Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
23 - 135
الشما مۃ الر ابعۃ من عو د احرا ق الخلا ف

(اختلا ف کو خا کستر کر دینے والے عو د و عنبر کا چو تھا شما مہ )
الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذین اصطفی لیعلم سا دتنا و اخو تنا اھل الحق و الھد ی حفظنا اللہ تعالی و ایا ھم  عن الر دی ان الو ھا بیۃ العنو د ومن تبعھم من طلبۃ الھنو د بذلو ا جھد ھم لیخر جو ا حد یثا صحیحا او نصا فی الفقہ صریحا یفید ان السنۃ فی ھذا الا ذا ن کو نہ فی جو ف المسجد متصلا با لمبنر کما تعو د ہ  ھھنا فلم یقد روا وما کا ن اللہ لیر فع با طل را سا فجعلو ا یتشبثو ن بکل حشیش فخمسۃ اتفقو ا علی الا حتجا ج بھا :
حمد اللہ تعالی کے لیے ہی خا ص ہے اور وہی ہما رے لیے کا فی ہے اور اس کے بر گزید ہ بند و ں پر سلا م و رحمت ہو حق و ہد ایت وا لے بزرگو ں اور بھا ئیو ں کو معلو م ہو اللہ تعا لی ان کی حفا ظت فر ما ئے کہ معا ند و ہا بیہ اور انکی پیروی کرتے ہوئے ابھرتے طلبہ سب کو اس امر نے تھکا دیا کہ ایک صحیح حد یث یا فقہ کی کو ئی نص صر یح پیش کریں جو اذا ن کے مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو نے کا افا دہ کرے جیساکہ آج کل رواج پڑگیا ہے مگر وہ اس پر قادر نہ ہو سکے اور اللہ تعالی با طل کو سر بلند ی عطا نہیں کر تا ۔پس وہ تنکو ں کا سہا را لینے لگے ان میں پا نچ با تو ں میں تو سب متفق ہیں بقیہ کچھ لو گو ں نے انفرا دی بحثیں بھی کی ہیں یہ بند ہ ضعیف پہلے تو پا نچو ں متفقہ دلا ئل کا ذکر فر داً فر داً اس کا رد کر دے گا پھر انفرا دی لچر اور پو چ دلا ئل کی بھی خبر گیر ی کر یگا پہلی پا نچ با تیں یہ ہیں۔
 (۱) نصو صھم ان ھذا الا ذا ن بین ید ی الخطیب ۔
 (۱) اذا ن جمعہ کے لیے تما م فقہا ء نے بین ید یہ (خطیب کے سا منے )کا لفظ استعما ل کیا ہے جس ظا ہر ہے کہ یہ اذ ا ن مسجد کے اند ر منبر سے متصل ہو نا چا ہیے ۔
 (۲) وتعبیر بعضھم فی مسئلۃ ان ایجا ب السعی با لا ذا ن  الاول  او الثانی ھذا ا لا ذا ن با لذی عند المنبر ۔
 (۲) اس مسئلہ کو بیان کر تے ہو کہ جس اذان کو سن کر جمعہ کے لیے مسجد کی طر ف جا نا وا جب ہو جا تا ہے وہ اذان اول ہے یا ثا نی ۔بعض فقہا ئے یو ں تعبیر کی یہ وہی اذا ن ہے جو عند المنبر (منبر کے پا س) ہو تی ہے ۔
 (۳) وبعضھم با لذی علی المنبر ۔
 (۳) اور بعض فقہا ء نے علی المنبر (منبر کے اوپر )فر ما یا جو پا س سے بھی زا ئد قر یب پر دلا لت کر تا ہے ۔
 (۴) وزعمو ا ان کو نہ دا خل المسجد ملا صق المنبر ھو التو ا رث فمن احتر س لنفسہ یجمل و یقول من القدیم والذی تجرأ یقول من  لدن رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و خلفا ئہ الر ا شد ین رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین ۔
 (۴) معاند ین کا یہ گما ن فا سد ہے کہ اس اذا ن کا مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو نا متو ا رث ہے (یعنی خلفاً عن سلف ایسا ہی ہو تا چلا آیا ہے ) توا رث کے بیان میں جس نے احتیا ط سے کا م لیا تو اتنا کہہ کر رہ گیا کہ قد یم سے ایسا ہو تا آیا ہے اور جو جر أت بے جا کر تا وہ کہتا ہے کہ حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زما نہ اور خلفائے راشدین کے عہد مبا ر ک سے ایسا ہی ہو تا ہے ۔
 (۵) وزعمو ان علیہ التعا مل فی جمیع البلدا ن واجمع علیہ جمیع اھل الا سلا م وتفر د بعضھم من بعض بشبھا ت اخری  ذا ت عجر و بجر والعبد الضعیف بتو فیق الملک اللطیف عز جلا لہ یر ید ان یمر علیھا طردا طر دا و یبین عو ا رھا فر د ا فر دا فلنبتدی با لا ول ثم نتبعھا البا قی الا ذل وما تو فیقی الا با للہ علیہ تو کلت والیہ انیب ۔
 (۵) ان سب کا کہنا ہےکہ تما م مما لک میں اسی پر عملدرآمد ہے اور تما م اہل اسلا م کا اس پر اجما ع ہے ۔

اب میں ان پا نچ متفقہ با تو ں کا تفصیلی رد اور بعد میں متفر قا ت سے بھی تعر ض کر وں گا اللہ تعالی سے ہی میر ی تو فیق ہے اسی پر میر ا بھر و سا ہے اور اسی کی طر ف میر ا رجو ع ہے ۔
نفحہ ۱ :  قد بینا با لحد یث و الفقہ ان السنۃ فی ھذا ا لا ذا ن کو نہ بین ید ی الخطیب اذا جلس علی المنبر و لکن لیس فی الفظۃ بین ید یہ ما یقرّأ  عینھم ولا ما یمیل الیہ انما مفا دھا ان یکو ن بحذا ء المنبر قبا لۃ وجہ الخطیب من دون حائل یحجبہ عنہ وھذا یشمل دا خل المسجد و خا رجہ الی حیث تبقی المحا ذا ۃ والمشا ھد ۃ لیس فی مفا د اللفظ اکثر من ھذا غیر ان الفقہ دلنا علی ان الا ذا ن لا یکو ن فی جو ف المسجد ولا بعید ا منہ بحیث لا یعد الند ا ء ثمہ ندا ء الی ھذا المسجد بل فی حد ود ہ و فنا ئہ و ارشد نا الحد یث فتعین ھذا محلا لہ ولنکشف الستر عن وجہ التحقیق فی مفا د ھذا اللفظ ۔
نفحہ ۱ : ہم احا دیث و فقہ سے یہ ثا بت کر آئے ہیں کہ جب اما م منبر پر بیٹھے تو اس اذا ن کا خطیب کے سا منے ہو نا مسنو ن ہے لیکن ''سا منے''کے لفظ میں مخا لفین کی آنکھ ٹھنڈ ی کر نے وا لی کو ئی با ت نہیں بلکہ اس کا مفا د صر ف اتنا ہے کہ منبر کے سامنے خطیب کے چہر ے کے مقا بل ہو بیچ میں کو ئی حا ئل نہ ہو جو روئے خطیب کا آڑ بنے یہ با ت مسجد کے اندر اور با ہر دونو ں ہی صو رتو ں کو شا مل ہے اس حد تک کہ مشا ہد ہ اور مقا بلہ با قی رہے اصل لفظ بین ید یہ (سا منے )کا مفا د اس کے سو ا نہیں البتہ فقہ نے ہم کو بتا یا کہ اذا ن مسجد کے اند ر نہ ہو نی چاہیے بلکہ مسجد سے اتنی دور ہو نی چا ہیے کہ مسجد میں نہ شمار کی جا ئے بلکہ مسجد کے حد ود اور اس کی فناء میں ہو احا دیث مبا رکہ نے بھی اسی کی طر ف رہنما ئی کی ہے جس سے اس مقا م کی تعیین ہو تی ہے ۔
فاقو ل : و با للہ التو فیق ۔اللفظ مر کب و معنا ہ الحقیقی بحسب اجزا ئہ التر کیبیۃ وقو ع الشیئ فی الفضا ء المحصو ر بین ھذین العضو ین من المضا ف سوا ء کا ن اما مہ او خلفہ اولا ولا والفضا ء محققا او متخیلا فا نک اذا ارسلت ید یک فلیس بینھما الا جنبا ک و فخذا ک و او ان بستطھما قبالۃ وجہک او وراء ظہر ک فکل ما وقع فی الفضا ء المحصور بھما فھو بین ید یک وھو اما مک فی الا و ل وخلقک فی الثا نی ولیس اما مک ولا خلفلک فی صو ر ۃ الا رسا ل ۔
اب میں اس لفظ کی تحقیق کرتا ہو ں لفظ ''بین ید یہ ''دو حر فو ں سے مر کب ان اجزا ئے تر کیبیہ کے اعتبا ر سے اس لفظ کے معنی حقیقی یہ ہو ئے کہ ''آدمی کے دو نو ں ہا تھ کے در میا ن جو فضا ہے ''چا ہے وہ آدمی کے آگے کی فضا ہو چا ہے پیچھے کی کیو نکہ دو نو ں ہا تھو ں کو کھلا چھو ڑ دیا جا ئے تو ان کے بیچ میں آدمی کے دو نو ں پہلو اور دو نو ں را نیں ہو تی ہیں اور نہیں دونو ں کو جب منہ کے آگے یا پشت کے پیچھے درا ز کیا جا ئے تو پہلی صورت میں آگے کی جا نب دونو ں ہا تھ کے بیچ کی فضا اور دوسر ی صو ر ت میں پیچھے کی جا نب کی اتنی فضا ء ''بین دی یہ ''ہے اور دونو ں ہا تھ لٹکا نے کی صورت میں آگے پیچھے کا سو ا ل ہی نہیں۔
وا نت تعلم ان ھذا المعنی لا مسا غ لہ ھنا بل الا مر ان المر کب ربما لا یلا حظ الی معا نی اجزا ئہ التفصیلیۃ و یصیر باجمالہ دا لا علی معنی اخر لغۃ او عر فا فھو و ان کا ن مجا زا لہ با لنظر الی مفصلہ یکو ن حقیقتا لغو یۃ او عر فیۃفیہ باعتبا ر اجما لہ و ذلک فی لفظنا ھذا معنی الا ما م والقد ام اما مطلقا من دو ن تخصیص با لقر ب او مع لحا ظہ و حینئذ یفسر با لحا ضر المشا ھد لا ن شر ط الرؤیۃ العا دیۃ القرب و المقا بلۃ فکل مر ئی حین ھو مر ئی محا ذقر یب ۔
لفظ ''بین ید یہ ''کے معنی ترکیبی حقیقی تو یہی ہیں لیکن یہ یہا ں مراد نہیں ہو سکتے اور معنی حقیقی تفصیلی چھوڑ کر دوسر ے معنی اجما لی مراد ہو تے ہیں یہ اطلا ق کبھی لغو ی ہو تا ہے اور کبھی عر فی اپنے معنی تفصیلی کے لحاظ سے یہ دوسر ے معا نی اگر چہ مجا ز ی قرا ر دئے جا ئیں لیکن استعما ل کے لحا ظ سے حقیقی ہو تے ہیں لفظ بین ید یہ کا بھی یہی حا ل ہے کہ وہ سا منے اور مقا بل کے معنی میں طے ہو گیا ہے قر ب کے معنی سے قطع نظر میں طے ہو گیا ہے قر ب کے معنی سے قطع نظر کر کے یا اس کا لحا ظ کر تے ہو ئے اور اس وقت میں اس لفظ کی تفسیر لحا ظ کر تے ہو ئے اور اس وقت میں اس لفظ کی تفسیر حا ضر اور مشا ہد سے کی جا تی ہے کیو نکہ رؤیت عادیہ کے لیے قر ب و مقا بلہ شر ط ہے جو مر ئی ہے دیکھنے کے وقت قر یب بھی ہے اور مقا بل بھی ہے ۔
وھذا منتھی مفا د اللفظ فی نفسہ و اختلا ف حدود القر ب تنشؤ من خصو صیا ت المقا م لا نہ امر اضا فی مشکلک متفا و ت غا یۃ التفا و ت فیلا حظ لکل مقا م ما یستد عی وھی دلا لۃ عقلیۃ من الخا ر ج لا من اللفظ ثم تو سع فیہ علی الوجھین و استعیر ظر ف المکا ن للزما ن فا رید بہ الما ضی اما مطلقا او قر یب لا ن جھۃ المضی جھۃ الظھو ر کا لا ما م او المستقبل کذلک لا ن کل آت قر یب و انت منو جہ الی القا بل فکا نہ لک مقا بل وعلی ھذین الوجھین و رد فی القرا ن العظیم و المحاورات وبھما فسر تہ ائمۃ اللغۃ والتفسیر الا ثبا ت ووجد ت اللفظۃ فی القرا ن الکر یم فی ثما ن و ثلثین موضعا فی عشر ین منھا لادلا لۃ علی القر ب وفی وا ھد جا ء علی حقیقۃ اجزا ئہ التر کیبیۃ و فی سبعۃ عشر فید القر ب علی تفا وت عظیم فیہ من الا تصا ل الحقیقی الی فصل مسیر ۃ خمسما ئۃ سنۃ جعلناما لا دلا لۃ فیہ علی القر ب فر یقا والبو ا قی فر یقا :
لفظ''بین یک یہ ''کا اصلی مفا د یہی ہے البتہ قر ب چو نکہ ایک امر اضا فی حد در جہ متفا و ت المعنی کلی مشکک ہے اس لیے اس کے مختلف در جا ت میں سے کسی ایک کی تعییب مقا م کی خصو صیت کے لحا ظ سے ہو گی اور قر ب و بعد کے مختلف مر ا تب پر دلا لت لفظ کے تقا ضا سے نہیں عقل کے تقا ضا سے ہے پھر اصل میں تو یہ لفظ ظر ف مکا ن کے لیے تھا لیکن بعد میں ظر ف زما ن کے لیے مستعمل ہو نے لگا یا تو مطلقا زما نہ ما ضی یا ما ضی قریب کے لیے کیو نکہ ما ضی حضو ر کے قر یب ہے اور اسی طر ح مستقبل میں بھی کہ آنے وا لا زما نہ بھی مقا بل اور متو جہ ہے قرا ن عظیم اور مھا ورا ت عر ب میں لفظ ''بین یدیہ ''ا ن دونو ں معنی میں وارد ہو ا مفسر ین نے اسی معنی سے اسکی تفسیر کی میں تتبع اور تلا ش سے قرا ن پا ک میں  ۳۸جگہ یہ لفظ پا یا جن میں بیس مقا ما ت پر قر ب پر کو ئی دلا لت نہیں اور ایک مقا م پر معنی تر کیبی حقیقی کے لیے ہے اور ستر ہ مقا ما ت پر قر ب کے لیے ۔مگر اس قرب میں بھی تفا وت عظیم ہے کہ اتصا ل حقیقی سے پا نچ سو بر س کی را ہ کی دوری تک پر قر ب کا اطلا ق ہو اہے ہم نے ان سب آیتو ں کو دو قسمو ں پر تقسیم کیا ہے  :
Flag Counter