Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
135 - 135
اقول: تسمیۃ سورۃ الصدیق باللیل وسورۃ المصطفٰی بالضحٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ورضی اللہ تعالٰی عنہ کا نہ اشارۃ الٰی ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور الصدیق وھداہ ووسیلۃ الی اللہ بہ یبتغٰی فضلہ ورضاہ والصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ راحۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووجہ انسہ وسکونہ واطمینان نفسہ و موضع سرہ ولباس خاصتہ فقد قال تبار و تعالٰی
''وجعلنا الیل لباسا''۱؂
وقال تعالٰی
'' وجعل لکم الیّل والنہار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون ۲؂
وتلمیح الٰی ان نظام عالم الدین انما یقوم بھما کما ان نظام عالم الدنیا یقوم بالملوین فلولا النہار لما کان ابصارو لو لااللیل لما حصل قرار فالحمد للہ العزیز الغفار۔
اقول:  سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سورت کو واللیل کا نام دینا اور مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سورت کا نام ضحٰی رکھنا گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صدیق کا نور اور ان کی ہدایت اور اللہ کی طرف ان کا وسیلہ جن کے ذریعہ اللہ کا فضَل اور اس کی رضا طلب کی جاتی ہے اور صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی راحت اور ان کے انس و سکون اور اطمینان نفس کی وجہ ہیں اور ان کے محرم راز اور ان کے خاص معاملات سے وابستہ رہنے والے اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے '' اور رات کو پردہ پوش کیا'' اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے '' تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو اور اس لیے کہ تم حق مانو '' اور یہ اس بات کی طرف تلمیح ہے کہ دین کا نظام ان دونوں سے قائم ہے جیسے کہ دنیاکا نظام دن رات سے قائم ہے تو اگر دن نہ ہو تو کچھ نظر نہ آئے اور رات نہ ہو تو سکون حاصل نہ ہو۔ تو اللہ عزیز غفار ہی کے لیے حمد ہے۔
 ( ۱؎القرآن الکریم ۷۸/ ۱۰)( ۲؎القرآن الکریم ۲۸/ ۷۳)
لطیفۃ : استنباط القاضی الامام ابوبکر الباقلانی من الایات الکریمۃ وجہا اٰخر لتفضیل سیدنا الصدیق علٰی سیدنا المرتضی لقاھما اللہ تعالٰی باحسن الرضا۔ انبانا السراج عن الجمال عن السندی عن الفلانی عن محمد سعید عن محمد طاھر عن ابیہ ابراہیم الکردی عن القشاشی عن الرملی عن الزین زکریا عن ابن حجرعن مجد الدین الفیروز آبادی عن الحافظ سراج الدین القزوینی عن القاضی ابی بکر التفتازانی عن شرف الدین محمد بن محمد الھروی عن محمد بن عمر الرازی قال فی مفاتیح الغیب'' ذکر القاضی ابوبکر الباقلانی فی کتاب الامامۃ فقال ایۃ الواردۃ فی حق علی کرم اللہ وجہہ الکریم : انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولاشکورا O انا نخاف من ربنا یوماً عبوسا قمطریرا O'' والایۃ الواردۃ فی حق ابی بکر ''الاابتغاء وجہ ربہ الاعلٰی ولسوف یرضٰی '' فدلت الایتان ان کل احد منھما انما فعل ما فعل لوجہ اللہ الا ان ایۃ علی تدل علی انہ فعل ما فعل لوجہ اللہ وللخوف من یوم القیمۃ علٰی ما قال '' انا نخاف من ربنا یوماً عبوسا قمطریرا'' واما ایۃ ابی بکر فانھا دلت علی انہ فعل ما فعل لمحض وجہ اللہ تعالٰی من غیر ان یشوبہ طمع فیما یرجع الٰی رغبۃ فی ثواب او رھبۃ من عقاب فکان مقام ابی بکر اعلٰی واجل ۱؂ انتھٰی
لطیفہ : قاضی امام ابوبکر  با قلانی نے اس آیت کریمہ سے حضرت سیدنا مرتضٰی پر فضیلت صدیق کی دوسری وجہ استنباط کی ۔ اللہ تبارک و تعالٰی دونوں کو اپنی بہترین رضا سے ہمکنار کرے۔ ہمیں خبر دی سراج نے وہ روایت کرتے ہیں جمال سے۔ وہ روایت کرتے ہیں سندی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں محمد سعید سے۔ وہ روایت کرتے ہیں محمد طاہر سے۔ وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ ابراہیم ردی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں قشاشی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں رملی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں زین زکریا سے۔ وہ روایت کرتے ہیں ابن حجر سے۔ وہ روایت کرتے ہیں مجدالدین فیروز آبادی سے ۔ وہ روایت کرتے ہیں حافظ سراج الدین قزوینی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں قاضی ابوبکر تفتازانی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں شرف الدین محمد بن محمد الہروی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں محمد بن عمر رازی سے۔ انہوں نے مفاتیح الغیب میں فرمایا قاضی ابوبکر باقلانی نے کتاب الامامۃ میں ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آیت جو علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حق میں وارد ہے '' ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے بے شک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن ا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے'' اور وہ آیت جو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں وارد ہوئی '' صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا'' یہ دونوں آیتیں دلالت کرتی ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے نیکی اللہ کی خوشنودی کے لیے کی مگر یہ کہ سیدنا علی کے حق میں جو آیت اُتری وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اللہ کی خوشنودی اور روزِ قیامت کے ڈر سے کیا اس بناء پر انہوں نے کہا '' بےشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش اور نہایت سخت ہے'' اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں اترنے والی آیت وہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا محض اللہ کے لیے کیا بغیر اس کے کہ اس میں کچھ طمع کا شائبہ ہو اس امر میں جو ثواب میں رغبت یا عذاب میں ہیبت کی طرف لوٹتا ہے۔ تو ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام اعلٰی اور اجل ہوا انتہی،
 ( ۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آلایۃ ۹۲/ ۲۰ و ۲۱ المطبعۃ البہتیہ المصرتیہ مصر ۳۱/ ۲۰۶ و ۲۰۷)
اقول: والتحقیق ان جملۃ جلۃ الصحابۃ الکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ارقی فی مراقی الولایۃ والفناء عن الخلق والبقاء بالحق من کل من دونہم من اکابرالاولیاء العظام کائنین من کانوا ۔ وشانہم رضی اللہ تعالٰی عنہم ارفع واعلٰی من ان یقصدوا باعمالھم غیر اللہ سبحٰنہ وتعالٰی لکن المدارج متفاوتۃ والمراتب مترتبۃ وشئی دون شئی وفضل فوق فضل ۔ ومقام الصدیق حیث انتھت النہایات وانقطعت الغایات ذاھورضی ا للہ تعالٰی عنہ کما صرح بہ امام القوم سیدی محی الملۃ والدین ابن عربی قدس اللہ تعالٰی سرہ الزکی امام الائمۃ ومالک الازمۃ ومقامہ فوق الصدیقیۃ ودون النبوۃ التشریعیۃ ولیس احدبینہ و بین مولاہ الاکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی اسم خاتم الرسالۃ ختمنا الرسالۃ، والحمد ﷲ مولی الجلالۃ  ؎

تم الکتاب علٰی ثناء الہاشمی	ختم الالٰہ لنا علی اسم الخاتم
سبحٰن ربک رب العزۃ عما یصفون وسلٰم علی المرسلین والحمدﷲ رب العلمین ۱؂
اقول: ( میں کہتا ہوں) اور تحقیق یہ ہے کہ تمام اجلّہ صحابہ کرام مراتبِ ولایت میں اورخلق سے فنا اور حق میں بقا کے مرتبہ میں اپنے ماسوا تمام اکابراولیاء عظام سے وہ جو بھی ہوں افضل ہیں۔ اور ان کی شان ارفع واعلٰی ہے اس سے کہ وہ اپنے اعمال سے غیر اللہ کا قصد کریں۔ لیکن مدارج متفاوت ہیں اور مراتب ترتیب کے ساتھ ہیں اور کوئی شے کسی شے سے کم ہے اور کوئی فضَ کسی فضل کے اوپر ہے اور صدیق ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا مقام وہاں ہے جہں نہایتیں ختم اور غایتیں منقطع ہوگئیں اس لیے کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ امام القوم سیدّی محی الدین ابن عربی قدس سرہ الزکی کی تصریح کے مطابق پیشواؤں کے پیشوا اور تمام کی لگام تھامنے والے اور ان کا مقام صدیقیت سے بلند اور تشریع نبوت سے کمتر ہے ۔ ان کے درمیان اور ان کے مولائے اکرام محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے درمیان کوئی نہیں۔ اور خاتم رسالت کے نام ہم نے اپنا یہ رسالہ تمام کیا اور اللہ کے لیے حمد ہے جو مالک ہے جلالت کا۔ کتاب رسول ہاشمی کی ثناء پر تمام ہوئی اور اللہ تعالٰی ہمارا خاتمہ فرمائے ۔ خاتم النبین کے نام پر ۔ سبحٰن ربک رب العزۃ عما یصفون وسلم علٰی المرسلین والحمد للہ رب العلمین
( ۱؎ القرآن الکریم ۳۷ / ۸۰تا ۱۸۲)
رسالہ الزلال الانقٰی من بحرسبقۃ الاتقی ختم ہوا

نوٹ 

جلد ۲۸ کتاب الشتی حصّہ سوم فضائل و مناقب کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی

جلد ۲۹ کتاب الشتی کے حصہ چہارم سے شروع ہوگی ان شاء اللہ تعالٰی
Flag Counter