Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
128 - 135
اقول: سابعاً ان قیل لک اکرم الناس اتقاھم ثم من دونہ فی التقوٰی وھٰکذا یأتی ینزل تدریجا لاجرم ان تسلمہ وتقول ھذا لاریب فیہ لکنک لم تدران قد انصرفت عما اقترفت وقداعترفت بما انحرفت، قل لی ماذا محصل قولک ان اکرم الناس یوصف اولاً بانہ اتقی وثانیاًبانہ قلیل التقوٰی وثالثاً بانہ اقل،ھل ھذا الا کلام مجنون تفوہ بلفظ فی الجنون وما دری وما عقل وھذہ الشناعۃ تکدرعلیک زعمک العجیب فی کل ما جاء علی الترتیب وھو کثیر فی الاحادیث، قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''احب الاعمال الی اللہ الصلٰوۃ لوقتھا ثم بر الوالدین ثم الجہاد فی سبیل اللّٰہ'' اخرجہ الائمۃ احمد  ۱؎ والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فالمعنٰی علی زعمک ان احب الاعمال یوصف اولاً بانہ صلٰوۃ ثم یمکث فیصیربرا ثم یلبث فیعود جہاداً وھذا من اعجب ماسمع السامعون ،
اقول: سابعاً اگر تم سے کہا جائے کہ سب لوگوں سے زیادہ باعزت سب سے زیادہ پرہیزگار ہے پھرجو تقوی میں اس سےکم ہے اور اسی طرح سے تدریجاً کم سے کم تر کی طرف نازل ہو، لا محالہ تم اس کو تسلیم کرو گے اور کہو گے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن تم نے نہیں سمجھا کہ تم اس سے پھر گئے۔ جس کا تم نے ارتکاب کیا تھا۔ اور انحراف کا اعتراف کرلیا مجھے بتاؤ تمہارے اس قول کا حاصل کیا ہے کہ اکرم الناس اولاً اتقی سے موصوف ہوتا ہے ( سب سے زیادہ پرہیزگار) اور ثانیاً قلیل التقوٰی کے ساتھ اور ثالثاً اس سے بھی اقل کے ساتھ ( یعنی اس صورت میں جب کہ جَزِّ ثانی یعنی اتقی کو محمول مانیں کیا یہ ایسے مجنون کا کلام نہیں ۔ جو جنون میں لفظ بولتا ہے اور سمجھتا ہے ورنہ اسے خبر ہوتی، اور یہ شناعت تمہارے زعم عجیب میں ان تمام احادیث کو مکدر کردے گی جن میں ترتیب کے ساتھ اعمال کی فضیلت بیان ہوئی اور یہ مضمون احادیث میں بہت ہے ، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا '' اللہ کو سب کاموں سے زیادہ پیاری نماز ہے جو وقت پر پڑھی جائے۔ پھر ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔'' اس حدیث کو روایت کیا احمد، بخاری ، مسلم، ابوداؤد ، ترمذی اور نسائی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تو تمہارے زعم پر معنٰی یہ ہوگا کہ سب سے زیادہ محبوب کام  پہلے صلوٰۃ کے ساتھ موصوف ہوتا ہے پھر کچھ دیر ٹھہر کر حسنِ سلوک بن جاتا ہے پھر کچھ دیر ٹھہر کر جہاد ہوتا ہے اور یہ سب سے زیادہ عجیب باتوں میں سے ہے جو سُننے والوں نے سُنی۔
 ( ۱؎ صحیح البخاری     کتاب مواقیت الصلوۃ     باب فضل الصلوۃ لوقتہا        قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۷۶)

(صحیح البخاری         کتاب الجہاد   باب فضل الجہاد لوقتہا        قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۳۹۰)

(صحیح البخاری         کتاب الادب     باب قولہ تعالٰی ووصیناالانسان بوالدیہ     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۸۸۲)

(صحیح مسلم         کتاب الایمان      باب کون الایمان باللہ افضل الاعمال     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۶۲)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابن مسعود         المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۱۰ و۴۱۸۔ ۴۲۱ و ۴۳۹ و ۴۴۴ و ۴۴۸ و ۴۵۱)

(جامع الترمذی         ابواب الصلوۃ         باب ماجاء فی الوقت الاول من اتفضل     امین کمپنی دہلی             ۱/ ۲۴)

(جامع الترمذی          ابواب البروالصلۃ باب ماجاء فی برالوالدین             امین کمپنی دہلی             ۲/ ۳)

(سنن النسائی         کتاب المواقیت فضل الصلوۃ لمواقیتہا             نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱/ ۱۰۰)

(سنن ابی داؤد          کتاب الصلوۃ      باب المحافظۃ علی الصلوات             آفتاب عالم پریس لاہور         ۱/ ۶۱)
تذئیل ایاک وان تظن ان تقدیم الخبر فی امثال ھذا المقام قلیل فی فصیح الکلام حتی یعدتاویلا للمرام بل ھو شائع تکثربل ھو الاکثر الاوفر، ولو سرد نالک من الاحادیث الواردۃ علٰی ھذاالمنوال لنافت علی مئاتٍ ورمیتنی بالاملال، ثم منہا ما فی نفس الحدیث دلیل علی مانرید کتقدیم الصفات وتاخیر الذوات وغیر ذٰلک ومنہا ما شرح الشارحون بعکس الترتیب من دون حاجۃ الٰی ماھنالک فعلم انہ طریق شائع، کثیراً مایجری الکلام علیہ وتتبادر الافھام الیہ بلا احتیاج الی صوارف ولا توقف علٰی موقف ولو لاانا علی حذرمن الاطناب لاریناک منہا العجب العجاب، لکن لا باس ان تذکر طرفاً من احادیث اکثرھا من القسم الثانی لانھا اوضح فی المقصود وضوحاً جمیلاً و نقدم علیہا حدیثا ذکر فیہ المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقدمتین فاستنتج منہما العلماء کمثل صنیعنا فی الاٰیتین لیکون ھذا اشدتنکیلا، انبأنا حسین الفاطمی عن عابد بن احمد عن صالح الفاروقی عن سلیمان الدرعی عن محمد الشریف، عن الشمس العلقمی عن الامام السیوطی عن احمد بن عبدالقادر بن طریف انا ابواسحاق التنوخی انا ابوالحجاج یوسف بن الزکی المزی انا الفخربن البخاری سماعاً بسماعہ عن ابی حفص عمر بن طبرزد  انا ابوالفتح عبدالملک ابن قاسم الکروخی، انا القاضی ابوعامر محمود بن القاسم الازدی وابوبکر احمد بن عبدالصمد الغورجی انا ابو محمد عبدالجبار الجراحی المروزی انا ابوالعباس محمد بن احمد بن المحبوب المحبوبی المروزی ، انا الترمذی ثنا محمد بن یحٰیی نامحمد بن یوسف ناسفٰین عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خیر کم خیر کم لا ھلہ وانا خیر کم لاھلی واذا مات صاحبکم فدعوہ۔ ھذا حدیث حسن صحیح  ۱؎
تذئیل خبرداریہ گمان نہ کرنا کہ ایسے مقامات میں خبر کو مقدم رکھنا کلام فصیح میں نادر ہے۔ یہاں تک کہ مقصود کے لیے تاویل کرنا ٹھہرے، بلکہ وہ بکثرت شائع ہے بلکہ یہی اکثر و اوفر ہے اور اگر ہم تم سے ان احادیث میں سے کچھ کا ذکر کریں جو اس طریقے پر وارد ہوئیں تو گنتی میں سینکڑوں سے زیادہ ہوں گی اور تم مجھے اکتا دینے پر تہمت لگاؤ گے۔ پھر ان میں سے وہ بھی ہے جو نفسِ حدیث میں ہمارے مدعا کی دلیل ہے جیسے صفات کو مقدم کرنا اور ذوات کو مؤخر کرنا اور اس کے علاوہ ان میں شارحین حدیث کا حدیث کی شرح میں ترتیب الٹ دینا بلا ضرورت، تو اس سے معلوم ہوا کہ خبر کو مقدم کرنا شائع ہے اور بسا اوقات کلام اس ڈھنگ پر چَلتا ہے اور قرائن صارفہ کی حاجت کے بغیر لوگوں کی فہم اس کی طرف سبقت کرتی ہے اور کسی بتانے والے پر مو قوف نہیں ہوتی اور اگر ہمیں تطویل کا ڈر نہ ہو تو ہم تمہیں ان احادیث کا عجیب و غریب نمونہ دکھاتے لیکن اس میں حرج نہیں کہ ہم ان احادیث کا ایک حصہ ذکر کریں جن میں اکثر قسم ثانی کے قبیل سے ہیں۔ اس لیے کہ وہ مقصود میں خوب واضح ہیں اور ہم پہلے ایک حدیث ذکر کریں جس میں مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو مقدمے ذکر کیے تو اس سے علماء نے نتیجہ نکالا، جس طرح دو آیتوں میں ہم نے کیا تاکہ قید سخت ہو۔ ہم سے حدیث بیان کی حسین فاطمی نے، وہ روایت کرتے ہیں عابدبن احمد سے، وہ روایت کرتے ہیں صالح فاروقی سے۔، وہ روایت کرتے ہیں سلیمان بن درعی سے، وہ روایت کرتے ہیں محمد شریف سے، وہ روایت کرتے ہیں شمس علقمی سے ، وہ روایت کرتے ہیں امام سیوطی سے۔، وہ روایت کرتے ہیں احمد بن عبدالقادر ابن طریف سے، ہمیں خبر دی ابواسحٰق تنوخی نے۔ ہمیں خبر دی ابوالحجاج یوسف ابن زکی مزی نے۔ ہمیں خبر دی فخر الدین ابن بخاری نے ۔ سماعاً ابوحفص عمر بن طبرزد سے سن کر۔ ہمیں خبر دی ابوالفتح عبدالملک ابن قاسم کروخی نے ۔ ہمیں خبر دی قاضی ابو عامر محمود ابن قاسم ازدی اور ابوبکر احمد بن عبدالصمد غورجی نے۔ ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالجبار جراحی مروزی نے، ہمیں خبر دی ترمذی نے، حدیث بیان کی ہم سے محمد ابن یحٰیی نے، حدیث بیان کی ہم سے محمد بن یوسف نے، حدیث بیان کی ہم سے سفیان نے، انہوں نے روایت کی ہشام بن عروہ سے انھوں نے روایت کی اپنے باپ سے۔ انہوں نے روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے۔ انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ''تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لیے تم سب سے بہتر ہوں جب تمہارا کوئی ساتھی مرجائے تو اسے چھوڑ دو'' ( یعنی اس کا ذکر برائی سے نہ کرو) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
 ( ۱؎جا مع الترمذی      ابواب المناقب    باب فضل ازواج النبی صلی اللہ تعالٰی لیہ وسلم  امین کمپنی دہلی     ۲/ ۲۲۹)

(موارد الظمٰان الی زوائد ابن حبان         حدیث ۱۳۱۲                المکتبۃ السلفیہ         ص ۳۱۸)

(الفردوس بما ثور الخطاب             حدیث ۲۸۵۳                دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۲/ ۱۷۰)

(الجامع الصغیر                 حدیث ۴۱۰۰                دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۲۴۹)
قلت ومروی ایضاعندابن ماجۃ  ۲؎ من حدیث ابن عباس وعندالطبرانی فی معجمہ ۳؎ الکبیرعن معٰویۃ بن ابی سفٰین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین قال الامام العلامۃ الشارح عبدالرؤف المناوی فی التیسیر شرح الجامع الصغیراللامام المولٰی جلال الحق و الدین السیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما فانا خیر کم مطلقا وکان احسن الناس عشرۃ لھم ۴؎ انتہی۔
قلت ( میں کہوں گا کہ ) یہ حدیث ابن ماجہ کے یہاں منجملہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے اور طبرانی کے یہاں ان کے معجم کبیر میں معاویہ ابن ابوسفیان رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے امام علامہ عبدالرؤف مناوی نے تیسیر شرح جامع صغیر مصنفہ امام مولٰی جلال الحق والدّین سیوطی رحمہما اللہ تعالٰی میں فرمایا ''تو میں مطلقاً تم سب سے بہتر ہوں۔ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اہل کے ساتھ سب سے بہتر سلوک فرماتے تھے۔''
 ( ۲؎ سنن ابن ماجہ             کتاب النکاح     باب حسن معاشرۃ النساء         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص ۱۴۳)

(۳؎المعجم الکبیر             حدیث ۸۵۳                مکتبۃ الفیصلیہ بیروت     ۱۹/ ۳۶۳)

(۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر         تحت الحدیث خیرکم  خیر کم لاھلہ             مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱/ ۵۳۳)
اقول: یا ھذا ان ابدیت فرقاً بین ھذاالقیاس والقیاس الذی تنکرصحتہ لشکرک المفضلۃ ابدا ما کانوا ولکن ھیھات ھیھات انّی لک ذٰلک اخرج احمد والشیخان عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، خیر نساء رکبن الابل صالح نساء قریش  ۱؎
اقول: (میں کہتا ہوں ) اے شخص اگر تو اِس قیاس میں اور اُس قیاس میں جس کی صحت کاتو منکر ہے فرق نمایاں کردے تو تفضیلیہ عمر بھر تیرے شکر گزار ہوں گے ، لیکن ہیہات ہیہات تجھ سے کیونکر ایسا ممکن ہے۔ امام احمد و بخاری و مسلم حضرت ابوہریرہ سے راوی، انہوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا ۔ اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں۔
 ( ۱؎مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ         المکتب الاسلامی بیروت                 ۲/ ۲۷۵ و ۳۹۳)

(صحیح البخاری         کتاب النکاح     باب الی من ینکح وایّ النساء خیر     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۶۰)

(صحیح مسلم         کتاب الفضائل     باب فضائل نساءِ قریش         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۳۰۸)
قال الفاضل الشارح فالمحکوم لہ بالخیریۃ الصالحۃ منھن لا علی العموم  ۲؎ اھ انظر کیف جعل الخیر محکوماً بہ اخرج احمد والترمذی والحاکم با سناد صحیح عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خیر الاصحاب عند اللہ خیر ھم لصاحبہ وخیر الجیران عنداللہ خیر ھم لجار ہ ۳؎ قال الفاضل الشارح ''فکل من کان اکثر خیراً لصاحبہ و جارہ فہوافضل عند اللہ و العکس بالعکس ۱ ؂ اھ
فاضل شارح نے فرمایا تو جن کے لیے سب سے بہتر ہونے کا حکم فرمایا گیا وہ قریشی عورتوں میں نیک عورتیں ہیں اور یہ حکم اپنے عموم پر نہیں دیکھو کس طرح شارح نے خیر کو محکوم بہ قرار دیا۔ امام احمد۔ ترمذی اور حاکم بسندِ صحیح حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصحاب میں سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو اور ہمسایوں میں اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے ہمسایوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔ فاضل شارح نے کہا تو ہر وہ شخص جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لیے کثیر الخیر ہو وہ اللہ کے نزدیک افضل ہے ۔ اور اس کے برعکس ہو تو حکم برعکس ہے انتہی۔
 (۲؎التیسیر شرح الجامع الصغیر         تحت حدیث خیر نساء رکبن         مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱/ ۵۴۲)

(۳؎مسند امام احمد بن حنبل         عن عبداللہ بن عمرو بن العاص     المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۱۶۸)

(المستدرک للحاکم             کتاب المناسک خیر الاصحاب عندا للہ الخ     دارالفکر         ۱/ ۴۴۳)

(الجامع الترمذی      ابواب البروالصلۃ     باب ماجاء فی حق الجوار         امین کمپنی دہلی         ۲/ ۱۶)

( ۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت الحدیث خیر الاصحاب الخ     مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱/ ۵۲۵)
اخرج احمد و ابن حبان والبیہقی عن سعید بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ باسناد صحیح عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خیر الذکرالخفی  ۲؎ قال الفاضل الشارح '' ای ما اخفاہ الذاکر وسترہ عن الناس فہو افضل من الجھر ۳؎ اھ ، اخرج الطبرانی عن ابی امامۃ الباھلی رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم افضل الصدقۃ سر الی فقیر۴؂ قال الفاضل الشارح'' قال تعالٰی
وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فہو خیر لکم  ۵؎ اھ''
امام احمد، ابن حبان اور بہیقی نے سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسندِ صحیح روایت کیا وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی کہ سرکار نے فرمایا ''سب سے بہتر ذکر ذکرِ خفی ہے'' فاضل شارح نے کہا یعنی وہ ذکر جسے ذاکر خفیہ رکھے اور لوگوں سے چھپائے وہ ذکرِ جہر سے افضل ہے انتہی، طبرانی ، ابن ماجہ، ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا ، ''سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو خفیہ طور پر فقیر کو دیا جائے'' فاضل شارح نے کہا اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ وان تخفوھا وتؤتوھا الفقراء فہو خیر لکم ، انتہٰی
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل     عن سعید بن ابی وقاص     المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۱۷۲)

(موارد الظمآن الٰی زوائد ابن حبان     حدیث ۲۳۲۳    المکتبۃ السلفیہ     ص ۵۷۷)

(شعب الایمان      حدیث ۵۵۲    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱/ ۴۰۷)

(۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت الحدیث خیر الذکر     مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱/ ۵۲۶)

(۴؎ المعجم الکبیر     حدیث ۷۸۷۱    المکتبۃ الفیصلیہ بیروت     ۸/ ۲۵۹)

(الجامع الصغیر     حدیث ۱۲۷۰    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱/ ۸۰)

(۵؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر         تحت الحدیث افضل الصدقہ     مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱/ ۱۸۵)
اقول: انظر فقد اخرت الاٰیۃ وقدم الحدیث ، اخرج احمد والحاکم عن رجل من الصحابۃ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان افضل الضحایا اغلاھا واسمنہا  ۱؎ قال الفاضل الشارح فالا سمن افضل من العدد۲؎ اھ
اقول: دیکھو آیت کریمہ نے خیر کو ( جو موضوع ہے) موخر کیا اور حدیث نے اس کو مقدم کیا۔ امام احمد اور حاکم نے کسی صحابی سے دریافت کیا ۔ وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا '' قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر سب سے قیمتی سب سے فربہ ہے۔'' فاضل شارح نے کہا تو جو سب سے فربہ ہے وہ عدد سے افضَل ہے اھ
 ( ۱؎مسند احمد حنبل      حدیث جدابی الاشدالسلمی             المکتب الاسلامی بیروت         ۳ /۴۲۴)

(المستدرک         کتاب الاضاحی باب افضل الضحایا الخ         دارالفکر بیروت         ۴/ ۲۳۱)

( ۲؎ التیسیر شرح  الجامع الصغیر تحت الحدیث ان افضل الضحایا         مکتبۃ الامام الشافعی ریاض         ۱/ ۳۱۲)
اخرج احمد والطبرانی فی الکبیر عن ماعز رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم افضل الاعمال الایمان باﷲ ثم الجہاد ثم حجۃ برۃ تفضل سائر العمل  ۳؎
امام احمد اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ماعز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ۔ انہوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ فرمایا ''سب سے بہتر عمل اللہ پر ایمان رکھنا ہے پھر جہاد ۔ پھر حج مقبول تمام اعمال سے افضل ہے ۔''
 (۳؎ مسند احمدبن حنبل     حدیثِ ماعز رضی اللہ عنہ             المکتب الاسلامی بیروت         ۴/ ۳۴۲)

(المعجم الکبیر         حدیث ۸۰۹             المکتبۃ الفیصیلۃ بیروت         ۲۰/ ۳۴۴ و ۳۴۵)
اقول: انظر الٰی ھذہ الکلمۃ الاخرۃ صدر بالافضل ثم اخرہ۔
اقول: ( میں کہتا ہوں) اس کلمہ میں دیکھو، پہلے افضل کو مقدم کیا پھر اس کو موخر لائے۔
اخرج ابوالحسن القزوینی فی امالیہ الحدیثیۃ عن ابی امامۃ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم 

''ان اشد الناس تصدیقاً للناس اصدقھم حدیثا وان اشد الناس تکذیباً اکذبھم حدیثا''  ۱؎ قال الفاضل الشارح فالصدوق یحمل کلام غیرہ علی الصدق لاعتقاد قبح الکذب والکذوب یتھم کل مخبر بالکذب لکونہ شانہ ۔  ۲؎ ا ھ
ابوالحسن قزوینی اپنے امالی حدیثیہ میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔''سب سے زیادہ لوگوں کی تصدیق کرنے والا وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ سچی اور لوگوں کو سب سے زیادہ جھوٹا بتانے والا وہ ہے جو اپنی بات میں سب سے بڑا جھوٹا ہو،'' فاضل شارح نے فرمایا وہ سچا دوسرے کے کلام کو سچائی پر محمول کرتا ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ کو بُرا جانتا ہے۔ اور جھوٹا ہر مخبر کو جھوٹ کی تہمت لگاتا ہے ا س لیے کہ جھوٹ بولنا اس کا کام ہے ،ا ھ
 ( ۱؎کنزالعمال         حدیث نمبر۶۸۵۴    مؤسسۃ الرسالہ بیروت            ۳/ ۳۴۴)

(الجامع الصغیر            حدیث نمبر۲۲۰۲    دارالکتب العلمیہ بیروت            ۱/ ۱۳۴)

(۲؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر     تحدیت حدیث      ان اشد الناس تصدیقا     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/۳۱۱)
Flag Counter