر ہ سے بھی محدود و مختصر ہے چنا نچہ کشا ف ، مدارک اور شر بینی وغیر ہ کے مصنفین نے اسی امر کی طر ف اشار ہ کر تے ہو ئے فر ما یاقو ل ''جلست بین ید ی فلا ن ''کی حقیقت یہ ہے کہ دا ئیں با ئیں کی دو مقا بل جہتو ں کے بیچ میں فلا ں کے قر یب بیٹھا جا ئے ان د ونو ں جہتو ں کو دو ہا تھ سے تعبیر کیا کہ یہ جہتیں ابہیں دونو ں ہا تھو ں پر ان سے قر یب ہیں اور یہ مجا زا ہے جیسا کہ دو پا س والی چیزو ں میں ایک کا نا م دو سر ی کو دے دیا جا تا ہے ۱ھ''
(۱؎تفسیر الکشاف تحت الا یۃ ۴۹/۱ دار لالکتا ب العر بی بیر و ت ۴ /۵۰-۳۴۹)
(مد رال التنزیل (تفسیر النسفی ) تحت الا یۃ ۴۹/۱ دار لالکتا ب العر بی بیر و ت ۴/۱۶۵)
(السرا ج المنیر (تفسیر الشر بینی ) تحت الا یۃ ۴۹/۱ نو لکشو ر لکھنؤ ۴ /۶۰)
وھذا ھو تما م عبا رۃ الخطیب المو عو د قلت :
(خطیب شر بینی کی یہی عبا ر ت ہے جس کا ہم نے وعد ہ کیا تھا ۔)
تنبیہ : وفی قو لھم اولا حقیقۃ قو لھم و اخر ا تو سعا اشا رۃ الی ما قد مت من انہ مجا ز با عتبا ر معا نی
الا جزا ء التفصیلیۃ حقیقۃ با عتبا ر الا جما ل ۔
تنبیہ: اس عبا ر ت مین اس معنی کو شرو ع میں حقیقی کہا اور بعد میں مجا زی قرار دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اجزا ئے تفصیلی کے معنی کے لحا ظ سے تو یہ مجا ز ہے اور اجما ل کے لحا ظ سے معنی حقیقی ۔
(۷) یر ید رجل قرا ء ۃ القرا ن العظیم وھو محد ث فیقو ل لعبد ہ قم با لمصحف بین ید ی فید ل علی القر ب محیث یمکنہ القرا ء ۃ منہ و یختلف با ختتلا ف نظر ہ حد یدا او کلیلا و ا ختلا ف خط المصحف دقیقا و جلیلاً۔
ایک شخص قرا ن کر یم پڑھنا چا ہتا ہے مگر خو د نے وضو ہے تو وہ اپنے خا دم سے کہتا ہے میر ے سامنے قرا ن عظیم لے کر بیٹھ جا جا ؤ تو یہا ں قریب سے ایسا قر ب مراد ہو گا کہ پڑھنا ممکن ہو اور یہ قر ب تیز نگا ہی اور ضعف بصا رت کے اعتبار سے مختلف ہو گا اور تحر یر کے جلی اور خفی ہو نے کے لحا ظ سے بھی متعد د ہو گا ۔
وھذا ما قا لو افی مصحف مو ضو ع بین یدی المصلی ،أو رحل وھو لا یحمل ولا یقلب انما یقر أمنہ با لنظر فیہ لا تفسد فی الصلٰو ۃ عند ھما ،وعند ہ تفسد کما فی الھند یۃ۱؎ وغیر ھا۔
اور یہی بات مشا ئخ نے اس مصحف شر یف کے بارے میں کہی جو نما زی کے سا منے رکھا ہوا ہے یا رحل میں ہے ، نما زی نہ تو اسے اٹھا تا ہے اور نہ ہی ورق الٹتا ہے بلکہ فقط اس دیکھتا ہے اور قرأ ت کر تا ہے تو صا حبین کے نزدیک اس کی نماز فا سد نہ ہوگی جبکہ امام اعظم کےنزدیک فا سد ہوجا ئیگی جیسا کہ ہند یہ وغیر ہ میں ہے ۔
(۱؎الفتا وی الھند یۃ کتا ب الصلٰو ۃ البا ب السا بع نورا نی کتب خا نہ پشاور ۱ /۱۰۱ )