تنبیہہ: سیقول السفھاء من الناس ماولکم عن دعوٰئکم التی کنتم علیہا فان الثابت علی ھذہ التقاریر الثلثۃ الاخیرۃ انما ھو نفی اکرم من الصدیق وھو لا یستلزم اکرمیتہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اذ یحتمل التساوی۔
تنبیہہ: ،اب کہیں گے بے وقوف لوگ اس دعوٰی سے جس پر تم قائم تھے کس چیز نے تمہیں پھیر دیا اس لیے کہ ان تین تقاریر اخیرہ پر جو ثابت ہوتا ہے وہ صدیق سے زیادہ عزت والے کی نفی ہے اور اس سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ( اولویت) سب پر لازم نہیں آتی اس لیے کہ تساوی کا احتمال ہے۔
اقول: اوقد قالوافلئن قالوا فلقدز اغوا۔
اقول: کیا ان بے وقوفوں نے یہ بات کہی اگر انہوں نے ایسا کہا تو بے شک و ہ منحرف ہوگا۔
امااولاً فنصوص الشرع و محاورات البلغاء طافحۃ بسوق الکلام الٰی غرض التفضیل علی الاطلاق علی ھذاالمساق یقولون لیس احد افضل من فلان ویریدون انہ افضل الکل وذلک لان التساوی الحقیقی کالمحال عادۃ وعلیک بکلام شراح الحدیث۔
اولاً نصوص شرع اور اہلِ بلاغت کے محاورے اس ڈھنگ سے بھرے ہیں کہ کلام کو علی الاطلاق فضیلت بتانے کی غرض سے اس طور پر لایا جاتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی فلاں سے افضل نہیں ہے اور مراد لیتے ہیں کہ وہ سب سے افضل ہے اور یہ اس لیے کہ تساوی حقیقی عادتاً گویا محال ہے اور تم شراح حدیث کے کلام کو لازم پکڑو۔
واما ثانیاً: ، فلک ان تضم الیہ اجماع الامۃ علی وجود التفاضل والحق لایخرج عن اقوالھم۔
ثانیاً : تمہیں یہ اختیار ہے کہ اس کے ساتھ وجود تفاضل پر امت کا اجماع ضم کرو اور حق اقوالِ اُمت سے باہر نہ ہوگا۔
واما ثالثاً : ھوالطراز المعلم ان العارف باسالیب الکلام یفھم من الایۃ الاولٰی تسبب التقوٰی لایراث الکرامۃ وقصر حصولہا علی حصولہ وبہ صرحت الاحادیث الناشیۃ عن ارشاد الایۃ اللاحظۃ الٰی ملحظ الکریمۃ انبأنا سراج الحنیفۃ بالسندعن الشریف عن محمد بن ارکماش عن العلامۃ ابن حجر عسقلانی عن عبدالرحمن بن احمد بن المبارک الغزی عن احمد بن ابی طالب الحجارعن علی بن اسمعیل بن قریش عن الحافظ المنذری قال فی کتاب الترغیب والترھیب عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال ان انسابکم ھذہ لیست بسباب علی احد وانما انتم ولد آدم طف الصاع لم تملؤوہ لیس لا حد فضل علی احد الابالدین او عمل صالح ۔ رواہ احمد والبیہقی کلاھما من روایۃ ابن لھیعۃ ولفظ البیہقی قال لیس لا حد علی احد فضل الابالدین او عمل صالح حسب للرجل ان یکون بذیا بخیلا۔ وفی روایۃ لیس لاحد علی احد فضل الابدین اوتقوٰی وکفی بالرجل ان یکون بذیا فاحشا بخیلا، قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طف الصاع بالاضافۃ ای قریب بعٖضکم من بعض ۱؎اھ
ثالثا اور وہ وجہ طراز معلم یہ کہ اسالیب کلام کا واقف آیتِ اولٰی سے سمجھتا ہے کہ تقوٰی عزت حاصل ہونے کا سبب ہے اور عزت کا حصول تقوٰی کے حصول پر منحصر ہے اسی کی تصریح ان احادیث نے کی کہ جو ارشادِ آیت سے ناشی ہیں اور آیتِ کریمہ کے مطمحِ نظر کی طرف دیکھتی ہیں۔ ہمیں سراج الحنفیہ نے خبر دی اپنی سند سے۔ وہ روایت کرتے ہیں شریف سے۔ وہ روایت کرتے ہیں محمد ابن ارکماش سے۔ وہ روایت کرتے ہیں علامہ ابن حجر عسقلانی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں عبدالرحمن ابن احمد ابن مبارک غزی سے۔ وہ روایت کرتے ہں احمد ابن ابی طالب حجار سے۔ وہ روایت کرتے ہیں علی ابن اسمعیل ابن قریش سے ۔ وہ روایت کرتے ہیں حافظ منذری سے ۔ انہوں نے فرمایا ، کتاب الترغیب والترہیب میں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا یہ نسب کسی کے لیے گالی نہیں ہے تم تو آدم کی اولاد ہو پیمانہ کی طرح جو تم نے نہیں بھرا کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا عمل صالح کے سبب۔ اس حدیث کو روایت کیا احمد اور بیہقی دونوں نے ابن لہیعہ کی روایت سے ۔ اور بیہقی کے لفظ یوں ہیں۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا عمل صالح سے ۔ اور آدمی کے بُرا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ بدزبان کنجوس ہو۔ اور ایک روایت میں ہے۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا تقوٰی سے ۔ اور آدمی کے لیے کافی برائی ہے کہ وہ بدگو بے حیاء کنجوس ہو۔ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قول '' طف الصاع'' اضافت کے ساتھ کا معنی یہ ہے یعنی تم میں سے بعض بعض کے قریب ہے ۔ انتہی۔
(۱ الترغیب والترہیب من احقارالمسلم وانہ لا فضل لاحد الخ حدیث ۶ و۷ مصطفی البابی مصر ۳/ ۶۱۲)
قلت واخرجہ الطبرانی فی حدیث طویل من طریق ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ولفظہ انما انتم من رجل وامرأۃ کجُمام الصاع لیس لاحد علی احد فضل الاّ بالتقوٰی ۲؎ اھ قولہ صلی اللہ تعالٰی لیہ وسلم کجُمام الصاع جُمام بالضم مایملأ والمعنی انکم متساوون فی القدر کحبّات الصاع تکال فیعرف مقدار ھا واستواء ھا بمثلہا کیلاً من دون حاجۃ الی الوزن لتساویھا ثقلاً واکتنازًا وبہ قال المنذری عن ابی ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ '' ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال لہ انظر فان لست بخیر من احمر ولا اسود الا ان تفضلہ بتقوٰی ۔ رواہ احمد ورواتہ ثقات مشھورون الا ان بکربن عبداللہ المزنی لم یسمع من ابی ذر۔ ا ھ ۱؎
قلت ( میں کہتا ہوں ) اور طبرانی میں اس کی تخریج کی ایک حدیث طویل میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے طریق سے، اور ان کے لفظ یہ ہیں۔ تم لوگ ایک مرد اور عورت سے ہو جمام صاع کی طرح۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقوٰی سے انتہی۔ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قول '' جُمام صاع'' جمام بضم جیم وہ چیز ہے جو پیمانہ میں بھری جاتی ہے اور معنی یہ ہے کہ تم قدر میں ایک دوسرے سے برابر ہو پیمانہ کے حبّوں کی طرح جس کو پیمانہ میں بھرا جاتا ہے تو ان کی مقدار اور ان کے مثل کے ساتھ ان کی برابری پیمانہ میں معلوم ہوتی ہے اور انہیں تولنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ بوجھ اور موٹائی میں وہ برابر ہوتے ہیں۔ اور اسی مضمون کو منذری نے ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا '' بے شک تم سیاہ فام سے اور سُرخ سے بہتر نہیں اور نہ سیاہ فام تم سے بہتر ہے۔ مگر یہ کہ تم اس پر فضیلت پاؤ تقوٰی کی وجہ سے۔'' اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا۔ اور اس کے راوی ثقہ معروف ہیں مگر یہ کہ بکر بن عبداللہ مزنی نے اس حدیث کو ابوذر سے نہیں سنا۔ انتہی،
(۲الجامع لاحکام القرآن تحت الایۃ ۴۳/ ۴۴ دارالکتاب العربی بیروت ۱۶/ ۸۲)
(۱ الترغیب والترہیب من احقارالمسلم وانہ لا فضل لاحد الخ حدیث ۸ مصطفی البابی مصر ۳/ ۶۱۲)
قلت والمرسل مقبول عندنا وعند ا لجمہور ۔ وبہ قال عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما قال خطبنا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی اوسط ایام التشریق خطبۃ الوداع فقال ۔ یا ایہاالناس ان ربکم واحدو ان اباکم واحد۔ الا لا فضل لعربی علٰی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علٰی اسودولا لا سود علٰی احمر الا بالتقوٰی ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم الاھل بلغت، قالوابلٰی یارسول اﷲ، قال فلیبلغ الشاھد الغیب، ثم ذکرالحدیث فی تحریم الدماء والاموال والاعراض رواہ البیہقی وقال فی اسنادہ بعض من یجہل ۱؎انتہی
قلت ( میں کہتا ہوں) اور مرسل ہمارے نزدیک اور جمہور کے نزدیک مقبول ہے ۔ اور اسی مضمون کی روایت کی جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایامِ تشریق کے درمیانی دن میں خطبہ الوداع دیا کہ فرمایا '' اے لوگو۔ بے شک تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سنتے ہو عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں اور نہ عجمی کو عربی پر اور نہ سرخ کو کالے پر اور نہ کالے کو سرخ پر فضیلت ہے مگر تقوٰی سے۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے سنتے ہو کیا میں نے رب کا پیغام پہنچادیا۔ صحابہ نے عرض کی کیوں نہیں۔ یارسول اللہ ( صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ) فرمایا اب جو حاضر ہیں وہ غائبین کو پہنچادیں۔ پھر حدیث ذکر کی جو لوگوں کے خون۔ مال اور آبرو کی حرمت میں ارشاد ہوئی ۔ اسے بیہقی نے روایت کیا اور کہا اس کی سند میں بعض مجہول ہیں۔
( ۱؎ الترغیب والترہیب من احقار المسلم وانہ لا فضل لاحدالخ حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳/ ۶۱۲ تا ۶۱۳)
قلت ولا یضرنا فی الشواھد واخرج الطبرانی فی الکبیر عن حبیب بن خراش رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المسلمون اخوۃ لا فضل لاحدعلی احدالا بالتقوی ۔ ۲؎ وبالجملۃ فالاحادیث کثیرۃ فی ھذاالمعنی ثم ان الکرامۃ والتقوٰی کلاھما مقولان بالتشکیک فکلما زاد زادت وکلما نقص نقصت والمتساویان فیہ یتساویان فیہا کالعصیان (عہ) سبب للھوان فیزداد بزیادتہ وینتقص بانتقاصہ وھکذا فاذا ثبت ھذا کان معنی قولنا کل اکرم اتقی منحلا الٰی ثلث قضایا احدھا ھذہ والثانیۃ کل ناقص فی الکرم عن غیرہ ناقص عنہ فی التقوٰی والثالث کل متساویین فیھا متساویان فیہ والایۃ الثانیۃ ایضاتنحل الٰی ثلث مقدمات ''ابوبکر اتقی الکل'' وھو المنطوق ولا یزید علیہ احد فی التقوٰی و لایساویۃ احدفیہ و عندھذا لیسہل علیک دفع الاشکال ونظم الاشکال لقطع الاحتمال والحمد ﷲ المھیمن المتعال ھذا ما الھمنا المولٰی تبارک وتعالٰی بمنیع فضلہ ورفیع کرمہ ومنحنا من عظام اٰلائہ وحسان نعمہ فی تقریر دلیل اھل السنۃ والجماعۃ ودفع شبہات (ا ھل) البطالۃ والخلاعۃ وارجو ان تکون عامۃ ما فی تلک الخیام من عرائس بیض تجلو الظلام وبسائم تکشِرعن برد الغمام۔ اکون انا ابا عذر تہا وما ذون الدخول فی حجرتہا وان قال الاول لیس علی اللہ بمستنکر ان یجمع العالم فی واحد۔ فقلت انا قد قدر اللہ فلا تنکر۔ ان لحق العاجز بالقادر کیف وقد فازبافضالہ ال ۔ کل فما ظنک بالقادری ۔
قلت ( میں کہتا ہوں) شواہد میں ہم کو راوی کی جہالت مضر نہیں۔ طبرانی نے معجم کبیر میں حبیب بن خراش رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقوٰی سے۔ بالجملہ اس معنی کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں مگر کرامت اور تقوٰی دونوں تشکیک کے ساتھ بولے جاتے ہیں تو جب تقوٰی زیادہ ہوگا کرامت زیادہ ہوگی اور جب تقوٰی کم ہوگا کرامت کم ہوگی۔ اور تقوٰی میں متساوی کرامت میں متساوی ہوں گے جیسے کہ عصیان سبب ذلت کا۔ تو ذلت عصیان کی زیادتی سے زیادہ اور اس کی کمی سے کم ہوتی ہے۔ اور یونہی جب یہ بات ثابت ہے تو ہمارے قول ''کل اکرم اتقٰی'' کے معنی کی تحلیل تین قضیوں کی طرف ہوگی ان کا ایک تو یہی ہے اور دوسرا یہ ہے کل ناقص فی الکرم عن غیرہ ناقص عنہ فی التقوٰی ( عزت میں دوسرے سے کم تر اس سے تقوٰی میں کمتر ہے) اور تیسرا کل متساویین فیہا متساویان فیہ ( ہر وہ شخص جو تقوٰی میں برابر ہیں وہ عزت میں برابر ہیں) اور اس صورت میں تمہیں اشکال کا دفع کرنا قطع احتمال کے سبب آسان ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے جو نگہبان و برتر ہے۔۔۔۔۔۔ یہ وہ ہے جو ہمیں اللہ تبارک و تعالٰی نے الہام فرمایا اپنے فضل عظیم اور کرمِ رفیع سے۔ اور بخشا ہمیں اپنے عظیم احسانوں سے۔ اور حسین نعمتوں سے اہلسنت و جماعت کی دلیل کی تقریر میں تائید اور اہل بطالت و ضلالت کے شبہات کے دفع کرنے کے لیے ۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ ان خیموں میں جو خوبصورت دلہنیں ہیں وہ اندھیروں کو دور کریں اور مسکراتی صورتیں جو بارش کے اولے دکھائیں ان میں سے اکثر کا میں ہی صاحب ہوں۔ اور ان کے حجرے میں دخول کا مجاز ہوں۔ اور مجھ سے پہلے نہ کہا تھا کہ اللہ پر مستبعد نہیں کہ عالم کو ایک میں جمع کردے۔ تو میں نے کہا بے شک اللہ نے مقدر کیا تو اس کا انکار نہ کرنا کہ اللہ نے عاجز کو قادر سے ملحق کردیا۔ یوں نہ ہو حالانکہ اللہ کے فضل سے سب بہرہ مند ہیں تو تیرا کیا گمان ہے۔ قادری کے ساتھ۔
عہ: ای فی اصل قضیۃ المجازاۃ اماتدارک الرحمۃ ففضل الہٰی یختص بہ من یشاء ما اسلفنا تحقیقہ (۱۲ منہ) غفرلہ۔
یعنی اصل مقتضائے مجازات میں رہا تدارک رحمت تویہ فضلِ الہٰی ہے اللہ تبارک و تعالٰی جسے چاہے اس کے ساتھ مخصوص فرماتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق گزشتہ میں کی ۱۲ منہ غفرلہ
خاتمہ ، رزقنا اللہ تعالٰی حسنہا امین فان قلت لقد تفضل اللہ علیک یا وضیع القدر فنطقت بکلمات بلغن قاموس البحر فماذا تأمرنی فی المسئلۃ اقطع بتفضیل الصدیق نظراً الٰی ھذا الاستدلال۔ مع مافی الایۃ من تاویل واحتمال۔ اذ ذھب ذاھبون الٰی ان الا تقی بمعنی التقی وان زیفت قولھم بتحقیق نقی ۔
خاتمہ: ، اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں حسنِ خاتمہ نصیب کرے۔ اب اگر تم کہو بے شک اللہ نے اے کمترین ۔ تیرے اوپر احسان فرمایا تو تُو نے وہ کلمات بولے جو سمندر کی گہرائیوں میں پہنچ گئے ۔ اب مجھے اس مسئلہ میں کیا حکم دیتا ہے۔ آیا میں فصیلت صدیق کا یقین لاؤں،۔ اس استدلال پر نظر کرتے ہوئے باوجود یہ کہ اس آیت میں تاویل و احتمال ہے اس لیے کہ جانے والے اس طرف گئے کہ اتقی بمعنی تقی ہے اگرچہ تُو نے ان کا قول ستھری تحقیق سے غلط ثابت کردیا۔