Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
27 - 135
 (۳۳) فی الحد ید
''یو م تر ی المؤمنین ولمؤمنت یسع نو ر ھم بین اید یھم و با یما نھم ۱؎
''کلمۃ'' یسعی''

تد ل علی ارادۃ ما ینو رلھم فالمد لو ل القر ب اما النو ر فمتصل حقیقۃ ۔
 (۳۳) سو ر ہ حد ید میں ''اس دن تم دیکھو گے کہ مو من کہ مو من مرد و ں اور عو رتو ں کا نو ر ان کے آگے اور دا ئیں چلے گا ۔''یہا ں کلمہ ''یسعی ''اس با ت پر دلا لت کر تا ہے کہ آگے اور دا ئیں سے مراد وہ جگہ ہے جو ان کے لیے رو شن کی گئی ہے تو یہا بین ید یہ سے مرا د قر ب ہے ''اور نور تو مو منو ں سے متصل ہی ہو گا ۔
 (۱؎القرا ن الکر یم    ۵۷ /۱۲)
 (۳۴) فی المجا دلۃ
''یا یھا الذین امنو ا اذا نا جیتم الر سو ل فقد موا بین ید ی نجوٰکم صد قد ۃ ۲؎''
 (۳۴) سو ر ہ مجا دلہ میں ہے :''اے ایما ن و الو !رسو ل کر یم سے با کر نا چا ہو تو اس سے پہلے صد قہ پیش کر و ۔''
 (۲؎القرا ن الکر یم     ۵۸ /۱۲)
 (۳۵) فیھا
''أاشفقتم ان تقد مو ا بین ید ی نجوٰکم صد قات ۳؎
''فا ن المقصو د تعظیم الر سو ل صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم ولا یظہر الا با لقر ب ۔
 (۳۵) اسی میں ہے :''با ت چیت سے قبل صد قہ پیش کر نے سے ڈر رہے ہو ''ان دو نو ں آیتو ں میں مراد تعظیم  رسو ل ہے تو یہ قر ب سے ہی ظا ہر ہو گی ۔
 (۳؎ القرا ن الکر یم    ۵۸ /۱۳)
 (۳۶) فی الممتحنۃ
 (ولا یأ تین ببھتا ن یفتر ینۃ بین اید یھن وا رجلھن ۴؎)ای بو لد ملقو ط ینسبہ الی الزو ج ووصف بصفت الو لد الحقیقی فا ن الا مر اذا وضعتہ سقط بین ید یھا ورجلیھا ۱ھ(جلا ل ۱؎)فھذا علی الحقیقۃ التر کیبیۃ ۔
 (۳۶) سو ر ۃ ممتحنہ میں ہے  :''ایسا بہتا ن نہ ظا ہر کر و جسے تم نے اپنے ہا تھو اور پیر و ں کے بیچ گا ڑا ہو ۔''وہ لڑکا جو دوسر ے کا ہو عو رت اس کو اپنے شو ہر کی طر ف منسو ب کر ے اور اس کو شو ہر کا حقیقی لڑکا بتا ئے تو عور ت جب بچہ جنے گی تو وہ حقیقتا اس کے پا ؤ ں اور ہا تھوں کے بیچ میں ہو گا تو یہا ں بین ید یہ کے معنی حقیقی تر کیبی مراد ہیں ۔''
 (۴؎القرا ن الکر یم   ۶۰ /۱۲)

(۱؎تفسیر جلا لین تحت الا ۤیۃ   ۶۰ /۱۲    اصح المطا لبع دہلی ص۴۵۸)
 (۳۷) فی التحر یم ،
نور ھم یسعی بین اید یھم وبا یما نھم ۲؎
 (۳۷) سو ر ۃ تحر یم میں ''ان کا نو ر انکے آگے آگے اوردا ئیں چل رہا ہو گا ۔ ''
 (۲؎القرا ن الکر یم      ۶۶ /۸)
 (۳۸) فی الجن
 (عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسو ل فا نہ یسلک۳؎) یجعل و یسیر (من بین یدیہ )ای الر سو ل (ومن خلفھم رصدا )ملئکۃ یحفظو نہ حتی یبلغہ فی جملۃ الو حی (جلا ل ۴؎)ھذہ و اضحا ت۔
 (۳۸) سور ہ جن میں ''اللہ تعا لی علم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر اپنے پسند ید ہ رسو لو ں کے سو ا کسی کو مطلع نہیں کر تا ان رسو لو ں کے آگے پیچھے نگر ا ن چلتے ہیں ۔''یعنی فر شتے جو وحی کی تبلیغ تک ان کی حفاظت کر تے ہیں یہ سب آیا ت وا ضح ہیں ۔
 (۳؎القرا ن الکر یم      ۷۲ /۲۶و۲۷)

(۴؎تفسیر جلا لین تحت الا یہ   ۷۶ /۲۶و۲۷    اصح المطا بع دہلی ص۴۷۷)
ومنھا،''فجعلنا ھا نکا لا لما بین ید یھا وما خلفھا" ۵؎علی الا ظہر الا شہر ای الا مم التی فی زما نھا و بعد ھا (جلا ل ۱؎) اولما بحضر تھا من القر ی وما تبا عد عنھا او لا ھل تلک القر یۃ وما حو الیھا (بیضا و ی ۲؎) وکذا ''اذ جا ءتھم الر سل من بین اید یھم ومن خلفھم ۳؎علی معنی اتو ھم من کل جا نب وعملو ا فیھم کل حیلۃ ۱ھ (مدا ر ک ۴؎)''۔
اسی سے ہے :''ہم نے (اس بستی )کا یہ وقعہ اس کے آگے اور پیچھے وا لو ں کے لیے عبر ت کر دیا ''مشہو ر اور ظا ہر یہی ہے کہ ما بین ید یہ اور خلفہ سے مر اد وہ امتیں ہیں جو اس زما نہ میں تھیں اور ان کے بعد میں (جلا لین) یا جو دیہات قر یب تھے اور وہ جو دو ر تے یا ان دیہا تو ں وا لے (بیضا و ی )ایسا ہی آیت مبا ر کہ ''جب اللہ تعا لی کے بھیجے فر شتے آئے ان کے آگے اور پیچھے اس ''آیت کے معنی یہ ہیں فر شتے ان کے پا س ہر طر ف سے آئے اور ان کے سا تھ ہر طر ح کے حیلے بر تے (مد ا رک)۔
 (۵؎القرا ن الکر یم   ۲ /۶۶)

(۱؎تفسیر جلا لین تحت الا یۃ ۲ /۶۶   اصح المطا بع دہلی ص۱۱)

(۲؎انو ا ر التنزیل (تفسیر بیضا و ی) تحت الا یۃ ۲ /۶۶         دا ر الفکر بیر و ت    ۱ /۳۳۸)

(۳؎القرا ن الکر یم    ۴۱ /۱۴)

(۴؎مدا ر ک التنزیل (تفسیر النسفی ) تحت الا یۃ ۲ /۶۶   دا لکتب العر بی بیر و ت ۴ /۹۰)
Flag Counter