Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
134 - 135
ومنہم الامام الاعظم الاقدم الاعلم الاکرم سیدنا ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سئل ن علامات اھل السنۃ فقال ان تفضل الشیخین وتحب الختنین و تمسح علی الخفین ۲؂
اور انہیں میں سے امام اعظم اقدم سب سے زیادہ علم رکھنے والے سب سے زیادہ مکرم سیدنا ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ان سے سوال ہوا اہلسنت کی علامات کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا اہلسنت کی پہچان یہ ہے کہ تو شیخیں ابوبکر و عمر کو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل جانے اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دونوں دامادوں سے محبت کرے اور خفین پر مسح کرے۔
 (۲؎ تمہید ابی الشکور السالمی الباب الحادی عشر القول السادس      دارالعلوم حزب الاحناف الاہور      ص ۱۶۵)

(خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفضل الاول      مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۲ /۳۸۱)
ومنھم عالم قریش مالئی طباق الارض علماً سیدنا الامام محمد بن ادریس الشافعی المطلبی نقل اجماع الصحابۃ والتابعین علٰی تفضیل الشیخین ولم یحک خلافا۳؂
انہیں میں سے عالم قریش زمین کے طباق کو علم سے بھرنے والے سیدنا امام محمد ابن ادریس شافعی مطلبی انہوں نے صحابہ اور تابعین  سےا فضیلتِ شیخین پر اجماع نقل کیا ۔
ومنہم امام اھل السنۃ والجماعۃ صاحب الحکمۃ الیمانیۃ سیدنا الامام ابوالحسن الاشعری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کما نقل عنہ العلماء الثقات ومنھم الامام الھمام حجۃ الاسلام ذکر فی قواعد عقائد الاماجد وذر فیہا مسئلۃ التفضیل وقال فی اٰخرھا ان فضل الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم علی حسب ترتیبہم فی الخلافۃ اذ حقیقۃ الفضل ما ھو فضل عند اللہ عزوجل وذٰلک لا یطلع علیہ الاّرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  ۱؂ وان یعتقد فضل الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم و ترتیبہم وان افضل الناس بعد النی صلی اللہ تعلاٰی علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ تعالٰی عنہم ۲؂
اور انہیں میں امام اہلسنت و جماعت حکمتِ یمانیہ سیدنا امام ابوالحسن اشعری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ہیں۔ جیسا کہ ان سے علمائے ثقات نے نقل کیا ا ور انہیں میں امام ہمام حجۃ الاسلام ( غزالی) انہوں نے قواعد العقائد میں مجد والے آئمہ کے عقائد کو ذکر کیا اور ان عقائد میں مسئلہ تفضیل کو ذکر کیا اور اس کے آخر میں کہا کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی فضیلت خلافت میں ان کی ترتیب کے موافق ہے اس لیے کہ حقیقتِ فضل وہ ہے جو اللہ کے نزدیک فضل ہو اور اس پر رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کسی کو اطلاع نہیں۔ یا آدمی صحابہ رضوان اﷲ علیہم کی فضیلت اور اس میں ترتیب کا اعتقاد کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
ومنہم الامام جبل الحفظ علامۃ الورٰی سیدنا ابن حجرالعسقلانی والامام العلام احمد بن محمد القسطلانی و المولٰی الفاضل عبدالباقی الزرقانی وناظم قصیدۃ بدء الامالی والفاضل الجلیل مولانا علی القاری وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین حدثنا المولٰی الثقۃ الثبت سلالۃ العارفین السید الشریف الفاطمی سیدنا ابوالحسین احمد النوری قال سمعت شیخی و مرشدی سیدنا و مولانا اٰل الرسول الاحمدی قال سمعت الشآہ عبدالعزیز الدھلوی یقول تفضیل الشیخین قطعی او کا لقطعی۔
اور انہیں میں امام حفظ کے پہاڑ علامہ جہاں سیدنا امام  حجر عسقلانی اور امام علام احمد بن محمد قسطلانی اور مولٰی فاضل عبدالباقی زرقانی اور قصیدہ بدء الامالی کے ناظم اور فاضل جلیل مولانا علی قاری وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین ہیں۔ ہم سے حدیث بیان کی مولٰی ثقہ ثبت سلالتہ العارفین سید شریف فاطمی سیدنا ابوالحسین نوری نے انہوں نے فرمایا میں نے سنا اپنے شیخ اور مرشد آل رسول احمدی سے انہوں نے فرمایا میں نے سنا شاہ عبدالعزیز دہلوی سے وہ فرماتے تھے شیخین کی فضیلت قطعی ہے یا قطعی جیسی ہے۔
اقول ولک ان تحمل التردید علی التنویع دون التردد ۔ فالمعنی قطعی بالمعنی الثانی وکالقطعی بالمعنی الاول۔ ومن ھٰھنا بان لک ان من قال رأینا المجمعین ایضاً ظانین غیر قاطعین فقد صدق ان ارادالظن بالمعنی الا عم والقطع بالمعنی الاخص۔ ولا یضرنا ولا ینفعہ وان عکس فقد غلط وھو محجوج بدلائل لاقبل لہ بہاواللہ تعالٰی اعلم ۔ ھذا جملۃ القول فی ھذاالمقام وقد اشرناک الٰی نکت تجلوبہا الظلام اما التفصیل فقد فرغنا عنہ فی کتاب التفضیل بتوفیق الملک الجلیل۔ و لاحول ولا قوۃ الا باللہ
اقول:  ( میں کہتا ہوں) اور تمہیں اختیار ہے کہ تردید کو تقسیم پر محمول کرو نہ کہ تردد پر۔ تو معنی یہ ہے کہ معنی ثانی پر فضیلت شیخین قطعی ہے اور معنی اول پر قطعی جیسی ہے اور یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ جس نے یہ کہا کہ ہم نے ا س مسئلہ میں اجماع کرنے والوں کو دیکھا کہ وہ بھی ظن پر قائم ہیں قطعی فیصلہ نہیں کرتے تو وہ سچا ہے اگر اس نے ظن بالمعنی الاعم مراد لیا اور قطعی بالمعنی الاخص کا قصد کیا۔ اور یہ کہ ہم کو نقصان دہ نہیں اور اس کو سود مند نہیں اور اگر وہ اس کا عکس مراد لے تو اس نے غلط کہا اور اس پر ان دلائل سے حجت قائم ہے جن کے مقابل کی اس کو طاقت نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم اس مقام میں یہ مختصر قول ہے اور ہم نے تمہیں اشارہ کیا اُن نکتوں کی طرف جن سے اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ رہی تفصیل تو ہم اس سے فارغ ہوچکے ہیں۔ کتاب تفصیل میں اللہ ملک جلیل کی توفیق سے ۔ اور برائی سے پھرنے اور نیکی یک طاقت نہیں مگر اللہ سے۔
لطیفۃ ، قال الامام الرازی فی مفاتیح الغیب سورۃ والیل سورۃ ابی بکر۔ و سورۃ والضحٰی سورۃ محمد علیہ الصلوۃ والسلام ثم ماجعل بینہما واسطۃ لیعلم انہ لا واسطۃ بین محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر فان ذکرت اللیل اولاً وھو ابوبکر ثم صعدت وجدت بعدہ النہار وھو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وان ذکرت والضحٰی اولا وھو محمد صلی اللہ تعالٰی لیہ وسلم ثم نزلت وجدت بعدہ واللیل وھو ابوبکر لیعلم انہ لا واسطۃ بینھما ۱؂ انتہی
لطیفہ : فرمایا امام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ سورہ واللیل ابوبکر کی سورۃ ہے اور سورہ والضحٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سورت ہے ۔ پھر اللہ تعالٰی نے ان سورتوں کے درمیان واسطہ نہ رکھا تاکہ معلوم ہو کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ابوبکر کے درمیان کوئی شخص واسطہ نہیں تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو وہ ابوبکر ہیں پھر چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤ گے تو وہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔ پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤ گے اور وہ ابوبکر ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔
 ( ۱؎ مفاتیح الغیب ( التفسیر الکبیر) تحت الآیۃ ۹۳/ ۱تا ۳ المطبعۃ البہیتہ المصریۃ مصر ۳۱/ ۲۰۹)
اقول: وکان تقدیم واللیل علٰی ھذا التقدیر لا نہا جواب عن طعن الکفار فی جناب الصدیق والضحٰی جواب عن طعنھم فی سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وتبرئۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لاتستلزم تبرئۃ الصدیق لانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعلی وبراء ۃ الاعلی لا توجب براء ۃ الادنی و تبرئۃ الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ یحکم تبرئۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالطریق الاولٰی اذ انما بری لا نہ عبد بذاک البرئ النقی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فکان فی تقدیم واللیل استعجالاً الی الجواب عن الطعنین معاً ولو اخرلتأ خرالجواب عن طعن الصدیق۔
اقول : اور واللیل کو تقدیم اس تقدیر پر اس لیے ہے کہ وہ جناب صدیق کے بارے میں کفار کے طعنہ کا جواب ہے اور والضحٰی ان کے طعنہ کا جواب ہے سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں۔ اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی براء ت صدیق کی براء ت کو مستلزم نہیں اس لیے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعلٰی ہیں اور اعلٰی کی براء ت ادنی کی براء ت کو لازم نہیں کرتی اور صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی براء ت بدرجہ اولے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی براء ت کا حکم کرتی ہے اس لیے کہ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس لیے بری ہوئے کہ اس بری نقی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غلام ہیں تو واللیل کی تقدیم میں ایک ساتھ دونوں طعنوں کے جواب کی حجت ہوئی اور اگر واللیل کو مؤخر کیا جاتا تو صدیق کے طعنہ کا جواب مؤخر ہوجاتا ،
Flag Counter