عبد الرزا ق نے ابی بکر ابن محمد سے روایت کی :''رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں کھو ئی ہو ئی چیز تلا ش کر تے سنا تو فر ما یا اے تلا ش کر نیو ا لے ! پا نےوالا تیر ے علا وہ ہو مسجد یں اس کا م کے لیے نہیں ہیں۔''
(۲؎المصنف لعبد الر زا ق حد یث ۱۷۲۲ المکتب الا سلامی بیر و ت ۱/۴۴۰ )
والاحا دیث فی البا ب کثیر ۃ و ھو بعمو مہ یشمل من ینشد مصحفا لیتلو ہ بل ومن ینشد اما نۃ ضلت عنہ مع ان انشادھا وا جب علیہ ''ان اللہ یا مر کم ان تؤدوا الا ما نا ت الی اھلہا ۔۱؎''
اس مو ضوع پر حد یثیں بہت ہیں اور یہ اس صو ر ت کو بھی شا مل ہے کہ تلا و ت کے لیے مصحف شریف کو ڈھونڈے یا کسی کی اما نت جو اس کے پا س تھی کھو جا نے پر مسجد میں تلا ش کر ے حا لا نکہ ایسی چیز کا تلا ش کر نا وا جب ہے ارشا د الہی ہے :''اللہ تعالی تمھیں حکم دیتا ہے کہ اما نت وا لو ں کی اما نت واپس کر دو ''
(۱؎القرا ن الکر یم ۴/ ۵۸)
فا لا نشاد مقد مۃ الو جد ان والو جد ان مقد مۃ الا دا ء والا د اء وا جب ، مقد مۃ الو ا جب وا جب ،وکذلک عمم الفقھا ء فقالو ا کرہ انشا د ضا لۃ ،ولم یستثنو ا منہ فصلا و ذلک ان اتیا ن الو اجب ان کا ن من اعما ل الا خر ۃ فما لکل عمل الاخر ۃ بنیت المسا جد انما بنیت لما بنیت لہ احمد و مسلم عن انس رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم :''ان ھذہ المسا جد لا تصلح لشیئ من القذر والبو ل و الخلا ء وا نما ھی لقر ائۃ القرا ن و ذکر اللہ والصلو ۃ ۲؎''
تلا ش پا نے کا مقد مہ ہے اور پا نا دینے کا ذریعہ ،اور جو واجب کا ذریعہ ہو وہ خو د وا جب ہے فقہاءنے اس عمو م میں ہر گمشد ہ چیز کی تلا ش کو دا خل کیا اور کسی خا ص گمشد ہ کا استثنا نہیں کیا اس کا رمزیہ ہے کہ وا جب کی ادائیگی ہر چند کہ عمل آخر ت ہے پر سبھی عمل آخر ت کے لیے مسجد نہیں بنا ئی گئی ۔حضر ا ت اما م احمد و مسلم حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنہ اور وہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے رو ایت کر تے ہیں :''یہ مسجدیں گند گی پیشا ب و پا خا نہ کے لیے نہیں یہ تو صر ف تلا وت قرا ن ذکر الہی اور نما ز کے لیے ہیں ۔''
(۲؎مسند الاما م احمد بن حنبل عن انس بن ما لک المکتب الا سلا می بیر و ت ۳/ ۱۹۱)
(صحیح مسلم کتاب الطہا رۃ با ب وجو ب غسل البو ل الخ قد یمی کتب خا نہ کرا چی ۱/ ۱۳۸)
وللبخا ر ی وابن ما جۃ عن ابی ھر یر ۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم انما بنی لذکر اللہ والصلوۃ ۳؎
بخا ری و ابن ما جہ حضر ت ابو ہر یر ہ اور وہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی وسلم سے روا یت کر تے ہیں :''یہ (مسا جد)تو نما ز اور ذکر الہی کے لیے ہی بنا ئی گئی ہیں۔''
(۳؎کنز العما ل بحو الہ خ عن ابی ہر یر ہ حد یث ۲۰۷۹۵ مؤسسۃ الر سا لۃ بیر و ت ۷/ ۲۶۲)
ولا حمد فی الز ھد عن ابی ضمر ۃ عن ابی بکر الصد یق رضی اللہ تعا لی عنہ انما بنیت للذکر ۴۔
اما م احمد نے کتا ب الزہد میں حضر ت ابو ضمر ہ عن ابی بکر الصد یق رضی اللہ تعالی عنہ صر ف ذکر کا ہی ذکر کیا ۔
(۴؎کتا ب الزہد (اما م احمد بن حنبل ) زہد ا بی بکر حد یث ۵۸۹ دار الکتاب العر بی بیر و ت ۳/ ۲۵۸)
وفی مسند الفر دوس عن ابی ھر یر ۃ رضی اللہ تعالی عنہ قا ل قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کل کلا م فی المسجد لغو الا القرا ن و ذکر اللہ تعالی و مسا لۃ عن الخیر او اعطا ؤہ ۱؎
مسند الفر دو س میں بر وا یت ابو ہر یر ہ مر وی ہے حضو ر صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم نے فر ما یا :''مسجد کے اندر تلاوت کلا م اللہ ،ذکر الہی اور بھلا ئی سے سو ال اور اس کو دینے کے علا وہ ہر با ت لغو ہے ۔''
(۱؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۴۷۶۴ دار الکتب العلمیہ بیر و ت ۳/ ۲۵۸)
وقد علمت ان لیس الا ذان خا لص ذکر و لو کا ن المسجد یبنی لہ لاتی الشر ع با یقا عہ فیہ و لنقل و لو مر ۃ و کیف یعقل ان شیئا بنی لہ المسجد لا یفعل فیہ قط علی عھد رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والخلفا ء الر ا شدین رضی اللہ تعالی عنہم فیقا ل فیہ ایضا ان المسا جد لم تبن لھذا کیف والا ذا ن للد عا ء الی الحضر ۃ والحضر ۃ لا تبنی لند ا ء النا س الیھا وفیھا، واللہ المو فق فھذا ما ظہر للعبد الضعیف من الکلا م المجید و الحد یث الحمید و الفقہ السد ید و حلہ کما تری وا ضح بلا امترا ء و ان کا ن اخر ہ من قبیل المتا بعا ت و الشو ا ھد ولکن کلہ لمن تحلی با لا نصا ف ھیھا ت لما یقنع المکا بر ویقمع الاعتسا ف و نسا ل اللہ العفو و العا فیۃ و الر حمۃ الکا فیۃ والنعمۃ الوا فیۃ و العیشۃالصا فیۃ ،والحمد للہ رب العلمین وصلی اللہ تعا لی و با ر ک وسلم علی سید نا محمد و الہ و ابنہ و حزبہ اجمعین ۔
یہ پہلے ہی معلو م ہو چکا ہے کہ اذا ن خا لص ذکر الہی نہیں اگر مسجد اس کے لیے بنی ہو تی تو شر ع شر یف مسجد کے اند ر اذا ن کا حکم فر ماتی اور اس پر عمل درآمد ایک با ر ہی سہی مر وی ضرور ہو تا بھلا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ جس کا م کے لیے مسجد کی تعمیر ہو ئی وہی مسجد میں کبھی نہ ہوا ،نہ تو حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد میں نہ خلفا ئے را شد ین کے عہد میں تو یہی کہا جا ئیگا کہ مسجد اس کے لیے بنا ئی ہی نہیں گئی اور ایسا ہو تا بھی کیسے یہ تو در با ر الہی کی حا ضر ی کا اعلا ن ہے اور در با ر اعلا ن کے لیے نہیں ہو تا اعلا ن تو در با ر کے با ہر ہو تا ہے اللہ تعالی تو فیق دینے والا ہے اس ضعیف بند ے پر کلا م مجید حد یث مقد س اور فقہ مبا رک سے یہی ظا ہر ہو ا با تیں سب کی سب ظا ہر ہیں اگر چہ اخیر میں ہم نے شو ا ہد اور متا بعا ت سے کا م لیا لیکن یہ سب بھی اہل انصا ف کے نز دیک قطع مکا بر ہ اور دفع زیا دتی کے لیے کا فی ہے میں اللہ تعالی سے عفو و عا فیت رحمت کا ملہ اور نعمت متکا ثر ہ اور عیش صا فیہ کا طا لب ہو ں اللہ تعالی کے لیے ہی حمد ہے اور ہما رے سردا ر محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور ان کے آل و اصحا ب اور ان کے گر وہ سب پر درو د سلا م ہو ۔