Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
20 - 135
الشما مۃ الثا لثۃ من مسک القرا ن العظیم         (قرا ن کر یم کے مشک سے تیسر ا شما مہ)
نفحہ ۱: اخر نا ھا الی ھنا لیکو ن ''ختا مہ مسک
و فی ذلک فلیتنا فس المتنا فسو ن ۱؎۔''
نفحہ ۱: ہم نے اس شما مہ کو یہا ں تک اسے لیے مؤ خر کیا کہ اس کو اختتا م مشک قرآ ن سے ہو  تاکہ اس میں رغبت کر نے وا لوں کی رغبت میں اور اضا فہ ہو ۔
 (۱؎ القرآن الکر یم ۸۳/ ۲۶و۲۷)
قا ل اللہ عز وجل : ٰیا یھا الذین امنو ا لا تر فعو ا اصو ا تکم فوق صو ت النبی ولا تجھر والہ با لقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعما لکم و انتم لا تشعر ونo ان الذین یغضو ن اصو اتھم عند رسو ل اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلو بھم للتقو ی لھم مغفر ۃ و اجر عظیم۱؎
اللہ تبا ر ک وتعا لی فر ما تا ہے اے ایما ن وا لو نبی مکر م صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کی آوا ز پر اپنی آوا ز ایسے بلندنہ کرو جیسا آپس میں ایک دوسر ے سے آوا ز بلند کر تے ہو کہیں تمھا رے اعما ل اکا ر ت نہ ہو جا ئیں اور تمھیں پتہ بھی نہ چلے جو لو گ رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کے حضو ر اپنی آوا ز پست کر تے ہیں اللہ تعا لی نے ان کے دلو ں کو تقو ی کے لیے آزما لیا ہے ان لیے مغفر ت اور بڑا اجر ہے ۔
(۱؎القران الکریم ۴۹/ ۲و۳)
ارشدنا القرا ن الکر یم الی ادب حضر ۃ الر سا لۃ و انہ لا یجو ز رفع الصو ت فیھا و او عد علیہ الو عید الشد ید ان فیہ لخشیۃ حبط الا عما ل والعیا ذبا للہ تعا لی و ند ب الی غض الصو ت عند ہ وو عد علیہ الوعد الجمیل مغفر ۃ من اللہ و اجر عظیم ۔
اللہ تعا لی نے دربا ر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ادب کی طر ف رہنما ئی کی کہ اس با رگا ہ میں بلند آوازی جا ئز نہیں اور ایسی شد ید وعید فر ما ئی کہ اس میں (معا ذ اللہ ) عمل ضا ئع ہو جا نے کا خطر ہ ہے اور وہاں  پست آوازی پر اللہ تعالی کی مغفر ت اور اجر عظیم کا وعد ہ ہے۔
ولا شک ان لیس ذلک الا لھیبۃ المقا م و اجلا ل صا حبہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فالحضر ۃ الا لھیۃ احق و اعظم الم تسمع ربک عز وجل یقو ل وخشعت الا صو ا ت للر حمن فلا تسمع الا ھمسا ۱؎ وماالمصلی الا حضر ۃ العلی الا علی عزو علا وتبار ک و تعالی فلعمر ی لو یتذ کر النا س حین حضو ر ھم المسا جد قیا مھم بین یدی ربھم عز وجل یو م القیا مۃ واستحضر واعظمۃ المقام و تفطنوا این ھم و بین ید ی من ھم لخشعت الا صو ات للر حمن فلا یکا د یخر ج صو ت الا من اذن لہ الر حمن وقا ل صوا با کا لقا ری و الخطیب فکا ن الا صل فی المسا جد فیما لم یر د بہ الا ذا ن ان لا تسمع الا ھمسا ولذا اتت الا حا دیث (عہ) تنھی عن رفع الصو ت فیھا :
اور شبہہ نہیں کہ یہ اہتما م صا حب مقا م کی ہیبت و اجلا ل کے لیے ہے (صلی اللہ تعالی وسلم) تو دربار الہی جل جلالہ کا ادب و احترا م تو اس سے بد ر جہا اعلی و اہم ہے اللہ تعا لی کا یہ فر مان کس نے نہ سنا :''قیا مت کے دن در با ر الہی میں سار ی آوا یں سہمی ہو ں گی اور سرگو شی کے علا وہ کچھ بھی سن نہ سکو گے ۔''مسجد اللہ تبا رک و تعا لی کا دربا ر عالی ہے ،واللہ العظیم اگر آدمی مسجد کی حا ضر ی کے وقت قیا مت میں رب العا لمین کے حضو ر اپنا کھڑا ہو نا یاد کر ے اور مقا م کی عظمت یا د کر کے سو چے کہ کہا ں اور کس وا سطے کھڑا ہے تو اجا زت یا فتہ انسا نو ں کے علاوہ (یعنی قا ری اور خطیب)کسی کی آواز نہ نکلے پس اصل حکم یہی ہوا کہ مسجد میں اجا زت یا فتہ لو گو ں کے سو ا کسی کی سر گو شی کے علا وہ کچھ نہ سنا جا سکے اسی لیے احا دیث کر یمہ میں مسجد میں آوا ز بلند کر نے کی مما نعت آئی ۔
 (۱؎القرا ن الکر یم ۲۰/ ۱۰۸)
عہ : وللبیھقی عن ابی ھر یر ۃ رضی اللہ عالی عنہ کا ن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یکر ہ العطسۃ الشد یدۃ فی المسجد ۱؎،وفی البحر الرا ئق وغیر ہ : قا لو ا و لا یجو ز ان تعمل فیہ الصنا ئع لا نہ مخلص للہ تعالی فلا یکو ن محلا لغیر العبا دۃ غیر انھم قالو ا فی الخیا ط اذا جلس فیہ مصلحتہ من دفع الصبیا ن و صیا نۃا لمسجد لا با س بہ للضر و رۃ ولا یدق الثو ب عند طیہ دقا عنیفا ۲؎انتھی وما ذا عسی ان یر تفع صوت الثو ب بضر ب الید علیہ عند طیہ یستو ی وقد نھو ا عنہ ۔ و کذلک من یعر ف الا دب ولا دین لمن لا ادب لہ نسا ل اللہ حسن التو فیق منہ عفی عنہ ۔
بیہقی میں حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مسجد میں زور سے چھینکنے کو نا پسند جا نتے بحرالرا ئق وغیر ہ میں ہے کہ مشا ئخ نے کہا مسجد خا لص اللہ تعالی کی عبا دت کی جگہ ہے لہذا وہ غیر عبا دت کا محل نہ ہو گی سو ائے اس کے جو انھو ں نے درزی کے با رے میں کہا کہ جب وہ مسجد میں مصلحت کے لیے وہا ں بیٹھے یعنی مسجد کی حفا ظت اور بچو ں کو مسجد سے دور رکھنے کے لیے تو اس ضر ورت کے تحت اس کے لیے مسجد میں بیٹھ کر سلا ئی کر نے میں حر ج نہیں اور وہ کپڑو ں کو تہہ کر تے وقت انھیں سختی سے نہ جھا ڑے انتہی اور بسا اوقا ت کپڑو ں کو لپیٹتے وقت ان پر ہا تھ ما ر کر سید ھا کر تے ہو ئے آ وا ز پید ا ہو جا تی ہے جس سے انہیں منع کیا گیا ایسے ہی وہ شخص جو ا دب کو پہچا نتا ہے اور جو با ادب نہیں اس کا کو ئی دین نہیں ہم اللہ سے اچھی تو فیق کے طلبگار ہیں (ت)
 (۱؎ شعب الا یما ن فصل فی خفض الصو ت با لعطا س     حدیث ۹۳۵۶    دار الکتب العلمیہ بیر و ت     ۷/ ۳۲)

(۲؎بحر ا ئق کتا ب الصلو ۃ فصل لما فر ض من بیا ن الکر ا ہیۃ فی الصلو ۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کر ا چی     ۲/ ۳۵)
 (۱) ابن ما جۃ عن وا ثلۃ رضی اللہ تعا لی عنہ قا ل قا ل رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جنبو ا مسا جدکم صبیا نکم و مجا نینکم و شر ا ءکم و بیعکم و خصو ما تکم و رفع اصوا تکم ۱؎
ابن ما جہ نے وا ثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت کی حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فر ما یا ''اپنی مسجد و ں کو اپنے بچو ں ،پا گلو ں ،خر ید و فر و خت ،لڑا ئی جھگڑا اور بلند آوا زی سے محفو ظ رکھو ''
 (۱؎سنن ابن ما جہ     ابو ا ب المسا جد و الجما عا ت     باب یکر ہ فی المسجد     ایچ ایم سعید کمپنی کر اچی     ص۵۵)
 (۲) وابن عدی و الطبرا نی فی الکبیر و البیھقی و ابن عسا کر عن مکحو ل عن وا ثلۃ و ابی الد ردا ء و ابی اما مۃ رضی اللہ تعالی عنہم عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جنبو ا مسا جدکم صبیا نکم و مجانینکم وسل سیوفکم و اقامۃ حدودکم و رفع اصو ا تکم وخصو ما تکم ۲؎
ابن عد ی اور طبر ا نی نے معجم کبیر میں اور بیہقی و ابن عسا کر نے مکحو ل سے انہو ں نے وا ثلہ سے اور ابو الدردا اور ابو اما مہ رضی اللہ تعا لی عنہ  سے روا یت کی ''اپنی مسجد و ں کو اپنے بچو ں ،پا گلو ں اور بے نیا م تلو ا روں ،حد یں قا ئم کرنے اور جھگڑنے سے محفو ظ رکھو ۔''
 (۲؎کنز العما ل بحو ا لہ عد و طب و ق و کر عن مکحو ل عن وا ثلہ وابی الد ردا وابی اما مہ حدیث ۲۰۸۳۴        ۷/ ۶۷۰)

(تا ریخ دمشق الکبیر تر جمہ العلا ء بن کثیر ۵۵۸۸     دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر وت    ۵۰/ ۱۵۴)

( المعجم الکبیر   حد یث ۷۶۰۱                المکتبۃ الفیصلیۃ بیر و ت     ۸/۱۵۶)
(۳) عبد الر زا ق فی مصنفہ قا ل حد ثنا محمد بن مسلم عن عبد ر بہ بن عبد اللہ عن مکحو ل عن معا ذ رضی اللہ تعا لی عنہ قا ل قا ل رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جنبو امسا جد کم مجا نینکم و صبیانکم و رفع اصو تکم وسل سیوفکم وبیعکم و شر ا ئکم و اقا مۃ حد و د کم و خصو متکم ۳؎
 (۳) عبد الر زا ق نے اپنے مصنف میں محمد ابن مسلم ،عبد ر بہ ابن عبد اللہ مکحو ل عن معا ذرضی اللہ تعالی عنہ عن رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی وسلم روا یت کی ''اپنی مسجد و ں کو اپنے پا گلو ں ،بچو ں اور آوا ز بلند کر نے ،تلو ا ریں بے نیا م کر نے بیع و شرا ء اور حد ود قا ئم کر نے اورجھگڑو ں سے محفو ظ رکھو ۔''
(۳؎المصنف لعبد الرزا ق     حدیث۱۷۲۶            المکتبۃ الا سلا می بیر وت     ۱/ ۴۲ - ۴۴۱)
 (۴) والا ما م ابن المبا رک عن عبید اللہ بن ابی حفص یرفعہ الی النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم قا ل: من اجا ب دا عی اللہ و احسن عما رۃ مسا جد اللہ کا نت تحفتہ بذلک من اللہ الجنۃ قیل یا رسو ل اللہ ما احسن عما ر ۃ مسا جد اللہ قا ل لا یر فع فیھا صو ت و لا یتکلم فیھا با لر فث ۱؎
 (۴) اما م عبد اللہ بن مبا ر ک رحمۃ اللہ علیہ نے عبید اللہ بن ابی حفص سے رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ و سلم تک سند پہنچا ئی کہ آپ نے فر ما یا کہ ''جس نے اللہ تعا لی کی طر ف بلا نے وا لے کی پکا رکا جو اب دیا اور مسجد کو اچھی طر ح آباد کیا تو بدلہ میں اس کا جنت کا تحفہ ملے گا لو گو ں نے پو چھا یا رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مسجد کو اچھی طر ح آبا د کر نا کس طر ح ہو تا ہے فر ما یا اس میں آواز بلند نہ کر و اور یا وہ گو ئی میں مبتلا نہ ہو ۔''
 (۱؎کنز العما ل بحوا لہ ابن مبا رک عن عبید اللہ حدیث ۲۰۸۴۱            مؤ سسۃ الر سا لہ بیروت    ۷/ ۶۷۱)
 (۵) اما م مالک و البیھقی عن سا لم بن عبد اللہ ان عمر بن الخطا ب رضی اللہ تعالی عنہ بنی الی جا نب المسجد رحبۃ فسما ھا البطیحاء فکا ن یقو ل من اراد ان یلغط و ینشد شعر ا او یر فع صو تا فلیخر ج الی ھذا الر حبۃ ۲؎
 (۵) اما م ما لک اور اما م بیہقی رحمہما اللہ سا لم ابن عبد اللہ سے روا یت کر تے ہیں ''حضر ت عمر بن الخطا ب رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد کے پہلو میں ایک کشا دہ جگہ نکا ل دی تھی جسے بطیحا ء کہا جا تا تو آپ فر ما تے جسے بیفا ئد ہ با ت کر نی ہو یا شعر پڑھنا ہو یا آوا ز بلند کر نی ہو تو اس احا طہ میں آجا ئے ۔''
 (۲؎مؤ طا لا ما م مالک کتاب قصر الصلو ۃ فی السفر با ب جا مع الصلو ۃ         میر محمد کتب خا نہ کر ا چی     ص۱۶۲)
 (۶) والامام ابن المبا ر ک وا برا ہیم بن سعد فی نسختہ عن سعید بن ابر اھیم عن ابیہ قا ل سمع عمر بن الخطا ب رضی اللہ تعالی عنہ صو ت رجل فی المسجد فقا ل اتد ری این انت اتد ری این انت کر ہ الصو ت ۱؎
 (۶) اما م ابن مبا ر ک و ابر ا ہیم بن سعد نے اپنے نسخہ میں سعید بن ابر اہیم عن ابیہ روا یت کی ''حضر ت عمر فا رو ق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک آدمی کی آوا ز مسجد میں سنی تو فر ما یا تجھے معلو م نہیں کہ تو کہا ں ہے تجھے معلو م نہیں کہ تو کہا ں ہے آپ نے آوا ز کو نا پسند کیا ۔''
 (۱؎الزہد لا بن المبا رک با ب فضل المشی الی الصلو ۃ والجلوس فی المسجد     دار الکتب العلمیہ بیر وت     ص۱۳۷)
وقد تقبلھا ائمہ الا مۃ با لقبو ل حتی ان فقہائھا نصو ا علی کر ا ھۃ رفع الصو ت فی المسجد با لذکر الا للمتفقھۃ کما فی الدر المختا ر۲؎ وغیر ہ من معتمدات الا سفا ر فا ذا کا ن ھذا فی الذکر فما ظنک بما لیس بذکر خا لص کا لا ذا ن لاشتمالہ علی الحیعلین قا ل الا مام  العینی فی البنا یۃ شر ح الھد ا یۃ فا ن قلت الا ذا ن ذکر فکیف یقو ل انہ شبہ الذکر و شبہ الشیئ غیر ہ قلت ھو لیس بذکر خا لص علی ما لا یخفی انما اطلق اسم الذکر علیہ با عتبا ر ان اکثر الفا ظہ ذکر۳؎اھ
اس حد یث کو ائمہ نے قبو ل کیا ۔اور فقہا ء نے یہا ں تک تصر یح فر ما ئی کہ مسجد میں بلند آوا ز سے ذکر کر نا بھی مکر و ہ ہے ہا ں اہل فقہ کی دینی بات چیت کا استثنا ء ہے ایسا ہی در مختا ر وغیر ہ کتب فقہ میں مر قو م ہے تو جب ذکر الہی کا یہ حا ل ہے تو اذا ن جو خا لص ذکر بھی نہیں کیو نکہ اس میں حیعلین تو نما ز کا بلا وا ہے اما م عینی نے بنا یہ شر ح ہدا یہ میں فر ما یا ''اگر یہ شبہ ہو کہ اذا ن تو ذکر ہے اس کو ذکر کے مشا بہ قرا ر دینا صحیح نہیں کیو نکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغا یر ت ہو تی ہے تو جواب یہ ہے کہ اذا ن ذکر خا لص نہیں ہا ں اس کے بیشتر الفاظ ضرور ذکر ہیں اسی کا لحا ظ کر کے اس کو ذکر کہا جا تا ہے ۔''
 (۲؎الد ر المختا ر     کتا ب الصلو ۃ     با ب ما یفسد الصلو ۃ         مطبح مجتبا ئی دہلی             ۱/ ۹۳)

(۳؎البنا یہ شر ح الہد ا یۃ کتا ب الصلو ۃ     با ب الا ذا ن         المکتبۃ الا مدا یۃ مکۃ المکر مۃ         ۱/ ۵۵۷)
وفی البحر الرا ئق عن ا لمحیط تحت قو ل الکنز ''یستقبل بھما القبلۃ و یلتفت یمینا و شما لا با لصلا ۃ و الفلا ح لا نہ فی حا لۃ الذکر و الثنا ء علی اللہ تعا لی والشھا دۃ لہ بالوا حد ا نیۃ و لنبیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم با لر سا لۃ فا لا حسن ان یکو ن مستقبلا فاما الصلو ۃ وا لفلا ح دعا ء الی الصلو ۃ و احسن الد ا عی با ن یکو ن مقبلا علی المد عو ین ۱؎''اھ
کنز کے قول ''کلمہ شہا دت کے وقت قبلہ کا استقبا ل اور صلا ۃ و فلا ح کے وقت دا ئیں با ئیں مڑیں ''کی تشر یح میں بحر الر ائق نے محیط سے نقل کیا ''اذا ن میں کلمہ شہا دتین حا لت ذکر ہے کہ اللہ تعا لی کی وحد انیت اور رسو ل کر یم صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کی رسا لت کی گو ا ہی ہے اور اس وقت استقبا ل قبلہ ہی منا سب ہے اور صلا ۃ و فلا ح میں نما ز کی طر ف بلا نا ہے ۔تو اس وقت یہی اچھا ہے کہ بلا نے والا بلا ئے ہو ؤں کی طر ف متو جہ ہو ''
 (۱؎ بحر الر ا ئق     کتا ب الصلو ۃ     با ب الا ذا ن         ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی         ۱/ ۲۵۸)
وفی صلو ۃ المسعو دی رحمہ اللہ تعالی : ان فی الا ذا ن منا جا ۃ و منا دا ۃ المنا جا ۃ ذکر اللہ تعا لی والمنا دا ۃ ندا ء النا س وما دا م فی ذکر اللہ یستقبل القبلۃ و اذا بلغ المنا دا ۃ یحو ل وجہہ ثم قا ل الشیخ ابو القا سم الصفا رحمہ اللہ تعا لی الد عا ء الی الصلو ۃ منا دا ۃ و با قیہ ذکر اللہ تعا لی لکن ظا ہر الرا و یۃ ان الا ذا ن کلہ من اولہ الی اخر دعا ء الی الصلو ۃ ثم قا ل ظا ہر الر وا یۃ ان المو ذ ن اذا قا ل حی علی الصلو ۃ ،یقول المستمع لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ فا ذا قال حی علی الفلا ح ویقو ل المستمع''ما شا ء اللہ کا ن وما لم یشا لم یکن ''قا ل شیخ الا سلا م بر ھا ن الدین رحمہ اللہ تعالی ما کا ن العبد فی ذکر الرحمن یفر الشیطا ن فا ذا جا ء ند ا ء الخلق یعو د فا ذا قیل ''لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ ما شا اللہ کا ن ''یفر ۱؎انتہی ملتقطا متر جما ۔
صلو ۃ مسعو دی میں ہے کہ بیشک اذا ن منا جا ت بھی ہے اور بلا وہ بھی منا جا ت اللہ تعالی کا ذکر ہے جبکہ بلا وہ میں لو گو ں کو پکا رنا ہے ،مو من جب تک اللہ تعالی کے ذکر میں ہو تا ہے تو وہ قبلہ کی طر ف منہ کر تا ہے اور جب بلاوہ پر پہنچتا ہے تو اپنا چہر ہ گھما تا ہے پھر شیخ ابوا لقا سم صفار رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فر ما یا نما ز کی طر ف دعو ت دینا منا دا ت ہے اور با قی اللہ تعالی کا ذکر ہے لیکن ظا ہر الر وایہ یہ ہے کہ اذا ن اول سے آخر تک نما ز کی طرف دعو ت ہے پھر فر مایا ظا ہر الروا یہ یہ ہے کہ مو ذن جب ''حی علی الصلو ۃ ''کہے تو سننے والا ''لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ ''کہے اور جب مو ذن ''حی علی الفلا ح ''کہے تو سننے والا کہے ''ما شا ء اللہ کا ن وما لم یشا لم یکن ''شیخ الا سلا م بر ھا ن الد ین رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فر ما یا کہ بند ہ جب ذکر رحما ن میں مشغو ل ہو تا ہے تو شیطا ن بھا گ جا تا ہے پھر جب مخلو ق کو ندا کر تا ہے تو شیطا ن لو ٹ آتا ہے پھر جب کہا جا تا ہے ''لا حو ل ولا قو ۃ الا با للہ ما شا ء اللہ کان ''تو شیطا ن پھر بھا گ جا تا ہے انتہی التقاط متر جماً۔
 (۱؎صلو ۃ المسعو دی         با ب بست و یکم در بیان با نگ نماز     در مطبع محمد ی بمبئی             ۲/ ۹۰)
واذا کا ن ذلک کذلک ولم یرد فی الشر ع الا ذن با لا ذا ن فی المسجد کا ن دا خلا تحت النھی وھو المقصود ۔
پس جب صو رت حا ل یہ ہے اور شر یعت مقد سہ میں مسجد کے اند ر اذا ن دینے کا ثبو ت نہیں تو اذان مسجد ممنو ع ہو گی ہما را یہی کہنا ہے ۔
Flag Counter