(۲) اما م کا فی کے قول میں اذا ن کو جو ذکر ا فی المسجد (مسجد کے اند ر کا ذکر )کہا ہے تو اس سے مراد مسجد کی قسم ثا نی ہے جس میں اصل مسجد اور وصف مسجد دو نو ں ہی شا مل ہیں خطبہ اصل مسجد میں ہو تا ہے اور اذان وصف مسجد میں ۔تو مسجد میں ہو نا خطبہ اور اذا ن دونو ں ہی کی صفت ہے اگرچہ جگہ میں اختلا ف ہو اور غا یۃ البیا ن اور فتح القد یر کے قو ل قا لو ا لا یو ذن فی المسجد (مسجد میں اذا ن ممنو ع ہے)اس سے مراد مسجدبمعنی اول ہے تو دقت نظر سے یہ پتا چلے گا کہ یہ بھی ہدا یہ کے قول کی تا ویل اور اس کے مقصد کی تعیین ہے اس میں ان کےکلا م کو ظاہر سے پھیر نا نہیں اللہ تعا لی ہی آدمی کو حق کی تو فیق دینے والا ہے
الثالثۃ ،المر اد فی قول ابن مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ وقو ل الفقہا ء الما رین العنیا ن الاخیر ان وکذا فی حد یث ابی داؤ د و ابی بکر بن ابی شیبۃ عن عبد الر حمن بن ابی لیلی قا ل حد ثنا اصحا بنا جا ء رجل من الا نصا ر فقال یا رسو ل اللہ رأیت رجلا کا ن علیہ ثو بین اخضر ین فقا م علی المسجد فا ذن ۱؎الا ترا ہ یقو ل قا م علی المسجد ،ولو ا را د المعنی الا ول لقا ل قام فی المسجد وقد اوضحتہ روا یۃ ابی بکر بن ابی شیبۃ الاخری وابی الشیخ فی الاذان عن ابن ابی لیلی قال حدثنا اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم ان عبد اللہ بن زید الا نصا ری جا ء الی النبی صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فقا ل یا رسول اللہ رأیت فی المنا م کا ن رجلا قا ئم وعلیہ بردان اخضرا ن علی جذمۃ حا ئط فا ذن ۲؎الخ ولسعید ابن منصور فی سننہ عن عبد الر حمن ابن ابی لیلی ان رسو ل اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم اھتم للصلو ۃ کیما یجمع الناس لھا فا نصر ف عبد اللہ بن زید فر أ ی الا ذا ن ۱؎الحد یث وتقد مت روا یۃ سو ر المسجد وسطح المسجد ۔
(۳) اور حضر ت عبد اللہ رضی اللہ تعا لی عنہ کے قو ل ''جس مسجد میں اذا ن ہو تی ہو وہا ں سے اذا ن کے بعد بے جماعت چلا جا نا منع ہے ''اور فقہا ء کے اقو ا ل جو ذکر کئے جا چکے مسجد سے مر اد معنی ثا نی یا ثا لث ہیں ابی داؤد اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے عبد الر حما ن ابن ابی لیلی سے صحا بہ کا قول نقل کیا کہ ''عہد رسا لت میں ایک انصا ری نے حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت مبا ر ک میں عر ض کی میں نے ایک آ دمی کو دیکھا جس کے جسم پر دوہر ے رنگ کے کپڑے تھے اس نے مسجد میں کھڑے ہو کر اذا ن دی ''اس روا یت میں لفظ قا م علی المسجد ہے اگر مسجد کے اند ر کہنا ہو تا تو قا م فی المسجد کہتے اس حد یث شر یف کی اور زیا دہ تشر یح و تو ضیح حضر ت ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو الشیخ ابن ابی لیلی کی دوسر ی روا یت سے ہو تی ہے کہ ''زید ابن عبد اللہ انصا ری نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عر ض کی : یا رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیک وسلم !میں نے خو اب میں ایک آدمی کو ہرے رنگ کا جو ڑا پہنے ہو ئے ایک منہد م دیو ار کے ٹیلے پر کھڑے دیکھا جو اذا ن دے رہا تھا ''اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبد الر حمن بن ابی لیلی سے روایت کی کہ حضور سید عا لم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک با ر لو گو ں کو اہتما م سے نما ز کے لیے جمع کیا حضر ت عبد اللہ بن زید انصا ری نما ز پڑھ کر واپس ہو ئے تو خواب میں اذا ن ہو تے دیکھی صبح کو رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اطلا ع دی کہ را ت میں نے خو اب میں اس طر ح اذا ن ہو تے دیکھی کہ ایک آدمی ہر ا جو ڑا پہنے سقف پر اذا ن دے رہا ہے اس روایت میں سو ر اور سطح کا لفظ گزر چکا ہے۔
(۱؎سنن ابی داؤد کتا ب الصلو ۃ با ب کیف الا ذا ن آفتا ب عا لم پر یس لا ہو ر ۱/ ۷۴)
(المصنف لا بن ابی شیبہ کتا ب الا ذا ن و الا قا مت حد یث ۲۱۲۴ دار الکتب العلمیۃ بیر و ت ۱/ ۱۸۶)
(۲؎المصنف لا بن ابی شیبہ کتا ب الا ذا ن و الا قا مت حد یث ۲۱۱۸ دار الکتب العلمیۃ بیر و ت ۱/ ۱۸۵)
(کنز العما ل بحو الہ ش وابی الشیخ فی الا ذا ن حد یث ۲۳۱۴۶ مو سسۃ الر سا لہ بیر و ت ۸/ ۳۳۳)
(۱؎ کنز العما ل عن عبد الر حمن ابن ابی لیلی حد یث ۲۳۱۵۲ مو سسۃ الر سا لۃ بیر وت ۸/ ۳۳۶)
الرابعۃ ،المعنی الثا لث ھو المر اد فی فر ع الخا نیۃ و الخلا صۃ و لا با س با ن یتخذ فی المسجد بیتا یو ضع فیہ الحصیر و متاع المسجد بہ جر ت العا دۃ من غیر نکیر۲؎،اھ ومن الدلیل علیہ حد یث التعا رف فا نہ المتعا رف او بنا ؤہ قبل تما م المسجدیۃ اما ان یتم المسجد ثم یا خذ ا حد قطعۃ منہ فیجعلھا بیت البو اری فلم تجر بہ العا دۃ ولا یحل السکو ت علیہ۔
(۴) خا نیہ اور خلا صہ کی عبار ت ''اس میں کو ئی حر ج نہیں کہ مسجد میں ایک ایسا گھر بنا لیا جا ئے جس میں چٹائی وغیر ہ اسبا ب رکھے جا ئیں کہ عا م اہل اسلا م کی عا دت اسی پر جا ری ہے ''اس عبا رت میں مسجد سے مراد اس کے تیسر ے معنی ہیں اور اس پر دلیل اسی عبار ت کا یہ ٹکڑا ہے کہ ''اہل اسلام کی عا دت اسی پر جا ری ہے ''اس لیے کہ تعا رف تو یہی ہے کہ مسجد بمعنی سو م میں ایسا کمر ہ بنتا ہے ۔یا مسجد بمعنی اول میں تو اس جگہ کی مسجد یت مکمل ہو نے سے پہلے مسجد مکمل ہو جا نے کے بعد اسی کا ایک ٹکڑا چٹا ئی اور فر ش وغیر ہ رکھنے کے لیے بنا یا جا ئے نہ عا دت اس پر جا ری نہ خا مو شی اس پر جا ئز ۔
(۱؎فتاوی قا ضیخا ن فصل فی المسجد نو لکشو ر لکھنؤ ۱/ ۳۱)
(خلا صۃ الفتا وی کتا ب الصلو ۃ الفصل السا د س و العشر و ن مکتبہ حبیبیہ کو ئٹہ ۱/ ۲۲۸)
الخامسۃ ،قا ل فی جا مع الر مو ز لہا یو ذن فی المسجد فا نہ مکر وہ کما فی النظم لکن فی
الجلا بی یو ذن فی المسجد او ما فی حکمہ لا فی البعید منہ ۱؎اھ فمرا د النظم المعنی الا و ل ومراد الجلا بی المعنی الثانی فا لمعنی یوذن فی حد ود المسجد کما فسر بہ الا ماما ن کلام الکا فی او ما فی حکمہ ای فی فنا ئہ فا ن فنا ء المسجد لہ حکم المسجد کما فی الھند یۃ عن الا ما م السر خسی قا ل الفناء تبع المسجد فیکو ن حکمہ حکم المسجد ۲؎ ومثلہ فی کتب کثیر ۃ ذکر نا ھا فی جد الممتا ر فلا استدرا ک بکلا م الجلا بی علی کلا م النظم کما فعل القھستا نی الا تر ی ان العلا مۃ الطحطا وی رحمہ اللہ تعالی کیف اقتصر فی الحکم علی حکا یۃ ما فی القہستا نی عن النظم ولم یعر ج علی استد را کہ اصلا علما منہ با ن الا ستد را ک مستد رک لا یبتغی نقلا ھکذا ینبغی التحقیق و اللہ تعا لی ولی التو فیق ولو لم یکن ھذا لکا ن ذکر جا مع الر مو ز بمقا بلہ تلک المعتمد ات العظیمۃ بل ما تفر د بہ الجلا بی با زا ء ما اتفق علیہ اولئک الاکا بر الا جلۃ مما ینبغی ان یستحی منہ فا نہ لو فر ض لکا ن خلا فا لا اختلا فا وقد تقر را ن الحکم والفتیا بالمرجوح جہل و خر ق للا جما ع فکیف ولا خلا ف علی التحقیق لما علمت من جلیل التو ثیق و با للہ تعالی التو فیق ۔
(۵) جا مع الر مو ز میں ہے کہ مسجد میں اذا ن دینا مکر و ہ ہے ایسا ہی نظم میں ہے لیکن جلا بی میں ہے کہ مسجد میں یا اس جگہ میں جو مسجد سے دور اذا ن نہ دینی چا ہیے تو نظم میں مسجد بمعنی اول میں اذان دینے کو مکر وہ کہا ہے اور جلا بی میں مسجد بمعنی ثا نی مرا د ہے یعنی مسجد میں دی جا نے کا مطلب حد ود مسجد میں ہے جیسا کہ اما م اتقا نی اور ابن ہما م نے صا حب ہدا یہ کے قول ذکر فی المسجد کی تفسیر فی حد ود المسجد سے کی تو جلا بی کی عبا رت میں لفظ او ما فی حکم المسجد سے اسی کی طر ف اشا رہ ہو تا ہے کہ فنا ء مسجد مسجد کے حکم میں ہے ہند یہ میں بھی ایسا ہی اما م سر خسی سے روایت ہے کہ ''صحن مسجد کے حکم میں ہے''اور اسی کے مثل بہت سا ری کتا بو ں میں ہے جس کی تفصیل ہم نےجد الممتا ر میں لکھی ہے تو حقیقت میں اما م جلا بی کا کلام ''نظم''کی تر دید نہیں جیسا کہ قہستا نی نے سمجھا حضر ت اما م طحطا وی نے نظم کا یہ جزیہ قہستا نی سے ہی نقل کیا لیکن قہستا نی کے ادرا ک کو غیر معتبر جا ن کر چھو ڑ دیا اور اگر نہ ما نا جا ئے تو یا تو جا مع الر مو ز والے قہستا نی صاحب ائمہ اعلا م کے مقا بلہ میں اکیلے ہو ں گے اور یہ تسلیم کر لیا جا ئے تو جلا بی اور قہستا بی کا یہ قول مر جو ح رہ جا ئے گا کہ ان کی حثیت ائمہ سے اختلا ف کر نے کی نہیں اور یہ طے ہو چکا ہے کہ قول مرجو ح کے مو ا فق فتوی حکم جہل اور خر ق اجما ع ہے اور سچ پو چھو تو خلا ف بھی نہیں کہ ان کے قول فی المسجد کا معنی فی حدود المسجد و اضح ہو گیا ہے ۔
(۱؎جا مع الر مو ز کتاب الصلو ۃ فصل الا ذا ن مکتبہ اسلا میہ گنبد قا مو س ایرا ن ۱/ ۱۲۳)
(۲؎فتا و ی ہند یہ البا ب الحا دی عشر فی المسجد الفصل الثا نی نو را نی کتب خا نہ پشا ور ۲/ ۴۱۲)
نفحہ ۱۰: اذلم یقد روا علی شیئ تعلق بعض الو ھا بیۃ بما فی نص الخا نیۃ و الخلا صۃ من لفظ ''ینبغی''یر ید بہ ان الا مر سھل لا یعتنی بہ انت تر ی عا مۃ النصو ص عر یۃ عنھا ثم لم یدخل علی ''لا یو ذن فی المسجد''الا تر ی ان البحر نقلہ عن الخلاصۃ ھکذا ولم یلتفت الی ''ینبغی ''فی الجملۃ الا ولی ۔
نفحہ ۱۰: جب مخا لفین کسی با ت پر قادر نہ ہو ئے تو ان میں سے بعض نے خا نیہ (عہ) اورخلا صہ میں آئے ہو ئے لفظ ینبغی کا سہا را لیا اور سمجھا کہ معا ملہ آسا ن ہے اس پر تو جہ دینے کی ضرورت نہیں حا لا نکہ اولا دوسر ی کتا بو ں کی عبار تیں لفظ ینبغی سے خا لی ہیں اور جہاں یہ لفظ ہے جملہ لایؤذن فی المسجد پر داخل نہیں خو د صا حب بحر نے خلا صہ سے یہی عبار ت نقل کی اور جملہ اولی میں آئے ہو ئے لفظ ینبغی کی طر ف تو جہ نہ فر ما ئی ۔
عہ: خا نیہ کی عبا ر ت یو ں ہے : ینبغی ان یو ذن علی المنا رۃ او خا رج المسجد و لا یو ذ ن فی المسجد ۱؎مخا لفین کے مغا لطہ کا مطلب یہ ہے کہ لفظ ینبغی کا تعلق دونو ں سے ہے یعنی مسجد کے باہر اور منا رہ پر اذا ن دینا مناسب ہے اور مسجد میں اذان دینا منا سب نہیں تو مسجد کی اذان ز یادہ سے زیادہ خلاف اولی ہو ئی تو گر اندرون مسجد ہی اذان کا روا ج ہو گیا تو کو ئی حر ج کی با ت نہیں پھر اتنا وا و یلا کیو ں ؟اعلٰیحضر ت کے پہلے جو ا ب کا مطلب یہ ہے کہ لفظ ینبغی کا تعلق صرف پہلے جملہ سے ہے اور دوسر ا جملہ (لا یو ذ ن فی المسجد) اس سے خالی ہے جس کا مطلب اندرون مسجد اذان کی مما نعت ہے جیسا کہ دیگر کتب فقہ میں لا یو ذ ن یا یکرہ الا ذا ن فی المسجد سے ظاہر ہے اس کی تائید صاحب بحر کی عبارت سے ہوتی ہے جنھو ں نے یہ عبار ت خلاصہ کے حوالہ سے نقل کی اور ینبغی کا لفظ چھو ڑ دیا ۔ عبد المنا ن اعظمی
(۱؎فتا وی قا ضی خا ں کتا ب الصلو ۃ مسا ئل الا ذا ن نو لکشو ر لکھنو ۱/ ۳۷)
ثم استعمالہ فی الندب اصطلا ح المتا خر ین وھو فی کلا م المشا ئخ اعظم کما فی ردالمحتا ر وغیر ھا قا ل ھو فی القر ان کثیر : ما کا ن ینبغی لنا ان نتخذ من دو نک اولیا ء ۔۔۔۔قا ل فی المصبا ح ینبغی ان یکو ن کذا معنا ہ یجب او یند ب بحسب ما فیہ من الطلب۱؎
ثانیا لفظ ینبغی کو مستحب کے معنی میں قرار دینا ائمہ متا خر ین کی اصطلا ح ہے کلا م مشا ئخ میں یہ لفظ عا م ہے جیسا کہ ردالمحتا ر وغیر ہ میں اس کی تصر یح ہے انہو ں نے فر ما یا کہ ایسا قرآ ن عظیم میں بہت وارد ہے مثلا آیت قرآنی : ما کا ن ینبغی لنا ان نتخذ من دونک اولیا ء (ہمیں زیب نہیں دیتا کہ اللہ کے علا وہ کسی کو اپنا ولی بنائیں ) مصباح المنیر میں ہے ینبغی کے معنی و جو ب اور استحبا ب دو نو ں ہی حسب طلب ہو سکتے ہیں۔
(۱؎ ردالمحتا ر کتاب الجہاد لفظ ''ینبغی '' یستعمل فی المند وب الخ دارا حیا ء التر اث العر بی بیر وت ۳/ ۲۲۴)
ثم ندبہ یقابل الو جو ب ویعم الا ستنا ن ، وا مر السنۃ لیس بھینین بل ربما جا ء ''ینبغی للو جو ب''کقو ل الھدا یۃ والکنز وغیر ھما ''من حلف علی معصیۃ ینبغی ان یحنث ۱؎''فا ن الحنث وا جب قطعا وقو ل الھد ایۃ و کثیر ین ''ینبغی للمسلمین ان لا یغدروا ولا یغلو ولا یمثلو ا ۲؎''اھ مع ان تر ک الغد ر والغلو ل فر یضۃ فا نھما حر ام و کذا المثلۃ قا ل فی الفتح قو لہ و ینبغی للمسلمین ای یحر م علیہم ان یغدروا او یغلو اویمثلوا اھ ۳؎
ثالثاً اس لفظ میں استحباب کے معنی سنت کو بھی شامل ہیں اور سنت کامعاملہ ایسا آسان نہیں بلکہ لفظ ینبغی بسااوقات صرف معنی وجوب پرہی دلالت کرتاہے ۔ ہدایہ وکنز وغیرہ میں ہے : " جس نے گناہ کرنے کی قسم کھائی تواسے توڑ دینا چاہیے "۔ یہاں قسم توڑنا واجب ہے ۔ صاحب ہدایہ اور بہت سارے ائمہ کاقول ہے: " مسلمانوں کوچاہیے کہ بے وفائی نہ کریں ، مال غنیمت سے نہ چرائیں اور مثلہ نہ کریں " ۔ یہاں ترک غدر وغلول ومثلہ فرض ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : " مسلمانوں کوچاہیے یعنی ان پرحرام ہے کہ غدر مال غنیمت کی چوری اورمثلہ کریں "۔
(۱؎الھد ا یہ کتا ب الا یما ن با ب ما یکو ن یمینا الخ المکتبۃ العر بیۃ کر اچی ۲/ ۴۶۲)
(کنز الد قا ئق کتا ب الا یما ن با ب ما یکو ن یمینا الخ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ص۱۵۵)
(۲؎الہد ا یۃ کتا ب السیر با ب کیفیۃ القتا ل المکتبۃ العر بیۃ کر اچی ۲/ ۵۴۱و۵۴۲)
(۳؎فتح القد یر کتا ب السیر با ب کیفیۃ القتا ل مکتبہ نو ریہ رضو یہ سکھر ۵/ ۲۰۱)