Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
28 - 135
واما تفسیر ائمۃ اللغۃ وا لتفسیر ففی الصحا ح ،والقا مو س ثم مختا رالصحا ح و تا ج العر و س وغیر ھا ''بین ید ی السا عۃ '' ای قدامھا ۵؎ وفی الصرا ح ''بین ید ی پیش رو ئے او ، وفی التا ج ''یقا ل بین یدیک بکل شیئ اما مک۷؎اھ ،و فی معالم التنزیل من الھجرات  " معنی بین الیدین الامام و القدام۸؂۔
ائمہ تفسیر و لغت کا بیان یہ ہے  : (۱) صحا ح، (۲)قا مو س، (۳)مختا ر الصحا ح ،(۴) تا ج العر و س وغیر ہ میں بین ید ی السا عۃ کے معنی قیا مت سے پہلے اور(۵)صرا ح میں آگے جا نے وا لے اور(۶) تا ج العر وس میں ہے کہ بین ید یک ہر اس چیز کو ہا جا ئے گا جو تمھا رے آگے ہو ۔(۷)معا لم التنزیل تفسیر سو ر ہ حجر ات میں بین الید ین کے معنی آگے ہے۔
 (۵؎تا ج العر و س فصل الیا ء من با ب الوا و  وا لیا (ید ی ) احیا ء التر ا ث العر بی بیر و ت ۱۰ /۴۱۹)

(۶؎صر ا ح با ب الوا و وا لیا ء فصل الیا ء مطبع مجید ی کا نپو ر ص۵۹۸)

(۷؎ تا ج العر و س فضل الیا ء من با ب الوا و الیا ء ''ید ی '' احیا ء الترا ث العر بی بیر و ت ۱۰ /۴۱۹)

(۸؎معا لم التنزیل (تفسیر البغو ی ) تحت الا ۤیۃ ۴۹/۱  دا ر الکتب العلمیہ بیر و ت ۴ /۱۸۸)
والخازن من آل عمرا ن ما بین ید یہ فھو اما مہ ۱؎وفی ابی السعو د و الفتو حا ت الا لٰھیتہ من یو نس علیہ الصلو ۃ والسلا م '' بین ید یہ ای اما مہ ۲ ؎وفی الجلا ل من الر عد بین ید یہ قد امہ ۳؎وفیہ من مر یم ما بین ا ید ینا ای اما منا ۴؎ وفیہ وفی غیر ہ من البقر ۃ وغیر ھا مصد قا لما بین ید یہ قبلہ من الکتب ۵؎ثم فی الا نمو ذج الجلیل تحت الکر یم السا دسۃ والعشر ین ''ما بین ید ی الا نسا ن ھو کل شیئ یقع نظر ہ علیہ من غیر ا ن یھو ل وجہہ الیہ ۶؎وفی الکر خی ثم الفتو ھا ت الا لہیۃ ایضا تحتھا من المعلو م ان ما بین ید ی الا نسا ن ھو کل ما یقع نظر ہ علیہ من غیر ا ن یحو ل وجھہ الیہ ۷؎وفی تکملۃ مجمع البھا ر فعلتہ بین ید یک ای بحضر تک ۸؎''۔
اور (۸)خا زن میں بین ید یہ کے معنی جو اس کے آگے ہو ۔(۹)تفسیر ابو سعود اور فتوحات الہٰیہ میں سورۃ یونس علیہ السلام میں بین یدیہ کے معنی''اس کے آگے''اور(۱۰) جلالین میں سورہ رعد کے لفظ بین یدیہ کے معنی''اسکے آگے''۔ اسی(۱۱) میں سورہ مریم کے لفظ مابین ایدینا کے معنی کے ہمارے آگے۔ اسی(۱۲) میں اور (۱۳)دیگر تفاسیر میں سورہ بقرہ  اور دیگر سورتوں کے لفظ مصدقا لما بین یدیہ کے معنی اس سے پہلےکی کتابیں ہے، (۱۴) انموذج جلیل میں ۲۷ویں آیت کے تحت ہے : مابین یدی الانسان ہر وہ چیز جس پر انسان کی نظر چہرے پھیرے بغیر پڑے۔ (۱۵)کرخی اور (۱۶) فتوحات الٰہیہ میں اسی آیت کے تحت ہے : انسان کےمابین یدیہ وہ چیز ہے جس پر اسکی نظر چہرہ پھیرے بغیر پڑے۔ (۱۷)تکملہ مجمع البحار میں ہے : فعلتہ بین یدیک کا ترجمہ ''میں نے اس کو تیرے حضور میں کیا''—
 (۱؎لبا ب التا ویل (تفسیر الخا زب )تحت الا ۤیۃ ۳/۳  دا ر الکتب العلمیہ بیر و ت    ۱ /۲۲۴)

(۲؎الفتو حا ت الا لہیۃ     (تفسیر الجمل )     تحت الا ۤیہ  ۱۰ /۳۷     دا ر الفکر بیر وت  ۳ /۳۷۳)

(۳؎تفسیر جلا لین تحت الا یۃ ۱۳ /۱۱    اصح المطا بع دہلی ص۲۰۱)

(۴؎تفسیر جلا لین تحت الا یۃ   ۱۹ /۶۴ اصح المطا بع دہلی  ص۶۵۸)

(۵؎تفسیر جلا لین تحت الا یۃ ۲ /۹۷   اصح المطا بع دہلی ص۱۵)

(۶؎الا نمو ذج الجلیل )

(۷؎الفتو حا ت الا لہیہ (تفسیر  للجمل ) تحت الا یۃ ۳۴ /۹   المصطفی البا بی حلبی مصر ۳ /۴۶۱)

(۸؎ تکملہ مجمع بحارالانوار    حرف  الیا ء ''ید '' مکتبہ دار   سعودی عرب  ۵ /۷۳۱)
وفی عنا یۃ القا ضی من ایۃ الکر سی اطلا ق ما بین اید یھم علی امور الد نیا الا نھا حا ضر ہ والھا ضر یعبر عنہ بذلک ۔ وامور الاخر ہ مستتر ۃ کما یستتر عنک ما خلفک ۱؎وفی الجمل منھا ما بین اید یھم ای ما ھو حاضر مشاھد لھم ۲؂  وفی الخطیب الشر بینی ثم الجمل (بین ید ی اللہ ورسو لہ )معنا ہ بحضر تھما لا ن ما یحضر ہ الا نسا ن فھو بین ید یہ نا ظر الیہ۳؂  الخ ''یا تی تما مہ ۔
اور (۱۸)عنایۃ القاضی میں آیۃ الکرسی کے مابین یدیہ کے معنی لکھے ہیں کہ مابین یدیہ کا اطلاق امور دنیاپر ہے کہ وہ تمھارے سامنے ہیں۔ اور حاضر کی تعبیر مابین یدیہ سے کی جاتی ہے۔ اور امور آخرت تم سے پوشیدہ ہیں جیسے وہ چیز تمھارے پیچھے ہو۔ اور جمل ۱۹ میں اسی آیت کی تفسیر میں مابین ایدیھم کے معنی''جو حاضر و مشاہد ہو'' لکھے ہیں(۲۰)خطیب شربینی اور (۲۱)جمل میں بین یدی اللہ و رسولہ کے معنی ''ان دونوں کے حضور کئے ہیں کہ جو آدمی کے پاس ہو وہ ہبین یدیہ ہے، اور آدمی اس کو دیکھنے والا ہے۔(پوری بات آگے آرہی ہے)
 (۱؎عنایۃ القاضی حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی   تحت الا یۃ ۲ /۲۵۵  دار الکتب العلمیہ بیروت  ۲ /۵۸۰)

(۲؎الفتو حا ت الا لہیہ (تفسیر  للجمل ) تحت الا یۃ ۲ /۲۵۵   المصطفی البا بی حلبی مصر ۱ /۲۰۷)

(۳؎الفتو حا ت الا لہیہ (تفسیر  للجمل ) تحت الا یۃ ۴۹ /۱   المصطفی البا بی حلبی مصر ۴ /۱۷۴)

(السراج المنیر (الشربنی) تحت الا یۃ ۴۹/ ۱   نو لکشور لکھنؤ      ۴/ ۶۰)
فا ستبا ن لک با لقرا ن العظیم والحد یث و نصو ص ائمۃ القد یم والحد یث ان لا دلا لۃ اصلا لقو ل الفقھا ء یوذن بین ید ی الخطیب علی کو ن الا ذا ن دا خل المسجد فضلا عن کو نہ لصیق المنبر ۔
تو قرا ن عظیم احا دیث کر یمہ اور قد یم و جد ید ائمہ کی نصو ص سے ظا ہر ہو گیا کہ قو ل فقہاء یو ذن بین ید ی الخطیب کی دلا لت مسجد کے اند ر ہو نے پر بھی نہیں چہ جا ئیکہ منبر کے پا س ہو ۔
فاولاً : لایتعین فی افا دۃ القر ب کما یظہر من عشر ین آیۃ تلو نا اولا و مما ذکر نا من کتب اللغۃ والتفسیر سا بقا فا نما غرضھم افا دہ ان السنۃ فی ھذا الا ذا ن مضا ذا ۃ الخطیب کما قا ل فی النا فع شر ح القد وری اذن المؤذنو ن بین ید ی المنبر) ای فی حذا ئہ ۱؎اھ فھذا ھو المقصو د با لا فا دۃ ھھنا اما ان الا ذا ن لا یکو ن فی جو ف المسجد ولا بعید ا عنہ بل فی حد ود ہ و فنا ئہ فمسأ لۃ اخر ی معلو مۃ فی محلھا و بھا تتعین محل ھذا المحا ذا ۃ کما قد منا ۔
اولاً: لفظ بین ید یہ افا دہ قر ب میں متعین نہیں جیسا کہ پہلے ذکر کی ہو ئی بیس آیتو ں سے ظا ہر ہو ا اور پہلے ذکر کئے ہو ئے ائمہ لغت و تفسیر کی تصر یحا ت سے ظا ہر ہوا فقہا ء کی غر ض تو یہ بیا ن کر نا ہے کہ ا س اذا ن میں مسنون خظیب کا سامنا ہے جیسا کہ نا فع شر ح قد ور ی کی عبا رت سے ظا ہر ہے کہ جب مو ذنین خطیب کے سامنے اذا ن دے لیں فقہا ء کو اس عبارت سے صر ف سامنا بتا نا ہے یہ با ت کہ اذا ن جو جو ف مسجد میں نہ ہو نہ مسجد سے دور ہو بلکہ مسجد کے حدود و اطرا ف میں ہو یہ ایک دوسر ا مسئلہ ہے جس کو با ب الا ذا ن میں بیا ن کیا گیا ہے اور اس دوسر ے مسئلہ سے سا منے کی دوری متعین ہو تی ہے ۔
 (۱؎نا فع شر ح القد وری )
وثا نیا: سلمنا القر ب فھو امر اضافی و قر ب کل شیئ بحسبہ الا تر ی ۔
ثا نیا: اور اگر بین ید یہ کے معنی قر یب تسلیم بھی کر لیے جا ئیں تو قر ب اسی کے حسا ب سے ہوگا
 (۱) الی الا یۃ الحا دیۃ والعشر ین دلت علی قر ب المطر لکن لیس ان تھب الر یا ح فینز ل بل کما قا ل عزوجل
حتی اذا اقلت سحا با ثقا لا سقنہ لبلد میت فا نزلنا بہ الما ء۲؎۔
 (۱)دیکھو اکیسو یں آیت میں بین ید یہ کے معنی بار ش قر یب ہو نے کے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہو ا چلی اور با ر ش آئی بلکہ اس طر ح جیسا قرا ن عظیم میں ہے :''ہو ا نے با دل کو ٹھا لیا تو ہم نے اسے خشک علا قہ کی طر ف روا نہ کیا تو اس سے با ر ش ہو ئی ۔
(۲؎القرا ن الکر یم ۷ /۵۷)
Flag Counter