Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
24 - 135
فمن الا ول (۱) قو ل ربنا عز و جل فی سو رۃ البقر ۃ ۱؎(۲) فی طٰہٰ۲؎(۳) فی الا نبیاء۳؎(۴) فی الحج
''یعلم ما بین  اید یھم وما خلفھم '۴؎
 (۵) فی مر یم
''لہ ما بین اید ینا وما خلفنا وما بین ذلک ''۵؎۔
فعلم اللہ تعالی وملکہ لا یمکن اختصا صہ بقر یب او بعید سو ا ء اخذا الظر ف مکا نیا او زما نیا او لو حظ معنی عا م کما ھو الا نسب با لمقا م الا فخم (۶) فی سو ر ۃ البقر ۃ
فا نہ نزلہ علی قلبک با ذ ن اللہ مصد قا لما بین ید یہ ۶؎
قسم اول :(۱) سور ۃ بقر ہ(۲) سو ر ہ طہ(۳) سو ر ہ انبیاء(۴) سو ر ہ حج،ان سب سو ر تو ں میں آیا ت کے ا لفاظ یکسا ں ہیں ''یعلم ما بین اید یھم وما خلفھم ''ان کے پس و پیش کا اسے علم ہے۔(۵) سو ر ہ مر یم شر یف کی آیت لہ ما بین اید ینا وما خلفنا وما بین ذلک ۔اللہ تعالی ہی کے لیے ہے ہما رے پس و پیش اور اس کے در میا ن کی حکو مت ۔ظا ہر ہے کہ اللہ تعالی کی حکو مت اور اس کا علم قر یب یا بعید کے سا تھ خاص نہیں ۔(۶) سو ر ہ بقر ۃ میں فانہ نزلہ علی قلبک مصد قا لما بین ید یہ اللہ پا ک نے قر ان عظیم کو آپ کے قلب پر اتا را جو اپنے سے پہلے کی تصد یق کر تا ہے ۔
 (۱؎القر ا ن الکر یم            ۲ /۲۵۵) 	(۲؎القر ا ن الکر یم     ۲۰/ ۱۱۰)	(۳؎القرا ن الکر یم     ۲۱ /۲۸)

(۴؎القر ا ن الکر یم            ۲۲ /۷۶)	(۵؎القر ا ن الکر یم   ۱۹ /۶۴)	(۶؎القر ا ن الکر یم     ۲/ ۹۷)
(۷)فی آل عمران  :
 نز ل علیک الکتا ب با لحق مصد قا لما بین ید یہ۷؎۔
(۷) آل عمر ا ن میں نز ل علیک الکتا ب با لحق مصد قا لما بین ید یہ آ پ پر کتا ب اتا ری حق کے سا تھ جو گز رے ہوئے کی تصدیق کر تی ہے ۔
 (۷؎القر ا ن الکر یم   ۳ /۳)
 (۸) فی سو ر ۃ الا نعا م :
''وھذا کتاب انز لنا ہ مبا ر ک مصد ق الذی بین ید یہ ۸؎''۔
(۸) سور ہ انعا م میں : ''ہم نے اس مبا ر ک کتا ب کو اتا را جو گزر ے ہو ئے کی تصد یق کر تی ہے ۔''
 (۸؎القر ا ن الکر یم۶/۹۲)
 (۹) فی یو نس :
''وما کا ن ھذا القر ا ن ان یفتری من دو ن اللہ ولکن تصد یق الذی بین ید یہ ۱؎''
(۹) سو ر ہ یو نس میں ''یہ قرا ن غیر خدا کی طر ف سے افترا ء نہیں ہے یہ تو گزر ے ہو ئے کی تصد یق ہے ''
(۱؎القرا ن الکر یم 	۱۰ /۳۷)
(۱۰) فی یوسف :
''ما کا ن حد یثا یفتر ی ولکن تصدیق الذی بین ید یہ و تفصیل کل شیئ''۲؎۔
 (۱۰) سور ہ یو سف میں ''یہ بنا و ٹ کی با ت نہیں لیکن اپنے سے پہلے کا مو ں کی تصد یق اور ہر شیئ کی تفصیل ہے "
 (۲؎القر ا ن الکر یم	۱۲ /۱۱۱)
 (۱۱) فی سبا
''وقا ل الذی کفر والن نؤ من بھذا القر ا ن ولا با لذی بین ید یہ ۳؎''
 (۱۱) سو ر ہ سبا میں کا فر و ں نے کہا ہم نہ تو اس قرا ن پر ایما ن لا تے ہیں نہ اس پر جو گذشتہ ہے ''۔
 (۳؎القر ا ن الکر یم	۳۴ /۳۱)
(۱۲) فی الملٰئکۃ
''والذی اوحینا الیک من الکتا ب ھو الحق مصد قا لما بین ید یہ ۴؎''
 (۱۲) سو ر ہ ملٰئکہ میں''جو کتا ب ہم نے آپ کی طر ف وحی کی حق ہے اور گز ر ے ہو ئے کی تصد یق ہے ''
 (۴؎القر ا ن الکر یم	۳۵ /۳۱)
 (۱۳) فی حم السجد ۃ
''و انہ لکتٰب عزیز لا یا تیہ البا طل من بین دی یہ و لا من خلفہ ۵؎''۔
 (۱۳) سو ر ہ حم السجد ہ میں''یہ عز ت وا لی کتا ب کی با طل کو اس کی طر ف را ہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ پیچھے سے ۔''
 (۵؎القر ا ن الکر یم	۴۱  /۴۲)
(۱۴) فی الحقا ف
''قا لو ا یقو منا انا سمعنا کتابا انزل من بعد مو سی مصد قا لما بین ید یہ ۶؎''
 (۱۴) سور ہ احقا ف میں سو ر ہ احقا ف میں ''اے ہما ری قو م !ہم نے ایک کتا ب سنی جو مو سی کے بعد اتا ری گئی اگلی کتا بو ں کی تصد یق فر ما تی ہے ۔''
 (۶؎القر ا ن الکر یم	۴۶  /۳۰)
ان سب آیا ت میں ہے کہ قرا ن عظیم گزشتہ کتا بو ں کی تصد یق کر تا ہے
Flag Counter