Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
19 - 135
وقو ل القد وری والھدا یۃ وغیر ھما ینبغی للنا س ان یلتمسو ا الھلا ل فی الیو م التا سع و العشر ین من شعبا ن ۴؎ قا ل المحقق فی الفتح ای یجب علیہم وھو وا جب علی الکفا یۃ ۵؎اھ قا ل فی الجو ہر ۃ النیر ہ ای یجب ۶؎الخ
اسی طرح امام قدوری اورصاحب ہدایہ وغیرہ کاقول ہے : " لوگوں کوچاہیے کہ شعبان کی انتیس تاریخ کوچاند تلاش کریں " محقق ابن ہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں : "یعنی ینبغی کے معنی ہیں کہ ان پر چاند کی تلاش واجب ہے اورتلاش واجب علی الکفایہ ہے"۔ اورجوہرہ نیرہ میں ایساہی ہے یعنی قدوری میں ینبغی بمعنی یجب ہے
 (۴؎المختصر للقد ر وی کتا ب الصو م ص۵۶ والھدا یۃ کتا ب الصو م المکتبۃ العر بیہ کر اچی     ۱/ ۱۹۳)

(۵؎فتح القد یر     کتا ب الصو م     فصل رویۃ الہلا ل     المکتبۃ النو ریۃ الر ضو یۃ بسکھر     ۲/ ۲۴۲)

(۶؎الجو ہر ۃ النیر ۃ     کتا ب الصو م             مکتبہ امد اد یۃ ملتا ن         ۱/ ۱۶۷)
وقا ل فی القنیۃ فاستحسا ن القا ضی الصدر الشہید ینبغی للا خ من الر ضا ع ان لا یخلو ا با ختہ من الر ضا ع لا ن الغا لب ھنا ک الو قو ع فی الجما ع ۱؎افا د العلا مۃ البیر ی ان ''ینبغی ''معنا ہ الو جو ب ھنا ۲؎(الشامی) وکم لہ من نظیر ۔
قنیہ میں ہے قاضی صدرالشہید کے استحسان میں ہے  کہ رضاعی بھائی کورضاعی بہن کے ساتھ تنہائی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ایسی حالت میں حرامکاری میں مبتلاہوناغالب ہے اھ ۔علامہ بیری فرماتے ہیں کہ یہاں بھی لفظ ینبغی کا مطلب وجوب ہے (شامی ) المختصر اس بات کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ کلام مشائخ میں "ینبغی " بول کر واجب مراد لیاجاتاہے۔
 (۱؎القنیۃ المنیہ لتتمیم الغنیۃ کتا ب الکر ا ہیۃ والا ستحسا ن     با ب فی الخلوۃ با جنبیۃ  مطبو عہ کلکتہ بھا ر ت ص۱۶۶)

(۲؎ رد المحتا ر کتا ب الحظر و الا با حۃ فصل فی النظر و المس دار احیا ء التر ا ث العر بی بیر وت ۵/ ۲۳۶)
ثم ان کا ن ھو ظا ہر ا فعا رضہ فی نفس الکلا م ظا ہر اخر وھو النھی بصیغۃ الا خبا ر فا نہ غا لبا فی کلا مھم لایجا ب الفعل والتر ک الا ان یصر ف صا رف قا ل الا ما م ابن امیر الحا ج فی الحلیۃ صفۃ الصلو ۃ مسئلۃ القراءۃ  فی الاخر یین ظا ہر قو ل المصنف 'لا یز ید علیھما شیئا'''یشیر الی عد م اباحۃ الزیا دۃ علیہما ۳؎اھ  وفی عید الغنیۃ الا یر ی الی قو لہ لا یتر ک واحد منھما فا نہ اخبر بعد م التر ک والاخبا ر فی عبا را ت الا ئمۃ و المشا ئخ یفید الو جو ب۴؎
 (۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی  )

(۴؎غنیۃ المستملی         فصل فی صلو ۃ العید         سہیل اکیڈمی لا ہو ر    ص۵۶۵)
وفی اما مۃ البحر الر ا ئق : قو لہ فا ن فعلن تقف الا مام  وسطہن افا د با لتعبیر بقولہ تقف انہ وا جب فلوتقدمت اثمت کماصرح بہ فی فتح القد یر ۱؎ وفی حا شیۃ العلا مۃ الخیر الر ملی علی البحر ثم منحۃ الخا لق قبیل الاذا ن علی قول الاسبیجا بی (اذا جیئی بجنا ز ۃ بعد الغر و ب بد ؤ ا با لمغر ب ثم بھا ثم بسنۃ المغر ب ۲؎ اھ) الظا ہر ان ذلک علی سبیل الوجو ب لتعلیلھم با ن المغر ب فرض عین و الجنا ز ۃ فر ض کفا یۃ ولا ن الغا لب فی کلا مھم فی مثلہ ارادۃ الو جو ب تا مل ۳؎ اھ وقا ل العلا مۃ السید احمد الطحطا وی فی صو م حوا شی الدر : و فیھا (ای فی النھا یۃ ) ولا یفعل (ای الدھن ) لتطویل اللحیۃ اذا کا نت بقد ر المسنو ن وھویقتضی ان الدھن لھذاالقصد یکرہ  تحر یما لا نہ یفضی الی المکر و ہ تحر یما ولا کا ن مکر و ھا تنزیھیا لما عبر بقو لہ ولا یفعل ۱؎فظا ہر نا ھذا غیر معا ر ض من نصو ص الا سبیجا بی والمجتبی والبنایۃ والا تقا نی و فتح القد یر ۔
رابعا پھر خا نیہ اور خلا صہ کے کلا م کا ظا ہر مطلب عد م وجو ب ہو تو اسی کلا م کا ایک اور ظا ہر بھی ہے جو اس کے معا رض ہے کہ نہی بصیغہ اخبا ر کلا م مشا ئخ میں عمو ما وجو ب فعل یا وجو ب تر ک کے لیے ہو تی ہے اما م ابن الامیر الحا ج نے ''با ب صفۃ الصلو ۃ ''مسئلہ قراءت میں فر ما یا مسئلہ قر ا ءت رکعتین اخیر ین مصنف کے قول لا یزید علیہما شیئا کا ظا ہر ی مطلب یہی ہے کہ اس سے زا ئد قرا ء ت مبا ح نہیں اور غنیہ کے با ب العید میں ہے ''مصنف کے قول ''لا یتر ک وا حد منھما ''کو دیکھنا کہ یہ عد م تر ک کی خبر ہے ،اور ائمہ و مشا ئخ کی عبا ر ت میں اخبا ر وجو ب کا فا ئد ہ دیتا ہے ۔''بحرا الرا ئق کے با ب الا ما مت میں ہے ''مصنف کے قول ''اگر عو رتیں جما عت کر یں تو امام ان کے بیچ میں کھڑی ہو ''مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا وا جب ہے جس پر لفظ تقف دلالت کرتا ہے تو امام آگے بڑھ کر کھڑی ہو تو گنہگار ہو گی اس کی تصریح فتح القدیر میں ہے''حا شیہ خیررملی منحۃ الخالق میں باب الاذان سے تھو ڑے پہلے اسبیجا بی کے قو ل ''جنا ز ہ غرو ب آفتا ب کے بعد لایا گیا تو پہلے مغر ب کے فر ض پڑھیں پھر جنازہ پڑھیں پھر سنتیں ادا کر یں ''پر تشر یح ہے ظا ہر یہ ہے کہ یہ حکم بر سبیل وجوب ہے کیو نکہ علت یہ بیان کر تے ہیں کہ مغر ب فرض عین ہے اور نما ز جنا زہ فر ض کفا یہ ہے اور یو ں بھی کہ عا م طو ر پر فقہا ء کے کلا م میں ایسی عبا رت سے وجو ب ہی مرا د ہو تا ہے علا مہ سید طحطا وی در مختا ر کے حو ا شی میں فر ما تے ہیں :''نہا یہ میں ہے کہ داڑھی جب بقدر سنت لمبی ہو تو زیا دہ بڑھا نے کے لیے تیل نہیں لگا نا چا ہیے نہا یہ کے اس قو ل کا تقا ضا یہ ہے کہ اس نیت سے تیل لگا نا مکر وہ تحر یمی ہے کہ ایک مکر وہ تحر یمی کا ذریعہ بنے گا اور اگر یہ فعل مکر وہ تنزیہی ہوتا تو اس کو لفظ لا یفعل سے منع نہ کر تے ''اور ہما را یہ ظا ہر اسبیجا بی ،مجتبی ،بنا یہ ،اتقا نی اور فتح القد یر کی عبارتو ں کے معا ر ض بھی نہیں (کہ یہ بے اعتبا ر ٹھہر ے )
 (۱؎بحرا الرا ئق         کتاب الصلو ۃ     با ب الا ما مۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کر ا چی ۱/ ۲۵۱)

(۲؎بحرا الرا ئق         کتاب الصلو ۃ     با ب الا ما مۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کر ا چی   ۱/ ۲۵۲)

(۳؎منحۃ الخا لق علی ہا مش بحر  الرا ئق         کتا ب الصلو ۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی  ۱/ ۲۵۳)

(۱؎ حا شیہ الطحطا وی علی الد ر المختا ر کتا ب الصو م با ب ما یفسد الصو م الخ المکتبۃ العر بیۃ کو ئٹہ  ۱/ ۴۶۰)
ثم ثمہ ظا ہر آخر غیر معا ر ض ھنا ک وھو اطلا ق الکر اھۃ فی النظم و شر ح النقا یۃ و حا شیۃ مرا قی الفلا ح و غا یۃ البیان وفتح المحقق حیث اطلق فا نھا کما عر ف فی محلہ اذا اطلقت کا نت ظا ہر ۃ فی التحر یم الا بصارف وقا ل سیدی العارف باللہ العلا مۃ عبد الغنی فی الحد یقۃ الند یۃ من آفا ت الید ما نصہ ۔ والکر ا ھۃ عند الشا فعیۃ اذا اطلقت تنصر ف الی التنزیھیۃ لا التحر یمیۃ بخلا ف مذھبنا ۲؎۔اھ
خامسا یہا ں ایک اور ظا ہر غیر معا ر ض بھی ہے کہ نظم ،حا شیہ مرا قی الفلا ح ،غا یۃ البیا ن اور فتح القد یر میں ہے کہ لفظ کر ا ہت مطلقا بو لا جا ئے تو کر اہت تحر یمی مرا د ہو گی ہاں کو ئی قر ینہ صا رفہ ہو تو اور با ت ہے اما م عبد الغنی نا بلسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتا ب حد یقہ ند یہ با ب آ فا ت الید ین میں رقمطرا ز ہیں ''لفظ کرا ہت مطلق بولاجائے تو شوافع کے نزدیک کراہت تنزیہیہ پر محمو ل ہو گا اور ہما ر ے مذہب (احنا ف ) میں تحر یمی پر ۔''
 (۲؎الحد یقۃ الند یۃ الصنف الخا مس من الا نصا ف التسعۃ فی بیان آ فا ت الید     نو ریہ رضو یہ فیصل آبا د  ۲/ ۴۴۰)
ثم فیہ اساءۃ ادب با لحضر ۃ الا لھیۃ کما یا تی فی الشما مۃ الثا لثۃ بعو ن اللہ تعا لی فیجب التحر ز عنہ ۔
سا دسا مسجد میں اذا ن دینے میں بار گا ہ الہی کی بے ادبی ہے جیسا کہ ہم ان شا ء اللہ تیسرے شما مہ میں بیا ن کریں گے تو اس سے پر ہیز ضر وری ہو ا ۔
ثم المعر و ف من عا دتہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم تر ک الفضیلۃ احیا نا بیا نا للجو ا ز و لم یو ثر قط اذا نا فی زمنہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم دا خل المسجد فبمجمو ع ھذا ینقد ح فی الذھن انہ یکر ہ تحر یما وا ن لم یقنع فلا اقل من ان الا مر دار بین کر ا ھتین مکر و ہ قطعا و یحتمل کرا ھۃ التحر یم فما سبیلہ الا التر ک عند العقل السلیم ثم ان شئت فد ع الاحتما ل واقنع با لا جما ل وقل ان الا ذا ن فی المسجد مکر وہ منھی عنہ فا ن ھذا القد ر لا مفر منہ و فی ھذا کفا یۃ لاولی الد را یۃ واللہ سبحنہ ولی الھد ا یۃ ۔
سا بعا حضو ر صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کی عا دت کر یمہ یہ بھی کہ کبھی کبھی بیا ن جو ا ز کے لیے افضل کو بھی ترک کر دیتے تھے جبکہ زما نہ رسا لت میں کبھی بھی اذا ن کا مسجد کے اند ر ہو نا ثا بت نہیں تو یہ سب با تیں مل جل کر یہ ثا بت کر تی ہیں کہ مسجد کے اند راذا ن مکر وہ تحر یمی ہے اور جس کو اس سے تسلی نہ ہو تو کم از کم اتنا تو ہے کہ یہ مسئلہ کر ا ہت تحر یمیہ و کرا ہت تنزیہیہ میں دائر ہے تو ایک امر مشکو ک کو چھو ڑ دینا دانشمند ی ہے اور کم از کم اتنا تو ہے جس کے ما نے بغیر چا رہ نہیں کہ مسجد میں اذا ن مطلقا مکر وہ ہے اور اہل عقل کے لیے ممانعت کا اتنا حکم ہی کا فی ہے ۔
Flag Counter