Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
127 - 135
اقول انظر کیف قسم المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخلق الٰی قسمین برتقی ووصفھم بالکرم وفاجر شقی ووصفھم بالہوان وھذا صریح فیما قلنا۔
اقول دیکھو مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مخلوق کو دو قسم کیا، ایک نیک، پرہیزگار، اوران کو عزت سے موصوف کیا۔ اوردوسرے بدکار،بدبخت، اورانہیں ذلیل بتایا ۔ اوریہ ہمارے دعوٰی کی صریح دلیل ہے ۔
ومنہا مااخرج ابن النجار والرافعی عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من دعائہ: "اللھم اغننی بالعلم وزینی بالحلم واکرمنی بالتقوٰی وجملنی بالعافیۃ۔"۲؂ قال المناوی اکرمنی بالتقوی لاکون من اکرم الناس علیک ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم ۳؂اھ۔
ان احادیث میں سے ایک وہ ہے جس کی تخریج ابن نجار اوررافعی  نے کی سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ، نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دُعا کے یہ کلمات مروی ہے ہیں  : "اے اللہ !مجھ علم کے ساتھ غنا،حلم کے ساتھ زینت ، تقوٰی کے ساتھ اکرام اورعافیت کے ساتھ جمال عطافرما۔ "مناوی نے (دعا کا مطلب بیان کرتے ہوئے )کہا: "مجھے تقوٰی کے ساتھ اکرام عطافرما تاکہ میں تیرے یہاں سب سے زیادہ عزت پانے والے لوگوں میں سے ہوجاؤں (بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے )اھ
 (۲؂کنزالعمال بحوالہ ابن النجارحدیث ۳۶۶۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۸۵و۲۰۲)

(الجامع الصغیر حدیث ۱۵۳۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۱/۹۶)

(۳؂التیسیرشرح الجامع الصغیرتحت الحدیث اللہم اغننی بالعلم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۲۲۱)
اقول والوجہ حذف من وکانہ اراد ماترید الامۃ عند الدعاء بہ تاسیابالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
میں کہتاہوں صحیح یہ ہے کہ لفظ من کو حذف کیا جائے ۔ گویا اس کی مراد وہ ہے جس کا ارادہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں دعا کرتے ہوئے امت کرتی ہے ۔
ومنہا ما اورد الزمخشری فی الکشاف ثم الامام النسفی فی المدارک عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من سرہ ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ ۱؂اھ۔ وھذا ابین واجلی۔
من جملہ ان حدیثوں میں سے یہ حدیث ہے جسے زمخشری نے کشاف میں پھر امام نسفی نے مدارک میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ذکر کیا فرمایا: جس کی  یہ خوشی ہوکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والاہو تو اللہ تعالٰی سے ڈرے ۔ اوریہ ظاہرترہے ۔
 (۱؂ الکشاف تحت الآیۃ ۴۹/ ۱۳ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۷۵)

(مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)تحت الآیۃ ۴۹/ ۱۳ دارالکتاب العربی بیروت۴/ ۱۷۳)
واقول خامسا العلماء مافھموا من الاٰیۃ الا مدح المتقین ولم یزالوا محتجین بہا علٰی فضیلۃ التقوی واھلہا فلو کان الامرکمازعمتم لا ندحض ھذہ التمسکات بحذ افیرھا ، اذ لما کان المعنی  ان کل کریم متق وھو لایستلزم ان کل متق کریم فای مدح فیہ للمتقین وبم ذا یفضلون علی الباقین، الاتری ان کل کریم انسان وحیوان وجسمان ولا یکون بھذا کل فرد من ھٰؤلاء محمودا فی الدین۔
اقول خامساعلماء نے اس آیت سے متقی لوگوں کی تعریف ہی سمجھی اوراس آیت سے تقوٰی اوراہل تقوٰی کی فضیلت پردلیل لاتے رہے ، تو اگر معاملہ یوں ہوتاجیسا کہ تمہارا گمان ہے تو یہ تمام استدلال سرے سے باطل ہوجاتے اس لئے کہ جب  معنی یہ ٹھہرے کہ ہر کریم متقی ہے اوریہ اس کومستلزم نہیں کہ ہر متقی کریم ہوتو اس میں پرہیزگاروں کے لئے کون سی تعریف ہے اورپرہیزگاردوسروں سےکس وصف سے برترہوں گے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر کریم انسان، حیوان اورجسم ہے اوراس کے ساتھ ان تینوں میں سے ہر فرد محمود نہیں ہوتا۔
فان قلت ان التقوی وصف خاص بالکرماء فلھذا استحق الثناء بخلاف ما ذکرتم من الاوصاف ۔
فان قلت (تواگر تم کہو کہ ) بے شک تقوٰی کریموں کے ساتھ خاص ہے لہذا یہ وصف تعریف کا مستحق ہے بخلاف ان اوصاف کےجو آپ نے ذکر کئے۔
قلت الاٰن اتیت الی ابیت فان التقوٰی اذا اختص بھم ولم یوجد فی غیر ھم وجب ان یکون کل متق کریماً وفیہ المقصود قال المولی الفاضل الناصح محمد افندی الرومی البرکلی فی الطریقۃ المحمدیۃ بعد ماسرد الآیات فی فضیلۃ التقوٰی فتأمل فیما کتبنا من الآیات الکریمۃ کیف کان المتقی عنداللہ تعالٰی اکرم۱؂ انتہٰی ۔
قلت (میں کہوں گا) اب تم اسی بات پر آگئے جس کا تم نے انکار کیا تھا اس لئے کہ تقوٰی جب کریموں کے ساتھ خاص ہے دوسروں میں نہیں پایاجاتا تو ضروری ہے کہ ہر متقی کریم ہواوریہی ہمارامقصود ہے ۔ مولٰی فاضل ناصح محمد آفندی رومی برکلی طریقہ محمدیہ میں تقوٰی کی فضیلت میں آیات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں تو ان آیات کریمہ میں غور کرو جو ہم نے لکھیں کیونکہ متقی اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ کریم ٹھہرا۔
 (۱؂الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثانی الفصل الثالث مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۱۲۹)
قال المولی الشارح العارف باللہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرحھا الحدیقۃ الندیۃ اشارۃ الی الاٰیۃ الاولٰی من قولہ تعالٰی "ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم"۲؂انتہٰی۔
کتاب مذکورکے شارح مولا عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں مصنف کا اشارہ پہلی آیت یعنی اللہ تعالٰی کے قول "ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم"کی طرف ہے ۔
 (۲؂لحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ االمحمدیۃ الفصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد   ۱/۴۱۰)
واقول سادسا الی یا موفق تحقیق بالقبول احق اخرج الامام احمد والحاکم والبیہقی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کرم المرء دینہ ومروتہ عقلہ وحسبہ خلقہ ۱؂ واخرج ابن ابی الدنیا فی کتاب الیقین عن یحیٰی بن ابی کثیر مرسلاً ینمیہ الی المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم"الکرم التقوٰی والشرف التواضع۲؂ واخرج الترمذی محمد بن علی الحکیم عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما یرفعہ الی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "الحیاء زینۃ والتقی کرم"۳؂
واقول سادسا اے توفیق والے میری طرف آ،یہ ایک تحقیق ہے جو قبو ل کی سزاوار ہے ، امام احمد ، حاکم اوربیہقی نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث روایت کی انہوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا:" آدمی کی عزت اس کا دین ہے اوراس کی مروت اس کی عقل ہے اوراس کا خلق۔"اورابن ابی الدنیا نے کتاب الیقین میں یحیٰی بن ابی کثیر سے بسند مرسل روایت کیادرآنحالیکہ اس حدیث کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے کہ فرمایا : "کرم ، تقوٰی ہے اورشرف تواضع ہے ۔"اورترمذی محمد ابن علی الحکیم نے جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا درانحالیکہ اس کو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف مرفوع کرتے تھے کہ فرمایا : "حیاء زینت ہے اور تقوٰی کرم ہے ۔"
 (۱؂مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۶۵)

(المستدرک للحاکم کتاب العلم کرم المومن دینہ الخ دارالفکر بیروت ۱/۱۲۳)

المستدرک للحاکم کتاب النکاح الحسب والمال والکرم الخ دارالفکر بیروت ۲/۱۶۳)

(السنن الکبرٰی کتاب النکاح باب اعتبارالیسارفی الکفاء ۃ دارصادربیروت ۷/۱۳۶)

(السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب بیان مکارم الاخلاق الخ دارصادر بیروت  ۱۰/۱۹۵)

(۲؂کتاب الیقین من رسائل ابن ابی الدنیا حدیث ۲۲ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت  ۱/۲۸)

(۳؂نوادارلاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل السادس والخمسون والمائۃ دارصادر بیروت ص۲۰۰)
انظر الی الاحادیث ما اجلاھا وافصحہا واحلہا واملحا انظر الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مروتہ عقلہ فانما وصف العقل بالمروۃ لاالمروۃ بالعقل وکذاقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "حسبہ خلقہ والشرف التواضع"فانما حکم علی الخلق بانہ الحسب وعلی التواضع بانہ الشرف حسما لما یدعیہ المدعون من ان المال ھو الشرف ، ولذا ان قال قائل ان الحسب خلق والمروۃ عقل والشرف تواضع لم یقبل قولہ منہ، وان عکس قبل فھکذا فی الفقر تین اعنی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الکرم التقوٰ ی وکرم المرء دینہ۔
احادیث کو دیکھو کس قدر روشن اورکتنی فصیح ہیں اورکیسی شیریں اورکیسی ملیح ہیں۔ نبی صلی اللہ تعالٰیی علیہ وسلم کا یہ قول کہ آدمی کی مروت اس کی عقل ہے۔دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے عقل ہی کو مروت سے موصوف کیا اوراسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول"آدمی کا حسب اس کا خُلق ہے اورشرف تواضع ہے " تو اس لئے کہ خُلق پر حکم لگایا کہ وہ حسب ہے اورتواضع پر حکم فرمایا کہ وہی شرف ہے مدعیوں کے دعوے کو رد کرنے کے لئے کہ مال ہی شرف ہے اسی لئے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ بے شک حسب خُلق ہے اورمروت عقل ہے اورشرف تواضع ہے تو ا س کاقول مقبول نہ ہوگا اوراگر اس کا عکس کردے تو قبول کیا جائے گا تو اسی طرح دونوں حدیثوں میں اپنے بعد فقروں سے ملے ہوئے فقروں میں یعنی حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قول کرم تقوٰی ہے اورآدمی کی عزت اس کا دین ہے (یعنی ان جملوں کا عکس مقبول نہ ہوگا۔)
وانا اعطیک ضابطۃ لہذا کلما رأیت فی امثال (عہ) ھذا المقام اسمین معرفین باللام محمولا احدھما علی الاٰخرفان صح ان یحمل الاٰخرعلی الاول مجردا عن اللام فاعلم انہ یجوز ان یکون محمولاًفی تلک القضیۃ ایضًاوالالانظیرہ قول الشاعر ؎

بنونا بنو ابناءنا وبنو	بناتنا ابناء الرجال

فانک ان قلت احفادنا ابناء لنا صدقت وان قلت ابنائنااحفادلنا کذبت فکان بنونا ھو المحکوم بہ والسر فی ذلک ان المحمول یجوز تنکیرہ ابدًا وافادۃ القصر علٰی تسلیمہ(عہ) کلیًاامر زائدعلٰی نفس الحکم والموضوع لاینکر تنکیرا محضافلذٰلک لایقال الکرم تقوٰی اوالکرم دین وانما تقول بالتعریف لان الاٰخر ھو الموضوع حقیقۃ لاجل ھذا ان عکست ونکرت صح اما رایت ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما قدم التقوٰی فی حدیث الحکیم نکر الکرم ولما عکس فی الحدیث الاٰخر عرف التقوٰی ، اللھم لک الحمد علٰی تواتراٰلائک ولا اخالک یاھذا مغمورافی غیابات الغباوت بحیث یعسرعلیک الانتباہ لما فی تلک الاحادیث التی جاءت مرۃ بتقدیم الکرم واخرٰی بتصدیر التقوی من لمعات بوارق یکاد سناھا یختف ابصار الشبہات ولا سیما حدیث الترمذی مع ماتقررفی الاصول ان اللام ان لاعہد فللاستغراق بال الجنس ایضا مفید اذحکمہ لابدوان یسوی فیہ الافراد۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
اورمیں تم کو اس کے لئے ایک ضابطہ دیتاہوں جب کبھی تم ایسے مقامات میں دو اسم معرف باللام دیکھو کہ ان میں کا ایک دوسرے پر محمول ہوتاہے تو اگر دوسرے کا پہلے کے لئے محمول بننابغیر لام کے صحیح ہوتو جان لو کہ وہ اس قضیے میں بھی محمول ہوسکتاہے ورنہ نہیں،اسکی نظیر شاعر کا شعر ہے :  ؎

"یعنی ہمارے بیٹے ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں اور ہماری بیٹیوں کے بیٹے اورمردوں کے بیٹے ہیں۔"اس لئے کہ اگر تم یوں کہو کہ ہمارے پوتے ہمارے بیٹے ہیں تو یہ صادق ہوگا،اوراگریوں کہو کہ ہمارے بیٹے ہمارے پوتے ہیں تو یہ کاذب ہوگا تو شعر میں"بنونا"ہی محکوم بہ ہے اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ محمول کو نکرہ لانا جائز ہے اورافادہ قصر اگر اس کو امر کلی تسلیم کرلیں نفس حکم پر ایک زائد بات ہے ، اورموضوع کبھی نکرہ محضہ نہیں لایا جاتا ہے تو اس لئے یوں نہ کہا جائے گا کہ الکرم تقوٰی یا الکرم دین یعنی جبکہ جملے کا جز ثانی مبتداٹھہرائیں تو اس کو نکرہ لانا جائز نہیں بلکہ تم یہ جملہ دوسرے جز کی تعریف کے ساتھ بولوگے اس لئے کہ حقیقت میں دوسراجز ہی موضوع ہے اسی وجہ سے اگر اس جملے کا عکس کر دو اورپہلے جز کو نکرہ کردو تو صحیح ہوگا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جب تقوٰی کو مقدم کیا حکیم ترمذی کی گزشتہ حدیث میں تو "کر م" کو نکرہ لائے ، اوردوسری حدیث میں جب اس کا عکس کیا تو"تقوٰی"کو معرفہ لائے۔الہٰی ! تیری پیہم نعمتوں پرتیرے لئے حمد اے شخص میں گمان نہیں کرتاکہ تو کم فہمی کی اندھیریوں میں ایسابھٹکا ہوکہ تیرے اوپر ان چمکتی تجلیوں سے تنبیہ ہونا دشوار ہو جن کی روشنی لگتا ہے کہ شبہات کی آنکھوں کو اچک لے گی جو ان احادیث میں ہیں جن میں کبھی کرم کو مقدم فرمایا اورکبھی تقوٰی کو صدرکلام میں لائے بالخصوص حدیث ترمذی باوجود یکہ اصول میں مقرر ہوچکا کہ لام جبکہ عہد کے لئے نہ ہوتو استغراق کے لئے ہوگابلکہ جنس بھی مفید استغراق ہے اس لئے کہ ضروری ہے کہ جنس کے حکم میں سب افراد برابرہوں۔واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اشاربہ الٰی انک تقول الخ(المصنف)
عہ: اشارہ الی انہ مع اشتہارہ فی کثیرمن الناس الخ (المصنف)
Flag Counter