| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
اقول: وقد و اللہ رأینا تصدیق ھذا فی کثیرمن ابناء الزمان ممن تصدربالدعوی وتصدی للفتوی، وما عندہ ما یرد عن الطغوی فمنہم من افتی بتوریث المنکوحۃ بالنکاح الفاسد و اٰخر ببطلان تزویج الام الصغیرۃ من دون حضرۃ العم منع انہ متوقف لاباطل،واخر باعطاء المسمّی من نکحت فی عدۃ اختہا واٰخربتحریم بیع ھذہ القراطیس الافرنجیۃ المقدرۃ بقدر معلوم من الدراھم بما یزید علی ھذا المقدار اوینقص ظنامنہ انہ ربوٰمع عدم الا تحادجنسا ولا قدرًا ۔، واٰخربتجویز اخذ الربٰو من کفار الہند زعما منہ انہادار الحرب مع عدم الانقطاع عن دار الاسلام من کل جانب وشیوع بعض الشعائر الاسلامیۃ قطعاً ۔ واٰخر بحل ما قطع من حیوان حی اٰخذا من قول الہدایۃ وما ابین من الحی'' وان کان میتافمیتہ حلال ۱؎ '' حتی انتھت ریاسۃ الفتوٰی و انتمت السیادۃ الکبرٰی الٰی من اباح بنت الاخ رضا عاً، وتقدمہ مجتہداٰخر فجوز نکاح العمۃ النسبیۃ فالی اﷲ المشتکی من فساد الزمان ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وسیعلم ھذا من جرب مثل تجربتی ، اسأل اﷲ تطہیر جنانی و تقویم لسانی وتسدید بنانی فبہ اعتصامی وعلیہ کلانی اٰمین،
اقول: ( میں کہتا ہوں) اور بے شک بخدا میں نے اس کی تصدیق آج کل کے ان لوگوں میں وہ پائی جو زبانی دعوٰی سے خود صدر بن بیٹھے اور فتوٰی دینے کے درپے ہوئے حالانکہ ان کے پاس وہ علم نہیں جو انہیں حد سے گزر جانے سے باز رکھے ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے نکاحِ فاسد سے بیاہی گئی عورت کے وارث ہونے کا فتوٰی دیا تو ان میں سے کسی دوسرے نے یہ فتوٰی دیا کہ چچا کی غیر موجودگی میں ماں کو صغیرہ ( نابالغہ) کا عقد کردینا باطل ہے حالانکہ یہ متوقف ہے نہ کہ باطل ہے۔ اور کسی دوسرے نے فتوٰی دیا کہ اس عورت کو جو اپنی بہن کی عدت میں شادی کرے مہر مسمّٰی دیا جائے گا ۔ اور دوسرے نے ان افرنگی کا غذوں کو جن پر روپوں کی ایک معین مقدار سے زائد یا کم پر بیچنے کو حرام ہونے کا فتوٰی دیا اپنی طرف سے اس گمان کی بناء پر کہ یہ تبادلہ سود ہے حالانکہ نہ جنس میں اتحاد ہے نہ مقدار میں۔ اور ایک اور نے فتوٰی دیا کہ ہندی کافروں سے سُود لینا جائز ہے اس زعم پر کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔ حالانکہ یہ ملک دارالاسلام ہے ہر جانب سے کٹا ہوا نہیں اور بعض اسلامی شعار یقینا جاری ہیں۔ اور ایک نے فتوٰی دیا کہ زندہ جانورکا جو عضو کاٹ لیا جائے حلال ہے۔ ہدایہ کی اس عبارت سے '' اور اگر مردہ ہو تو اس کا مردار حلال ہے۔'' اس مسئلہ کو اخذ کیا یہاں تک کہ ریاست اسی فتوٰی تک پہنچی اور سیادتِ کبرٰی اس سے منسوب ہوئی جس نے رضاعی بھائی کی لڑکی سے نکاح حلال ٹھہرایا۔ اور ایک دوسرا مجتہد اس سے آگے بڑھا تو اس نے حقیقی پھوپھی کا نکاح جائز ٹھہرادیا تو فسادِ زمانہ کی شکایت اﷲ ہی سے ہے ۔ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔ تو عنقریب اس کو وہ جان لے گا جو میرے جیسے تجربہ کرے گا ، اللہ سے میں اپنے قلب کی پاکی اور زبان کی درستگی اور ہاتھ کی صلاح طلب کرتا ہوں تو اسی سے میری حفاظت ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے ۔ یا الہٰی ۔ قبول فرما،
( ۱؎ الہدایۃ کتاب الذبائح فصل فیما یحل اکلہ ومالا یحل مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۲۴۱)
تسجیل: ولعلک تقول لقد کشفت النقاب ورفعت الحجاب فبین لی ماالنکتۃ فی تقدیم الخبر وانما حقہ ان یوخر، قلت نعم فیہ نکت بدیعۃ منہا ان المحکوم بہ لما کان خفیا والمحکوم علیہ مدرکاً جلیاً اشبہ الاول بالمعرف والاخربا لتعریف فاستحسن تقدیمہ لیکون الاخیر کالتعریف لہ۔ ومنہا تشویق السامع لا ن النفوس متطلعۃ الی علم مالا تعلم فاذا سمعت بما ھو خفی لدیہا ورجت ان یذکربعدہ مایظھرہ علیھا توجھت للاستماع وتفرغت للاطلاع فکان الکلام اوقع وامکن والنفس الیہ امیل واسکن ۔ ومنھا ان الاعمال لا تقصدفی الشرع لذواتھا بل لما یترتب علیھا من ثمراتہافضلا من المولی سبحٰنہ وتعالی ۔ فکانت الثمرات ھی المقاصدوحق المقاصدان تقدم الٰی غیر ذلک مما لا یخفی علی اولی الالباب وفیما ذکرنا مایغنی عن الاطناب والحمدللہ رب العٰلمین ھذا کلہ مما حبانی الملک الجواد تبارک وتعالٰی فقد بان لک صدقی فی قولی ان ھذاالزاعم لاخبرۃ لہ بمنا ھج الکلام فی النصوص ولاباسباب النزول فی ھذاالخصوص ولا بالتفسیر المرفوع الی الجناب الرفیع و لابتصریح القادۃ فی کلامھم البدیع ولا بشیئ مما خلا والحمد ﷲ جل وعلا
تسجیل :، اور شاید تم کہو بے شک تم نے نقاب اٹھادیا اور حجاب کو دُور کردیا تو مجھ سے بیان کرو کہ خبر کو مقدم کرنے میں کیا نکتہ ہے حالانکہ اس کا حق یہ ہے کہ اس کو موخر رکھا جائے۔ میں کہوں گا ہاں اس میں بدیع نکتے ہیں ان میں سے ایک یہ کہ محکوم بہ ( خبر) جب کہ پوشیدہ ہو اور محکوم علیہ ( مبتداء) ادراک میں ظاہر ہو تو پہلا ( خبر) معّرف کے مشابہ ہوگا اور دوسرا ( مبتدا) تعریف کے مشآبہ ہوگا۔ لہذا اس کو مقدم کرنا مستحسن ہے تاکہ لفظ اخیر اس کے لیے تعریف کے مانند ہوجائے اور انہیں نکتوں میں سے سننے والوں کو شوق دلانا ہے اس لیے کہ نفوس انجانی بات کو جاننے کے لیے ہمکتے ہیں تو جب کسی ایسی چیز کو سنیں گے جو ان کے نزدیک پوشیدہ ہے اور امید رکھیں گے کہ اس کے بعد وہ ذکر کیا جائے جو ان پر ظاہر ہے۔ تو سننے کے لیے متوجہ ہوں گے او ر جاننے کے لیے فارغ ہوں گے تو اس صورت میں کلام زیادہ دلنشین اور راسخ ہوگا اور نفس کو اس کی طرف زیادہ میلان اور سکون ہوگا۔ اور ان میں سے یہ ہے کہ شریعت میں اعمال اپنی ذات کے لیے مقصود نہیں ہوتے۔ بلکہ ان ثمرات کے لیے مقصود ہوتے ہیں جو ان پر مرتب ہوتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی کے فضل سے لہذا وہ ثمرات ہی مقاصد ہیں اور مقاصد کا حق یہ ہے کہ ان کو مقدم کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس میں اور بھی نکتے ہیں جو عقل والوں پر پوشیدہ نہیں۔ اور جو ہم نے ذکر کیا ان میں تطویل سے بے نیازی ہے۔ یہ سب ان عنایتوں سے ہے جو اللہ تبارک و تعالٰی نے مجھے عطا کی۔ اب تمہیں میری سچائی ظاہر ہوگئی میری اس بات میں کہ اس زعم والے شخص کو نصوص میں کلام کے طریقوں کی خبر نہیں نہ ان نصوص میں اسباب نزول کو جانتا ہے۔ اور نہ جنابِ رفیع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی تفسیر مرفوع سے خبر ہے اور نہ رہنما یانِ شریعت کی ان کے کلام بلیغ میں تصریحات کی واقفیت ہے اور نہ ان چیزوں سے جن کا ذکر گزرا اس کے پاس کچھ نہیں۔ والحمدﷲ جل وعلا۔
من وجوہ الجواب عن ھذا الارتیاب اقول: بتوفیق الوھاب لئن جئنا علی المماکسۃ والاستقصاء لما ترکنا کم ان تزعموا ان الایۃ لا تقتضی باکرمیۃ الاتقی وان سلمنا الموضوع ھوالاکرم وذٰلک لان اتقٰکم واکرمکم لایصدقان بل لایصلحان لان یصدقا الاعلی واحد ولا یجوز تعدد ھما بمعنی الصدق مرۃ علی ھذا واخری علی ذاک فاذا ثبت اتحادھما فی الوجود کما ھو مقتضی الحمل وجب التعاکس اذلما اتحد مصداقھما وقد علمنا بطلان التعدد کانا کعلمین لجزئی واحد، لک ان تجعل ایھما شئت مرآۃ لملاحظۃ وایھما شئت محمولاً علیہ و لہ نظائر جمۃ تقول افضل الانبیاء اولھم خلقا واکرم الرسل اٰخرھم بعثاً ۔ واحسن الجنّٰت اقربھا الی العرش و اعظم شجرۃ فی الجنۃ طوبٰی۔ ومنتھی جبریل سدرۃ المنتہٰی، وافضل الصلوۃ الصلوۃ والوسطی، وابوک ابوہ۔ وامک امہ ، واول من دخل اٰخرمن خرج، واقل الاعداد اول الاعداد، والشمس النیرالاعظم ۔ واعلی الافلاک اکبرھا حجما، واخص الکلیات اقلہا افرادًا وفلک جوز ھو فلک القمر و سیارۃ لا تدویر لہا ذکاء و المتحیرۃ السودا ء زحل ، والخاتس الکانس الاحمر مریخ الٰی غیر ذلک ممالایعد ولایحصی ومحال ان تبدی مثالا یحمل فیہ افعل مضافا علی افضل مضافا الی اضیف الیہ الاول مع جریا نھما علی معناھما الحقیقی ثم لایصح العکس،
اس شبہہ کے جواب میں دوسری وجہ۔ میں اللہ وہاب کی توفیق سے کہتا ہوں اگر ہم اس بحث کا دائرہ بند کرنے پر اور حد تک پہنچانے پر آجائیں تو ہم تم کو نہ چھوڑیں کہ تم یہ کہو کہ آیت اتقی کی فضیلت کا تقاضا نہیں کرتی۔ اگرچہ ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ آیت میں اکرم ہی موضوع ہے یہ اس وجہ سے کہ اتقاکم اور اکرمکم صادق نہیں آتے بلکہ ان میں صلاحیت ہی نہیں اس کی کہ وہ ایک ذات واحد پر صادق آئیں تو ان دونوں کا تعد د جائز نہیں بایں معنی کہ کبھی اس پر صادق ہوں اور کبھی اس پر صادق ہوں کہ جب ان کا وجود میں اتحاد ثابث ہوگیا تو دونوں کا باہم عکس ضروری ہوا ا س لیے کہ جب دونوں کا مصداق ایک ہے اور ہم نے تعدد کا باطل ہونا جان لیا تو یہ دنوں ایک ذات واحد کے دو علم کی مثال ہوئے تمہیں اختیار ہے کہ جن کو چاہو ذات کے لیے مراۃ ملاحظہ بناؤ۔ اور جن کو چاہو محمول علیہ بناؤ اور اس کی بہت ساری مثالیں ہیں تم کہتے ہو سب نبیوں سے افضل وہ ہیں جو سب سے پہلے مخلوق ہوئے اور سب رسولوں سے اکرم وہ ہیں جو سب کے بعد مبعوث ہوئے۔ اور سب جنتوں سے بہتر وہ جنت ہے جو سب سے زیادہ عرش سے قریب ہے۔ ا ور جنت میں سب سے بڑا پیڑ طو بٰی ہے۔ ۔ اور جبریل کا منتہٰی سدرۃ المنتہٰی ہے اور سب نمازوں سے بہتر بیچ کی نماز ( عصر) ہے۔ اور تمہارا باپ اس کا باپ ہے اور تمہاری ماں اس کی ماں ہے۔ اور سب سے پہلے داخل ہونے والا سب کے بعد نکلنے والا ہے ۔ اور عدد میں سب سے کمتر پہلا عدد ہے۔ اور سورج نیرِ اعظم ہے اور سب سے اونچا فلک حجم میں سب سے بڑا ہے۔ اور خاص تر کلی سب سے کم افراد والی ہے اور فلک جو ز فلک قمر ہے۔ اور وہ سیارہ جس میں گولائی نہیں وہ سورج ہے اور سیارہ سیاہ متحیرہ زحل ہے اور سیدھے چل کر اُلٹے پھرنے والا اور غائب ہوجانے والا سرخ سیارہ مریخ ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری مثالیں جن کی گنتی اور شمار نہیں۔ اور محال ہے کہ تم ایسی مثال ظاہر کرو جس میں افعل التفضیل مضاف ہوکردوسرے افضل التفضیل پر محمول ہو درانحالیکہ وہ اس کی طرف مضاف ہو جس کی طرف پہلا مضاف ہوا ہے اور اسی کے ساتھ دونوں اپنے معنی حقیقی پر جاری ہوں پھر ان دونوں کا عکس صحیح نہیں۔
فاذا صدقت القضیۃ بالنظر الی الواقع کفانا ھذاالانتظام القیاس واستنتاج المدعی، والسرفی ذٰلک ان الموجبات انما تنعکس الی مالا یصلح لکبرویۃ الاول لجواز عموم المحمول واذا کان ھناک مفہومان لیس لکل منہما الامصداق واحد بحسب ظرف الخارج اوالذھن ایضاً بطل عمومھما بحسب ذلک الظرف ( فلایجوزان یکون احدھما اعم من الاٰخر بمعنی شمولہ لہ ولغیرہ فی ذلک الظرف) فلم یبق باعتبارہ الا التساوی) اوالتباین ولا ثالث لھما، فان صدقت الحملیۃ القائلۃ ان ھذا ذاک وجب صدق القائلۃ ان ذاک ھذا والالجاز السلب فیتبا ینان فتبطل الاولٰی ھف فاذا بلغنا مثلاً عن رجل قولان احدھما قولہ لعمرو زید ابوک والاٰخرقولہ ابی ابوک امکن لنا ان نعمل من قولیہ شکلاً ینتج ان زیدا ابی لانہ اذا صدق قولہ ابی ابوک لزم صدق ابوک ابی والا لتعددابواھما فبطل الاول واذا صدقت ھذہ انتظم الشکل بان زیداابوک وابوک ابی فزید ابی ،
تو جب قضیہ نظر بنفس الامر صادق ہے تو ہمیں نظم قیاس اور مدعا کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے یہی کافی ہے اور اس میں راز یہ ہے کہ موجبہ قضیے کا عکس وہ آتا ہے جو شکل اول کے کبرٰی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے کہ محمول کے عموم کا احتمال ہے اور جب کہ دو مفہوم وہاں ایسے ہوں کہ جن میں سے ہر ایک کے مصداق کا اعتبار اس کے محل خارجی کے اعتبار سے ایک ہو یا ذہن میں بھی متحد ہو تو ان دونوں کے مفہوم کا عموم باعتبار اس محل کے باطل ہے تو اس کے اعتبار سے نہ رہی مگر تساوی یا تباین اور ان دونوں کا ثالث نہیں تو اگر قضیہ حملیہ جس میں یہ دعوٰی ہو کہ بے شک یہ شخص وہی ہے تو ضروری ہے کہ یہ قضیہ حملیہ صادق آئے کہ وہ شخص یہی ہے ورنہ اس کا سلب جائز ہوگا تو آپس میں دونوں متباین ہوں گے تو پہلا قضیہ باطل ہوجائے گا اور یہ خلاف مفروض ہے لہذا اگر ہمیں ایک شخص سے دو باتیں پہنچیں ا ن میں سے ایک اس کا قول عمرو سے مخاطب ہو کر کہ زید تیرا باپ ہے اور دوسرا اس کا قول کہ میرا باپ تیرا باپ ہے تو ہمیں ممکن ہے کہ ہم اس کے دونوں قول سے ایک شکل بنائیں تو یہ نتیجہ دیں کہ زید میرا باپ ہے اس لیے کہ جب اس کا یہ قول کہ میرا باپ تیرا باپ ہے صادق ہے تو لازم ہے کہ یہ قول صادق ہو کہ تیرا باپ میرا باپ ہے ورنہ ان دونوں کے باپ متعدد ہوں گے تو پہلا قول باطل ہوجائے گا اور جب یہ قضیہ صادق ہے تو شکل اسی طور پر بنے گی کہ زید تیرا باپ ہے اور تیرا باپ میرا باپ ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ زید میرا باپ ہے۔
وافعل التفضیل مضافاً الٰی جماعۃ اذا کان باقیاً علٰی معناہ الحقیقی المتبادر منہ شانہ ھذا، اذلایکون الفردالاکمل من جماعۃ الاواحدا ولن یصدقن ابدا قضیتان قائلتان بان ھذااکملھم وذلک اکملھم معاً وھذا ظاہر جدا بل شان ھذا انور من شان الشمس واخواتہا فان العقل یجیز صدقہا علٰی افراد کثیرۃ ثبیرۃ واذا وجدلہا فی الخارج فرد لم یستبعد وجود اٰخر بخلاف افعلھم فانما یقبل الاشتراک علٰی سبیل البدلیۃ واذا صدق فی الخارج علی فرد حال العقل صدقہ علی اٰخرمنحازًا عنہ کدأب اسماء الاشارۃ سواء بسواء فصدق العکس ھٰھنا ابین واجلی،
اور افعل التفضیل جو ایک جماعت کی طرف مضاف ہو جب وہ اپنے اس معنی حقیقی پر باقی ہو جو اس سے متبادر ہوتے ہیں تو اس کی شان یہی ہوتی ہے اس لیے کہ کسی جماعت سے فرد اکمل ایک ہوگا اور ہر گز کبھی ایسے دو قضیے صادق نہ آئیں گے جو یہ دعوٰی کرتے ہوں کہ یہ شخص ساری جماعت سے اکمل ہے اور وہ شخص ساری جماعت سے افضَل ہے۔ اور یہ سب ظاہر ہے بلکہ اس کا معاملہ سورج اور اس کے امثال کے ظہور سے روشن تر ہے اس لیے کہ عقل شمس وغیرہ کے مفہومات کا صادق آنا بہت سارے افراد پر جائز جانتی ہے اور جب ان مفہومات کا خارج میں کوئی فرد پایا جائے تو عقل دوسرے فرد کے وجود کو بعید نہیں جانتی بخلاف اَفعَلُھُم کہ یہ تو اشتراک کو برسبیل بدلیت قبول کرتا ہے اور جب خارج میں کسی فرد پر اس کا مصداق پایا جائے تو عقل محال جانتی ہے کہ افعل التفضیل کا مصداق دوسرے پر صادق آئے جو اس سے منفرد ہو اس کا معاملہ اسمائے اشارہ کے مانند برابر برابر ہے تو یہاں پر عکس کا صادق ہونا روشن تر اور ظاہر تر ہے۔
واما قول اھل المیزان لاتنعکس الموجبۃ الاجزئیۃ معنا ہ ان کلما جعلت موضوع موجبۃ کلیۃ محمولاً و محمولہا موضوعاً واتیت بسورا لکلیۃ کانت القضیۃ کاذبۃ، فان الواقع یکذبہ بل المعنی عدم الاطراد،وھم لا اقتصرنظر ھم علی الکلیات لایعتدون الا بالمطرد المضبوط الذی لایتخلف فی مادۃ من المواد، وعدم الاطراد لایستلزم المراد العدم ، ولا اقول: انہ عکس منطقی، ولاانہاتلزم القضیۃ لزوماً عا ماًلکنہاتلزم فی امثال المقام لاشک، فتصدق القضیۃ بالنظرالی الواقع سمّاھا المیزانیون عکساً اوّلاً وھذا القدر یکفی لانتظام الشکل فان صادقتین مستجمعتین للشرائط لاتنتجان الاصادقۃ ولایلزم اثبات الصدق علی انھا عکس منطقی لقضیۃ صادقۃ وانکارھذا من اخنی المکابرات۔ ثم ھذاالعکس لم یرشدنا الیہ الا الاٰیۃ الکریمۃ اذھی التی دلتنا علی اتحادھما فی الوجود فاذا کان ھذا فی مفہومین لا تعدد لمصداق شیئ منھما ان ارشادًا الی التعاکس قطعاً کما اذا سمعت رجلاً یقول ابی زید جازلک ان تقول کان الرجل یقول زیدا بی لان زیداً لایتعددو ابوالرجل لایتعدد فاذا کان ابوہ زیدا کان زید اباہ کذا ھذا من دون شک ولا اشتباہ الحمد للہ علی نعمائہ وعلیک بتسکین الھواجس یافلسفیاہ ۔
رہا منطق والوں کا یہ قول کہ موجبہ کا عکس نہیں ہوتا مگر جزئیہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب کبھی تم موجبہ کلیہ کے موضوع کو محمول بناؤ اور اس کے محمول کو موضوع بناؤ اور اس پر کلیہ کا سور لاؤ تو قضیہ کاذب ہوگا اس لیے کہ واقعہ اس بات کو جھٹلاتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ یہ مطرد نہیں اور منطقیوں کی نظر چونکہ کلیات تک محدود ہوتی ہے تو وہ اعتبار نہیں کرتے مگر اس مفہوم کا جو مطرد و مضبوط ہو مواد میں سے کسی مادہ میں جس کا حکم متخلف نہ ہو اور عدمِ اطراد اطراد عدم کو مستلزم نہیں ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہ عکس منطقی ہے۔ نہ یہ دعوٰی کرتا ہوں کہ یہ قضیہ کو عام طور پر لازم ہے لیکن اس مقام کے امثال میں بلاشبہہ عکس لازم ہوتا ہے تو قضیہ منعکسہ واقعہ پر نظر کرتے ہوئے صادق ہے اہل منطق نے اس کا نام عکسِ اول رکھا ہے اور اتنی مقدار انتظام شکل کے لیے کافی ہے اس لیے کہ دو قضا یا صادقہ جو شرائط کے جامع ہوں ایک قضیہ صادق ہی کا نتیجہ دیں گے اور صدق کا ثابت کرنا اس پر موقوف نہیں کہ وہ قضیہ صادقہ عکس منطقی ہو اور اس کا انکار نہایت بے شرمی کے مکابرات میں سے ہے۔ پھر اس عکس کی طرف آیت کریمہ نے ہی رہنمائی کی کہ اس لیے کہ اس نے ہم کو یہ دکھایا کہ دونوں قضیے وجوب میں متحد ہیں تو جب یہ حال ایسے دو مفہوموں میں ہے کہ ان میں سے کسی شے کا مصداق متعدد نہیں تو یہ یقیناً دونوں قضیے کے باہم منعکس ہونے کی طرف رہنمائی ہے جیسے کہ تم جب کسی شخص کو کہتے سنو کہ میرا باپ زید ہے تو تمہیں جائز ہے کہ تم کہو گویا کہ یہ شخص یوں کہہ رہا ہے کہ ز ید میرا باپ ہے اس لیے کہ زید متعدد نہیں اور اس شخص کے باپ متعدد نہیں۔ تو جب اس کا باپ زید ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زید اس شخص کا باپ ہے۔ اسی طور پر بلا شک و شبہہ یہ آیت ہے اور اللہ کے لیے اس کی نعمتوں پر حمد۔ اور اے فلسفی تجھے لازم ہے کہ وساوس کو ساکن رکھ،
الثالث من وجوہ الجواب اقول: و ربی ھادی الصواب اخترنا عن ھذا کلّہ وسلمنا ان مفاد الاٰیۃ الاولٰی قولنا کل اکرم اتقٰی وینعکس بعکس النقیض الٰی قولنا '' من لیس باتقی لیس باکرم'' وقد اثبتنا فیما اسلفنا عرش التحقیق علی ان المراد بالاتقی فی الایۃ الثا نیۃ اعنی قولہ تعالٰی ''وسیجنبہاالاتقی ۱؎'' اتقی الصحابۃ جمیعاً فوجب ان لایکون احد من الصحابۃ اتقی منہ ۔ و لامساویاً لہ فی التقوٰی اذاثبت ھذا فنقول کل صحابۃ فہولیس باتقی من ابی بکر ومن لیس باتقی منہ لیس باکرم منہ۔ انتج ان کل صحابۃ فہو لیس باکرم من ابی بکر وصغری القیاس معدولۃ کما لوحنا الیہ بتقدیم اداۃ الربط علی حرف السلب ولک ان تجعلھا موجبۃ سالبۃ المحمول اعنی علی قول قوم من المتاخرین و یرشدک الٰی مایزیح وھمک جعل السلب فی الکبرٰی مراۃ الملاحظۃ افراد الاوسط ۔ وان شئت لم تعکس الاٰیۃ الاولٰی ایضا ونسجت الشکل علی منوال الثانی بان تقول لاشیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و کل اکرم من ابی بکر اتقی منہ انتج ان لا شیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و لعلّک ان تقررہ قیاساً استثنا ئیاً یرفع المقدم لرفع التالی فتقول لوکان احد من الامۃ اکرم من الصدیق لکان اتقی منہ لان کل اکرم اتقی لکنھم لیسوا باتقی منہ للایۃ الثانیۃ فلیسوا باکرم منہ وفیہ المقصود۔
وجوہِ جواب میں سے تیسری وجہ، میں کہتا ہوں اور میرا رب راہِ صواب دکھانے والا ہے ہم نے اس سب کو اختیار کیا اور مان لیا۔ آیت اولٰی کا مفاد ہمارا یہ قول ہے کہ کل اکرم اتقٰی ( یعنی ہر اکرم سب سی بڑا متقی ہے) اور اس کا عکس نقیض ہمارا یہ قول ہے کہ من لیس باتقٰی لیس باکرم (جو اتقی سب سے بڑا متقی نہیں ہے وہ اکرم نہیں ہے) اور ہم نے ان کلمات میں جو ہم پہلے کہہ چکے عرش تحقیق کو ثابت کردیا کہ مراد اتقی سے آیت ثانیہ یعنی اللہ تبارک و تعالٰی کے قول وسیجنبہا الاتقی میں تمام صحابہ سے زیادہ متقی شخص مراد ہے تو ضروری ہے کہ صحابہ میں کوئی اس سے بڑھ کر متقی نہ ہو اور نہ تقوٰی میں اس کے کوئی مساوی ہو۔ جب یہ ثابت ہوگیا تو ہم کہتے ہیں کہ ہر صحابی ابوبکر سے بڑھ کر متقی نہیں اور جو ان سے بڑھ متقی نہیں وہ کرامت میں ان سے بڑھ کر نہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر صحابی ابوبکر سے زیادہ عزت والا نہیں اور اس قیاس کا صغرٰی معدولہ ہے جیسا کہ ہم نے اس کی طرف اداتِ ربط کو حرفِ سلب پر مقدم کرکے اشارہ کیا اور تمہیں اختیار ہے کہ تم اس قضیہ کو موجبہ سالبۃ المحمول بناؤ یعنی متاخرین میں سے ایک قوم کے قول پر اور تمہاری رہنمائی اس بات کی طرف جو تمہارے وہم کو دور کردے سلب کو کبرٰی میں افراد اوسط کے لیے مراۃ ملاحظہ بنانے سے ہوگی۔ اور اگر تم چاہو تو آیتِ اولٰی کا عکس نہ کرو اور شکل کو آیتِ ثانیہ کے طرز پر منتظم کرو بایں طور کہ تم کہو کہ کوئی صحابی ابوبکر سے بڑھ کر عزت والا نہیں۔ اور شاید تم اس کو قیاس استثنائی کے طورپر مقرر رکھو جو مقدم کو ارتفاع تالی کی وجہ سے مرتفع کردے تو تم یوں کہو امت میں اگر کوئی صدیق سے بڑھ کر عزت والا ہوتا تو وہ ضرور صدیق سے بڑھ کر متقی ہوتا اس لیے کہ ہر اکرم اتقی ہے لیکن ساری امت صدیق سے بڑھ کر متقی نہیں بدلیل آیت ثانیہ۔ تو وہ صدیق سے بڑھ کر عزت والے نہیں اور اسی میں ہمارا مقصود ہے۔
(۱القرآن الکریم ۹۲/ ۱۷)