Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
132 - 135
قلت نعم اقطع ولاتبال بما قیل او مایقال اذ قاطعان لایأتیان قط الا بقطع وقد سمعت ان الصدیق ھوالمراد بالاتقی باجماع الامۃ قاطبۃ ولم ینقل فی ذلک شذوذ شاذ فکان قطعیا والایۃ الاُ خٰری نص فی المرام لا شک اماما ذکرت من حدیث من ذھب الٰی ما ذھب فقد سمعت ان الاٰیۃ لا مساغ فیھا للتا ویل واحتمال بلا دلیل لاینزل التنزیل عن درجۃ برھان قاطع جلیل ، الا تری ان کل نص یحتمل التاویل ومع ذٰلک ھو قطعی قطعاً کما صرح بہ ائمۃ الاصول ۔
قلت ( میں کہتا ہوں )ہاں یقین کر اور قیل و قال کی پرواہ نہ کر۔ اس لیے کہ دو قطعی نتیجہ نہیں دیتے مگر قطعی کا ۔ اور تم سن چکے کہ صدیق ہی مراد ہیں اتقی سے ساری امت کے اجماع کے بموجب اور اس میں کسی نادر کی رائے شاذ بھی منقول نہیں۔ تو یہ اجماع قطعی ہوا۔ اور دوسری آیت مدعا میں نص ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ رہی وہ بات جو تم نے اس رائے کی کہی جس کی طرف جانے والے گئے۔ تو تم سُن چکے کہ آیت میں تاویل کی گنجائش نہیں ا ور احتمال بے دلیل تنزیل کو برہان قاطع جلیل کے درجے سے نازل نہیں کرتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر نص تاویل کی محتمل ہے اور وہ اس کے باوجود یقیناً قطعی ہے جیسا کہ ائمہ اصول نے اس کی تصریح کی ۔ 

وتحقیق المقام علٰی ما الھمنی الملک العلام ان العلم القطعی یستعمل فی معنیین ۔

اور مقام کی تحقیق اس طور پر جو مجھے اللہ ملک العلام نے الہام کیا یہ ہے کہ علم قطعی دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔
احدھما:  قطع الاحتمال علی وجہ الاستیصال بحیث لایبقی منہ خبرولا اثروھذاھو الاخص الاعلٰی کما فی المحکم والمتواتر وھو المطلوب فی اصول الدین فلا یکتفی فیہا بالنص المشہور ۔
ایک تویہ کہ احتمال جڑ سے منقطع ہوجائے بایں طور کہ اس کی کوئی خبر یا اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔ اور یہ اخص اعلٰی ہے جیسا کہ محکم اور متواتر میں ہوتا ہے۔ اور اصولِ دین میں یہی مطلوب ہے۔ تو اس میں نصِ مشہور پر کفایت نہیں ہوتی۔

والثانی : ان لایکون ھناک احتمال ناش من دلیل وان کان نفس الاحتمال باقیاً  التجوز و التخصیص وسائر انحاء التاویل کما فی الظواھر والنصوص والاحادیث المشہورۃ والاول یسمی علم الیقین و مخالفہ کافر علی الاختلاف فی الاطلاق کما ھو مذہب فقہاء الاٰفاق ، والتخصیص بضروریات الدین ما ھو مشرب العلماء المتکلمین ۔ و الثانی علم الطمانیۃ ومخالفہ مبتدع ضال ولا مجال الی اکفارہ کمسئلۃ وزن الاعمال یوم القیمۃ قال تعالٰی ''والوزن یومئذن الحق  ۱؎'' و یحتمل النقد احتمالاً لاصارف الیہ ولا دلیل اصلاعلیہ فیکون کقولک '' وزنتہ بمیزان العقل'' وھورائج فی العجم ایضاً تقول ''سخن سنج'' ای ناقدا لکلام۔
دوسرا : یہ کہ اس جگہ ایسا احتمال نہ ہو جو دلیل سے ناشی ہو اگرچہ نفس احتمال باقی ہو۔ جیسے کہ مجاز اور تخصیص ۔ اور باقی وجوہِ تاویل ۔ جیسا کہ ظواہر اور نصوص اور احادیث مشہورہ میں ہے۔ اور پہلی قسم کا نام علم یقین ہے اور اس کا مخالف کافر ہے علماء میں اختلاف کے بموجب مطلقاً ۔ جیسا کہ فقہائے آفاق کا مذہب ہے یا ضروریات دین کی قید کے ساتھ یہ حکم مخصوص ہے جیسا کہ علمائے متکلمین کا مشرب ہے اور دوسرے کا نام علم طمانیت ہی اور اس کا مخالف بدعتی و گمراہ ہے اور اس کو کافر کہنے کی مجال نہیں۔ جیسے کہ قیامت کے دن اعمال کو تولنے کا مسئلہ ۔ اللہ تعالٰی کا قول ہے ''اور قیامت کے دن تول ہونا برحق ہے '' اور یہ آیت نقد (پرکھ) کا ایسا احتمال رکھتی ہے ۔ جس کی طرف پھیرنے والی کوئی چیز نہیں اور نہ اصلاً اس پر کوئی دلیل ہے۔ اب آیت کا معنٰی تمہارے قول '' میں نے اس کو میزانِ عقل سے تولا" کے مثل ہوگا۔ اور یہ عجم میں رائج ہے۔ تم کہتے ہو ''سخن سنج'' یعنی کلام کو پرکھنے والا۔
(۱؎القرآن الکریم         ۷/۸)
و مسئلۃ رؤیۃ الوجہ الکریم للمؤمنین۔ رزقنا المولٰی بفضلہ العمیم ۔ قال تعالٰی ''وجوہ یومئذ ناضرۃ الٰی ربہا ناظرۃ ۱ ؂ ویحتمل احتمالاً کذلک ارادۃ الامل و والرجاء وھو ایضاً مما توافقت علیہ العرب والعجم تقول ''دستِ نگر من ست'' ای یرجو عطائی ویحتاج الٰی نوالی وھٰکذا مسئلۃ الاسراء الی السمٰوٰت العلی والشفاعۃ الکبرٰی  للسیدالمصطفٰی علیہ افضل التحیۃ والثناء فکل ذل ثابت بنصوص قواطع بالمعنی الثانی۔ ولذا لا نقول بالکفار المعتزلۃ والروافض اولالین الماؤلین ۔ وھکذا الظن لہ معینان اذ مقابل الاعم اخص والا عم اخص کما لا یخفی۔
اور مومنین کے لیے اللہ تبارک وتعالٰی کے دیدار کا مسئلہ۔ مولائے کریم اپنے فضل عظیم سے نصیب فرمائے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا '' کچھ منہ اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے'' احتمال رکھتا ہے اسی طرح اُمید ورجاء کے ارادے کا۔ اور یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن پر اب عرب و عجم سب متفق ہیں ۔ تم کہتے ہو ''دستِ نگر من ست'' یعنی میری عطا کی امید رکھتا ہے اور میری بخشش کا محتاج ہے۔ اور اسی طرح آسمانوں کی سیر اور شفاعتِ کُبری محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے کہ یہ تمام باتیں دوسرے معنی پر نصوصِ قطعی سے ثابت ہیں۔ اور اسی لیے ہم تاویل کرنے کے سبب معتزلہ اور اگلے روافض کی تکفیر نہیں کرتے ۔ اور اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں اس لیے کہ اعم کا مقابل اخص ہے اور اعم اخص ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
(۲؎القرآن الکریم         ۷۵ /۲۳ و ۲۲)
اذاعرفت ھذا فمسئلتنا ھذہ ان اریدفیہا القطع بالمعنی الاخص فھذا جبل وعرصعب المرتقی۔ اذماوردفیہا فامانص اوظاھر وکلاھما یقبلان التاویل ولو قبولاً ضعیفاً بعیدًا او ابعد اضعف مایکون کالا تقی فیما نحن فیہ یحتمل التجوز بالبالغ فی التقوٰی والخیر والافضل فی الاحادیث یحتمل تقدیر من کقول القائل ''فلان اعقل الناس'' وما جاء من الاحادیث مفسّراً محکماً فاحاد تطرق الیہا الاحتمال من قبل النقل لکنا مالنا ولھذا القطع، اذلا نقول باکفار المفضلۃ ومعاذ اللہ ان نقول اما الا بتداع فیثبت بخلاف القطع بالمعنی الثانی وھو حاصل لا شک فیہ لایسوغ انکارہ الالغافل اومتغافل فقد تظافرت علیہ النصوص تظافرا جلیا وبلغت الاخبار تواتراً معنویا والاحتمالات الرکیکۃ السخیفۃ الناشیۃ من غیر دلیل لا تقدح فی القطع بھٰذا المعنی کما صرحت بہ علماء الاصول وزادنا نوراً الٰی نورو رشاداً الٰی رشاد اجماع الصحابۃ الکرام و التابعین العظام ما نقلہ جمہور الائمۃ الاعلامہ، منھم سیدنا عبداللہ بن عمر وابوھریرۃ من الصحابۃ ومیمون بن مھران من التابعین والامام الشافعی من الاتباع وغیرہم من لایحصون لکثرتھم ۔ وحکایۃ ابن عبدالبرلا معقولۃ فی الدرایۃ ولا مقبولۃ فی الروایۃ کما حققناہ فی مطلع القمرین مع ما ارشدنا القرآن العظیم واحادیث المصطفٰی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم الٰی دلائل جمۃ توخذ منہما بالاستنباط ووفق لہا ھذا الفقیر الضعیف کما عقدنا لہا الباب الثانی من الکتاب البیر فلولا الاو احد من ھذہ لشفی وکفی ودفع کل ریب ونفی، فکیف اذا کثرت وجلت وعقدت و حلت ورعدت و برقت و اضاء ت واشرفت فلا وربک لم یبق للشک محل ولا للریب مدخل والحمد للہ الا علٰی الاجل۔
جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارا یہ مسئلہ اگر اس میں قطعی بالمعنی الاخص مراد لیا جائے تو یہ پہاڑ ہے سخت دشوار گزار چڑھائی والا ۔ اس لیے کہ اس میں جو کچھ وارد ہوا ہے یا تو نص ہے یا ظاہر ہے اور دونوں تاویل کو قبول کرتے ہیں اگرچہ ضعیف بعید یا بہت زیادہ ابعد اضعف سہی۔ جیسے کہ ہمارے اسی مسئلہ میں جس میں ہمیں بحث ہے جیسے کہ اتقی، تقوٰی اور خیر میں بالغیت کے معنی مجازی کا حتمال رکھتا ہے اور احادیث میں لفظ افضل کے مقدر ہونے کا احتمال رکھتا ہے جیسے کوئی کہے '' فلان اعقل الناس '' ( فلاں شخص لوگوں سے زیادہ عاقل ہے) اور جو احادیث مفسرمحکم آئیں تو وہ خبر واحد ہیں جن میں روایت کی طرف سے احتمال راہ پاتا ہے لیکن ہمیں اس طرز کے قطعی سے کیا کام۔ اس لیے کہ ہم تفضیلیوں کے کافر ہونے کا قول نہیں کرتے اور اللہ کی پناہ ہو کہ ہم یہ قول کریں۔ لیکن اُن کا بدعتی ہونا وہ تو ثابت ہے برخلاف قطعی بمعنی دیگر تو وہ بلاشک حاصل ہے جس کا انکار سوائے غافل یا غافل بننے والے کے کسی کو نہ بن پڑے گا اس لیے کہ اسپر واضح کثرت کے ساتھ نصوص آئیں اور احادیث تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئیں اور رکیک کمزور احتمالات جو کسی دلیل سے ناشی نہیں ہوتے اس معنی پر قطعی میں اثر انداز نہ ہوں گے۔ جیسا کہ علمائے اصول نے اس کی تصریح کی ہے اور ہمارے لیے نُور پر نور بڑھایا اور ہدایت کے اوپر ہم کو ہدایت کی صحابہ کرام ا ور تابعین عظام کے اجماع نے ۔ جیسا کہ اس کو نقل کیا ہے جمہور آئمہ اعلام نے ۔ ان میں عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ صحابہ میں سے ۔ اور میمون ابن مہران تابعین میں سے۔ اور امام شافعی تبع تابعین میں سے۔ اور ان کے سواجن کی گنتی نہیں بوجہ ان کی کثرت کے ۔ اور ابن عبدالبر کی حکایت نہ توازراہِ درایت معقول ہے اور نہ روایت مقبول ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے مطلع القمرین میں مع ان دلائل کثیرہ کے جن کی طرف ہماری رہنمائی قرآن عظیم اور احادیثِ مصطفٰی کریمہ علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔ یہ دلائل قرآن و حدیث سے استنباط کے ذریعہ ماخوذ ہیں اور ان کے لیے اس فقیر ناتواں کو توفیق ہوئی جیسا کہ ہم نے اس کے لیے اپنی کتاب کبیر کا باب دوئم باندھا ہے تو اگر ان دلائل میں سے نہ ہوتی مگر ایک دلیل تو وہ بھی شافی و کافی ہوتی اور ہر شک کی دافع و نافی ہوتی تو کیا گمان ہے جب کہ یہ دلائل کثیر و جلیل ہوں اور دین کی گرہیں باندھیں اور شبہوں کی رسیاں کھولیں اور گرجیں اور چمکیں اور روشن اور بلند ہوں تو تیرے رب کی قسم شک کا محل باقی رہا نہ شبہہ کا مدخل۔ والحمد ﷲ الا علی الاجل۔
اما قول من قال انا وجدنا النصوص متعارضۃ فھذا اخبار عن نفسہ فکیف یحتج بہ علی من نظر وابصر ونقد واختبر فقتلہا خبرا واحاط بما لد یھا علماً علی انہ ان ارادا التعارض الصوری وقد یطلق علیہ ایضاً کقول الا صولیین یقدم المحکم علی المفسّروالمفسر علی النص والنص علی الظاھر عند التعارض مع انہ لا تعارض لضعیف مع قوی فہذا لا یضرنا ولا ینفعہ وان اراد الحقیقی اعنی تزاحم الحجتین علی حد سواء فنقول معنا ناش عن غفول وعلی قائلہ اومن یمشی بمشیہ ان ینور دعواہ ببینۃ مبینۃ وانی لھم  ذالک ولیت شعری الام یودی ضیق العطن اذارأی احادیث لاتخیر وابین الانبیاء (۱) ولا تفضلونی علٰی یونس بن متی (۲) وافضل الانبیاء آدم (۳) وذالک (ای') خیرالبریۃ ابراہیم (۴) ایقول بتعارض النصوص فی تفضیل المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی العالمین جمیعا ام یرجع الٰی نفسہ فیدری ان التعارض شیئ ومجرد وجود النفی و الاثبات شیئ اخر۔
رہی اس کی بات جس نے ہا ہم نے نصوص کو متعارض پایا تو یہ اس کی اپنی حالت کی خبر ہے۔ تو وہ کیسے حجت لاتا ہے اس سے اس پر جس نے دیکھا اور غور کیا اور جا نچا اور پرکھا تو نصوص کو خوب پرکھ کے جان لیا اور انکے پاس جو علم ہے اس کا احاطہ کیا۔ علاوہ بریں یہ کہ اگر اس نے تعارض صوری مراد لیا ا ور کبھی تعارض کا اطلاق اس پر بھی آتا ہے جیسے اصولی کہتے ہیں کہ محکم کو مفسر پر اور مفسر کو نص اور نص کو ظاہر پر تعارض کے وقت مقدم کیا جائے گا حالانکہ بلاشبہ ضعیف کا قوی کے ساتھ اصلاً تعارض نہیں ہوتا تو یہ ہم کو نقصان نہ دے گا نہ اس کو فائدہ دے گا اور اگر اس نے تعارض حقیقی مراد لیا یعنی دو دلیلوں کا برابری کی حد پر ایک دوسرے کے مزاحم ہونا تو ہم کہیں گے یہ معنی غفلت سے ناشی ہے اور اس کے قائل پر یا جو اس کے طریقے پر چلے لازم ہے کہ اپنے دعوٰی کو روشن دلیل سے منور کرے اور ان کو یہ کیونکر بن پڑے گا۔ اور کاش میں سمجھتا کہ کہ بندش کی تنگی کا انجام یا ہوگا جبکہ وہ یہ حدیثیں دیکھتے کہ انبیاء میں باہم ایک دوسرے کو فضیلت نہ دو اور مجھے یونس ابن متی  پر فضلیت مت دو، اور آدم افضل انبیاء ہیں۔ اور ابراہیم خلق میں سب سے بہتر ہیں۔ کیا وہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سب جہان پر فضیلت میں تعارض نصوص کو مانے گا یا اپنے نفس کی طرف لوٹے گا تو سمجھے گا کہ تعارض ا یک شے ہے اور مجرد  وجود نفی وا ثبات دوسری شے ہے ۔
(۱؂ صحیح البخاری   کتاب الخصومات      باب ما یذکر فی الاشخاص       قدیمی کتب خانہ کراچی       ۱/ ۳۲۵)

(صحیح مسلم    کتاب الفضائل       باب من فضائل موسی علیہ السلام       قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۶۸)

(۲؂اتحاف السادۃ المتقین      کتاب قواعد العقائد  "الاصل السابع"  دارالفکر بیروت           ۲/ ۱۰۵)

(۳؂المعجم الکبیر        حدیث ۱۱۳۶۱        المکتبۃ الفیصیلیۃ بیروت                 ۱۱/ ۱۶۰)

(صحیح مسلم    کتاب الفضائل       باب فضائل ابراھیم علیہ السلام       قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۶۵)
وبہٰذا التحقیق البدیع الانیق الذی خصنا بہ المولٰی تبارک وتعالٰی امکن لنا التوفیق بین کلمات الائمۃ الکرام فمن قال بالقطع ونفی الظن فانما ارادا لقطع بالمعنی الا عم والظن وبالمعنی الاخص وھو حق لا مریۃ فیہ ومن عکس فقد عکس وھو صدق لاغبار علیہ۔ فان تخالج فی صدرک ان المسئلۃ من الاعتقادیات فکیف اکتفیتم بالقطع بالمعنی الثانی ۔
اور اس تحقیق انیق و بے نظیر سے جو خاص اللہ تبارک و تعالٰی نے ہم کو عنایت کی ہم کو آئمہ کرام کے کلمات میں مطابقت ممکن ہے تو جس نے اس مسئلہ کو قطعی کہا اور ظن کی نفی کی تو اس نے قطعی بالمعنی الاعم ہی کو مراد لیا اور ظن بالمعنی الاخص۔ اور حق یہ ہے جس میں کوئی شبہ نہیں اور جس نے عکس کیا تو اس نے عکس کیا اور وہ سچ ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔ اب اگر تمہارے سینے میں یہ خلش ہو کہ یہ مسئلہ تو اعتقادیات سے ہے تو تم نے معنی ثانی میں قطعی پر کیسے اکتفا کرلیا۔
Flag Counter