فا لقر ا ن الکر یم مصد قا لکل کتا ب الہی نزل قبلہ قر یبا او بعید ا ولا یخا لفہ(عہ۱) شیئ من کتب اللہ تعالی و الکفر ۃ (عہ۲) بشیئ لا یو منو ن ۔
اور بلا شبہ قرا ن عظیم تما م ہی گزری ہو ئی آسما نی کتا بو ں کی تصد یق فر ما تا ہے قر یب کی ہو یا بعید کی اور گزشتہ کتا بو ں میں کو ئی بھی اس کی مخا لفت نہیں کر تی ۔اور کا فر کسی پر بھی ایما ن نہیں لا تے ۔
عــ۱ :نا ظر الی الا یۃ الثا لثۃ عشر ۱۲منہ علیہ الر حمۃ ۔ عــ۱ :تیر ھو یں آیت کی طر ف اشا رہ ہے
عــ ۲ :نا ظر الی الا یۃ الحا دیۃعشر ۱۲منہ ۔ عــ۲ :گیا رھو یں آیت کی طر ف اشا ر ہ ہے۔
(۱۵) ومن ذلک فی ال عمرا ن عن عبد ہ عیسی علیہ الصلو ۃ والسلا م ''ومصد قا لما بین ید ی من التو راۃ ۱؎"
(۱۵) آل عمر ا ن کی یہ آیت بھی قسم اول میں ہی ہے جو حضر ت عیسی علیہ السلام کی حکا یت کر تی ہے کہ ''میں تصد یق کر تا آیا ہو ں اپنے سے پہلی کتا ب تو ریت کی ۔''
(۱؎القرا ن الکر یم ۳ /۵۰)
(۱۶) فی الما ئد ۃ
''وقفینا علی آثا ر ھم بعیسی ابن مر یم مصد قا لما بین ید یہ من التو را ۃ ۲؎''
(۱۶) سو ر ہ ما ئد ہ کی آیت ''ہم ان نبیو ں کے نشا ن قد م پر عیسی بن مر یم کو لا ئے تصد یق کر تا ہوا تو ریت کی جو اس سے پہلے تھی ''
(۲؎القر ا ن الکر یم ۵/ ۴۶)
(۱۷) فی الصف
''مصد قا لما بین ید ی من التو ر ا ۃ و مبشر ا بر سو ل یا تی من بعد ی اسمہ احمدی۳؎''
(۱۷) اور سو ر ہ صف کی آیت ''میں اپنے سے پہلے کتا ب تو ر یت کی تصد یق کر تا ہو ا ،اور ان رسو ل کی بشا رت سنا تا ہوا جو میر ے بعد تشر یف لا ئیں گے ان کا نا م احمد ہے ،''
(۳؎القر ا ن الکر یم ۶۱ /۶)
فما فسر و ہ الا با لقبیلۃ حملا لہ علی نظا ئر ہ فی القرا ن العز یز وھو الذی یسبق الی الفھم و ان امکن حملہ ھھنا علی الحضور ۔
ان آیا ت میں لفظ ''بین ید یہ ''کہ حضو ر پر حمل کیا جا سکتا تھا لیکن مفسیر ین نے اس کی تفسیر من قبلہ سے کی ہے کہ ذہن کا تبادر اسی طر ف ہو تا ہے ۔
(۱۸) فی سو رۃ البقر ۃ
''فجعلنا ھا نکا لا لما بین ید یھا وما خلفھا ۱؎
''علی التفسیر لما قبلھا وما بعد ھا من الا مم اذا ذکرت حا لھم فی زبر الا ولین واشتھر ت قصتھم فی الا خر ین (بیضا وی ۲؎)
(۱۸) اور سو ر ہ بقر ہ میں ''تو ہم نے (اس بستی کا ) واقعہ اس کے آگے اور پیچھے وا لو ں کے لیے عبر ت کر دیا ''اس کی تفسیر بھی ''اگلی اور پچھلی امتیں''کی گئی جس کا ذکر گزشتہ امتو ں میں مذکو ر اور بعد وا لی قو مو ں میں مشہو ر ہوا (بیضا وی )
(۱؎القرا ن الکر یم ۲ /۶۶)
(۲؎انو ا ر التنزیل (تفسیر البیضا وی ) تحت الا ۤیۃ ۲ /۶۶ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۳۸)
(۱۹) وفی حم
السجف ۃ اذجا ء تھم الر سل من بین اید یھم ومن خلفھم ۳
عن الحسن انذر وھم من وقا ئع اللہ فیمن قبلھم من الا مم وعذا ب الا خر ہ ۱ھ (نسفی ۴؎) او من قبلھم ومن بعد ھم اذقد بلغتھم خبر المتقد مین و اخبر ھم ھو د و صا لح عن المتا خر ین دا عین الی الا یما ن بھم اجمعین (بیضا وی ۵؎)
(۱۹) اور حم سجد ہ میں ''اور جب رسو ل ان کے آگے پیچھے پھر تے تھے ''حضر ت حسن بصر ی سے اس کی تفسیر مر وی ہے کہ رسو ل انہیں پہلی امتو ں کے حا دثا ت اور آ خر ت میں آنے وا لے عذا ب سے ڈر ا تے (نسفی )یا گزشتہ اور آئند ہ قومیں کہ انہیں پہلو ں کی خبر پہنچی اور ہو د اور صا لح علیہ السلا م نے نہیں دعو ت دیتے ہو ئے متا خر ین کا حا ل بتا یا (بیضا و ی )۔
(۳؎القرا ن الکر یم ۴۱/۱۴)
(۴؎مد ا رک التنذیل (تفسیر النسفی ) تحت الا یۃ۴۱ /۱۴ دا ر الکتا ب العر بی بیر و ت ۴ /۹۰)
(۵؎انو ر التنزیل (تفسیر البیضا وی ) تحت الا یۃ۴۱ /۱۴ دار الفکر بیروت ۵ /۱۱۰)
(۲۰) فی الا حقا ف
''(اذا نذر من بین ید یہ ۶؎)
ای من قبل ھو د (ومن خلفہ )من بعد ہ الی اقو امھم (ان لا تعبد و ا الا اللہ ) (جلا ل۱)''۔
(۲۰) سو رہ احقا ف میں حضر ت ہو د نے اپنی قو م کو مقا م احقا ف میں ڈرا یا اور اس کے پہلے سنا نے والے گزر چکے تھے اور بعد میں آئے یعنی حضرت ہود سے پہلے اور ان کے بعد اپنی قو مو ں کی طر ف کہ سوا ئے خدا کے کس اور کو نہ پو جو (جلا لین )
(۶؎القرا ن الکر یم ۴۶ /۲۱)
(۱؎تفسیر جلا لین تحت الا یۃ ۴۶ /۲۱ اصح المطا بع دہلی ص۴۱۸)
''اللہ تعالی نے ہو ا ؤ ں کو با رش سے پہلے بشا ر ت دینے وا لی بنا کر بھیجا ۔''
(۲؎القر آن الکر یم ۷ /۵۷)
(۲۲) وفی الفرقا ن
''وھو الذی ارسل الر یح بشر ا بین ید ی رحتہ ۳؎''
(۲۲) سور ہ فر قا ن میں
''اللہ تعالی نے ہو ا ؤ ں کو با ر ش سے پہلے بشا ر ت دینے والی بنا کر بھیجا ۔''
(۳؎القر آن الکر یم ۲۵ /۴۸)
(۲۳) فی النمل
''امن یھد یکم فی ظلمت البر و البحر ومن یر سل الر یح بشر ا بین ید ی رحمتہ ۴؎''
(فا نھا تد ل علی قر ب المطر )۔
(۲۳) سو ر ہ نمل میں ''یا وہ جو تمھیں را ہ دکھا تا ہے اند ھیر یو ں میں خشکی اور تر ی کی ،اور وہ کہ ہو ا ئیں بھیجتا ہے اپنی رحمت کے آگے خو شخبر ی سنا تی " (ان آیات میں بین یدیہ قریب ہونے پر دلالت کرتاہے)۔