Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
21 - 135
نفحہ ۲: نسمع ربنا تبا رک و تعالی یعا تب قو ما اذیقول  عز من قا ئل ا ذا فر یق منھم یخشو ن النا س کخشیۃ اللہ او اشد خشیۃ ۲؎۔ وقا ل عز وجل فا للہ احق ان تخشو ہ ان کنتم مو منین ۳؎ولقد علم من غشی ابو ا ب السلطا ن انہ اذا کا ن قو م خارج الحضرۃ وامر الملک بدعائھم لم یکن للحجا ب ان ینادوھم فی الحضرۃ بل یخرجون فینادون و لو قاموا علی را س السلطا ن وجعلو ا یصیحو ن با لند اء لا سا ؤ ا الا دب واستجلبو ا الغضب و استحقو ا التا دیب ومن لم یر الملو ک فینظر قضاۃ بلادنا کفا رھم ومسلمو ھم اذا ا مر وا بند ا ء الخصو م او الشھو د لم تقد ر الاعو ا ن ان ینا د و ھم فی دا ر القضا ء بل یخرجو ن خر و جا فید عو ن وھذا مشہو د کل یو م ومن انکر کو نہ اسا ء ۃ ادب فلیجر ب علی نفسہ ولیقم بین ید ی حاکمھم المسمی عند ھم جج ۔ و یر فع صو تہ بیا فلا ن یا فلا ن لنا س خا رج المکا ن فسیر ی ما یبد ل البیان با لعیا ن وما ذلک الالا دب المقا م وخشیۃ الحکا م فا للہ احق ان تخشو ہ ان کنتم مو منین ۱؎کیف ان امثا ل الا مو ر البنیۃ علی الا جلا ل ۔المبنئۃ من الا دب انما تحا ل علی الشا ھد فیما لم یرد بہ النص ، والشاھدھھنا ما ذکر نا فو جب المصیر الیہ و کان نداء الغا ئبین قا ئما فی حضر ۃ المصلی اسا ئۃ ادب بالحضرۃ الا علی وقلۃ خشیۃ من اللہ تعا لی ۔
نفحہ ۲: اللہ تبا رک وتعالی ایک قو م کی حا لت بیان کر تا ہے ،''ایک گر وہ آدمیو ں سے خدا سے ڈر نے کی طر ح ڈرتا ہے بلکہ اس سے بھی زیا دہ خو ف کھا تا ہے۔''اللہ تعالی فر ما تا ہے :''حا لا نکہ مو منوں کو اللہ تعالی سے ہی سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے اور جوآدمی بادشاہوں کے دربار میں حا ضر ی دیتا ہے خو ب جا نتا ہے کہ جب کو ئی شخص دربا ر کے با ہر رہتا ہے اور با دشا ہ اس کو بلا نے کا حکم دیتا ہے تو دربا ن دربار کے اند ر سے ہی اسے پکا ر نے نہیں لگتے بلکہ با ہر نکل کر آوا ز دیتے ہیں اگر یہ دربا ن با دشا ہ کے سر پر ہی کھڑے ہو کر چلا نے لگیں تو بے ادبی کے مر تکب ہو ں گے با دشا ہ کے غضب کے مستحق اور سزا کے مستو جب ہو ں گے ۔اور جو با دشا ہو ں کے در بار میں نہ جا سکا ہو تو وہ ہما رے علا قہ کے ججو ں کی کچہر ی میں حا ضر ہو جج مسلما ن ہو ں یا غیر مسلم وہ دیکھے گا کہ جج جب گواہوں یا مد عی ومد عا علیہ کو حا ضر کر نے کا حکم دیتے ہیں تو چپر اسی انہیں کچہر ی کے کمر ہ کے اند ر سے نہیں بلا تے بلکہ دروا زہ کے با ہر آکر پکا رتے ہیں یہ روز مرہ کا مشا ہدہ ہے اور جو اس کے بے ادبی ہو نے میں شبہ کر ے وہ خو د ہی اس کا تجر بہ کر ے کہ جج کے سا منے کھڑے ہو کر فلاں حاضر ہو فلاں حاضر ہو پکا رنے لگے تو ہما را بیان اس کے لیے مشا ہد ہ میں تبد یل ہو جا ئے گا توا س کا سبب کچہر ی کا ادب اور حکا م کا خو ف ہی ہے  پس اے ایما ن والو ! اللہ تعالی سے تو اس سے زیا دہ ڈرناچا ہیے اور اس قسم کے امو ر تعظیم و اظہار ادب میں جہا ں کو ئی شر عی حکم منصو ص نہ ہو معا ملہ مشا ہدہ پر ہی مو قو ف ہو تا ہے اور مشا ہد ہ کا حا ل ہم بیان کر چکے تو اسی کی طر ف پلٹنا چا ہیے اور غا ئب مصلیو ں کو مصلی کے اند ر کھڑے ہو کر پکا رنے کو با ر گا ہ الو ہیت میں بے ادبی ہی تصو ر کرنا چا ہیے۔''
 (۲؎القرا ن الکر یم      ۴/ ۷۷)(۲؎القرا ن الکر یم      ۹/ ۱۳)(۱؎القرا ن الکر یم        ۹/ ۱۳)
اما ما قلنا من الاحا لۃ علی الشا ہد فشیئ یشھد بہ العقل السلیم والقلب الحا ضر و من تتبع وجد شوا ہد ہ کثیر ۃ فی کلام الا جلۃ الا کا بر من ذلک قول الا مام المحقق علی الا طلا ق فی فتح القد یر : الثا بت ھو و ضع الیمنی علی الیسر ی و کونہ تحت السرۃ او الصدر کما قا ل الشا فعی لم یثبت فیہ حد یث یوجب العمل فیحا ل علی المعھو د من و ضعھا حال قصد التعظیم فی القیا م و المعھو د فی الشا ھد منہ تحت السر ۃ ۱؎
ہم نے جو مسئلہ کو مشا ہد ہ پر محمو ل کر نے کی با ت کہی وہ عقل سلیم کے نزدیک مسلم ہے اور تتبع اور تلا ش سے بزرگو ں کے کلا م میں اس کی بہت سا ری نظریں مل سکتی ہیں چنا نچہ اما م محقق علی الا طلا ق فتح القد یر میں فرما تے ہیں ''حد یث شر یف سے اتنا ثا بت ہے ''(کہ قیا م کی حا لت میں) دایا ں ہا تھ با ئیں پر رکھا جا ئے یہ امر کہ وہ نا ف کے نیچے ہو یا سینہ کے نیچے ،جیسا کہ اما م شا فعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مذہب ہے اس با ب میں ایسی کوئی حد یث نہیں جس پر عمل واجب ہو تو اس معا ملہ کو مشا ہد ہ پر محمو ل کر نا چا ہیے کہ حا لت تعظیم میں جہاں ہا تھ با ند ھنا معلو م و مشہو ر ہو وہی اختیا ر کیا جا ئے اور یہ زیر نا ف ہے ۔
 (۱؎فتح القد یر         کتا ب الصلو ۃ صفۃ الصلو ۃ         مکتبہ نو ریہ رضو یہ سکھر         ۱/ ۲۴۹)
ومن ذلک قو لہ ایضا و استحسنہ تلمیذہ المحقق ابن امیر الحا ج الحلبی جدا ما نصہ لا اری تحریر النغم فی الدعا ء کما یفعلہ القرا ء فی ھذا الز ما ن یصد رممن فھم معنی الدعا ء والسو ال وما ذلک الا نو ع لعب فا نہ لو قد ر فی الشا ھد سا ئل حا جۃ من ملک ادی سو الہ بتحریر النغم فیہ من الر فع و الخفض والتغریب والر جو ع کا لتغنی نسب البتۃ الی قصد السخریۃ واللعب اذ مقا م طلب الحا جۃ التضرع لا التغنی ۲؎
انہی نظیر وں میں سے حضر ت محقق کا  یہ قو ل بھی ہے جس کی ان کی شا گر د ابن امیر الحا ج نے تحسین بھی کی ہے دعا میں گلے با زی (گا نا )کو میں جا ئز تصو ر نہیں کر تا جیسا کہ آ ج کل کے قا ری کر تے ہیں اور یہ فعل ایسے لوگوں سے بھی صا در ہو تا ہے جو سو ال اوردعا کے معنی سمجھتے ہیں حا لا نکہ یہ ایک قسم کا کھیل اور مذا ق ہے اگر مشا ہد ے کے اعتبار سے دیکھا جا ئے تو کو ئی سا ئل جو با دشا ہ سے اپنی حاجت کی در خو است کر رہا ہو اپنے سوال کو گو یو ں کی طر ح گا کر آوا ز کی بلند ی اور پستی گئکر ی اور آواز کی آرا ئش کے سا تھ ما نگے تو ایسے سا ئل کو کھیل اور مذا ق کی تہمت دی جا ئے گی کہ مقا م الحا ح و زاری کا ہے نہ کہ گا نے کا۔
 (۲؎فتح القد یر    کتا ب الصلو ۃ       با ب الا ما مۃ        مکتبہ نو ریہ رضو یہ سکھر      ۱/ ۳۲۲)
قا ل فی الحلیۃ وقد اجا د رحمہ اللہ تعالی فیما اوضح و افا د۱؎ ،اھ
حلیہ میں اس کی تعر یف کر تے ہو ئے فر مایا گیا :حضر ت محقق نے بہت عمد ہ تو ضیح و افا دہ فر ما یا ۔
 (۱؎حلیۃ المحلی شر ح منیۃ المصلی )
ومن ذلک اشیا ء فیہ وفی الحلیۃ و الغنیۃ وغیر ھا قلت ارشد الیہ حد یث ''استحیی اللہ استحیاء ک من رجلین من صا لح عشیر تک روا ہ ابن عد ی ۲؎عن ابی اما مۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔''
اس قسم کی بہت سی نظیر یں فتح القد یر حلیہ اور غنیہ وغیر ہ میں ہیں بلکہ میر اکہنا تو یہ ہے کہ خو د حد یث شریف میں اس طر ف رہنما ئی ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فر ما تے ہیں ''تم اللہ تعالی سے ایسے ہی شر م کر و جیسے اپنے خا ند ا ن کے دو نیک مردو ں سے شر م کر تے ہو ''اس حد یث کو ابن عد ی نے ابو اما مہ رضی اللہ تعا لی عنہ سے حضو ر سے روا یت کی ۔
 (۲؎الکا مل لا بن عد ی         تر جمہ جعفر بن الزبیر الشا می         دارالفکر بیر وت         ۲/ ۵۶۰)
وحدیث قو لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ''اللہ احق ان یستحی منہ من النا س ۔''روا ہ احمد ۳؎و ابو داؤد والتر مذی والنسائی و ابن ما جۃ والحا کم عن معا ویۃ بن حید ۃ رضی اللہ تعالی عنہ ۔
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فر ما ن ہے ''اللہ تعالی کو اس کا زیا دہ حق ہے کہ آدمی اس سے انسا نو ں کی بہ نسبت زیا دہ شر م کر ے ۔''اس حد یث کو احمد و ابو داؤد اورتر مذی نے روایت کیا اور نسا ئی اور ابن ما جہ اور حا کم نے معا و یہ ابن حید ہ سے روا یت کیا ۔
 (۳؎جا مع التر مذی         کتا ب الا دب با ب ماجا ء فی حفظ العورۃ     امین کمپنی دہلی         ۲/ ۱۰۱)

(سنن ابن ما جۃ         کتاب النکا ح با ب التستر عند الجما ع     ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی     ص۱۳۹)

(سنن ابی داؤد         کتا ب الحما م با ب فی التعر ی         آفتا ب عالم پر یس لا ہو ر     ۲/ ۲۰۱)
وحد یث'' اذا صلی احد کم فلیلبس ثو بیہ فا ن اللہ احق من یزین لہ ''روا ہ الطبر ا نی ۱؎فی الا وسط والبیھقی عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و قد او ضحہ ابن عمر اذکسا نا فعا ثو بین و ھو غلا م فد خل المسجد فو جد ہ یصلی متو شحا بہ فی ثو ب فقال ألیس لک ثو با ن تلبسھما ؟ارایت لو انی ارسلتک الی ورا ء الد ار لکنت لا بسھما ؟ قا ل نعم قا ل فا للہ احق ان تتزین لہ  ام النا س فقا ل بل اللہ  روا ہ عبد الر زا ق ۲؎عن نا فع ۔
اور یہ حدیث :''نماز پڑھو تو پورے لباس میں کہ اللہ کے لیے زینت و آرائش کا سب سے زیا دہ حق ہے ''اس حدیث کو امام طبرانی نے اوسط میں اور اما م بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ تعا لی عنہم سے حضو راکر م صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روا یت کیا اور اس کی وضا حت حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقو ل ہو ئی کہ انہو ں نے اپنے غلا م نافع کو دو نو ں کپڑے پہنائے (یعنی مکمل جو ڑا دیا ) پھر انہیں مسجد کے اندر ایک ہی چادر میں لپٹا ہوا دیکھا تو فرمایا کیا تمھارے پا س پہننے کے لیے پو را جو ڑا نہیں ہے اگر میں تم کو گھر سے با ہر کسی کا م لے لیے بھیجتا تو مکمل جو ڑا پہن کر جا تے یا ایک چا در لپیٹ کر ؟حضر ت نا فع نے جو ا ب دیا ضرور پو را لباس پہنتا اس پر ابن عمر نے ارشا د فر ما یا کہ اللہ تعالی سے زیا دہ کو ن اس با ت کا مستحق ہے کہ اس کے لیے زینت کی جا ئے حضر ت نا فع کو اقرا ر کر نا پڑا کہ اللہ تعالی ۔ اسے عبد الر زا ق نے نا فع سے روایت کیا۔
 (۱؎المعجم الا وسط         حد یث ۹۳۶۴        مکتبۃ المعا ر ف الر یا ض            ۱۰/ ۱۷۰)

(السنن الکبر ی     کتا ب الصلو ۃ با ب ما یستحب للر جل ان یصلی فیہ من الثیا ب دا ئر ۃ المعا رف العثما نیہ دکن  ۲/ ۲۳۶)

(۲؂ المصنف لعبد الرزاق    کتا ب الصلو ۃ با ب ما یکفی الر جل من الثیا ب حدیث ۱۳۹۰ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۳۵۸)
نفحہ ۳: قا ل المو لی تبا رک و تعالی
یا یھا الذین امنو ا لاتد خلو ا بیوتا غیر بیو تکم حتی تستا نسوا و تسلمو ا علی اھلھا ذلکم خیر لکم لعلکم تذکر و ن فا ن لم تجد و ا فیھا احد ا فلا تد خلو ھا حتی یوذن لکم۱؎
نفحہ۳ : اللہ تبا رک وتعالی فر ما تا ہے: اے ایما ن وا لو !دوسر ے کے گھر میں بے انس پید ا کئے اور گھر وا لو ں کو سلام کئے بغیر دا خل نہ ہو یہ تمھا رے لیے بہتر ہے تا کہ نصیحت حا صل کر و اگر کسی کو گھر میں نہ پا ؤ تو جب تک اجا زت نہ ملے گھر میں داخل نہ ہو ۔
 (۱؎القر ا ن الکر یم ۲۴/ ۲۷،۲۸)
نہی اللہ سبحنہ عن دخو ل الا نسا ن فی بیت غیر ہ بغیر اذنہ (تسا نسو ا (عہ) تستاذنوا) والمسا جد بیو ت ربنا عزوجل اخرج الطبرا نی فی الکبیر عن ابن مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ قا ل قا ل رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان بیو ت اللہ فی الا رض المسا جد وان حقا علی اللہ تعالی ان یکر م من زا رہ فیہ ۱؎(وروا ہ ابو بکر بن شیبۃ عن امیر المو منین عمر رضی اللہ تعالی عنہ من قو لہ)
اللہ تبا رک و تعالی نے دو سر ے انسا نو ں کے گھر میں بے اذن وا نس داخلہ ممنو ع فر مایا اور مسجد یں اللہ رب العز ت جل و علا کے گھر ہیں ۔طبرا نی نے کبیر میں ابن مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت کی کہ حضو ر نے فر ما یا ''روئے زمین پر مسجدیں اللہ تعالی کا گھر ہیں اور اللہ تعا لی نے اپنے ذمہ کر م پر لیا کہ اس میں زیا رت کو آنیو الو ں کی تکر یم فرما ئے گا ۔''ابو بکر ابن شیبہ نے اسکو حضر ت فا روق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کاقو ل بتا کر نقل کیا ۔
 (۱؎کنز العما ل بحوالہ طب عن ابن مسعو د     حد یث ۲۰۷۴۰     مؤسسۃ الر سا لہ بیر و ت        ۷/ ۶۵۱)
عہ: فی الا یۃ امر ان الا ستیدذا ن والسلا م ،فا لا ستیذا ن فی المسا جد کما نبین ،اما السلا م فا قیم مقا مہ السلام علی حبیبہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فا نہ حا ضر دا ئما فی حضرتہ فا مر کل من ید خل مسجدا او یخر ج منہ ان یقو ل بسم اللہ و الحمد للہ والسلا م علی رسو ل اللہ ۲؎الی اخر الدعا ء الو ارد فی الا حا دیث صحیحۃ شھیر ۃ کثیر ۃ ۱۲ منہ۔
آیت کر یمہ میں دو امر ہیں: (۱) استیذا ن (۲) سلا م استیذان مسا جد میں ہو تا ہے جیسا کہ ہم بیا ن کر یں گے ۔ رہا سلا م تو نبی کر یم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر سلا م بھیجنا اسکے قا ئم مقام ہے اس لیے کہ آپ کی با رگا ہ میں حاضری دائمی ہے چنا نچہ مسجد میں داخل ہو نے وا لے یا مسجد سے نکلنے والے ہر شخص کو حکم ہے کہ وہ یو ں کہے ''بسم اللہ والحمد للہ والسلا م علی رسو ل اللہ ''آخر تک پو ری دعا پڑھے جومتعدد مشہو ر احا دیث صحیحہ میں وارد ہے ۱۲(ت)
 (۲؎الکتا ب المصنف لا بن ابی شیبہ     حدیث ۲۵۸۱۲     دارالکتب العلمیہ بیر و ت         ۵/ ۲۵۶)
ورو ی الطبر ا نی فی الکبیر و الضیا ء فی المختا ر ۃ عن ابی قرصا فۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابنو االمسا جد و اخر جو القما مۃ منھا فمن بنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ۲؎
اور اما م طبر انی نے کبیر میں اور ضیا ء نے مختا رہ میں ابو قر صا فہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وا سطہ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا قو ل نقل کیا :''مسجد یں بنا ؤ اور ان سے کو ڑے صا ف کر و تو جو خد ا کے لیے گھر بنا ئے اللہ تعالی نے اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا ۔''
 (۲؎المعجم الکبیر         حد یث ۲۵۲۱    المکتبۃ الفیصلیۃ بیر وت     ۳/ ۱۹)
وعدم الاذن فی الد خو ل لشیئ کما یکو ن بر فع المقید کذلک بر فع القید فمن اذن لہ با لد خو ل لشیئ ودخل بغیر ہ فقد دخل بغیر الا ذن والیہ یشیر قولہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم من سمع رجلا ینشد ضا لۃ فی المسجد فلیقل لا ردھا اللہ علیک فا ن المسا جد لم تبن لھذا (رواہ احمد و مسلم۳؎ وابو داؤد و ابن ما جۃ عن ابی ھر یر ۃ رضی اللہ تعالی عنہ)
اور بے اجا زت دا خل ہو نے کی ایک صو ر ت یہ بھی ہے کہ اجا زت کسی اور کا م کی ہے اور داخل ہو نے والاکسی اور کام کی غر ض سے دا خل ہو ا اسی نکتہ کی طر ف حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشا رہ فرمایا :''جس نے کسی آدمی کو سنا کہ مسجد میں اپنی کھو ئی ہو ئی چیز تلا ش کر رہا ہے تو دعا کر ے کہ خد ا کر ے تو اسے نہ پا ئے کہ مسجد یں اس کا م کے لیے نہیں بنا ئی گئیں ''اما م احمد ،اما م مسلم ،اما م ابو داؤد ،ابن ما جہ نے اس حد یث کو حضر ت ابو ہر یر ہ رضی اللہ تعالی عنہ کے و اسطے سے روا یت کیا ۔
 (۳؎صحیح مسلم         کتا ب المسا جد با ب النہی عن نشد الضا لۃ فی المسجد قد یمی کتب خا نہ کر اچی ۱/ ۲۱۰)

(مسند اما م احمد بن حنبل عن ابی ہر یر ۃ رضی اللہ تعا لی عنہ المکتب الا سلا می بیر وت     ۲/ ۴۲۰)

(سنن ابی داؤد کتاب الصلو ۃ با ب کر اہیۃ انشا د الضا لۃ فیہ آفتا ب عا لم پر یس لا ہو ر ۱ /۶۷)

(سنن ابن ما جہ ابو ا ب المسا جد و الجما عات با ب النہی عن انشا د الضوا ل فی المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کر ا چی ص۵۶)
Flag Counter