اخرج احمد فی کتاب الزھد عن سلمان الفارسی واقفاً علیہ و ابن لال وابن النجار عن ابی ھریرۃ والسجزی فی الابانۃ عن ابن ابی اوفی رافعین الٰی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اکثر الناس ذنوباً یوم القیمۃ اکثرھم کلاماً فیما لایعنیہ ۳؎
امام احمد نے کتاب الزھد میں حضرت سلیمان فارسی سے حدیث موقوف روایت کی اور ابن لال اور ابن نجار نے ابوہریرہ سے اور سجزی نے ابانہ میں ابن ابی اوفٰی سے ، ان سب نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا کہ فرمایا ''سب لوگوں سے زیادہ قیامت کے دن اس کے گناہ ہوں گے ۔ جو سب سے زیادہ لایعنی باتیں کرے۔''
(۳ الجامع الصغیر بحوالہ ابن لال و ابن نجار حدیث نمبر۱۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۸۶)
(کتاب الزھد ۸۱۱ دارالکتاب العربی دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۹)
قال الفاضل الشارح ''لان من کثر کلامہ کثر سقطہ فتکثر ذنوبہ من حیث لا یشعر ۱؎ '' اھ
فاضل شارح نے فرمایا اس لیے کہ جس کا کلام کثیر ہوگا تو اس میں مہمل خلافِ شرع باتیں زیادہ ہوں گی تو اس کے گناہ بڑھیں گے اور اس کو شعور نہ ہوگا اھ
( ۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اکثر الناس ذنوبایوم القٰیمۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۲۰۰)
اخرج البخاری فی التاریخ والترمذی و ابن حبان بسند صحیح عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان اولٰی الناس بی یوم القیمۃ اکثرھم علیّ صلٰوۃ ۲؎
امام بخاری تاریخ میں اور ترمذی اور ابن حبان بہ سندِ صحیح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی وہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا ''قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے قریب وہ ہوگا جو سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا ۔
قال الفاضل الشارح ''ای اقربھم منی فی القٰیمۃ واحقھم بشفاعتی اکثرھم علیّ صلاۃ فی الدنیا لان کثرۃ الصلوۃ علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تدل علی صدق المحبۃ و کمال الوصلۃ فتکون منازلھم فی الاخرۃ منہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بحسب تفاوتھم فی ذٰلک ۳؎ اھ
فاضل شارح نے فرمایا یعنی قیامت میں سب سے مجھ سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ میری شفاعت کا حقدار وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا تھا اس لیے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود کی کثرت سچی محبت پر اور کمال ربط پر دلالت کرتی ہے۔ تو لوگوں کے مدارج حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قُرب میں اس امر میں لَوگوں کے تفاوت کے حساب سے ہوں گے۔
(۳؎التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان اولی الناس بی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۳۱۶)
اقول: انظر شرح اولاً لفظ الحدیث ثم علل بما لایستقیم الاعلی جعل الاولٰی محکوماً بہ، وابین من ھذاان العلماء المحدثین افاض اللہ علینا من برکاتھم استدلوابھٰذاالحدیث علٰی فضل اھل الحدیث ، وانھم اولی الناس برسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لانھم اکثر الناس صلوۃ علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لایذکرون حدیثا الاویصلون فیہ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عشراً وخمساً اومرتین اومرۃ لا اقل کما ھو معلوم مشاھد والحمدﷲ ۔
اقول: دیکھو پہلے لفظ حدیث کی شرح کی پھر علت وہ بیان کی جو اسی صورت میں ٹھیک بیٹھتی ہے جب کہ حدیث میں ( وارد) لفظ اولٰی کو محکوم بہ ٹھہرائیں اور اس سے روشن تر یہ ہے کہ علماء محدثین نے ( اللہ تبارک و تعالٰی ہمارے اوپر ان کی برکتیں برسائے) اس حدیث سے علماء حدیث کی فضیلت پر استدلال کیا۔ اور اس پر دلیل پکڑی کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہیں ا س لیے کہ وہ سب سے زیادہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔
جب کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں تو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر دس مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا دو مرتبہ یا کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھتے ہیں جیسا کہ معلوم ہے اور اس کا مشاہدہ ہے ۔ والحمدﷲ،
ارایتک ھذا الاستدلال الیس علٰی طبق احتجاجنابا لٰایتین حذوا بحذو وسواء بسواء ۔ ثمّ من تمام نعمۃ اﷲ ان جاء حدیث عند البیھقی برجال ثقات عن ابی امامۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''اکثروا من الصلوۃ علی فی کل یوم جمعۃ فان صلوۃ امتی تعرض علیّ فی کل یوم جمعۃ فمن کان اکثرھم علی صلوٰۃ کان اقربھم منی منزلۃ'' ۱؎ فعلم انہ لایبالٰی فی امثال المقام بتقدیم ولا تاخیر لعدم الا لتباس والسرفیہ ما القیناعلیک ان ھذہ احکام شرعیۃ لایطلع علیہاالا باطلاع الشارع فھی التی تلیق ان تجعل محمولات، ولا تسبق الاذھان الا الٰی ذلک مقدمۃ جاءت اومؤخرۃ وھذا کلّہ واضح جلی کاد ان یقال بدیھی واولٰی لایسوغ انکارہ الا لجاھل خرف اومتجاھل متعسف ، ونخشی ان یعد اکثار نا ھذا من اقامۃ الدلائل علیہ شبیھا بالعبث عند العلماء لان اٰذانھم ممتلئۃ بالوف الاف من امثال تلک المحاورات، وھم العارفون باسالیب الکلام ومجاری البیان فی مناھج المرام، فحاشاھم ان یتعسر علیہم تمییز محمول من (ھٰھنا سقط ظاھر ولعل العبارۃ ھکذاان یخطرببالھم ) یحط ببالھم نحوھذہ الخدشات، لکنی، اتنصل الیہم وعذری ان شاء اللہ تعالٰی واضح لدیھم فانمامثلی ومثل الذین لاینقادون لی کجمال شردت عن صاحبہا فہو یقصداسرھا ویقتفی اثرھا لا تعلوشرفا و لا تھبط وادیا الا اتبعہا۔
مجھے بتاؤ کیا استدلال ان دونوں آیتوں سے ہمارے استدلال کے بالکل مطابق نہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالٰی کی تمامی نعمت سے یہ ہے کہ ایک حدیث بیہقی میں ثقہ راویوں کی روایت سے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے آئی انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن بکثرت درود بھیجو اس لیے کہ تمہارا درود ہر جمعہ کے دن میرے اوپر پیش ہوتا ہے توسب سے زیادہ جو میرے اوپر درود بھیجے گا وہ درجے میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ ایسے مقامات میں تقدیم و تاخیر کی پرواہ نہیں کی جاتی اس لیے کہ اشتباہ نہیں ہوتا اور اس میں سر وہی ہے جو ہم نے بتایا۔ تو یہ احکامِ شرعیہ ہیں جن پر بغیر شارع کے بتائے اطلاع نہیں ہوتی۔ تو یہی اس کے لائق ہیں کہ محمول بنائے جائیں۔ اور اذہان کی سبقت انہیں کی طرف ہوتی ہے خواہ مقدم آئیں یا مؤخر ، اور یہ سب واضح و روشن ہے۔ قریب ہے کہ اس کو بدیہی و اولٰی کہا جائے اس کا انکار جاہل بے خرد یا جاہل بننے والے معاند کے سوا کسی کو نہ بن پڑے گا اور ہم کو ڈر ہے کہ ہمارا اس پر بکثرت دلائل قائم کرنا علماء کے نزدیک عبث کے مشابہ قرار دیا جائے ۔ اس لیے کہ ان کے کان اسی قسم کے ہزاروں محاورات سے بھرے پڑے ہیں اور وہ کلام کے اسالیب سے اور مقصود کے طریقوں میں بیان کی راہوں سے آگاہ ہیں۔ تو وہ اس سے منزہ ہیں کہ انہیں محمول کی تمیز موضوع سے دشوار ہو اور یہ ان کے ذہن میں ایسے خدشات جگہ پائیں۔ لیکن میں ان کی طرف معذرت کرتا ہوں اور میرا عذر ان کے نزدیک ظاہر ہے اس لیے کہ میری مثال اور ان لوگوں کی مثال جو میری نہیں مانتے ان اونٹوں کی سی ہے جو اپنے مالک کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوں تو ان کا مالک ان کو پکڑنے کا قصدکرے اوران کے پیچھے پیچھے چلے وہ کسی بلندی پر نہ چڑھیں اور نہ کسی گھاٹی میں اتریں مگر یہ کہ وہ ان کا پیچھا کرتا ہو۔
( ۱؎ السنن الکبرٰی کتاب الجمعۃ باب مایؤمربہ فی لیلۃ الجمعۃ الخ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ۳/ ۲۴۹)
تکمیل ومن ھٰہنا بان لک ان ماقالت النحاۃ من وجوب تقدیم المبتداء علی الخبراذاکان معرفتین او متساویین امراکثری لاکلی وانما المعنی علی اللبس واذلیس فلیس ، بذٰلک صرح الشراح ولا یغرنک اطلاق المتون فانھا ربما تمشی علی الاطلاق فی مقام التقیید فی علم الفقہ فکیف بغیرہ من الفنون ۔
تکمیل ، یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ نحویوں نے جو یہ کہا کہ مبتداء کو خبر پر مقدم کرنا ضروری ہے۔ جب دونوں معرفہ ہوں یا تنکیر و تعریف میں دونوں برابر ہوں یہ اکثری قاعدہ ہے کلی قاعدہ نہیں اور معنٰی یہی ہے کہ مبتدا کی تقدیم ایسی صورت میں اس وقت واجب ہے۔ جب کہ التباس کا اندیشہ ہو اور جب التباس کا اندیشہ نہ ہو تو واجب نہیں ۔ شارحین نے اس کی تصریح کی تو ہر گز تمہیں متون کا اس مسئلہ کو مطلق کرنا دھوکا میں نہ ڈالے اس لیے کہ متون تو بسا اوقات اطلاق کی راہ پر چلتے ہیں مسئلہ کو مقید رکھنے کے مقام میں علم فقہ میں تو تمہارا کیا گمان ہے فقہ کے سوا دوسرے فنون میں،
انبانا مفتی الحرم عن ابن عمر عن الزبیدی عن یوسف المزجاجی عن ابیہ محمدبن علاء الدین عن حسن العجیمی عن العلامۃ خیر الدین الرملی عن ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار قال فی منح الغفار ''ان العجب من اصحاب المتون فانھم یترکون فی متونھم قیودا لابدمنھا وھی موضوعۃ لنقل المذہب فیظن من یقف علی مسائلہ الاطلاق فیجری الحکم علٰی اطلاقہ وھو مقید فیرتکب الخطاء فی کثیر من الاحکام فی الافتاء والقضاء ۱؎ انتھی
ہمیں خبر دی مفتیِ حرم نے ، وہ روایت کرتے ہیں ابن عمر سے، وہ روایت کرتے ہیں زبیدی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں یوسف مزجاجی سے وہ روایت کرتےہیں اپنے باپ محمد بن علاء الدین سے۔ وہ روایت کرتے ہیں حسن عجیمی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں خیر الدین رملی سے۔ وہ روایت کرتے ہیں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی تمرتاشی مصنفِ تنویر الابصار سے ، انہوں نے منح الغفار میں فرمایا اصحابِ متون سے تعجب ہے اس لیے کہ وہ اپنے متون میں ضروری قیدیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ متون نقل مذہب کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ جو متن کے مسائل سے واقف ہوتا ہے وہ حکم کو مطلق گمان کرتا ہے تو اس حکم کو اس کے اطلاق پر جاری کرتا ہے حالانکہ وہ مقید ہوتا ہے تو وہ خطا کر جاتا ہے فتوٰی اور قضا کے دوران بہت سارے احکام میں۔ انتہی ۔
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی کیفیۃ القسمۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۳۵)
انبانا السراج بالسندالمذکور الی العلامۃ الغزی عن العلامۃ زین بن نجیم المصری قال فی البحرالرائق ''قصد ھم بذٰلک ان لایدعی علمھم الا من زاحمھم علیہ بالرکب ولیعلم انہ لایحصل الا بکثرۃ المراجعۃ وتتبع عباراتھم و الاخذعن الاشیاخ ۲؎ ۔ انتہی
ہمیں خبر دی سراج نے علامہ غزی تک اسی سند مذکور سے ۔ انہوں نے روایت کیا علامہ زین ابن نجیم مصری سے۔ انہوں نے بحرالرائق میں فرمایا کہ اس طریقے سے ان کا قصد یہ ہے کہ ان کے علم کا دعوٰی وہی کرے جو زانوؤں سے ان کا مزاحم ہو اور تاکہ معلوم ہو کہ یہ علمِ کثرت مراجعت اور فقہاء کی عبارات کی تلاش اور مشائخِ فن سے حاصل کیے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ انتہی۔
(۲؎ردالمحتار بحوالہ البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ العربی بیروت ۱/ ۳۰۳)