| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
قلت ھذا اشد ورودًا علی القائلین بالظن ان ارادوا الظن بالمعنی الاخص والحل ان المسئلۃ لیست من اصول الاسلام حتی یکفر جاحدھا کمسئلۃ امامۃ الخلفاء الراشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین وبھذا المثال ینقطع قلب من قال من بطلۃ الزمان انہا اذا لم تکن من الاصول کما صریح بہ السید الشریف فی شرح المواقف۱ وغیرہ من المتکلمین الفحول وکذا قد شہد علٰی نفسہ بالرسۃ الکبرٰی فی مناصب الجہل والسفاھۃ من قال اذلم تکن قطعیۃ قلنا ان نطوی الکشح عن تسلیمھا قل لھم اترکوا لواجبات باسرھا ثم انظروا مایأتیکم من وعید الشریعۃ وتأثیمھا واذ قد علمت ان ھذا التحقیق یرفع الخلاف ویورث التطبیق فعلیک بہ اتفقت الاقوال اواختلفت اذ کلمۃ جامعۃ خیر من آراء متدافعۃ فان رأیت شیئا من کلمات المتاخرین تابی ھذا النور المبین فاعلم ان تخطیۃ ھذاالبعض خیر من تخطیۃ احد الفریقین من آئمہ الدین ، لاسیما القائلین بالقطع فھم العمد الکبارللدین الحنیف ۔ وبھم تشید ارکان الشرع المنیف۔
قلت ( میں کہتا ہوں ) یہ اعتراض ان لوگوں پر جو ظنی کے قائل ہیں زیادہ سختی کے ساتھ وارد ہوتا ہے جب کہ وہ ظن بالمعنی الاخص مراد لیں۔ اور اس کا حل یہ ہے کہ یہ مسئلہ اصولِ اسلام سے نہیں ہے کہ اس کا منکر کافر ٹھہرے۔ جیسے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کی خلافت کا مسئلہ۔ اور اس مثال سے اس کا دل ٹکڑے ہوجائے گا جو اس زمانہ کے اہلِ باطل میں سے کہتا ہے کہ جب یہ مسئلہ اصول میں سے نہیں جیسا کہ سید شریف نے شرح مواقف میں اور دوسرے علماء متکلمین نے اس کی تصریح کی اور یونہی مناسب جہل و حماقت میں اپنی زعمتِ کبرٰی پر گواہی دی اس نے جس نے یہ کہا کہ جب یہ مسئلہ قطعی نہیں ہے تو ہمیں اختیار ہے کہ ہم اسے تسلیم کرنے سے پہلو تہی کریں۔ ان سے ہو سارے واجبات کو چھوڑ دو پھر دیکھو کہ تمہارے پاس شریعت کی کیسی وعید اور تمہارے گنہ گار ہونے کی تہدید آتی ہے۔ جب تم نے جان لیا کہ یہ تحقیق خلاف کو اٹھاتی اور کلماتِ علماء میں مطابق پیدا کرتی ہے تو تم اس کو لازم پکڑو اقوال متفق ہوں یا مختلف اس لیے کہ ایک جامع بات باہم ٹکراتی باتوں سے بہتر ہے تو اگر تم دیکھو کلماتِ متاخرین میں کوئی عبارت اس نورِ مبین سے اِباء کرتی ہے تو جان لو کہ اس بعض کو خاطی جاننا بہتر ہے اس سے کہ آئمہ دین میں کسی فریق کو خاطی ٹھہرایا جائے خصوصاً وہ آئمہ کرام جو اس مسئلہ کو قطعی کہتے ہیں اس لیے کہ وہی دین حنیف کے بڑے ستون ہیں اور انہیں سے شرع بلند و برتر کے ستون قائم ہیں۔
(۱شرح الموقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الرضی قم ایران ۸ /۳۴۴ تا ۴۰۱)
فمنہم من ھو اولہم واولٰھم سیدھم ومولٰیھم اکثرھم للتفضیل تفصیلا واشد ھم علی المخالف تنکیلا سیدنا المرتضٰی اسد اللہ العلی الاعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم اذقد تواتر عنہ فی ایام امامتہ وکرسی زعامتہ تفضیل الشیخین علٰی نفسہ وعلی سائرالامۃ۔ ورمٰی بھابین اکتاف الناس وظہورھم حتی جلی ظلام شکوک مدلھمۃ۔ روی الدارقطنی عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لااجداحدًا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلدتہ حد المفترٰی (۱) (عہ ) قال سلطان الشان ابوعبداللہ الذھبی حدیث صحیح ۔
تو ان میں سے ایک وہ ہیں جو سب سے زیادہ اول و اولٰی اور ان سب کے سید و مولٰی اور مسئلہ تفضیل کو سب سے زیادہ بیان کرنے والے اور مخالفین کو سخت سزا کا خوف دلانے والے سیدنا علی مرتضٰی اللہ بلند وبالا کے شیر کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم اس لیے کہ ان کے ایامِ خلافت اور کرسی زعامت میں ان کا شیخین ابوبکر و عمر کو خود پر اور تمام امت پر فضیلت دینا تواتر سے ثابت ہوا اس کو لوگوں کے کندھوں اور پشتوں پر مارا یعنی اس مسئلہ کو لوگوں کے سامنے اور ان کے پیچھے خوب روشن کیا یہاں تک ہ تیرہ و تار شبہات کی اندھیری کو دور کردیا۔ دارقطنی نے اسی جناب سے روایت کیا۔ فرمایا میں کسی کو نہ پاؤں گا جو مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دے مگر یہ کہ میں اس کو مفتری کی حد ماردوں گا۔ اس فن کے سلطان حضرت ابوعبداللہ ذہبی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
(۱؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدار قطنی الباب الثالث الفصل الاول دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۹۱)
عہ : وقد کان رضی اللہ تعالٰی عنہ یبوح بھذا فی المجامع الشاملۃ والمحافل الحافلۃ والمساجد الجامعۃ وفیھم من فیھم من الصحابۃ والتابعین لھم باحسان ثم لم ینقل عن احد منھم انہ ردقولہ ھذا ولقد کانوا اتقٰی اللہ تعالٰی من ان یسکنوا عن حق اویقروا علٰی خطاؤ ھم الّذین وصف اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی فی القرآن العظیم بانھم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر ۲ وائمتھم الکرام کانوااتقی ومنھم احرص علی الرشد والصواب۔ وقد کانوا یحثون العلماء علی ابانۃ الحق ان خطاء وتقویمہ الاودان مالوا۔
اور سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ عام مجمعوں میں اور بھری محفلوں میں اور جامع مسجدوں میں اس بات کا اعلان فرماتے تھے اور لوگوں میں صحابہ اور تابعین کرام موجود ہوتے تھے پھر ان میں سے کسی سے یہ منقول نہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اس قول کو رد کیا ہو اور بے شک وہ اللہ تعالٰی سے بہت ڈرنے والے تھے اور اس بات سے دور تھے کہ حق بتانے سے خاموش رہیں یا کسی خطا کو مقرر رکھیں حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن عظیم میں یوں بیان فرمایا '' اور تم بہترین اُمت ہیں جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی کہ بھلائی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہو'' اور اس گروہ کے آئمہ کرام ان سے زیادہ متقی اور ہدایت و صواب پر ان سے زیادہ حریص تھے اور علماء کو حق ظاہر کرنے پر اکساتے تھے اگر ان سے خطا ہو اور کجی کو درست کرنے کی ترغیب دیتے تھے اگر وہ منحرف ہوں۔
(۲؎القرآن الکریم ۳ /۱۱۰)
قلت انظر الی ھذا الوعید الشدیدا افتراہ معاذ اللہ مجترأعلی اللہ تعالٰی فی اجراء الحدود مع تعارض الظنون وھو الراوی عن النبی صلی اللہ تعالٰی علی وسلم ادرؤاا لحدود ۱ اخرجہ عنہ الدار قطنی والبیھقی۔
( ۱؎ سنن الدارقطنی کتاب الحدود والدیات حدیث ۳۰۶۲/۹ دارالمفرفۃ بیروت ۳/۶) (سنن الکبرٰی کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات دارصادر بیروت ۸ /۲۳۸)
قلت (میں کہتا ہوں ) اس وعید شدید و دیکھو تو کیا تم حضرت علی کو گمان کرو گے پناہ بخدا اللہ تبارک و تعالٰی پر جرا ت کرنے والا حدود کو جاری کرنے میں باوجود گمانوں کے تعارض کے حالانکہ وہی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ فرمایا '' حدود کو دفع کرو۔ مولٰی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیہقی ودارقطنی نے روایت کیا
وقد قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ادرؤا الحدود عن المسلمین ما استطعتم فان وجد تم للمسلم مخرجاً فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطی فی العفو خیر من ان یخطی فی العقوبۃ رواہ ابن ابی شیبۃ والترمذی ۱ والحاکم والبیہقی عن اُم المومنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما ومنہم میمون ابن مھر ان من فقہاء التابعین سُئِل ابوبکر و عمر افضل ام علی ۔ فقف شعرہ وارتعدت فرائصہ حتی سقطت عصاہ من یدہ وقال ماکنت اظن ان اعیش الٰی زمان یفضل الناس فیہ احداً علی ابی بکرو عمر اوکما قال رواہ ابونعیم۲ عن فرات بن السائب ۔
اور فرمایا حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے '' مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو جب تک تم کو استطاعت ہے۔ تم اگر تم مسلمان کے لیے کوئی راہِ خلاص پاؤ تو اس کا راستہ چھوڑ دو اس لیے کہ امام کا درگزر میں خطا کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ عقوبت میں خطا کرے'' اس حدیث کو ابن ابی شیبہ۔ ترمذی ۔ حاکم اور بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا اور انہیں میں سے حضرت میمون ابن مہران ہیں جو کہ فقہائے تابعین سے ہیں ان سے سوال ہوا کہ سیدنا ابوبکر و عمر افضل ہیں یا علی تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ان کی رگیں پھڑکنے لگیں یہاں تک کہ چھڑی ان کے ہاتھ سے گر گئی اور انہوں نے کہا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ میں اس زمانہ تک جیوں گا۔ جس میں لوگ ابوبکر و عمر پر کسی کو فضیلت دیں گے ۔ یا جیسا انہوں نے فرمایا اس حدیث کو روایت کیا ابونعیم نے فرات بن سائب سے ۔
( ۱؎ المستدرک للحاکم کتاب الحدود باب ان وجدتم لمسلم مرجا الخ دارالفکر بیروت ۴ /۳۸۴) جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۱) (السنن الکبرٰی کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات دارصادربیروت ۸ /۲۳۸) (المصنف لا بن ابی شیبیہ کتاب الحدود باب فی درء الحدود بالشبہات حدیث ۲۸۴۹۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۵۰۸) (۲؎ حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۵۱ میمون بن مہران دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۹۲ و ۹۳)
ومنہم عالم المدینۃ الامام مالک بن انس رضی اللہ تالٰی عنہ سُئِل عن افضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال ابوبکر و عمر۔ ثم قال اوفی ذٰلک شک ۱
اور انہیں میں سے عالمِ مدینہ امام مالک بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ان سے سوال ہوا رسول ا للہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں سے افضل کے بارے میں ۔ تو فرمایا ابوبکر و عمر ۔ پھر فرمایا کیا اس میں کوئی شک ہے ۔
( ۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالسابع الفضل الثالث دارالمعرفۃ بیرو ت ۷ /۳۸)