فمن الا ول (۱) قو ل ربنا عز و جل فی سو رۃ البقر ۃ ۱؎(۲) فی طٰہٰ۲؎(۳) فی الا نبیاء۳؎(۴) فی الحج
''یعلم ما بین اید یھم وما خلفھم '۴؎
(۵) فی مر یم
''لہ ما بین اید ینا وما خلفنا وما بین ذلک ''۵؎۔
فعلم اللہ تعالی وملکہ لا یمکن اختصا صہ بقر یب او بعید سو ا ء اخذا الظر ف مکا نیا او زما نیا او لو حظ معنی عا م کما ھو الا نسب با لمقا م الا فخم (۶) فی سو ر ۃ البقر ۃ
فا نہ نزلہ علی قلبک با ذ ن اللہ مصد قا لما بین ید یہ ۶؎
قسم اول :(۱) سور ۃ بقر ہ(۲) سو ر ہ طہ(۳) سو ر ہ انبیاء(۴) سو ر ہ حج،ان سب سو ر تو ں میں آیا ت کے ا لفاظ یکسا ں ہیں ''یعلم ما بین اید یھم وما خلفھم ''ان کے پس و پیش کا اسے علم ہے۔(۵) سو ر ہ مر یم شر یف کی آیت لہ ما بین اید ینا وما خلفنا وما بین ذلک ۔اللہ تعالی ہی کے لیے ہے ہما رے پس و پیش اور اس کے در میا ن کی حکو مت ۔ظا ہر ہے کہ اللہ تعالی کی حکو مت اور اس کا علم قر یب یا بعید کے سا تھ خاص نہیں ۔(۶) سو ر ہ بقر ۃ میں فانہ نزلہ علی قلبک مصد قا لما بین ید یہ اللہ پا ک نے قر ان عظیم کو آپ کے قلب پر اتا را جو اپنے سے پہلے کی تصد یق کر تا ہے ۔