''لاٰ تینھم من بین اید یھم و من خلفہم وعن ایما نہم و عن شما ئلہم'' ۵؎
فلا بد للمو سو س من القرب وا لعیا ذ با للہ تعالی ۔
(۲۴) اعرا ف میں ''ہم ان پر آئیں گے ان کے آگے ان کے پیچھے اور دا ئیں با ئیں ''اس آیت میں شیطا نو ں کو وسو سہ کا بیا ن ہے جس کے لیے ان کا ان لو گو ں کے قر یب ہو نا ضرو ری ہے جن کو وسو سہ دیں بے اس سے خدا کی پنا ہ )
(۵؎القر آن الکر یم ۷ /۱۷)
(۲۵) فی الر عد
''لہ معقبت من بین ید یہ ومن خلفہ۱؎
فا ن شا ن الحا فظ القر ب ۔
(۲۵) سو رہ رعد میں ''اس کے نگرا ن اس کے آگے پیچھے ہیں ۔''اس آیت میں نگر ا نی کا ذکر ہے جو قر یب سے ہو تی ہے ۔
(۱؎القرا ن الکر یم ۳۱ / ۱۱)
(۲۶) فی سبا
''افلم یر وا ا لی ما بین اید یھم وما خلفھم من السما ء وا لا رض''۲؎
یر ید سما ء الد نیا المر ئیۃ لنا الا قر ب الینا ۔
(۲۶) سو ر ہ سبا میں ''تو کیا انہو ں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسما ن و زمین ۔''اس آیت سے سما ء سے مرا د آسما ن دنیا ہے جو نسبۃ ہم سے قر یب ہے اور ہم پر سا یہ فگن ہے ۔
(۲؎القرا ن الکر یم ۳۴ /۹)
(۲۷) فیھا
''ومن الجن من یعمل بین ید یہ با ذن ربہ (الی قو لہ عز وجل ) یعملو ن لہ ما یشا ء من محا ر یب و تما ثیل و جفان کالجوا ب وقد ورٍ رَّا سیٰت ۳؎۔
''فا ن المقصو د من العمل بین ید ی الملک ان یکو ن بمر ا ی منہ علی وفق ما یشاء ۔
(۲۷) اس میں ہے ''اور جنو ں میں سے وہ جو اس کے آگے کا م کر تے اس کے رب کے حکم سے اس کے لیے بنا تے جو وہ چا ہتا اونچے اونچے محل اور تصویر یں اور بڑے بڑے حو ضو ں کے بر ابر لگن اور لنگر دا ر دیگیں۔''
اس آیت میں با دشا ہ کے حسب مر ضی کا م کر نیو ا لو ں کے اس کے سا منے ہو نے سے مرا د اس کی نگا ہ میں ہو نا ہے ۔
(۳؎القرا ن الکر یم ۳۴/ ۱۲و۱۳)
(۲۸) فیھا
''ما بصا حبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم بین ید ی عذا ب شدید۴؎
''دل علی قر ب القیا مۃ ۔
(۲۸) اسی میں''تمھا ر ے ان صا حب میں جنو ن کی کو ئی با ت نہیں وہ تو نہیں مگر تمھیں ڈر سنا نے وا لے ایک سخت عذا ب کے آگے ۔''اس میں لفظ بین ید ی قیا مت کے قر ب پر دلا لت کر تا ہے ۔
(۴؎القرا ن الکر یم ۳۴/ ۴۶)
(۲۹) فی یٰس
''وجعلنا من بین اید یھم سدا ومن خلفھم سدا ۱ ۔
''ھذا علی الا تصا ل الحقیقی لیو رث العمٰی وا لعیا ذ با للہ تعالی ۔
(۲۹) سو ر یس میں ''ہم نے ان کے آگے ایک دیو ا ر بنا دی اور ان کے پیچھے ایک دیو ار ۔''یہا ں لفظ بین اید ی اتصا ل حقیقی کے لیے ہے تا کہ نا بینا ئی پید ا ہو ''(پناہ بخد ا )
(۱؎القرا ن الکر یم ۳۶ /۹)
(۳۰) وفیھا ،
(اذا قیل لھم اتقو ا ما بین اید کم من عذا ب الدنیا کغیر کم (وما خلفکم ۲؎)من عذا ن الا خر ۃ (جلا ل ۳؎)
(۳۰) اسی میں ہے ''جب ان سے کہا گیا کہ سا منے اور پیچھے کے عذا ب سے بچو ۔''یعنی دو سر و ں کی طر ح کہا گیا کہ عذا ب سے بچو ۔یعنی دو سر و ں کی طر ح کہا گیا کہ عذاب دنیا اور عذا ب آخر ت سے بچو (جلا لین )
(۲؎القرا ن الکر یم ۳۶ /۴۵) (۳؎جلا لین تحت الا ۤیۃ ۳۶ /۴۵ اصح المطا بع دہلی ص۳۷۰)
(۳۱) فی حم سجد ہ (وقیضنا لھم قر ناء فزینوا لھم ما بین اید یھم من امر الد نیا و اتبا ع الشہو ات (وما خلفھم ۴؎) من امر الا خر ۃ )(جلا ل۵؎)
(۳۱) حم سجد ہ میں ''اور ہم نے ان پر کچھ سا تھی تعینا ت کئے انہو ں نے انہیں مزین کر دیا جو ان کے آگے اور جو ا ن کے پیچھے ہے''ما بین اید یھم سے مرا د امو ر دنیا اور شہو تو ں کی تبا ع اور خلفھم سے مراد امو ر آخر ت (جلا لین )
(۴؎القرا ن الکر یم ۴۱ /۲۵) (۵؎جلا لین تحت الا ۤیۃ ۴۱ /۲۵ اصح المطا بع دہلی ص۳۹۸)
(۳۲) فی الحجرا ت :
''یا یھا الذین امنو ا لا تقد موا بین ید ی اللہ و رسو لہ ۶؎''
فا ن المفا د النہی عن قطع امر قبل حکم اللہ ورسو لہ و تصو یر شنا عۃ ھذا المحسو س وھو تقد م العبد علی مو لا ہ فی المسیر و انما یستھجن من قر ب ما ۔
(۲۳) سو ر ہ حجرا ت میں ''اے ایما ن وا لو !اللہ و رسو ل پر سبقت نہ کر و اس آیت میں نفی کا مفا د حکم خدا رسو ل سے پہلے کسی امر کے فیصلہ کی مما نعت ہے اور اسکی شنا عت کو محسو س کے سا تھ ممثل کر کے دکھا یا گیا اگر چلنے میں غلا م آقا سے آگے چلنے تو بر ا ہے اور یہ بر ا ئی قر ب کے سا تھ ہی مخصو ص ہے ۔